سیاست

یوگی جی! اس وحشیانہ انکاؤنٹر کامجرم کون ہے؟

شکیل رشید

اگرآپ کسی اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں بالخصوص اگرآپ مسلم اقلیت سے ہیں اورآپ نے موٹر سائیکل اورموبائیل فون چوری کیاہے توپولس انکاؤنٹر میں مرنے کے لیے‘وہ بھی کیمرے کے سامنے ،تیار ہوجائیں۔ بھلے ابھی آپ سنِ بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔ جی ہاں،اس ملک کی سب سے بڑی ریاست یوپی میں،جہاں ایک ’یوگی‘آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے‘اِن دنوں یہی ہو رہاہے۔ یوگی کی پولس اقلیتی فرقے کے نوجوان بشمول نابالغوں کو کئی روزپہلے پکڑتی ہے اورپھر ایک روزانہیں’دوڑا کر‘انکاؤنٹر میں ماردیتی ہے۔ یہ کوئی ہمارا الزام نہیں ہے یہ ان والدین کاالزام ہے جو یوگی کے حکم پر پولس کے ہاتھوں اپنے پیارو ں کو کھوچکے ہیں۔ علی گڑھ میں گذشتہ روز جو واقعہ پیش آیا وہ اس ملک کی تاریخ کاشاید پہلا ایسا واقعہ ہوگا کہ پولس نے فون کرکے ’منتخب اخباری نامہ نگاروں‘کو’مدعو‘کیا کہ آپ لوگ آئیں اوردیکھیں کہ پولس کس طرح سے بدمعاشوں کاانکاؤنٹر کرتی ہے۔ جب اخباری نمائندےشام کے پونے سات بجے کے قریب علی گڑھ کے ہردواگنج پہنچے تودیکھا کہ پولس کی ایک ٹولی نے‘جن میں سےکچھ بلٹ پروف جیکٹ کچھ وردی اورکچھ بس ٹی شرٹ پہنے ہوئےتھے، دونوجوانوں کو گھیررکھا ہے۔ اورتھوڑی ہی دیرمیں انہیں اخباری نمائندوں کی نظروں کے سامنے‘کیمروں کے چمکتے فلش کی روشنی میں ڈھیرکردیاگیا۔ یہ ہے یوپی کی یوگی کی پولس کاانکاؤنٹر!

اسے کیوں نہ’فرضی‘مان لیا جائے؟جو دونوجوان مارے گئے ان کے والدین کایہی الزام ہے۔ بھلا کیوں والدین کی بات سچ نہ مانی جائے؟جومارے گئے ان میں ایک نوشاد تھا اس کی عمر محض ۱۷؍سال تھی‘پولس نے اس کی عمر۲۲؍سال بتائی ہے۔ دوسرے کانام مستقیم تھااس کی عمر ۲۲؍سال تھی پولس نے اسے ۲۵؍سال کی عمر کابتایاہے۔ بڑے فخر سے علی گڑھ سٹی کے ایس پی اتل کمارسریواستوا نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں نے دوموٹر سائیکلیں اوردوموبائیل فون چوری کئے تھے‘ جب پولس نے پیچھا کیاتوپولس پر فائرنگ کرنے لگے،پولس نے جوابی فائرنگ کی،دونو ں زخمی ہوئے اورجب اسپتال لے جائے گئے تومردہ قرار دے دئیے گئے۔ پولس کی یہ کہانی ہم نے کتنی بارسنی ہے!اس کہانی میں جھول ہی جھول ہے۔ اوراگریہ سچ بھی ہےتوکیا موٹر سائیکل اورموبائیل فون چوری کی سزا نکاؤنٹر ہے؟نابالغ نوشاد کی غمزدہ ماں رفیقہ کایہ دعویٰ ہے کہ پولس دونوں کو چار روز سے پکڑے ہوئے تھی اوردونوں ہی کو بے رحمی سے قتل کیاگیاہے۔ رفیقہ کے دعوے کوآسانی کے ساتھ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ عدالت کادروازہ کھٹکھٹانا چاہتی ہے مگر بے حد غریب ہے،سبزی بیچتی ہے،ضرورت ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اورجمعیۃ علما جیسی تنظیمیں اس کے ساتھ کھڑی ہوں۔

’یوگی ‘کے راج میں صوبہ یوپی ’انکاؤنٹر ریاست‘میں تبدیل ہوگیاہے۔ پولس کو کھلی اجازت ہے کہ جسے’مجرم‘سمجھے اسے بھون ڈالے۔ اب تک پولس ۱۵سو سے زائد انکاؤنٹر کر چکی ہے جن میں ۶۶؍لوگ جان سے گئے ہیں۔ جان سے جانے والوں میں مسلمان،یادو،دلت اورپچھڑوں کی تعداد سب سے زیادہے اورجو اعلیٰ ذات کے لوگ مارے گئے یازخمی کئے گئے ہیںوہ بی جے پی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ یوگی جی بتائیں کہ اس وحشیانہ انکاؤنٹر کامجرم کون ہے اورکیا اس کے خلاف کارروائی ہوگی اورکیا اخباری نمائندوں کو بلا کر کیمرے کے سامنے انکاؤنٹر کرنا کسی مہذب،جمہوری ملک کاوطیر ہ ہے؟ہم یہ سوال بھی کرناچاہتے ہیں کہ بھلایہ یوگی سرکار کس کام کی ہے؟یہ حقیقی مجرموں کو چھوڑے ہوئے ہے،عصمت دری کرنے والے آزاد ہیں،فرقہ پرست تشدد کرتے پھر رہے ہیں،ریاست میں اقلیتیں خوف وہراس کے عالم میں جی رہی ہیں،کیا ’رام راجیہ‘یا ’ہندوراشٹر‘ ایسا ہی ہوگا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close