سیاست

مودی جی کبھی جنگ نہیں ہونے دیں گے

حفیظ نعمانی

گزرے ہوئے دنوں میں سب سے اہم بات تو یہ ہوئی کہ وزیر اعظم نے پاکستان کے لیے جو لہجہ 18 ستمبر کو اوراس کے بعد دو دن تک اپنایااور فیصلہ پر مہر لگانے کے لیے اپنی فوج کے تینوں سربراہوں سے مشورہ بھی کیا اور کہہ دیا کہ ہم وہ سب کریں گے جو سوا  سو کروڑ ہندوستانی چاہتے ہیں مگر اس میں کچھ وقت لگے گا تینوں فوج کے سربراہوں نے باہر بھی کہا کہ وہ ابھی تیار نہیں ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کیرالہ میں جو وزیر اعظم نے تقریر کی وہ اس ملک کے وزیر اعظم کی تقریر نہیں معلوم ہورہی تھی جو زخموں سے چور چور ہو اور جو بڑا ہونے کے باوجود چھوٹا ثابت ہورہا ہو۔

18 ستمبر کے حادثہ کے بعد بار بار وزیر اعظم نے کہا کہ اس کی پشت پر جو ہیں انہیں سزا دی جائے گی اور معاف نہیں کیا جائے گا اور ہر ہندوستانی وہ آواز سننا چاہتا تھا جو پاکستان کے دہشت گرد کیمپوں سے بلند ہوتی کہ بس اب معاف کردو آج کے بعد ہم ہندوستان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے۔

لیکن پہلی آواز نواز شریف کی آئی کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے بلکہ ان کشمیریوں کا ہے جن پر 3 مہینے سے ہندوستانی فوج موت برسا رہی ہے- ہمیشہ کی طرح لشکر طیبہ، جیش محمد، حزب المجاہدین یا جماعت الدعوہ کسی نے ذمہ داری نہیں لی جس سے اندازہ ہوتا ہے  کہ پاکستان کے دہشت گرد کیمپوں میں خوف طاری ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کی سرحد سے ہر وقت چنگاریاں اڑتی رہتی ہیں 125 کروڑ ہندوستانیوں کو کیا یہ جواب سن کر حیرت نہیں ہوئی ہوگی کہ ہماری اس فوج نے جس کے لیے ہر دن زمین سے زمین پر، زمین سے آسمان پر مار کرنے والی، دہلی سے اسلام آباد مار کرنے والی اور دہلی سے دنیا کے ہر ملک کے صدر مقام تک مار کرنے والی انتہا یہ کہ باتھروم سے باتھروم تک، بیڈروم سے بیڈروم تک مار کرنے والی میزائلیں اتنی بن رہی ہیں جتنی میسور کے کمہار شیر میسور صراحی بھی نہ بنا رہے ہوں گےاور اس ملک کے تینوں سربراہ کہیں کہ ابھی تیار نہیں ہیں جب کہ ہم یہ سننا چاہ رہے تھے کہ آپ حکم دیں، ایک ہفتہ میں دنیا کے نقشہ سے پاکستان کا نام مٹا دیا جائے گا جیسے دنیا کے نقشہ سے مشرقی پاکستان کا نام مٹ گیا۔ ہندوستان جیسے ملک کی سرحد کی فوج کوتو 24 گھنٹے اس پر تیار رہنا چاہئے کہ رات ساڑھے گیارہ بجے حکم ہو اور صبح وہ سامان سمیٹا جارہا ہو تاکہ پاکستان کے دہشت گردوں کا جو جی چاہے کریں ہم انہیں مارنے کے بجائے نصیحت نہ کریں گے۔ ہندوستان جیسے زخموں سے چور ملک کو پاکستان سے یہ کہنا کہ غریبی مٹانے کا مقابلہ کرو، بے روزگاری ختم کرنے کا مقابلہ کرو، بد عنوانی ختم کرنے کا مقابلہ کرو ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ صاف کپڑوں میں مقابلہ کرلو ، اچھے کھانے میں مقابلہ کرلو، فیشن اور ننگے پن مقابلہ کرو۔ظاہر ہے کہ یہ مقابلوں کے مسئلے نہیں ہیں ہندوستان غربت اور بے روزگاری دور کرے گا تو اپنے لیے کرے گا اور پاکستان کرے گا تو اپنے لیے۔ بات صرف یہ ہے کہ 18 جوانوں کی موت پر سب نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کو کسی صورت میں بخشا نہیں جائے گا بلکہ ان کو بھر پور جواب دیا جائے گا،یہی نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا ہورہے تھے کہ شاید پاکستان سے جنگ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، فوجیوں کی ہلاکت سے سخت ناراض بری فوج کے سربراہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ کب اورکیسے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں گے یہ بعد میں بتائیں گے۔

