سیاستہندوستان

اکھلیش نے بغاوت نہیں کی حق مانگا ہے

روئے زمین پر کوئی رشتہ باپ اور بیٹے کے علاوہ دوسرا ایسا نہیں ہے جو یہ برداشت کرپائے کہ کوئی اس سے آگے نکل جائے۔ یہ صرف باپ ہوتا ہے جو ہر پل یہ چاہتا ہے کہ میرا بیٹا ہر چیز میں مجھ سے بڑھ جائے۔ لیکن وہ بیٹا جس کی ماں اسے چھوڑ کر جا چکی ہو اور اس کی جگہ کوئی دوسری عورت ماں بن کر آگئی ہو وہ یہ برداشت نہیں کرتی کہ بیٹا اس کے شوہر سے عظیم ہوجائے اور دوسری بیوی ایسا جادو ہے جو اپنے شوہر کو ایسا جکڑتی ہے کہ پھر باپ کو وہی بیٹا ایک بوجھ لگنے لگتا ہے۔ وہ اسے کوڑے کی طرح باہر تو اس لیے نہیں پھینک سکتا کہ سماج تھو تھو کرے گا۔ لیکن یہ بھی برداشت نہیں ہوتا کہ وہ اتنی ترقی کرے کہ باپ اس کے نام سے پہچانا جائے۔
اترپردیش کے لائق و فائق اور پوری طرح سے بے داغ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اسی عذاب میں مبتلا ہیں۔ ان کی ماں تو انہیں اس وقت چھوڑ گئی تھیں جب وہ ماں کہنا بھی نہیں سیکھے تھے لیکن قدرت جسے پیدا کرتی ہے اس کے بارے میں اس کا اعلان ہے کہ اس کا رزق اس کے ذمہ ہے اور وہی جسے جیسا چاہتی ہے بناتی ہے۔ اکھلیش کے باپ ملائم سنگھ نے دوسری شادی کرلی اور وہ برسوں سے اس کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ ان کا ایک بیٹا اتنا بڑا ہے کہ اس کی بیوی کو لکھنؤ کی ہی ایک سیٹ سے اسمبلی کا ٹکٹ دیا ہے اور وہ بیٹا اکھلیش کے مقابلہ میں اپنے چچا شیوپال کے خیمہ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملائم سنگھ کے نزدیک بیٹے سے زیادہ چھوٹا بھائی ہر اعتبار سے زیادہ قریب ہے اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ وہ امر سنگھ جو فساد کی جڑ ہیں وہ بھی شیوپال پر مہربان ہیں۔
ملائم سنگھ دو مہینے پہلے کہہ چکے تھے کہ وزیر اعلیٰ کون ہوگا اس کا فیصلہ جیت کر آنے والے ممبران کریں گے۔ اس پر اتنا شور ہوا کہ ملائم سنگھ اور شیو پال سنگھ دونوں کو کہنا پڑا کہ اکھلیش ہی وزیر اعلیٰ ہوں گے اور وہی الیکشن میں وزیر اعلیٰ کا چہرہ ہوں گے لیکن ریاستی صدر شیو پال سنگھ نے وزیر اعلیٰ سے کسی بھی مشورہ کے بغیر ایک فہرست جاری کی۔ اس کے بعد وقفہ سے دوسری بڑی لسٹ بھی جاری کردی جس کے جواب میں اکھلیش یادو نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے (403) امیدواروں کی ایک لسٹ ملائم سنگھ کو دے دی جس میں زیادہ تر نام تو وہی تھے جو شیو پال کی بھی لسٹ میں تھے لیکن کچھ نام وہ تھے جن کی شہرت اچھی نہیں ہے۔ اور اکھلیش شروع سے بضد ہیں کہ امیدوار بے داغ ہوں اور بدنام نہ ہوں۔
شیو پال کی فہرست کے بعد خبروں کی حد تک تینوں نے بند کمرے میں میٹنگ کی لیکن دو چار ناموں سے زیادہ ملائم سنگھ کو وہ بدلنے پر آمادہ نہیں کرسکے اس کے بعد ان کے پاس صرف دو راستے تھے یا تو وہ سیاست کا میدان چھوڑ دیں یا پھر باپ کے خلاف بنیں کہ (یہ ان کی شرافت سے بعید تھا)۔وہ جس گروہ کے خلاف بغاوت کریں جس میں ان کی سوتیلی ماں ان کا سوتیلا بھائی، ٹھاکر امر سنگھ اور وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نئے امیدوار شیو پال سنگھ ہیں۔ ملائم سنگھ نے اکھلیش کو جب اچانک وزیر اعلیٰ بنایا تھا تو ایسے ہی بنایا تھا جیسے لالو یادو نے رابڑی دیوی کو بنادیا تھا۔ اس میں قصور ملائم سنگھ کا ہی تھا جنھوں نے ایک بیٹے کی طرح اکھلیش کو اپنے قریب نہیں رکھا اور وہ نہ جان سکے کہ اس کے اندر کیسی صلاحیتیں ہیں؟ ملائم سنگھ قدم قدم پر ہرسبھا میں اسے شرمندہ کرتے رہے کہ وزیر اچھا کام نہیں کررہے ہیں۔ حکومت بد نام ہورہی ہے جب۔ کہ ہر سنجیدہ آدمی یہ کہہ رہا تھا کہ اکھلیش اپنے باپ سے بہت آگے جارہا ہے۔ اور یہی وہ تبصرے ہیں جن کی بنا پر ملائم سنگھ کے گھر کے اندر یہ فیصلہ ہوا کہ بس اب اکھلیش کی کہانی ختم ہونا چاہیے اور دوسری بڑی فہرست جاری کرنے کے بعد ملائم سنگھ نے کہہ دیا کہ اب کو ئی نام تبدیل نہیں ہوگا اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب جیت کر آنے والے ایم ایل اے کریں گے۔
ہمارے ملک میں سیاسی جھوٹ بولنے کا عام رواج ہے جن میں یہ سب سے بڑا اور بھونڈا سیاسی جھوٹ ہے۔ اس کی شروعات کانگریس نے کی اور وہ سیکڑوں بار یہ جھوٹ بولنے کے بعد آج بھی بول رہی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کا نام دہلی میں طے ہوتا ہے اور ممبروں کو بتادیا جاتا ہے۔ یہی بی جے پی میں ہوتا ہے۔ رہیں سپا بسپا تو یہ دونوں تو ایک ایک آدمی کی پارٹیاں ہیں جس کی ورکنگ کمیٹی اور پارلیمنٹری بورڈ صرف ملائم سنگھ، شیوپال یادو اور ملائم کی چھوٹی بیگم، پارٹی کے اندر اس سے بڑا حادثہ نہیں ہوسکتا جو اس خبر سے ہوا کہ اکھلیش الگ فہرست پریس کو دینے والے ہیں۔ جس کے بعد ملائم سنگھ نے شیوپال کو بلایا اور اکھلیش کو بلانا چاہا۔ گویا پوری سماج وادی پارٹی ایک لنگوٹ کا نام ہے۔ اور ضرورت کے وقت ایک بھائی ہے۔
ہم پرسوں لکھ چکے تھے کہ ’’تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی‘‘ اکھلیش اگر پارٹی چھوڑتے ہیں تو کرسی بھی چھوڑنا پڑے گی۔ اس لیے اشارہ یہ ہے کہ ان کے وہ امیدوار جو ملائم سنگھ کی فہرست میں نہیں ہیں آزاد امیدوار اکھلیش کے حمایت یافتہ کے طور پر لڑیں گے اور اگر ملائم سنگھ اپنے بیٹے کے سامنے نہیں جھکے تو ہوسکتا ہے کہ اکھلیش اور راہل کوئی بڑا فیصلہ کریں اور مل کر الیکشن لڑلیں۔ اس کھیل میں جس میں ملائم سنگھ صرف شیوپال کو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے ہیں۔ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور ہوسکتا ہے کہ ملائم سنگھ سیاسی مطلع سے غائب ہوجائیں۔ شیوپال کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس لیے وہ کچھ رہیں نہ رہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اکھلیش یادو نے اپنی جیسی تصویر بنا لی ہے وہ ہارنے کے بعد بھی پھر کھڑے ہوں گے اور پھر اپنی جگہ بنا لیں گے۔ اس لیے کہ ان کے کاموں کی شہرت ان کے ساتھ ہے۔
ریاست کے الیکشن میں اکھلیش کو مودی جی اور مایاوتی سے مقابلہ کرنا ہے۔ وہ نوٹ منسوخی کے بعد مسلسل مودی پر حملے کررہے ہیں۔ ’بوا‘کو تو وہ کسی خاطر میں نہیں لاتے اور الیکشن مودی بنام اکھلیش ہی ہوگا۔ جس نے نوٹوں کے لیے لائن میں لگنے والوں کے مرنے پر دودو لاکھ روپے دے کر اور نومبر میں کانپور ریل حادثہ کے موقع پر ایک فرض شناس وزیر اعلیٰ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اور مرکزی ریلوے محکمہ کے وزیر کو بونا بنادیا ہے۔ وہ میدان میں اتریں گے تو ان کے پاس مودی جی کے مقابلہ میں کہیں زیادہ وکاس کی کہانیاں ہوں گی جبکہ مودی جی کے پاس صرف نوٹ بندی اور جھوٹ ہوگا۔ وہ جھوٹ جس کے بل پر انھوں نے وزیر اعظم کی کرسی حاصل کی اور وہ جھوٹ جو ان کا سب سے زیادہ محبوب شوق ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close