سیاستہندوستان

  یوپی کا سیاسی دنگل :فائدہ ہر حال میں بی جے پی کو ہوگا

اترپردیش میں انتخابی بگل بج چکاہے۔  تمام سیاسی جماعتیں سماجوادی پارٹی میں جاری خانہ جنگی کا فائدہ اٹھانے میں لگی ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ مایا وتی اقلیتوں پر مہربان دکھائی دے رہی ہیں اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر مسلمانوں کو ٹکٹ تھمائے جارہے ہیں۔  یہ امیدوار کتنا دم خم رکھتے ہیں اور کیا انکے دم پر مایا وتی دوبارہ اقتدار میں آسکتی ہیں یا نہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ یوپی کا انتخاب دن بہ دن دلچسپ ہوتا جارہاہے۔  مگر ہمیں یہ قطعی نہیں بھولنا چاہئے کہ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی تمام کمزوریوں پر بی جے پی کی گہری نگاہ ہے۔  یوں تو بی جے پی کے ترکش کے تمام تیر تقریبا ختم ہوچکے ہیں اور اب وہ کسی نئے حیلہ کی تلاش میں ہے۔  نریند ر مودی کے اقتدار میں آتے ہی ہر دن نئے تنازعات کا جنم لینا،  ذات پات اور مسلکی بکھیڑوں کو بڑھاوادینا، جلد بازی میں ادھوری تیاریوں کے ساتھ لیا گیا نوٹ بندی کا فیصلہ اور گئو ماتا کے نام پر خوف و دہشت کو فروغ دیکر اقلیتوں کو ہراساں کرنے کی تمام کوششیں بی جے پی کا جنازہ نکالنے کے لئے کافی ہیں مگر ابھی کوئی بھی فیصلہ کرنا جلد بازی ہوگی۔ بی جے پی حامی ہندو طبقہ  بھی اب سمجھ چکا ہے کہ بی جے پی اقتدار میں رہنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔  اس لئے کہ بی جے پی کے پاس اپنا لائحہ عمل نہیں ہے۔  بی جے پی کا منثور سنگھ کے دفتر سے مرتب ہوکر آتاہے جس پر انگشت نمائی کی جرأت بی جے پی کے کسی قدآور لیڈر میں نہیں ہے۔

سماجوادی پارٹی کے زوال کے بعد سیکولر طبقہ بہوجن سماج پارٹی کی طرف رجحان رکھتاہے۔  مگر مایا وتی کے مزاج اور پارٹی میں ایک لیڈر شب کی بنیاد پر ابھی تذبذب برقرار ہے۔  مایا وتی نے الکشن میں ناکامی کا منہ دیکھتے ہی کہا تھا کہ پارٹی کی شکست کے ذمہ دار مسلمان ہیں۔  لہذا اس الکشن میں مایا وتی نے مسلمانوں کو جم کر ٹکٹ بانٹے ہیں۔  مگر اس بات کی کیا ذمہ داری ہے کہ اگر مایاوتی اس انتخاب میں کامیاب ہوتی ہیں تو وہ مسلمانوں سے پچھلی ناکامی کا بدلہ نہیں لیں گی۔  اور اگرانتخاب میں ناکامیاب ہوتی ہیں تو اس بار اپنی ناکامی کا ٹھیکرا کس کے سرپھوڑینگی ؟ اگر مایا وتی اترپردیش میں مسلمانوں کو اتنی اہمیت دیتی ہیں کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی ہار اور جیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تو امید کرتے ہیں کہ مایاوتی کامیابی کے بعد ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کو نہیں بھولیں گی۔  مایا وتی کے لا ء اینڈ آڈر کو پورا اترپردیش یاد کرتا ہے مگر ایک مخصوص طبقہ کی طرف انکا رجحان انہیں ہرانے کے لئے کافی ہے۔  یوں بھی بہوجن سماج پارٹی کے جسم پر سابقہ پارلیمانی انتخاب کے زخم ابھی ہرے ہونگے۔ ان زخموں پر اگر کوئی طبقہ مرہم رکھ سکتاہے تو وہ مسلم طبقہ ہے۔  اس حقیقت سے مایا وتی بھی خوب واقف ہیں اسی لئے موجودہ انتخاب میں وہ مسلمانوں کی ان دیکھی کرکے اپنی مٹی پلید کرنا نہیں چاہتی ہیں۔

