سیاستہندوستان

یوپی: ہندو توا کی ایک اور لیب

نازش ہماقاسمی

ہندو توا کے علمبردار مسلم مخالف بیانات کےذریعہ ہمیشہ سرخیوں میں رہنے والے یوگی آدتیہ ناتھ کو یوپی کے وزیراعلیٰ کے طور پر ابھی حلف لیے ہوئے ایک ہفتہ بھی نہیں گزارا، لیکن اس دوران ان کے فیصلوں نے پورے ملک میں ہنگامہ برپا کردیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا سے لے کر پرنٹ میڈیا تک ہر طرف یوگی یوگی کی ہی صدا بلند ہورہی ہے۔ آخر کون ہے یہ یوگی اور کیوں اسے وزیراعلیٰ بناکر یوپی پرمسلط کیا گیا؟ کیا مقصد ہے بی جے پی کا اسے وزیراعلیٰ بنانے کے پیچھے؟

یوگی کے وزیراعلیٰ بننے سے سب سے زیادہ پریشانی اور خوف مسلمانوں میں پایا جارہا ہے۔ اور ان کا ذہن یہ سوال کررہا ہے کہ کیوں ایک ایسے متشدد ،متعصب ذہنیت کے مالک  مہنت کو وزیراعلیٰ کے اہم منصب پر فائز کیا گیا جو مسلمانوں کے تئیں نفرت وتعصب کا ذہن رکھتا ہے۔ جو مسلمانوں کو مارنے اور ان کے گھروں کو اجاڑنے کی دھمکیاں دیتا ہے، جو ان کی عفت و عصمت کی پیکر ماؤں بہنوں کی عصمت سے کھلواڑ کرنے کی بات کرتا ہے، حتی کہ مردہ خواتین کو قبرستان سے نکال کر ان کے ساتھ بے حرمتی کرنے کا اعلان کرچکا ہے، آخر اسے کیوں وزیراعلیٰ کے طور پر ہمارے اوپر مسلط کیا گیا؟

یہ سب اس لیے کیا جارہا ہے کہ بی جے پی کی نظریں 2019 کے لوک سبھا انتخابات پر لگی ہوئی ہیں، اور اسے ہر حال میں مشن 2020 ہندو راشٹر تک پہنچنا ہے، اور ان کا یہ حق بھی ہے کیوں کہ وہ مشکل ترین دور میں  مسلمانوں کی طرح خواب خرگوش میں مست نہیں رہے، بلکہ انہوں نے زندگی کے خوبصورت اور بدصورت ایام کو جاگ کر گزاراہے، محنتیں کیں، مجاہدے کئے، اپنے مشن کی تکمیل کے لئے قربانیاں دی ہیں، رات و دن ایک کیے ہیں. ہماری طرح جلسے جلوس میں محض بھیڑ اکٹھا کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ہر آن محنت کی ہے، جس کا ثمر انہیں مل رہاہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے جیسے ہی یوپی کی کمان سنبھالی تسلسل کے ساتھ اور پے درپے ایسے واقعات رونما ہوئے، جنہیں نظر انداز کرنا مستقبل سے آنکھیں پھیرنے کے مترادف ہے، ذرا غور کریں اور دیکھیں کہ جب آدتیہ ناتھ کی حلف برداری تقریب جاری تھی اسی وقت بریلی کالج میں آر ایس ایس پروردہ تنظیم اے بی پی والے موہن بھاگوت پر لب کشائی کرنے کی وجہ سے کالج میں توڑ پھوڑ اور ہنگامہ کررہے تھے۔ اسی شب سپا پرمکھ محمد سمیع کا بے رحمانہ قتل کردیا گیا، اور 20 تاریخ کو ہر جگہ کے اخبار نے یہ سرخی لگائی کہ غازی آباد سے لے کر اعظم گڑھ تک تمام بوچڑ خانے (مذبح) سیل کردیئے گئے۔

ابھی اس خبر سے نظریں ہٹی نہیں تھی کہ  میرٹھ کے ایک پارک میں بچوں کے درمیان جھولے پر بیٹھنے کے معمولی تنازعے میں دومسلم خواتین اور ان کے بچوں کو بری طرح مارنے پیٹنے کا معاملہ پیش آیا ، شرپسند مسلم خواتین کو یوگی آدتیہ ناتھ کا نام لے کر انتہائی فحش گالیاں دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ’تمہاراباپ یوگی آگیاہے‘‘۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ موقع پر پولیس اہلکار بھی موجود تھے لیکن پولیس نے شرپسندوں پر تو کوئی کارروائی نہیں کی لیکن ان مسلم خواتین میں سے ایک کے شوہر کو اپنے ساتھ تھانے لے گئی، جو صرف اپنے بچے کے فون کرنے پر اس باغ میں "کیا معاملہ ہے” یہ جاننے آیاتھا۔وہیں امروہہ میں ’دادری ٹو ‘پارٹ ریلیز کردی گئی اور ایک مسلم نوجوان ناصر کو گائے چوری کے الزام میں مار مار کر قتل کردیاگیا ابھی تک پولس و انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے اور شاید کارروائی ہو بھی نہ، کیوںکہ اخلاق کی موت ہم دیکھ چکے ہیں، کیا ہوا ان کے ساتھ اور بعد میں کیا ہوا یہ سبھی ملک کے عوام کےسامنے ہے۔

