سیاست

نظریاتی سیاست-منظر و پس منظر! (3)

محمد آصف ا قبال

جمہوریت بھی عجیب شے ہے ۔کہنے کو تو اس نظام میں عوام کی حکومت ہوتی ہے کیونکہ یہ عوام ہی کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسے پسند کریں اور کسے نا پسند ۔اس کے باوجود عموماً اس کے ذریعہ وہی لوگ منتخب ہوتے ہیں جنہیں اکثریت نا پسند تو اقلیت پسندکرتی ہے۔آپ کہیں گے ایسا کیوں ہوتا ہے؟تو اس کا سیدھا اور آسان جواب یہی ہے کہ عوام کے ذریعہ منتخب شدہ نمائندہ چونکہ ایک سے زیادہ کئی افراد کے درمیان منتخب کیا جاتا ہے،لہذا بڑے پیمانہ پر ووٹ تقسیم ہوتے ہیں،اور عموماً وہ شخص یا اشخاص منتخب ہوجاتے ہیں جہیں عوام نے ووٹ دیا ہی نہیں تھا۔اوراگر آپ کے پاس وقت ہو تو کسی بھی انتخابی نتیجہ کے اعداد وشمار کا جائزہ اور تجزیہ حاصل کریں ،ہماری بات آپ کو صحیح محسوس ہوگی۔اس کے باوجود جمہوریت میں اس بات کی گنجائش ہے کہ عوام کسی شخص کو اکثریت کے ساتھ منتخب کریں۔اور یہی گنجائش موجودہ زمانہ میں اس نظام کے قیام کا سبب ہے۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جمہوریت وہ طرز حکومت ہے جسے عوام کی حکومت کہا جا تا ہے۔لہذا لازم ہے کہ جمہوریت آمریت کی ضد ہو اور ایسا ہی کہا بھی جاتا ہے۔وہیں جمہوریت چونکہ عوام کے ذریعہ منتخب ہونے والے نمائندوں پر منحصر نظام ہے ۔اس لیے لازماً ایسے نظام کو فلاحی نظام ہونا چاہیے ۔وطن عزیز ہندوستان بھی ایک جمہوری فلاحی ریاست ہے۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے؟اور جو کچھ بھی وہ ہوتی ہے اگر اس کے ساتھ جمہوریت کو بھی شامل کر لیا جائے،جیسا کہ ہمارے ملک میں اور دنیا کے دیگر جمہوری ملکوں میں ہے، تو اُس کے تقاضے کیا ہیں؟اور کیا تقاضے پورے ہوتے نظر آرہے ہیں؟اور اگر نہیں ،تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟آئیے سب سے پہلے فلاحی ریاست پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں۔فلاحی ریاست سے مراد ریاست کا وہ تصور جس میں ایک ریاست تمام شہریوں کو تحفظ اور شہریوں کے بہتری کی ذمہ داری لیتی ہے۔فلاحی ریاست شہریوں کے جانی ومالی تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اس کے لیے ٹھوس اقدامات کی پابند ہے۔وہیں اس کی یہ بھی خوبی ہے کہ ریاست شہریوں کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں کرتی۔ خواہ وہ لسانی،مذہبی،علاقائی امتیاز ہو یا اقتصادی و معاشرتی امتیاز ۔کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ریاستیں صرف حکمرانوں کے مفاد تک محدود ہوا کرتی تھیں،لیکن جس طرح انسان تہذیب و تمدن سے واقف ہوا اورراست یا بلاواسطہ حقیقی علم حاصل ہوا،ریاست اور طرز حکمرانی کے نئے تصورات بھی سامنے آمنے آئے۔ریاست کے نظام کو از سر نو ترتیب دیاگیا اور لوگوں کے حقوق اور ریاست کے حقوق دونوں واضح کیے گئے۔انسانوں کی اکثریت میں جمہوریت کی قائل ہوئی اور ریاستی نظام میں بہتری آئی۔یہی وہ نقطہ آغاز تھا جب ریاستی نظام میں فلاحی ریاست تصور عام ہوا۔
فلاحی ریاست بنیادی طور پر درج شدہ اصول ومقاصد پرکاربند ہے۔i)ریاست نہ تو مطلق اچھائی ہے جیسے اجتماعیت پسندوں کا خیال ہے اور نہ ہی لازمی برائی ہے جیسے انفرادیت پسندوں کا خیال کہاجاتا ہے۔ii)فلاحی ریاست اپنے شہریوں کی سماجی اور معاشرتی ترقی و بہبود کے تحفظ اور فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔باالفاظ دیگرریاست مقصود بالذات نہیں بلکہ اسے شہریوں کے ترقی،خوشحالی اور فلاح کے لیے قائم کیا جاتا ہے۔ریاست اس بات کی پابند ہوتی ہے کہ وہ اجتماعی و انفرادی مفادات میں توازن قائم رکھتے ہوئے مقاصد کی تکمیل میں آگے بڑھے۔دولت کی منصفانہ تقسیم فلاحی ریاست کااہم ترین اصول ہے۔یہی وجہ ہے کہ فلاحی ریاست میں مساوی اجرت کا نظام قائم کیا جاتا ہے۔ساتھ ہی خوراتک،لباس،رہائش،صحت عامہ،اور تعلیم کا خصوصی انتظام ،بے روزگاری سے نجات اور ریاست کے نظم و نسق کو برقرار رکھنے والوں کی خدمات کے عوض پنشن کی سہولت،پبلک ٹرانسپورٹ،بچوں کی نگہداشت،عوامی پارکوں اور لائبریروں کا قیام،ودیگر اسی نوعیت کے کام ،فلاحی ریاست کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔فلاحی ریاست میں اس بات کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے کہ اجتماعی وانفرادی مفادات میں توازن قائم رکھتے ہوئے ریاست اپنے مقاصد حاصل کرے۔ساتھ ہی فلاحی ریاست اپنی سرحدوں کا دفاع کرتی ہے۔