  سماج وادی پارٹی اگر دو حصوں میں بٹتی ہے تو اسکا پورا فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔  ظاہر ہے مسلمان سیکولر جماعتوں کی طرف رخ کریں گے اور سیکولر جماعتیں اترپردیش میں اچھی حیثیت میں نہیں ہیں۔  مجلس اتحاد المسلمین،  راشٹریہ علماء کونسل اور پیس پارٹی جیسی جماعتیں علاقائی ہیں۔  ان جماعتوں کو پورے اترپردیش کے سیاسی تناظر میں دیکھنا غلط ہوگا۔ مگر یہ جماعتیں مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے میںضرور اہم کردار ادا کریں گی۔  اس طرح مسلم ووٹ تمام جماعتوں کے درمیان بٹ کر رہ جائیگا اور نان سیکولرووٹ بی جے پی کے کھاتے میں جائے گا۔  یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اترپردیش میں مسلمانوں کی بات ہی نہیں کررہی ہے۔  مایا وتی کی طرح انکے لیڈر بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں نے انہیں کبھی ووٹ نہیں دیا۔  بی جے پی کا پورا دم خم اس ووٹ بینک پر ہے جو زعفرانی ٹولے کا وفاداررہا ہے مگر یہ ووٹ بینک اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ بی جے پی کی نیّا کو پار لگادے۔ لہذا بی جے پی ابھی مختلف انتخابی حربے اپناکر دوسری پارٹیوں کے ووٹ بینک پر سیندھ لگانے کی کوشش میںہے۔  بی جے پی کو ووٹ دینے سے پہلے سیکولر ہندو اور مسلمان یہ ضرور دھیان رکھیں کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو یوپی کا بھی وہی حال ہوگا جو پورے ہندوستان کا ہورہاہے۔  ابھی تک گئو رکشک انہی ریاستوں میں مضبوط تھے جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے لہذا اب اترپردیش میں بھی گئو ماتا کے نام پر قتل عام کی تیاری ہوگی۔  لو جہاد،  گھر واپسی اور ہندو راشٹر کے ایشوز ابھی تک تازہ ہیں۔

 ہمیں بی جے پی مخالف قطعی نہ سمجھا جائے۔  ہم اس فکر کے مخالف ہیں جس فکر کو بی جے پی ’’ ہندوتوو‘‘ اور ’’راشٹرواد‘‘ کے نام پر پھیلارہی ہے۔ اگر بی جے پی زعفرانی ٹولے کی حمایت کے بغیر انتخابی میدان میں اترنے کا دم رکھتی ہے تو سیکولر ووٹر وں کا رجحان بی جے پی کی طرف بڑھے گا۔  مگر اس وقت پوری دنیا جانتی ہے کہ بی جے پی کے نام پر زعفرانی ٹولا اقتدار کی ہوس میں ہاتھ پیر ماررہا ہے۔

 مسلم ووٹر سماجوادی پارٹی کی طرف رجحان رکھتا ہے مگر پارٹی میں جاری گھمسان نے انہیں متبادل تلاش کرنے پر مجبور کردیاہے۔  کوئی بھی ووٹر اپنا ووٹ خراب کرنا نہیں چاہتا ہے لہذا اگر پارٹی دو حصوں میں بٹتی ہے تو یہ ووٹ بینک دوسری جماعتوں کی طرف منتقل ہوگا اور اگر سماجوادی پارٹی متحد ہوکر میدان میں اترتی ہے تب بھی اس منتشر ہوچکے ووٹ بینک کو دوبارہ سمیٹنا اور اعتماد میں لینا آسان نہ ہوگا۔ گویا سماجوادی پارٹی کی خانہ جنگی نے دوسروں کو اقتدار میں آنے کا آسان موقع فراہم کردیا ہے ورنہ اکھلیش سرکار کی حصولیابیوں کی بنیاد پر سیکولر طبقہ کی پہلی پسند وہی تھے۔

 ملائم سنگھ یادوبڑے وقت شناس اور سیاسی بصیرت کے حامل سمجھے جاتے تھے۔  ہمیشہ ملائم سنگھ یادو نے میٹھے انداز سے وہ سب کچھ کردکھایا جو دوسرے نہیں کرسکے۔  انکی پارٹی خواہ اقتدار میں رہی ہو یا نہ رہی ہو مگر انکے سیاسی وقار پر کبھی حرف نہیں آیا۔  مگر اس بار ملائم سنگھ یادو بھی ہر محاذ پر ناکام اور تھکے ہوئے نظر آئے۔  کبھی اکھلیش کے سامنے بے بس دکھائی دیے تو کبھی شیوپال سنگھ یادو اور امرسنگھ کی محبت میں جلد بازی میں غیر سیاسی فیصلے لیتے نظر آئے۔  یوپی کی عوام کی نگاہوں کے سامنے پورا فیملی ڈرامہ ہے۔  یوپی کے عوام اب ملائم سنگھ یادو کو اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے بلکہ اکھلیش یادو انکے نزدیک پارٹی کے سربراہ اور عوامی نمائندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر اس فیملی ڈرامہ کے بعد یوپی کے عوام سماجوادی پارٹی کی طرف سے نا امید ہوچکے ہیں۔ آپسی خلفشار اور خانہ جنگی نے ریاست میں پارٹی کے وقار کو مجروح کیاہے۔       دیکھنا یہ ہے کہ اگر پارٹی دو حصوں میں بٹ کر انتخاب لڑتی ہے تو وہ ناامید عوام کو کس طرح امیدوں کے سبز باغ دکھاکر اپنی طرف کھینچتی ہے۔  کیونکہ متحد ہوکر انتخاب لڑنا اب پارٹی کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ سماجوادی پارٹی خواہ دو حصوں میں بٹ کر میدان میں اترے یا متحد ہوکر الکشن لڑے اب انکی سیاسی کمزوریوں کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔  اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو سماجوادی نظریات اور سیکولر افکار کا زوال یقینی ہے۔  بی جے پی اچھی طرح جانتی ہے کہ یوپی انتخابی نتائج کے اثرات 2019 میں ہونے والے پارلیمانی الکشن پر بھی پڑیں گے لہذا اس وقت بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح نوٹ بندی کے زخموں کی طرف سے عوام کا دھیان ہٹایا جائے۔  دیکھئے وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close