سیاستہندوستان

یوگی جی!آپ کابے حدشکریہ

صادق رضامصباحی

 مسٹریوگی نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچاہوگاکہ عیدمیلادالنبی ﷺ کی چھٹی ختم کیے جانے سے مسلمان کس قدرفائدہ اٹھاسکتے ہیں

اترپردیش حکومت نے ایک بارپھرایسافیصلہ دیاہےجوبظاہر تعصب وسیاست کے جراثیم سے آلودہ دکھائی دیتاہےمگریہ ہمیں اپنے احتسابِ فکروعمل کی دعوت دے رہا ہے ۔فیصلہ یہ ہے کہ 25؍اپریل2017ء کواترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اہم اور ممتاز ترین شخصیات کے یوم ولادت ویوم وصال سے متعلق اسکولوں اورکالجوں کی پندرہ چھٹیاں ختم کردیں اوراسکولوں کوحکم دیا کہ اس دن متعلقہ شخصیت پردوتین گھنٹے کا پروگرام منعقدکریں تاکہ بچے ان کی حیات، تعلیمات ا ور خدمات سے متعارف ہوں ۔ختم کی جانے والی چھٹیوں میں عیدمیلادالنبی کی چھٹی بھی ہے ۔آپ کواس اعلان سے یقیناًشدیدغصہ آیاہوگااورآپ نے یوگی پردوچارلعنتیں بھی بھیج دی ہوں گی مگر میں اس فیصلے سے انقلابی اقدام کی چاپ سن رہاہوں ۔ا س فیصلے پرنظرپڑتے ہی غصہ مجھے بھی آیاکہ یوگی نے کئی اہم شخصیات کے نام کی چھٹیوں کوبرقراررکھا مگر عیدمیلادالنبی کی چھٹی منسوخ کر دی،یہ تو کھلا ہوا تعصب ہےمگرچندمنٹ کے اندرہی غصہ کافور ہوگیا اور اس کی جگہ مسرت نے لے لی ۔ اللہ عزوجل نے سوئی ہوئی قوم کوبیدارکرنے کے لیے مودی کے بعداب ان کے ہم نوالہ وہم پیالہ یوگی کوبھی بھیج دیا ہے جواپنے بعض فیصلوں سے ہمیں اپنے مذہب سے قریب ہونے کاموقع دے رہے ہیں ۔ چنددن قبل ہی یوگی نے مدرسوں کی جدیدکاری کااعلان کیاتھا جویقیناًنہایت خوش آئندفیصلہ تھا اوراب یہ فیصلہ بھی ایساہی ہے۔آ پ کوشایدیقین نہ آئے،آئیےدیکھتے ہیں کہ کیوں اور کیسے۔

یہ با ت مسلم کہ مسلمانو ں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اورحکومت نے مسلمانوں کوذہنی طور پر پریشان کرنے کاایک اورحربہ اپنایاہے مگراب ہمیں بھی طے کرلیناچاہیے کہ ہم کسی کے پریشان کرنے اورسازش کرنے والوں کی چال میں پھنسنے والے نہیں ۔ہم عیدمیلادالنبی جیسے مناتے آ رہے تھے ویسے ہی مناتے رہیں گے ۔اس دن ہم غیرمسلموں کے کالجوں اوراسکولوں میں جائیں گے ، وہاں کے طلبہ وطالبات کے سامنےآقائے کریم صلی اللہ علیہ سلم کی تعلیمات پرخطاب کریں گے ، بچوں کوسمجھائیں گے کہ اسلام کیاہے ، اسلامی تعلیمات کے فوائدوحکمتیں کیاہیں اوراسلام دہشت گردی کے سخت مخالف کیوں ہے ۔ایک ایسے وقت میں کہ جب ہم پر چاروں طرف سے وار ہو رہے ہوں ، ہماری اذانوں ،مدرسوں اوردیگراسلامی شعائرپرحملے ہورہے ہوں ،طلاق ثلاثہ اوریکساں سول کوڈ کے معاملے میں ہمیں دفاع کرنے مجبورکردیاگیاہواورہم صرف احتجاج کرکے رہ جاتے ہوں جب کہ دوسری طرف ملک کا مستقبل جوکالجوں اوراسکولوں میں زیرتعلیم ہے ،اسے نصابوں کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف زہردیاجارہاہو،ان کے دماغوں میں غلط فہمیاں ٹھونسی جارہی ہوں اوریہ غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے ہمارے۹۵فی صد ’’بڑوں ‘‘کے پاس کوئی پلان ہی نہ ہوتویہ کتنااچھاموقع ہے جواللہ نے یوگی کے ذریعے ہمیں فراہم کردیاہےکہ نفرتوں اورغلط فہمیوں کے ماحول میں پرورش پارہی اس جدیدنسل کوحقائق سے آگاہ کریں اورانہیں بتائیں کہ اصل معاملات کیاہیں ۔

