سیاستہندوستان

یوگی آدتیہ ناتھ کو دو امتحان دینا ہیں!

حفیظ نعمانی

اُترپردیش کے نئے وزیر اعلیٰ نے ایوان میں مخالف ممبروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ یوپی میں قانون کا راج ہوگا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پہلے کے مقابلہ میں جرائم میں بہت کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجرموں کو اب سیاسی تحفظ نہیں دیا جائے گا۔ اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا ہی سلوک کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق اب ریاست میں لوگ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں ۔ اور آپ چاہیں تو 19  مارچ سے 19  مئی تک دو مہینے کا ریکارڈ آپ کو بھیج دوں ؟

کسی وزیر اعلیٰ کا ایسا بیان کوئی نیا نہیں ہے۔ آدتیہ ناتھ یوگی کو شاید خیال نہیں تھا کہ وہ کہاں بول رہے ہیں ؟ یہ مجمع ان کے ماننے اور چاہنے والے عوام کا نہیں تھا بلکہ یہ سب وہ تھے جو لاکھوں ووٹروں کے نمائندے ہیں اور جن کے پاس معلومات کا ذریعہ اس سے بھی زیادہ ہے جتنا وزیروں کے پاس ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنے خراب دو مہینے یہ گذرے ہیں اتنے دوسرے مشکل سے ملیں گے۔ اتفاق کی بات ہے کہ 28  مارچ کو برسوں کے بعد میں سنبھل جارہا تھا۔ یہ یاد بھی نہیں تھا کہ وہاں اس تاریخ کو نیزے کا میلہ ہوتا ہے۔ سنبھل میں عزیزوں کو معلوم تھا کہ ہم لوگ سڑک کے راستے سے آرہے ہیں ۔ سرسی سے ذرا سا آگے بڑھے تو ایک فون آیا کہ سنبھل میں حالات ٹھیک نہیں ہیں ۔ ہم ایک گاڑی بھیج رہے ہیں اس کے ساتھ آپ لوگ آئیں وہ ان راستوں سے لائے گا جہاں امن و امان ہے۔

سنبھل میں چار دن تک رہے تو یہی خبریں آتی رہیں کہ فلاں محلہ میں پولیس سے ٹکرائو ہوگیا۔ اور آج فلاں محلہ میں پولیس کی عورتوں سے جھڑپ ہوگئی۔ اور واپس آئے تو سہارن پور، پھر بہرائچ اور اب بلرام پور جو کبھی بھی مسلم اکثریت کا قصبہ نہیں رہا ہے وہاں مسلم بستیوں پر پولیس نے غریبوں کی زندگی اتنی مشکل کردی ہے کہ وہاں سے غریب مسلمان گھر چھوڑ چھوڑکر دوسرے شہروں میں جارہے ہیں ۔ یوگی جی کو معلوم ہونا چاہئے کہ اب وہ وزیر اعلیٰ ہیں ۔ ان کو جو سنائی دے گا یا دکھائی دے گا وہ اپنی آنکھوں اور کانوں سے نہیں بلکہ پولیس کے کان اور آنکھ سے دکھائی دے گا۔ وہ جب معلوم کریں گے کہ بلرام پور سے مسلمان کیوں گھر چھوڑ چھوڑ کر جارہے ہیں ؟ اور وہاں کے مسلمان مردوں عورتوں اور بچوں کو جیل میں کیوں بند کردیا؟ تو وہ صوبہ کے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے معلوم کریں گے، وہ آئی جی گونڈہ سے معلوم کریں گے، جو بلرام پور کے ایس پی سے جواب طلب کریں گے اور ایس پی جواب میں وہ پریس ریلیز کی کاپی بھیج دیں گے جس میں پولیس پر مسلمانوں کے حملہ کی کہانی ہوگی اور گائے کا دو کنتل گوشت گاڑی کی ڈگی سے برآمد ہونے اور چند ملزموں کے فرار کی کہانی ہوگی۔ جو سراسر جھوٹ پرمبنی ہوگی لیکن وزیر اعلیٰ اسے گیتا اور رامائن سے زیادہ سچا مانیں گے اس لئے کہ حکومت کا یہی طریقہ ہے۔ اور دہشت یہ ہے کہ پولیس سنبھل کی ہو، سہارن پور کی ہو یا بلرام پور کی ہو اس میں سب ہندو ہوتے ہیں اور اب وہ صوبہ میں ہندو راج مان کر وہ کررہے ہیں جو غنڈہ راج سے کہیں زیادہ بدتر ہوتا ہے۔

