سیاست

یوپی کے عظیم اتحاد کی حفاظت سب مل کر کریں گے

مسٹر راہل گاندھی پر سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لیڈروں کے دماغ سے یہ نکالیں کہ وہ سابق حکمراں پارٹی کے اہم رکن ہیں۔

حفیظ نعمانی

اترپردیش میں عظیم اتحاد کے خاکہ کی شہرت ایسی گولی نہیں ہے جسے سب حلق سے اتارلیں، اس اتحاد کے ایک فریق کانگریس کے اہم لیڈر کپل سبل نے کل منورنجن بھارتی سے صاف الفاظ میں کہا کہ ان کے وزیراعظم راہل گاندھی ہیں۔ اور ابھی کسی اتحاد کا خاکہ پوری طرح تیار نہیں ہے۔ سبل صاحب خود راجیہ سبھا کے ممبر کانگریس کے بل پر نہیں ہیں بلکہ دوسری پارٹیوں کی دوست نوازی کا صلہ ہیں۔ انہیں 2017 ء میں صوبائی اسمبلی کے اتحاد میں صرف 7 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی جس کا سبب اکھلیش یادو نہیں تھے راج ببر اور غلام نبی آزاد تھے جو اپنے کو قومی لیڈر سے کم کا درجہ دینے پر تیار نہیں تھے اور ان کو راہل گاندھی کے اس فیصلہ سے اتنا اختلاف تھا کہ دونوں نے صورت ہی نہیں دکھائی۔

عظیم اتحاد میں سب سے اہم کردار کانگریس کو ادا کرنا ہے اور دُکھ کی بات یہ ہے کہ وہی اس میں سب سے زیادہ رکاوٹیں ڈالے گی صرف اس لئے کہ وہ اپنے کو پٹا ہوا مہرہ سمجھنے پر اب بھی آمادہ نہیں ہے۔ بہار میں بھی کانگریس ہی تھی اس نے لالو یادو کو بہار میں اپنا بڑا مانا اور جو لالو نے کہا وہ کیا نتیجہ یہ ہوا کہ 25  ممبر کامیاب ہوئے۔ اب اترپردیش میں کانگریس کو 13  سیٹیں دی گئی ہیں اس کی وجہ صاف ہے کہ اترپردیش میں وہ رائے بریلی اور امیٹھی کی وجہ سے ہے۔ اترپردیش میں سنا ہے کہ امت شاہ اور مودی جی ان 7 سیٹوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں جہاں وہ ہارے تھے۔ اور مس مایاوتی اور اکھلیش یادو ان 73  سیٹوں پر توجہ دے رہے ہیں جن میں سے اس بار ایک سیٹ بھی بی جے پی کو دینے کا ارادہ نہیں ہے۔

مس مایاوتی کے اوپر اس الیکشن میں بہت ذمہ داری ہے مودی جی اس طبقہ کو جسے گاندھی جی ہریجن کہا کرتے تھے اپنے ساتھ لانے کیلئے اتنے بیتاب ہیں کہ انہوں نے اپنی پارٹیوں کے ان تمام لوگوںکو ناراض کردیا جو ایس سی ایس ٹی کے پوری طرح خلاف ہیں اور مودی جی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف آرڈی نینس لے آئے ہیں۔ مس مایاوتی کو اپنے طبقہ کو یقین دلانا ہے کہ یہ سارے کھیل الیکشن تک ہیں حکومت بن جانے کے بعد تمہارے ساتھ بھی وہی ہوگا جو ونکیا نائیڈو کے ساتھ ہوا کہ چار سال انہوں نے مودی کی پالکی کو کاندھا دیا پھر توبہ کرلی۔ جن باتوں کا تعلق دھرم سے ہو اُنہیں وقتی مفاد کے لئے ٹالا تو جاسکتا ہے ان کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مسئلہ بھی دھرم کا ہے کہ ہر مند میں ہریجن نہیں جاسکتا اب یہ ان لوگوں کی بات ہے جو ان مندروں میں جانے کے لئے تڑپتے ہیں اور اس لئے تڑپتے ہیں کہ ان سے سیاسی لیڈروں نے کہا ہے کہ تم ہندو ہو۔ وہ جب ہندو ہیں تو ان پر یہ پابندی کہ اس مندر میں جاسکتے ہو اور اس میں نہیں کیوں ہے؟

ان ذاتوں میں ایک تعداد ان کی ہے جو کہتے ہیں کہ وہ ہندو نہیں ہیں ان میں کچھ بودھ ہیں اور کچھ فیصلہ نہیں کرپائے کہ وہ کس کی پوجا کریں ان میں جو مسلمان ہوگئے وہ دنیا کی ہر مسجد یہاں تک کہ مکہ میں اللہ تعالیٰ کے گھر اور مدینہ میں آقا مولا صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بے دھڑک جاسکتا ہے۔ مس مایاوتی اور ان کے چاہنے والے مودی جی کے نشانے پر زیادہ ہیں ان دونوں کو ایک دوسرے کی مدد کیلئے اترپردیش کے ہر حلقہ میں جانا ضروری ہے۔ 2014 ء میں جن کو ٹکٹ دیا گیا تھا ان میں دونوں کے ٹکٹ کٹیں گے ہر امیدوار اس کی کوشش کرے گا کہ میرا حلقہ دوسرے کو نہ دیا جائے اس کا اکھلیش یادو اور مس مایاوتی پر ضرورت سے زیادہ دبائو ہوگا۔ اب یہ ان کی فراست پر منحصر ہے کہ وہ ان کو کیسے مطمئن کریں گے؟ یہ بڑا نازک موقع ہوتا ہے کہ ہر آدمی بی جے پی کو ہرانے کیلئے یہ چاہے گا کہ ہر پارٹی میری مدد کرے اور جب ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے اسے منایا جائے گا تو وہ 100  دلیلیں دے گا کہ اس کا تو جیتا ہوا الیکشن تھا۔