ذراسوچیے کہ کیاہمیں یوگی کے اس فیصلے کابھرپوراستعمال نہیں کرناچاہیے یاصرف اسے حکومت کی سازش کہہ کرمسترد کردینا چاہیے ؟ ۔یوگی کی مخالفت کی بجائے اگران کی تعریف کی جائے تو آپ یقین جانیے اس کے بیش بہافوائدمرتب ہوسکتے ہیں ،وہ طبقے جو اس چھٹی کی منسوخی سے مسلمانوں کے ردعمل کے انتظارمیں پہلوبدل رہے ہیں ،ان کے منصوبوں میں خاک اڑتی دکھائی گی اوراگرہم مخالفت پراترآئے تواحتجاج کرکے خود اپنے ہی قویٰ مضمحل کربیٹھیں گے اوردشمن کے منصوبے پورے ہوجائیں گے۔ہم اسے سازش سے تعبیرنہ کریں بلکہ اسے اپنے دین کی تعبیروتشریح کا ذریعہ سمجھ لیں پھرہم کھلی آنکھوں سے محسوس کریں گے کہ دین کا فروغ بھی ہورہاہے،برادران وطن کی غلط فہمیاں بھی ختم ہورہی ہیں اورہم دھیرے دھیرے نفسیاتی دبائوسے بھی آزادہوتےچلے جا رہے ہیں ۔

ہماری مذہبی اشرافیہ نے تذکیروتذکیہ کاکام توبہت کیااورکررہے ہیں مگر تبلیغ و دعوت کی طرف بہت کم خوش نصیب علماووداعظین کی نظرگئی ۔نتیجہ یہ ہواکہ غیروں میں غلط فہمیاں بڑھتی ہی گئیں اور بڑھتی ہی جارہی ہیں اورحیرت تویہ ہے کہ اب بھی اس تیزی سے کام نہیں ہو رہاہے جیسا ہونا چاہیے ۔ ہم اپنے ہی مسلمان بھائیوں کودینی تعلیمات سے آشناکراکرمطمئن بیٹھے ہوئے ہیں جب کہ غیروں کو بھی اسلام کی دعوت دینے کی اشدضرورت ہے ۔یہ ہماری اسی کمی کانتیجہ ہے کہ لوگ ہمارے دین کو مشتبہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔مگر اللہ تعالیٰ کی حکمتیں دیکھیے کہ وہ دین کاکام ایسے لوگوں سے بھی لے لیتاہے جودین کے دشمن ہوتے ہیں ۔یوگی کے ذریعے اللہ نے مسلمانوں کےلیے ایک بہت بڑا پلیٹ فارم مہیاکرادیاہے ۔یہ ایساپلیٹ فارم ہے کہ نئی نسل تک پہنچنے کے لیے اس سے بہترپلیٹ فارم ہمیں میسرنہیں آئے گا۔تما م طلبہ وطالبات عیدمیلادالنبی کے دن اپنے اپنے اسکولوں اور کالجوں میں ہوں گے ،ذمے داروں کو ایک پلاننگ کرنی ہوگی کہ اپنے علاقے کے اسکولوں اورکالجوں کے ذمے داروں سے ملیں ،ان سے کہیں کہ ہم آپ کے بچوں سے اسلام کے موضوع پرکچھ گفتگو کرنا چاہتے ہیں ، 100میں سے 90 ؍اسکول اس کے لیے ضرورراضی ہوجائیں گے ۔ہم موضوعات کا انتخاب کریں ، بچوں کے درجات اوراذہان کے مطابق ان سے خطاب کریں ،بچوں کے لیے عید میلادالنبی کے تحفے کے نام پر گفٹ لے جائیں ،یہ گفٹ کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ سیرت نبوی اوراسلامی تعلیمات پر مشتمل ہندی ،اورانگریزی کے کتابچے اوررسالے بھی ہوسکتے ہیں ۔آپ یقین کرلیجیے کہ اس کے اتنے زیادہ بہترنتائج مرتب ہوں گے کہ آپ اس کاتصوربھی نہیں کرسکتے۔یوگی حکومت نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچاہوگاکہ اس کے اس فیصلے سے مسلمان اس قدرفائدہ اٹھاسکتے ہیں اوراسے اپنے دین کا تبلیغ کابہترین ذریعہ بناسکتے ہیں ۔کاش ہم اس منصوبے پرعمل پیراہوجائیں ، کاش!

