سیاستہندوستان

یہ پانچ سال: ایمرجنسی، ڈکٹیٹرشپ اور فاشزم

تو پھر کیا کریں؟

عالم نقوی

یہ پانچ سال ایمرجنسی، ڈکٹیٹرشپ اور فاشزم کے شرمناک  اور خطرناک  ملغوبے سے عبارت ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ’ غیر اعلان شدہ ‘ہیں۔ یہ انصاف  دشمن حکمراں ہٹلر، مسولینی اور اندرا گاندھی سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اپنے ’دیش دروہ ‘کو’ دیش بھکتی‘  کہتے ہیں۔ اپنے تعصب کو ’سب کا ساتھ ‘ اور  اپنی انسان دشمنی کو ’ سب کا وکاس ‘ کا نام دے رکھا ہے۔

جسٹس کاٹجو نے درست کہا ہے کہ یہ دیش اب  ’انقلاب ‘چاہتا ہے مکمل ’اُوَر ہال‘! محض پارٹی بدلنے اور چہرے بدل دینےسے اب کچھ نہیں ہونے والا۔

ترکی اور پاکستان  سے شروع ہونے والی تبدیلیاں اگر ہوا کے رُخ کی غماز ہیں تو بلا شبہ اس میں ہمارے لیے بھی خوش خبری ہے بشرطیکہ ہم وہ کریں جو ہمیں کرنا چاہیے۔

مسلمان خود مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ یمن و سیریا، مصر و نائجیریا، اور افغانستان و پاکستان میں کر رہے ہیں اور جس طرح دنیا کے مسلمانوں نے فلسطین، کشمیر اور میانمار وغیرہ کے مسلمانوں کو ان کے حال پر چھوڑ رکھا ہے وہ اس بات کی علامت ہے کہ۔ ۔چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کے نہیں۔ ۔اور یہ کہ جب مسلمان ہی مسلمان کے ساتھ وہ سب کرتا ہے جو وہ مسلم ملکوں کے اسکولوں، مدرسوں، مسجدوںاور امام بارگاہوں میں  عرصہ دراز سے  کرتا آرہا ہے  اور جو اِس ہفتے بھی افغانستان کی ایک  مسجد میں عین نماز جمعہ کے دوران  اور پاکستان کے کئی اسکولوں میں ہو چکا ہے، تو پھر، اُسے ان مظالم کا رونا رونے یا شکایت کرنے کا کوئی حق نہین جو اہل ایمان کے دائمی دشمن اس کے ساتھ ہندستان اور میانمار وغیرہ ملکوں میں روا رکھے ہوئے ہیں !

تو ہم آخر کریں تو کیا کریں؟

 اس کا جواب وہی ہے جو چودہ سو سال قبل علیم و خبیرخالق کائنات اور رحیم و کریم رب مخلوقات نے وحی کے ذریعے اپنے حبیب ﷺ پر نازل کیا تھا کہ ’اُد خلوا فی ا لسلم کافۃ ‘ یعنی پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جانے کے قرآنی حکم پر عمل کریں۔  اُس اِسلام میں جو سرکار دو عالَم رحمت للعالمینﷺنے  دنیا کو دیا تھا !مسلکوں، مذہبوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے  اُس اسلام میں نہیں جس کے نام لیواروزانہ کئی مرتبہ مغضوب علیہم اور ضالین سے  پناہ مانگنے کے باوجود انہیں کے نقش قدم پر چلے جارہے ہیں اس لیے کہ اُن  کی اکثریت کا ایمان  آج بھی ان کے گلوں میں اٹکا ہوا ہے اُن کے دلوں میں جگہ نہیں بنا سکا ہے۔ نتیجے میں کردار کے اعتبار سے اُن میں اور اہل ایمان کے دائمی دشمنوں یہود و مشرکین کے کردار میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ وہ بھی جھوٹ، ظلم، کرپشن، بد عنوانی، تعصب اور خود غرضی  کے مختلف قومی دھاروں میں بہہ رہے ہیں۔

 جن سے رشتہ ولایت استوار کرنے کو منع کیا گیا ہے مسلمانوں نے  انہیں کو اپنا آقا مولا اور ولی و سرپرست بنا رکھا ہے۔ انہیں صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے، مگر وہ ہیں کہ قطع رحمی ہی ان کا شعار  بنی ہوئی ہے۔ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ  اپنے بس بھر علم، معاش، بازو اور ’حدید‘ کی  ہمہ جہت ’قوت‘ حاصل کریں تاکہ اللہ کے دشمنوں اور خود اُن کے دشمنوں پر اُن کی ہیبت  قائم ہو سکے مگر وہ ہیں  کہ اللہ سے ڈرنے کے بجائے، دن بدن یہود و مشرکین کی قارونی اور فرعونی ظالم  قوتوں کے  خوف  میں مبتلا ہوتےچلے جا رہے ہیں!

