سیاست

وزیر اعظم مودی کی ایک قابل اعتراض تقریر پر ’دی ٹیلیگراف‘ کا پر مغز اداریہ

عبدالعزیز

28ستمبر 2016ء کی اشاعت میں انگریزی روزنامہ ’’دی ٹیلیگراف‘‘ کے ایڈیٹر ’’عقیدہ کا تصادم‘‘ کے عنوان سے رقمطراز ہیں:
لفظ ’’پورِسکار‘‘ (پاکی و صفائی) کا اظہارناپسندیدہ اور ناخوشگوار ہے کیونکہ یہ ناپاکی اور گندگی کی طرف ذہن کو منتقل کرتا ہے اور توجہ مبذول کراتا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی پارٹی کی قومی کونسل کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے پاکی اور صفائی کا منتر پڑھا۔ بی جے پی اور پورے سنگھ پریوار کے ایک خاص الخاص نظریہ پرست پنڈت دین دیال اپادھیائے کے حوالے سے منتر کا اعادہ کیا۔ مودی جی نے اپنے گرو دین دیال کی تعریف و توصیف اور انتہائی پسندیدگی کے ساتھ اپنا یہ یقین اور عقیدہ ظاہر کیا کہ مسلمانوں کو ان کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے پورِسکار (پاکیزہ) کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کے خیال و ذہن کے مطابق مسلمان ہندستانی ہونے کے باوجود اسلام کی کثافت (Pollution) کے سبب گندگی اور ناپاکی میں مبتلا ہیں۔ سنگھ پریوار کے ایک اور نظریہ پرست مسٹر کے ایس۔ سدرشن کے مطابق مسلمانوں کی رگوں میں کرشن اور رام کا خون گردش کر رہا ہے اور اس کی صفائی ستھرائی ہو تو وہ اپنے آپ کو ہندو نزاد ہونے کا دعویٰ آسانی سے کرسکتے ہیں۔ مسٹر نریندر مودی اپنے گرو دین دیال اپادھیائے کی دلیلوں سے یہ بتانا چاہتے ہیںکہ سنگھ پریوار مسلمانوں کو کم تر اور فروتر مخلوق سمجھ کر سلوک نہیں کرتا۔ دین دیال کے خیالات و نظریات بالکل برعکس چیز پیش کرتے ہیں کہ سنگھ پریوار اور بی جے پی کا ذہن و خیال کی گہرائی میں مسلم فرقہ کے خلاف تعصب اور نفرت کا زہر بھرا ہوا ہے۔
نریندر مودی کی پنڈت اپادھیائے کے یقین اور عقیدہ کو دہرانا کسی طرح تعجب خیز یا حیرت انگیز نہیں ہے کیونکہ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ سنگھ پریوار کی وفاداری اور عقیدت مندی میں گزرا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں سنگھ پریوار کا خیال ایک مستقل ذہنیت (mindset) کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ ان کے DNA (ڈی این اے) میں شامل ہے۔ مودی جی اپنی یہ باتیں اپنی پارٹی کی نیشنل کونسل میں کہہ رہے تھے جسے وہ سننا سنانا بیحد پسند کرتے ہیں۔ جس حقیقت کو وہ نظر انداز کرتے ہیں وہ یہ ہے وہ ملک کے منتخب وزیر اعظم ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت اور سنگھ پریوار کے ایک وفادار ممبر کی حیثیت ثانوی درجہ کی ہوجاتی ہے۔
مودی کو ابتدائی اور اہم شناخت یا پہچان یہ ہے کہ وہ ہندستان کے وزیر اعظم ہیں، لہٰذا بلا امتیاز مذہب و ملت، رنگ و نسل انھیں سارے ہندستانیوں کی نمائندگی کرناچاہئے۔ بلا شبہ اقلیتوں کے بارے میں پنڈت دین دیال کے خیال و نظریہ کو بیان کرنے یا پیش کرنے سے سنگھ پریوار کے ممبروں کے کانوں کو بڑا خوشگوار اور اچھا معلوم ہوتا ہوگا اور اس کیلئے انھیں تالیوں کی گونج بھی یا تعریفی کلمات کی آواز بھلی لگتی ہوگی لیکن سامعین کی ایک بہت بڑی اکثریت کو پنڈت دین دیال اپادھیائے کا منتر اورنریندر مودی کا بیان ناپسندیدہ اور تشویشناک معلوم ہوا ہوگا۔ مودی کو یہ حق بالکل نہیں ہے کہ وہ تعصب اور نفرت کا عینک لگاکر ہندستانیوں کو اپنے نظریہ کے فلٹر سے صفائی اور ستھرائی کی بے معنی بات کریں کیونکہ ہندستان کے پاس فلٹر کی کوئی ایسی مشین نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close