مسٹر راہل گاندھی پر سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لیڈروں کے دماغ سے یہ نکالیں کہ وہ سابق حکمراں پارٹی کے اہم رکن ہیں۔ ملک میں حزب مخالف کا جو مودی کے ہاتھوں یہ حشر ہوا وہ صرف کانگریس کی وجہ سے ہوا اور اب کانگریس کا ہر لیڈر 80  سیٹوں پر لڑنا چاہتا ہے۔ اس سے کم پر لڑنا اسے چھوٹی بات لگتی ہے اور چھوٹی بات کے لئے وہ تیار نہیں ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ 2017 ء میں مسٹر راہل گاندھی نے پی کے کو ملائم سنگھ کے پاس بھیجا تھا اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کے درمیان جو بھی سمجھوتہ ہوا صوبائی صدر راج ببر اور الیکشن انچارج غلام نبی آزاد یہ فیصلہ سنانے کیلئے سامنے کیوں نہیں آئے اور جتنی بھی سیٹوں پر فیصلہ ہوا تھا تو اس کے بعد وہ فیلڈ میں کیوں نہیں آئے؟ اور اپنی سیٹوں پر الیکشن کیوں نہیں لڑایا؟

اس الیکشن میں مسلمانوں کو بھی بہت اہم کردار ادا کرنا ہے۔ وزیراعظم نے نعرہ تو دیا تھا کانگریس مکت بھارت۔ اب اسے مودی جی کی کمزوری کہیں یا کانگریس کی سخت جانی کہ وہ پہلے سے کہیںزیادہ طاقت کے ساتھ سامنے آئی ہے پھر وزیراعظم نے پالا بدلا اور وہ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ اب تک تو ہندوستان میں مسلمانوں کا جانی نقصان ہوتا تھا اس کا ذمہ دار کوئی بھی ہو لیکن اس بار مودی جی نے جانی نقصان کے لئے تو ان کو لگا دیا جو وزیراعظم سے روزگار مانگتے رہتے تھے ان میں ہزاروں کو گئورکشک بنا دیا ہزاروں کو کانوڑیا اور ہزاروں کو رام مندر کا ٹھیکیدار۔ اور خود وہ نقشہ سامنے رکھا جس سے معلوم ہوسکے کہ مسلمانوں کی اقتصادیات کو خون کہاں سے مل رہا ہے؟ اور پھر نشتر لے کر ہر اس رگ کو کاٹ دیا اور اتنی خاموشی سے کاٹا کہ صرف اسے محسوس ہوا جس کی رگ کٹی۔

ہندوستان میں مسلمانوں کی خوشحالی میں سب سے اہم کردار جانوروں کی خرید فروخت، ان کی کھال گوشت اور ہڈیوں سے بننے والی چیزوں کا رہا ہے مودی جی نے جانوروں کی خرید بند کردی اس کا لانا لے جانا بند کردیا اس کا کاٹنا بند کردیا اترپردیش جو سب سے بڑی منڈی تھی وہاں ایک بھی سلاٹر ہائوس نہیں ہے۔ جانوروں کی کھال فروخت کرنے والے لاکھوں مسلمان کروڑپتی تھے اسے پکاکر چمڑا بیچنے والے لاکھوں ارب پتی تھے اور لاکھوں وہ تھے جو کسی نہ کسی شکل میں اس سے جڑے تھے اور عزت کی روٹی کھاتے تھے۔ آج کروڑوں مسلمان سڑک پر آگئے ہیں۔ سیاست میں ان کا کیا مقام ہے اس کا اندازہ لوک سبھا اور اترپردیش اسمبلی سے ہوسکتا ہے؟ اس پر بھی انہیں صبر نہیں ہے وہ ایسے دلال تلاش کرتے ہیں جو مسلمان کے ووٹ کاٹ لیں ان کی حیثیت بھی وہی ہوتی ہے جو پاکستان میں حافظ سعید کی ہوئی لیکن ان کو ان کی دلالی کے پیسے مل جاتے ہیں اور ملک میں مسلمانوں کے اچھے خاصے ووٹ اسلام کے نام پر نام کے مسلمانوںکو دلاتے یعنی نالے میں بہا دیتے ہیں ان کی سب سے پرکشش دلیل یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے لئے ہر سیاسی پارٹی اور بی جے پی ایک جیسی ہے۔ یا اپنا ووٹ مسلمان کو دے کر اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ الیکشن میں جو مسلمان لیڈر شیروانی پہن کر ایسی باتیں کرے خدا کی قسم وہ امت شاہ کا ایجنٹ ہے اور جس نے ایسے ملت فروش مسلمانوں کا کہنا مانا اس نے مودی جی کے ان ہاتھوں کو مضبوط کیا جن سے وہ مسلمانوں کو بھکاری بنانے میں رات دن مصروف ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close