انہیں یہ مژدہ سنایا گیا تھا کہ اگر وہ’ مؤمن ‘رہیں  گے تو  آخرت میں جنت اور دنیا میں غلبہ و اقتدار  اُن ہی کا ورثہ   ہیں لیکن اُن کی بے بسی، بے کسی اور مغلوبی پکار پکار کے کہہ رہی ہے کہ وہ اور چاہے کچھ بھی ہوں، مؤمن  تو نہیں ہیں، اس لیے کہ اللہ ہرگز وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

اُد خلوا فی ا لسلم کافّۃ  کا مطلب ہی یہ تھا کسی بھی استثناء Exceptionاور تحفظ Reservationکے بغیر اپنی پوری زندگی اسلام راستین کے مطابق بنا لیں۔ یعنی ہمارے نظریات، ہمارے خیالات، ہمارے علوم، ہمارے طور طریقے، ہماری اخلاقیات، ہمارے معاملات یعنی ہماری ہر طرح کی  ذاتی، دنیوی، سماجی اور معاشی تگ و دو، بھاگ دوڑ اور جد وجہد سب کے سب بلا استثناء صرف اور صرف اسلام ِراستین   کے تابع ہوں۔ اُس اسلام کے تابع جسے نبی کریم ﷺ نے  قرآن کریم اور اپنے اسوہ  ءحسنہ کے ذریعے پیش کیا تھا۔

یعنی  ہماری زندگی ٹکڑوں میں  بٹی ہوئی نہ ہو کہ کسی ایک حصے میں تو ہم اسلام دین اللہ کے بجائے محض  ’پرسنل لا ء‘ یا کسی اور خود ساختہ نام والے اسلام کی پیروی کرتے ہوں اور زندگی کے بقیہ  دوسرے، تیسرے اور چوتھے حصوں کو ہم نے قرآنی اسلام کی پیروی سے یکلخت مستثنیٰ کر رکھا ہو۔

 آج ہمارا اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے غیرِ اسلام کو بھی اپنے روز مرہ میں شامل کر رکھا ہے۔ خوش اخلاقی، خوش خلقی، اور خوش معاملگی، اسلام راستین کا لازمہ ہیں۔ لیکن بد اخلاقی، گالم گلوج، کینہ، حسد، خود غرضی، چغلی، عیب جوئی، غیبت، وعدہ خلافی، بد عہدی، لین دین میں قوم شعیب جیسی لے ماری اٹھائی گیری، اور ظلم و زیادتی وغیرہ کون سا غیر اسلامی اصول ہے جو ہم سے چھوٹ گیا ہو ؟

پھر دین و دنیا کی دوئی مستزاد۔ یہاں تک کہ ہم نے علم کو بھی  مختلف خود ساختہ خانوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔ جبکہ اسلام واحد دین ہے جو دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ جو رُہبانیت کے خلاف ہے۔ جو بتاتا ہے کہ دنیا میں رہو، کھاؤ پیو لیکن حد میں رہو اسراف نہ کرو۔ یعنی اللہ کی دی ہوئی تمام جائز و حلال نعمتوں سے استفادہ کرو، یعنی دنیا کو بھوگو، برتو، لیکن دین کی قائم کردہ حدوں سے باہر نہ نکلو۔

یعنی دنیا میں پوری آزادی سے رہتے ہوئے بس اتنا کرو کہ اپنے خالق و مالک و پالنہار، پروردگار کی قائم کردہ حدود کا خیال رکھو۔ صرف حلال اشیاء کا ’صَرف ‘ کرو، وہ بھی  صِرف  ضرورت کے مطابق، ’اسراف ‘ہرگز نہ کرو اور جن چیزوں سے روک دیا اُن سے رُکے رہو۔

خالق و مالک نے موت و زندگی کو اسی لیے خلق کیا ہے کہ ہمیں  آز ما کر دیکھے کہ ہم میں کون اور کون بہتر عمل کرنے والا ہے،اسراف کرنے والا نہیں۔ زبردست و صاحب عزت تو بس وہی ہے اور وہی  ہمارے گناہوں کو معاف  کرنے والا اور ہماری خطاؤں سے  درگزر کرنے والا  ہے۔

تو اسطرح جب ہم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوں گے اور مکمل طور پر اسلام راستین ( یعنی خود ساختہ نہیں قرآنی اسلام  ) پر  نیک نیتی کے ساتھ عمل کرنے اور اسلام کو اپنے کردار و عمل میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے تبھی ہمیں اپنے خالق و مالک کا یہ حکم بھی یاد رہے گا جس کی طرف ہماری توجہ نہ ہونے کے برابر ہے کہ:

ہم لوگ جہاں تک ہمارا بس چلے قوت حاصل کریں اور’ رباط الخیل‘ بھی تاکہ اُس کے ذریعے سے نہ صرف اپنے خالق ومالک کے دشمنوں کو بلکہ اپنے دشمنوں کو بھی اور اُن دوسرے اعداء کو بھی خوفزدہ رکھ سکیں  جنہیں ہم نہیں جانتے مگر ہمارا پروردگار جانتا ہے، اور اس کا وعدہ ہے کہ ہم اس کے اس حکم پر عمل کرنے میں جو کچھ بھی خرچ کریں گے وہ ہمیں اسی دنیا میں واپس کردے گا اور حقیقی اجر و انعام کے لیے آخرت تو ہے ہی۔

ہمارے جملہ موجودہ مسائل کا اصلی سبب یہی ہے کہ ہم نے اسلام کو ٹکڑوں میں بانٹ رکھا ہے۔ ہم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ اسلام اور اس کے دستور یعنی قرآن کا بیشتر حصہ ہمارے لیے نہیں ہے وہ صرف چودہ سو سال پہلے والوں کے لیے تھا۔ جبکہ قرآن جس طرح کل RELEVANTتھا اُسی طرح آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔ ہم آج صرف اس لیے دنیا میں IRRELEVANTہو گئے ہیں کہ ہم نے قرآن کو ’مہجور‘ بنا دیا ہے۔

کیا اب بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو فی الواقع کیا کرنا چاہیے !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close