اپنی حدود میں نظم و ضبط قائم کرتی ہے،انتظامی وعدالتی نظام کو قائم کرتی ہے،نظام چلانے کے لیے محصول اور دیگر فنڈز کا اہتمام کرتی ہے،کرنسی کا اجرا اور مالیات کانظام چلاتی ہے،ذرائع آمد و رفت اور رسل ورسائل کے نظام کا بروقت انتظام و انسرام کرتی ہے۔ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ فلاحی ریاست کی یہ بھی خوبی ہے کہ یہاں غربت تیزی سے کم ہوتی ہے اوردولت کو عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑے پیمانہ پر صرفکیا جاتا ہے۔فلاحی ریاست عموماًلبرل ازم یعنی آزاد خیالی اور سوشلزم کے نظریات کی علمبردار ہوتی ہے۔
فلاحی ریاست،جمہوری فلاحی ریاست،لبرل ازم اور سوشلزم کے علمبرداروں کی بنیاد پر قائم ہونے والی جمہوری فلاحی ریاست،کے قیام کے بعد ایسا کیوں ہوتا ہے کے یہ ریاست وہ تقاضہ پورے نہیں کرتی،جو مطلوب ہیں؟واقعات پر نظر ڈالیں توجواب آسان ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ لبرل ازم ،سوشلزم اور جمہوریت کے علمبرداروں کے درمیان زماں و مکاں کی قیود سے باہرایک طبقہ ایساموجود ہوتا ہے جو گرچہ نہ لبرل ازم کا قائل ہے،نہ سوشلزم کا اور نہ ہی اُس جمہوری نظا م کا جہاں عوام خود اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں، اور نمائندہ کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ وہ اُن کی خواہشات ،توقعات اور ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے پالیسی و پروگرام بنائیں۔برخلاف اس کے یہ لوگ اپنا مخصوص ایجنڈا رکھتے ہیں،مخصوص طرز حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں اور مخصوص فکر و نظریہ کو فروغ دیتے ہیں۔اس کے باوجود وہ جمہوریت کا چولا پہنتے ہیں،اس کی پناہ میں داخل ہوتے ہیں،عوام کو بے وقوف بناتے ہیں،حالات کا فائدہ اٹھاتے ہیں،اور وہ طرز حکومت ،فکر و نظریہ میدان عمل میں فروغ دیتے ہیں،جو فلاحی ریاست اور جمہوری فلاحی ریاست کا متضاد ہے ۔اور یہ تضاد ان تمام پالیسیوں،اصولوں اور بنیادوں کو مسخ کردیتا ہے جو جمہوری فلاحی ریاست کی پہچان ہے۔نتیجہ میں فساد عظیم برپا ہوتا ہے۔اب جیسے جیسے یہ تضاد گہرا ہوتا جاتا ہے اور متضاد افراد حکومت اور اس کے اداروں پراثر انداز ہوتے جاتے ہیں،مسائل میں اسی رفتار سے دن بہ دن اضافہ ہوتا ہے۔وہیں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہ متضاد فکر و نظریہ کے حاملین ایک جمہوری ملک میں بیک وقت کئی بھی ہو سکتے ہیں اور اکّا دکّا بھی۔
گفتگو کے اختتام پر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ موجودہ دور میں تشدد چہار جانب نہ صرف بڑھتا جا رہا ہے بلکہ تشدد کے مختلف طریقہ باقاعدہ اور منظم و منصوبہ بند طریقہ سے رائج بھی کیے جا رہے ہیں۔تشدد کے قیام اور اس کی توسیع کی نئی نئی شکلیں نکالی جا رہی ہیں۔سماج کی تشکیل میں اہم ترین کردار اداکرنے والے فرد کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت،بچہ ہو یا جوان و نوجوان،اس کی اسی نہج پر ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ساتھعوام کے سوچنے سمجھے،اورکسی ایشو پر ٹھہر کر غور و فکر کرنے کے مواقع کم سے کم کیے جا رہے ہیں۔اور اس سب میں سب سے اہم کردار الیکٹرانک میڈیا کا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ آج میڈیا سیاسی گلیاروں،برسراقتدار اور حزب مخالف کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔اس لحاظ سے فلاحی ریاست کے قیام واستحکام میں فی الوقت میڈیا منفی کردار اداکرتا نظر آرہا ہے۔ضرورت ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کا استعمال کم سے کم کیا جائے وہیں پرنٹ میڈیا کو فروغ دیا جائے۔صرف خبروں کی حد تک نہیں بلکہ تجزیہ،سروے،ڈاٹازاور حقائق پر مبنی خبروں کے فروغ میں۔ممکن ہے فلاحی ریاست کا تصور اور موجودہ پالیسی و پروگراموں کو سمجھنے اور منفی ریوں اور مسائل سے بچنے میں کچھ یہ طریقہ کسی حد تک کارآمد ثابت ہو۔لیکن دشواری یہ ہے کہ وطن عزیز گرچہ ایک جمہوری فلاحی ریاست ہے اس کے باوجود ستر سالہ دور آزادی کے بعد بھی اخبارات پڑھنے کے لیے وہ تعداد موجود نہیں جو مطلوب ہے۔ان حالاتمیں الیکٹرانک میڈیا ہر ناخواندہ کو اپنے جال میں پھنسانے میں پوری طرح کامیاب ہے تو وہیں متشدد فکر کا شکار پڑھا لکھا بھی ہوتاجا رہا ہے!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close