 اور سب کچھ ختم ہوگیا بس وہی مرغ کی ایک ٹانگ کہ پوری دنیا میں گھوم گھوم کر ملکوں سے کہیں گے کہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دو، ہندوستان نے اپنا مقام ایسا نہیں بنایا ہے کہ دنیا کے دوسرے ملک اسے اپنا امام مانیں جو تصویر میڈیا کی بدولت دنیا میں ہندوستان کی پیش کی جارہی ہے وہ یہ کہ 20 کروڑ مسلمان ہر وقت مطمئن نہیں ہیں ایک جانور گائے جو دنیا بھر میں پائی جاتی ہے اس کا دودھ پوری دنیا میں پیا جاتا ہے اور جب وہ بوڑھی ہوجاتی ہے تو اسے کاٹ کر کھا لیا جاتا ہے یا ان ملکوں میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں لوگ شوق سے اس کا گوشت کھاتے ہیں لیکن ہندوستان میں جتنی گائے مرتی ہیں اتنے ہی گائے کے نام پر انسان مار دیے جاتے ہیں اور بوڑھی گایوں کے گوشالے بنائے گئے ہیں وہاں بوڑھی گایوں کو رکھا جاتا ہے اور انہیں بھوکا مار دیا جاتا ہے اور ان کا چارہ وزیر کھا جاتا ہے۔

ملک میں صرف وہ طبقہ سکھ سے ہے جس کے ہاتھ میں حکومت ہے ورنہ پورا ملک پریشان ہے جب ملک کا سب سے بڑا ایجنٹ فوج کا ہو اس کے بعد بھی اس کا یہ حال ہو کہ اپنے سے 5 گنا چھوٹے ملک پاکستان سے کس حالت میں ہندوستان پریشان ہو کہ وہ خود طالبان بلوچوستان اور مقبوضہ کشمیر کی بیچینی کا شکار ہے، وہ چھوٹا ہے لیکن ہمارے لیڈر کہتے ہیں کہ راحیل شریف ہر وقت ننگی پستول ہاتھ میں رکھتا ہے اور عالموں کے مکھوٹے لگائے عیار بغل میں جنت کے ٹکٹ لیے گھومتے پھرتے ہیں کہ جہاد میں شریک ہو شہادت پائو اور جنت میں جائو۔

سب سے بڑے مولانا مفتی تقی عثمانی کے سیکڑوں بیان ہندوستان میں پڑھنے کو ملتے ہیں لیکن کبھی یاد نہیں کہ انھوں نے کہا ہو کہ ہندوستان سے لڑنا جہاد  ہے اور ہندوستان کی گولی سے مرنا شہادت ہے ہندوستان پاکستان پر حملہ سے کتراتا رہا ہے 65 میں اس نے نہیں کیا ، کارگل میں ہندوستان میں نے نہیں کیا، ڈھاکہ میں ہندوستان نے نہیں کیا، شیخ مجیب الرحمن کی مدد کی تھی پاکستان کے بچہ بچہ کو یہ کہہ کر گمراہ کیا جاتا ہے کہ جہاد ہوگا اور جو مرے گا وہ جنت میں جائے گا، جہاد خود کو اور ملک کو بچانا نہیں اللہ کے دین کو بچانے کے لیے لڑنا جہاد ہے، ہندوستان میں پاکستان سے کہیں زیادہ دین کا کام ہورہا ہے ہمارے والد کی کتاب اسلام کیا ہے اور معارف الحدیث ہندوستان میں لکھی گئی اور وہیں چھپی اور دنیا کی نہ جانے کتنی زبانوں میں بک رہی ہے اور پاکستان میں اجازت سے بھی چھپ رہی ہے اور چوری سے بھی چھپ کر لاکھوں بک رہی ہے۔