میری نظرمیں طبقہ علماکی جانب سےخصوصاًشمالی ہندمیں آج تک کوئی ایسی مثال نہیں گزری کہ علمانے کالجوں اوراسکولوں میں جاکراس طرح تبلیغ کی ہو،ہاں خانقاہ قادریہ بدایوں شریف کے چشم و چراغ مولانا محمد اسیدالحق قادری بدایونی جوچارسال قبل بغداد میں کسی دہشت گردکے ہاتھوں شہید ہوگئے ،نے ضرورعیدمیلادالنبی پراپنے شہربدایوں میں مروجہ روایت سے الگ ہٹ کرکام کیا اور یوم ولادت کے موقع پرشہرکے ایک کالج میں طلبہ سے خطاب کیا،اسلامی تعلیمات سے آگاہ کیا اور انہیں کتابچے پیش کیے ۔اس کے حیرت انگیزاثرات مرتب ہوئے ۔آرایس ایس نصاب اور ورکشا پ کے ذریعے جس طرح سے اسکولوں میں جا جاکر بچوں کے دماغوں کوتعفن زدہ کر رہی ہے، اس تعفن کوختم کرنے کے لیے آرایس ایس کےاسی طریقہ کار کو اپنایاجاناضروری ہے۔مقام شکرہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہمیں یہ موقع فراہم کردیا ہے ۔

ایک بات یادرکھیے ،غلط فہمیاں صرف مذاکرات سے ختم ہوں گی ،اپنے ہی لوگوں اور عقیدت مندوں میں تقریرکرکے ،میگزین اوراخبارات میں مضمون لکھ کراوراخباری بیان بازی سے  غلط فہمیاں کبھی ختم نہیں ہوسکتیں ۔ہم بالعموم اب تک برادران وطن سے مذاکرات سے پہلوتہی کرتے چلے آرہے ہیں اسی لیے غلط فہمیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں ۔اب اللہ نے ہمیں اس کے ازالے کاموقع عنایت کر دیاہے ۔کہاں ہیں یوپی کے 18 ہزار313 مدارس کے ذمےد اران ،علما،فارغ التحصیل اور کہاں ہیں خانقاہوں کے مشائخین ومجاورین کیاوہ اس کام کے لیے کوئی منصوبہ بندی کریں گے یایوں ہی بی جے پی حکومت پرلعنت کے دوجملے بھیج کراپنی اپنی عبادت گاہو ں میں سمٹ جائیں گے اور پھر رو رو کر دعاکریں گے کہ’’ یااللہ !اسلام کوتقویت دےدے ، باطل کامنہ کالا کردے ،مسلمانوں کابول بالا کر دے۔‘‘ امسال عیدمیلادالنبی ۲دسمبرکوہوگی ،اس لیے ابھی سے تیاری کاخاکہ بناناہوگا۔دل سے آواز آ رہی ہے’’یوگی جی!آپ کابے حدشکریہ‘‘

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close