سیاست

یہ فرار ہے یا نازک مزاجی

حفیظ نعمانی

مقبوضہ کشمیر کے بالاکوٹ میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں پر ہندوستانی فضائیہ کے سرجیکل اسٹرائک کے نتیجہ میں جو کچھ ہوا اسے ایک معمہ بنا دیا گیا ہے۔ سرجیکل اسٹرائک 26  فروری کو ساڑھے تین بجے رات کو شروع ہوا اور 4 بجکر 6 منٹ پر واپس ہوگیا صبح کی نشریات میں ہر ٹی وی نے اسے سنبھل سنبھل کر نشر کیا۔ دوپہر میں وزیراعظم راجستھان میں تقریر کررہے تھے انہوں نے اشارے دیئے کہ ہم نے اپنے 44  جوانوں کی جان کا بدلہ سود سمیت لے لیا۔ انہوں نے کوئی اشارہ نہیں کیا کہ حملہ میںکون کون تھا اور کس طرح تباہی مچائی۔

ہر معاملہ میں انتہائی غیرذمہ داری برتنے والا سوشل میڈیا نے فوراً حساب لگایا اور نشر کردیا کہ ہندوستان کے ہوائی حملہ میں مسعود اظہر کے کیمپوں کے 300  دہشت گرد ماردیئے گئے۔ اور بغیر سوچے سمجھے ان سب کے فوٹو بھی دکھا دیئے جو اُن کیمپوں کو چلا رہے تھے۔ سوشل میڈیا کی اس ہوائی کو ہمارے ملک کے وہ چینل جن کا کام صرف آنکھ بند کرکے کانگریس کو گالی دینا ہے اور مخالف پارٹیوں کے اوپر کیچڑ اُچھالنا ہے انہوں نے اس میں پچاس کا اضافہ کردیا اور پھر ساڑھے تین سو کا ہندسہ ہر زبان پر آگیا اور اتنا پھیل گیا کہ جب انٹرنیشنل میڈیا نے اپنا آنکھوں دیکھا حال بتایا کہ بالاکوٹ میں ایک آدمی کی بھی موت نہیں ہوئی اور ایک رپورٹر نے جس کا تعلق امریکہ سے تھا اس نے بتایا کہ بہت تلاش کرنے کے بعد ایک دیوار کے بارے میں بتایا کہ وہ گرگئی مقامی لوگوں نے ایک رپورٹر کو ایک زخمی دکھایا اور کسی نے گڈھا دیکھا اور بی بی سی نے بتایا کہ چند پیڑ ضرور گرے ہوئے ملے۔

دوسری طرف پاکستان کا ٹی وی زور شور سے پورے واقعہ کی تصویر کشی کررہا تھا اور سوشل میڈیا نے ہندوستان کی حکومت کو ایسے گھیرے میں بند کردیا کہ فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ اب ایک مہینہ ہونے کو آیا ہے اور حالت وہی ہے کہ وزیراعظم ہوں یا وزیر مالیات گول گول جواب دے کر یہ چاہتے ہیں کہ دوسرا خاموش ہوجائے۔ مرکزی وزیر برائے الیکٹرانک میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا ایس ایس اہلووالیہ کو بیان دینا پڑا کہ حکومت نے کبھی نہیں کہا کہ ہوائی حملے میں تین سو ہلاکتیں ہوئیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس حملہ کا مقصد انسانی ہلاکتیں نہیں تھا بلکہ پاکستان کو یہ پیغام دینا تھا کہ ہندوستان پڑوسی ملک کے اندر گھس کر بھی جو چاہے کرسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ حکومت یا وزیراعظم نے کہیں نہیں کہا کہ حملہ میں کتنے افراد ہلاک ہوئے۔

