سیاستہندوستان

یوگی کا دورۂ بہار!

نازش ہما قاسمی 

ملک کی حالت دگرگوں ہے۔ اقلیت پریشان ہے۔ جنونی بھیڑیں انہیں مارنے پر آمادہ ہے۔ ہر طرف خوف ودہشت کا عالم ہے۔ دلت ، مسلمان، عیسائی کوئی بھی ان جنونی بھیڑوں کے شر سے محفوظ نہیں ۔ بجنور میں مسلم روزہ دار دوشیزہ کی چلتی ٹرین میں عصمت دری کی جا چکی ہے تو جالنہ میں نابالغ بچی کو ہوس کا شکار بنایا جاچکا ہے۔ ستنا میں راہبہ پر تبدیلی مذہب کا الزام لگا کر ہنگامہ برپا کیا جاچکا ہے۔ سہارنپور میں دلتوں کا جینا دوبھر ہے۔ ان سب کے باوجود موجودہ مرکزی و ریاستی حکومت اپنی کامیابی کا ڈھنڈورہ پیٹ رہی ہے۔

وہ ملک جو گنگا جمنی تہذیب کا علم بردار تھا آج خون خرابے ، فرقہ پرستی وہنگامے کی نذر ہوچکا ہے۔ یوگی حکومت کو ابھی صرف سو دن ہی ہوئے ہیں لیکن ان سو دنوں میں مسلمانوں دلتوں کے ساتھ جو ظلم و ستم روا رکھا گیا ہے وہ تاریخ ہند کا المناک باب ہے۔ پہلے ہی دن سے جاری ہندو دہشت گردوں کے ظلم کے شکار مسلمان اب مایوس ہوچکے ہیں ۔ انہیں ہندوستان میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا جارہا ہے۔ جہاں وہ ہزاروں کی تعداد میں بے روزگار ہوئے ہیں وہیں یہ خوف ہمیشہ ستارہا ہے کہ پتہ نہیں کون سی بھیڑ کب آئے اور گھر پر چھاپہ ماری کرکے خون میں لت پت کردے۔ ملک میں کہنے کو تو قانون سب کے لیے ہے لیکن بقول منکول روابط ہر جگہ ضوابط توڑ دیتے ہیں ۔ اور یہی سب کچھ ہندوستان میں ہورہا ہے ان جنونی بھیڑوں پر لگام کسنے والا کوئی نہیں ۔ اگر ایسا ہوتا تو دادری کے اخلاق کے بعد کوئی گئو ماتا کی بھینٹ نہ چڑھتا ۔کسی پہلو خان کو بے دردی سے قتل نہ کیا جاتا، کسی نجیب کو غائب نہ کردیاجاتا ۔

 پس ثابت یہ ہوا کہ قانون صرف غریبوں کے لیے ہے ۔ مجبوروں کے لیے ہے۔ قانون کی بالادستی سے امرا، جنونی بھیڑیں بالا تر ہیں وہاں تک ان کے لمبے ہاتھ پہنچنے سے قاصر ہیں ۔ موجودہ حالت میں جس طرح حکومت خاموش ہے ہم مرکزی حکومت سے خیر کی کچھ بھی امید نہیں لگا سکتے حالانکہ 2014کے الیکشن سے قبل کانگریس سے ستائی ہوئی عوام نے مودی جی کی چرب زبانی کے جھانسہ میں آکر اچھے دنوں کی آس میں انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب کیا تھا کہ ہمارے اچھے دن آجائیں گے، کسانوں کے اچھے دن آجائیں گے، ان کے قرض معاف ہوجائیں گے، کسی غریب کو ستایا نہیں جائے گا، عورتوں پر ظلم روا نہیں رکھا جائے گا لیکن وہ سب عہد وپیمان بقول امیت شاہ کے ’جملہ‘ تھا۔ انہوں نے تو جملہ بول کر اپنا پلہ جھاڑ لیا لیکن ملک کے سیکولر عوام پریشان ہو اُٹھے ، انہوں نے مرکزی حکومت کے خلاف عدم رواداری کے مسئلے پر آوازیں اُٹھائیں ۔ لیکن ہوا کچھ نہیں کیوں کہ حکومت پر براجمان طبقے کی ہمیشہ بالا دستی ہوتی ہے۔ اور جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا محاورہ اس طبقہ پر صادق آتاہے ، اگر یہی سب ملک میں ہوتا رہا تو ملک کا نقشہ بگڑ جائے گا۔ آج دلت اور کسانوں کی تحریک پرتشدد ہوچکی ہیں ، مسلمان مصلحت کی چادر اوڑھے ہوئے کسی قائد کے منتظر ہیں ایسا قائد جو انہیں جنگ آزادی کی طرح رہنمائی کرے، ان کے حقوق دلائے انہیں دوسرے درجے کے شہری کی لعنت سے آزاد کرائے۔