اپنی پوری عمرکا تجربہ ہے کہ ملک کی ہر خرابی کی ذمہ دار پولیس ہے اور ہر وہ صوبہ اور زیادہ برباد ہوگا جس میں وزیر اعلیٰ آنکھ بند کرکے پولیس کی جھوٹی کہانی پر یقین کرے گا۔ صوبہ میں ایسے وزیراعلیٰ ہوئے ہیں جن کے سامنے پولیس کے افسر کانپتے تھے اور ایسے بھی ہوئے ہیں جو پولیس کے اشاروں پر چلنے کو ہی حکومت سمجھتے تھے۔ یوگی جی کو تو خود تجربہ ہے کہ بات کیا ہوتی ہے اور پولیس اسے بتنگڑ کیسے بناتی ہے؟ وہ یاد کریں جب اسی پولیس نے انہیں اتنا تنگ کیا تھا کہ وہ رو دیئے تھے؟ وہ اگر ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ منتر اب بھی گلے میں ڈالے ہوں تو یہ دیکھیں کہ پولیس بلرام پور کے مسلمانوں کے ساتھ کیا کررہی ہے؟

آدتیہ ناتھ یوگی کوئی عام وزیر اعلیٰ نہیں ہیں بلکہ انہوں نے دنیا کی ہر خوشی کو لات مارکر سنیاس لیا ہے اور پہچان کے لئے وہ لباس پہنا ہے جو دنیا کو ٹھوکر مارنے والے پہن لیتے ہیں ۔ اب اگر وہ دوسرے وزیروں کی طرح اپنے راج میں پولیس کو چھوٹ دیں گے کہ وہ من مانی کرے تو اس زعفرانی پوشاک کے دھاگے کانٹوں کی طرح ان کی آتما میں چبھیں گے اور ان کی پوجا اور تپسیا سب دھری رہ جائے گی۔ مسلمانوں میں بھی وہ لوگ ہوئے ہیں جو دنیا چھوڑکر کہیں بیٹھ جاتے تھے یہ جو اجمیر، کلیئر، آگرہ، دیویٰ، سرہند وغیرہ وغیرہ میں سیکڑوں برس پہلے آئے تھے یہ دنیا چھوڑکر ہی آئے تھے اور انہوں نے ہر کسی کی مدد کی اور مدد کرتے وقت نہ یہ دیکھا کہ مسلمان ہے یا ہندو اور نہ کسی سے کہا کہ تم اپنا دھرم بدل دو۔ جس نے دیکھا کہ ان کے چاروں طرف اچھا ہی اچھا ہے ان میں سے کسی نے چاہا تو اپنا دھرم بدل دیا۔

یوگی جی کو دوہری آزمائشوں سے گذرنا ہے انہوں نے جس کے لے دنیا چھوڑی ہے انہیں پردیش کے 22  کروڑ انسانوں کے علاوہ اس کا بھی جواب دینا ہے کہ اس نے اپنے کپڑوں اور اپنے فیصلوں کی آبرو رکھی یا نہیں ؟ انہوں نے صرف زعفرانی لباس نہیں پہنا ہے بلکہ جس کے نام پر اور جس کے لئے پہنا ہے اسے جواب بھی دینا ہے۔ وہ صرف یہ نہ سمجھیں کہ انہیں مودی کے سپنوں کا پردیش بنانا ہے۔ انہیں مودی سے زیادہ اپنے بھگوان کے سپنوں کا پردیش بنانا ہے جنہوں نے انصاف کی ترازو ہاتھ میں دے کر انہیں آزمائش میں ڈالا ہے۔ وہ اگر ایک مثالی وزیر اعلیٰ بن کر سامنے نہ آئے تو اپنے دھرم گرو سے معلوم کرلیں کہ پھر ان کے ساتھ کیا ہوگا؟ کوٹ پتلون اور کرتہ پائجامہ والوں کی دنیا دوسری ہوتی ہے اور یوگی سنیاسی کی دوسری۔ دونوں میں اتنا فرق نظر آنا چاہئے کہ اس پردیش کے مسلمان اور دوسرے کمزور یہ دعا کرنے لگیں کہ ان کے جیتے جی یوگی ہی وزیر اعلیٰ رہیں ۔ اور جو منتر سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے وہ صرف زبان سے کہنے کا نہیں ہے کرکے دکھانے کا ہے۔ اب یہ فیصلہ انہیں کرنا ہے کہ وہ زبان سے کہتے ہیں یا کرکے دکھاتے ہیں ؟ اس کا فیصلہ بلرام پور کے غریبوں کے آنسو کردیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close