دنیا میں جتنی اسلام کی اشاعت تبلیغی جماعت سے ہوئی ہے یا جماعت اسلامی سے ہوئی ہے آج ہر چار سال کے بعد جو تبلیغی اجتماع ہوتے ہیں ان میں 30 لاکھ کے قریب مسلمان ہوتے ہیں اور پاکستان یا بنگلہ دیش میں ہندوستان ہی کراتا ہے۔ اس کے بعد اگر پاکستان سے کوئی جنگ ہوئی تو کوئی پاکستانی یہ نہ سمجھے کہ وہ جہاد ہوگا بلکہ وہ دنیا کے لیے جنگ ہوگی اور اس میں مرنے والا مسلمان شہید نہیں ہوگا اور زندہ واپس آنے والا غازی نہیں ہوگا صرف فوجی ہی فوجی رہے گا پاکستان میں شہید وہ ہیں جو مسجدوں میں مارے جارہے ہیں لال مسجد میں شہید کیے جارہے ہیں، معصوم بچوں کے اسکولوں میں شہید کیے جارہے ہیں اور راستہ چلتے گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

جنگ کسی کے درمیان بھی ہو تباہی ہے ہندوستانی سرحد کے قریب جو پنجاب کی 353 کلو میٹر سرحد پاکستان سے لگتی ہے جو لوگ 80 سال کے بزرگ وہاں ہیں انہیں 1965  کی جنگ کی تباہی آج بھی یاد ہے وہ بتاتے ہیں کہ دشمن فوج لکڑی کے دروازے بھی اکھاڑ کر لے گئی تھی یہ اسلام کا جہاد نہیں ہے جس میں یہ حکم ہے کہ رسی کا بے کار ٹکڑا بھی پڑا ہو مالک کی اجازت کے نہ لیا جائے۔ ہمیں بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں نواجوان جہاد حصہ لینے کے لیے بے چین ہیں اور ہماری ایک مسلمان کی حیثیت سے گزارش ہے کہ اگر دونوں ملکوں میں سے کسی کی حماقت سے جنگ چھڑ ہی جائے تو مولانا تقی عثمانی سے فتوی لے کر شریک ہونا اگر وہ کہیں کہ جہاد ہے تو جواب انا کی گردن پر اور وہ کہیں کہ جہاد نہیں تو جنگ ہے تو پھر پاک پرور دگار کے دربار میں وہی معاملہ ہوگا جیسی نماز ویسا ثواب جیسی زکوٰۃ ویسا ثواب اور جیسا جہاد ویسا ثواب۔ ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں ہر کوئی شہید نہیں ہوتا اس میں بڑی شرطیں ہیں اگر وہ شرطیں ہیں تو شہادت ہے نہیں تو دشمن کی گولی سے موت ہے اور بس۔

راحیل شریف ہر وقت ریوالور لیے گھومتے ہیں اور ہمارے ملک کے بری فوج کے سربراہ بھی دانت کٹ کٹا رہے ہیں لیکن مسئلہ کا حل تو صرف یہ ہے کہ پاکستان یہ تسلیم کرلے کہ کشمیر جو ہندوستان کے پاس ہے وہ اسی کے پاس رہے گا۔ پاکستان کے اندر اتنی طاقت نہیں ہے کہ اسے واپس لے لے اور یہ بات کشمیریوں کو بھی بتا دے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اتنا ہو جائے تو آدھے مسائل حل ہوجائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close