لیکن مسلمانوں میں اتنے قائد ہیں جو شمار کی قید سے آزاد ہیں  اور سبھی اپنے قاعدے بھول چکے ہیں ۔ اتحاد امت کی باتیں صرف مائیک پکڑ کر ہی ہوتی ہے زمینی طور پر کوئی راہنما نہیں ہے اور جو ہیں بھی ان اکثر طبقہ ایک دوسرے پر کاسہ لیسی کا دھبہ لگا رہا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس ملک کی سلامتی کے لیے ، اس ملک کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے بچانے کے لیے ایک ایسے قائد کے پرچم تلے جمع ہوں ایک ایسے رہبر کو تسلیم کریں جو ہمارے مسائل گفتگو کرتا ہو ،عملی اقدام کی جرئت رکھتا ہو ،ایوان بالا سے لے کر شاہراہوں تک ہر جگہ ہمارے مسائل کو اٹھانے ہی نہیں پورا کرنے کا بھی حوصلہ رکھتا ہو ، اور فرقہ پرستوں سے جمہوری حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے لڑیں انہیں بتادیں کہ یہ ملک ہمارا تھا ، ہمارا ہے، اور ہمارا رہے گا ہم نے قربانی دی اس ملک کو آزاد کرایا ،اس ملک کی مٹی میں آج بھی ہمارے خون کی خوشبو موجود ہے ،لیکن ایسا کوئی قائد نظر نہیں آتا،جو ہماری امیدوں پر کھرا اترے ،اور جمہوریت کا محفاظ و نگہبان ثابت ہو ، مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن ہمارے قائد مانچسٹر بم دھماکہ، فرانس بم دھماکہ ایران پارلیمنٹ بم دھماکہ پر لب کشائی تو کررہے ہیں لیکن بجنور کی بہن کی تارتار عصمت پر کچھ نہیں بول رہے، سیف اللہ لکھنو کے انکائونٹر پر کچھ انکی زبانیں خاموش ہیں معصوم کا خون ان کے قلب کو نہیں جھنجھوڑ رہا ہے  ۔ وہ اپنی ذمہ داریاں بھول بیٹھے ہیں ،انہیں چاہئے کہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مسلمانوں کی رہنمائی کریں ان کے حقوق دلائیں اور ان شاء اللہ ضرور کوئی قائد ایسا آئے گا جو محمد بن قاسم کی طرح اپنی بہن فاطمہ کی چادر سنبھالے گا۔

خبر آرہی ہے کہ بہار میں یوگی جی کا دورہ ہوا ہے۔ ویسے کسی بھی ریاست کے وزیراعلیٰ کا دوسری ریاست میں جاکر بیان کرنا ریلیاں نکالنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے لیکن یہاں خطرہ ہے یوگی جی ایک کٹر ہندو توا شبیہ کے مالک ہیں اور بہار ملک کے موجودہ حالت ،  ابھی پرامن ہیں ،لیکن یوگی جی کا راجائوں مہاراجائوں کی سرزمین سے خطاب کرنا ، وہاں بھیڑ اکٹھی کرنا ، موجودہ حکومت کو ناکارہ بتانا، لالو نتیش کی جوڑی کو ناکام ٹھہرانا  بہار کے عوام کو وہاں کی حکومت سے بدظن کرنا مقصد ہے۔ حالانکہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ ایک ناکام حکومت جس نے سو دن کے اندر ہی اندر ناکامی کے اتنے اسباب پیدا کرلیے پورے یوپی کو خوف میں مبتلا کردیا وہ بہار کی کامیاب حکومت پر انگلی اٹھا رہے ہیں ..کیا بی جے پی کا مقصد یوپی کی طرح بہار کا بھی لاء اینڈ آرڈر بگاڑنا ہے.

 کیا وہاں بھی جنونی بھیڑوں کی فوج تیار کرنا ہے؟ کیا وہاں یوپی کی طرح ہندو اور مسلمانوں میں خلیج پیدا کرنا ہے؟ یا مودی کی گرتی مقبولیت کے مد نظر یوگی کو 2019 کا ایمبیسڈر بنایا گیا ہے تاکہ ان کے زہریلے بیانات انگریزوں کی پالیسی کے مطابق لڑاو اور حکومت کرو پر عمل کرکے اپنا ہدف پورا کرنا ہے ویسے بہاری تو نہایت ہی زیرک و عقل مند ہیں اگر عقل مند نہ ہوتے تو وہاں بی جے پی کی حکومت بن چکی ہوتی لیکن انہوں نے جس عقل وشعور سے کام لیا تھا جس طرح انہوں نے عظیم اتحاد پر بھروسہ کرکے بہار کو فرقہ پرستوں سے پاک کیا ہے وہ نہایت ہی دانشمندانہ اور ملک موافق فیصلہ تھا اور بہار ہی کے فیصلے کی طرح  ہمیں یوپی میں بھی امید تھی لیکن امید پوری نہ ہوسکی اور وہاں ہندتوا کا منصوبہ کامیاب ہوا ،ہندو خیالات پر مبنی سیاست کامران ہوئی،جس کے سنگین نتائج آج ہم کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں ،اور لاء اینڈ آرڈر کی ابتری کے واقعات کا مشاہدہ کررہے ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close