اب ایک مہینہ کے بعد اگر کانگریسی لیڈر پترودا نے اس حملہ کی سچائی جاننے کیلئے حکومت سے معلوم کرلیا کہ اس میں کتنے آدمی ہلاک ہوئے تو اس سوال کو شرمناک قرار دینا اور پوری کانگریس کی مذمت کرنے کیوں ضرورت سمجھی گئی؟ سوال کرنے والا کہہ رہا ہے کہ عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ کوئی بھی نہیں مارا گیا اور اپنے ملک کا میڈیا کہتا ہے کہ تین سو مار دیئے تو اصلیت اگر ایک ہندوستانی شہری جاننا چاہے تو اس میں بری بات کیا ہے؟ وزیراعظم نریندر مودی نے بالاکوٹ ہندوستانی فضائیہ کی کارروائی پر کانگریس کے سوال اٹھانے کے قدم کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹی نے پاکستان کا قومی دن منانا شروع کردیا ہے۔ مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے بالاکوٹ دہشت گردی کیمپ پر ہندوستانی فضائیہ کی کارروائی کے بارے میں سیم پترودا کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ ملک کی سلامتی اور لوگوں کے جذبات نہیں سمجھتے وہ اسی طرح کے بیان دیتے ہیں۔

ہمارا کوئی تعلق کانگریس سے یا رام گوپال یادو سے نہیں ہے اور ہم جیسا کوئی بھی عام آدمی سیم پترودا اور رام گوپال یادو کے سوال کو گالی کا درجہ نہیں دے سکتا۔ وزیراعظم کے نزدیک شرمناک اور وزیر مالیات کے نزدیک افسوسناک بات تو یہ ہے کہ حکومت کا ایک اہم وزیر یہ کہہ رہا ہے کہ اس حملہ کا مقصد انسانی ہلاکتیں نہیں تھا وزیر دفاع جن کے ماتحت پوری فوج ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ ایئر اسٹرائک فوجی کارروائی نہیں تھی فوج کے ایئرمارشل نے کہا تھا کہ ہمارا کام ہدف کو نشانہ بنانا تھا لاشیں گننا نہیں تھا۔ اتنے واضح بیانات کے بعد وزیراعظم اور وزیر مالیات کے لئے شرم اور افسوس کی بات تو یہ ہونا چاہئے تھی جو سوشل میڈیا نے پھیلائی اور اس کا انتظار نہیں کیا کہ فوج یا حکومت کی طرف سے جو بیان آئے اسے 24 گھنٹے بجائیں۔ سوشل میڈیا اور کوڑیوں کے مول خریدے ہوئے ٹی وی چینل جب چپراسی جیسی صلاحیت رکھنے والوں کو نیوز ریڈر بناکر بٹھائیں گے تو انجام اور کیا ہوگا؟ ہمیں نہیں معلوم کہ ملک کے کس کس وزیر نے 27  فروری اور اس کے بعد پاکستانی ٹی وی سنا جو ہر بڑے موبائل پر سنا جاسکتا ہے وہ تین سو لاشوں کے اعلان کو جس جس طرح سے بیان کررہا تھا جی چاہتا تھا کہ سوشل میڈیا کو آگ کی نذر کردیا جائے۔

وزیراعظم کو خود سوچنا چاہئے کہ وزیر ایس ایس اہلووالیہ اور وزیر دفاع کے بعد اس کی گنجائش ہی کہاں رہ گئی تھی کہ کوئی عالمی میڈیا کی نشریات کا حوالہ دے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سردار اہلووالیہ کے بیان کو اور وزیر دفاع کے بیان کو سرکاری بیان قرار دے دیا جاتا اور وہ رویہ نہ اپنایا جاتا کہ تین سو دہشت گردوں کو مارے جانے کا جواب وہ بھی ہے جو سوشل میڈیا نے کہا اور وہ بھی ہے جو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور پاکستان نے کہا اور یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ جن 44  کو شہید کہا جارہا ہے ان کے گھر والوں کو نہیں اور وہاں کی خبروں سے کتنی تکلیف ہورہی ہوگی؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close