یوگی کے وزیراعلیٰ بنتے ہی یوپی میں ایک خوف وہراس کا ماحول قائم ہے، جمہوریت دم توڑتی نظر آرہی ہے، اقلیتیں بشمول مسلمان کس مپرسی کی طرف دھکیلی جارہی ہیں، ان کی روزی اور روزگار سے کھلواڑ کیا جارہا ہے، جگہ جگہ چھاپے ماری کرکے ان کی دکانوں کو سیل کیا جارہا ہے، حالانکہ کوئی سرکاری فرمان نہیں ہے پھر بھی پولس یادو سے برہمن بن کر ہر جگہ مسلمانوں کو ستانے کے درپے ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یوپی میں صرف مسلمانوں کے ہی بوچڑ خانے ہیں لیکن زد پر صرف مسلمانوں کے ہی بوچڑ خانے ہیں، لائسنس ہونے کے باوجود ان کی دکانوں کو سیل کرکے انہیں بے روزگار کرنے کی مہم جاری ہے۔ ہر طرف خاموشی کا عالم ہے، کوئی مسلم رہنما اس معاملے میں لب کشائی کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کررہا ہے ۔ سبھی خاموش ہیں، یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ نہیں بلکہ خوف اور ڈر کی علامت ہے۔ اگر چاہیں تو اپنے حقوق کے لئے لڑ سکتے ہیں، آواز اُٹھا سکتے ہیں، انقلاب برپا کرسکتے ہیں لیکن پتہ نہیں انہوں نے کیوں مون برت رکھ لیا ہے. کیا مقصد ہے اس کے پیچھے وہ تو وہی جانیں۔ اگر اسی طرح یوپی میں یہ سلسلہ دراز ہوتا رہا تو یہ آگ پورے ملک میں پہنچے گی ہم یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ یوپی کے مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے لیکن ذرا سوچیں مرکز میں بھی یوپی کی حکومت ہے راجیہ سبھا و لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہے اسی لئے اب وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

ہمیں جمہوریت بچانے کی خاطر، اپنے حقوق کی خاطر، آگے آنا ہوگا، خاموشی ہمارے لیے زیب نہیں دیتی۔ ابھی تو رام مندر کی تعمیر، طلاق ثلاثہ پر پابندی باقی ہے، اور وہ عنقریب اس ضمن میں پیش قدمی کریں گے، رام مندر بنانے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا کیوں کہ عدلیہ نے بھی اپنا دامن جھاڑ لیا ہے۔ (بھلے سے رام مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کی بابری مسجد سے سبکدوشی کے بعد ملک کے حالات بگڑیں، اللہ نہ کرے ایسا ہو لیکن اگر ایسا ہوا تو نقصان صرف مسلمانوں کا ہی ہوگا اور بی جے پی ہمیشہ فائدہ میں رہے گی کیوں کہ ان کی فطرت میں ہے فساد کرو ہندو متحد ہوں گے، یہ لوگ انگریزوں کی چال پر چل رہے ہیں نفرت کے بیج بوؤ، اور حکومت کرو)  اور طلاق ثلاثہ پرپورے ملک میں نہ سہی لیکن یوپی میں ضرور پابندی عائد کردی جائے گی اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں گے۔

مسلم تنظیمیں، اکابرین ملت قائد جمہوریت جلسے جلوس ضرور کریں، قرادار د ضرور پاس کریں، اعلامیہ ضرور شائع کریں لیکن اس اعلامیے کے نفاذ کی بھی کوشش کریں، اس قرار داد پر عمل کروانے کے لئے بھی کوشاں ہوں، جلسے جلوس میں مہنت  یوگی کو ضرور بلائیں اس سے یقینا یکجہتی کا درس ملتا ہے لیکن محض یہیں تک نہ بیٹھیں آگے بڑھیں ان مہنتوں اور یوگیوں کے ذریعہ برادران وطن میں جو خلیج پیدا ہوگئی ہے اسے پاٹنے کا کام کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close