سیاستہندوستان

جمہوریت اور دجال کا رشتہ !

یوں  تو جدید مغربی تہذیب کا ہر سال آگ اور خون کے لباس میں  ہی لپٹا ہوا  آیا ہے اس لیں ے  2017  کی شروعات بھی اسی رنگ میں  غرق ہو تو ہمیں  حیرت میں  نہیں  مبتلا ہونا چاہئے – ویسے اب ہماری زندگی کا کوئی بھی سال اچھابھی کیسے ہو سکتا ہے جبکہ بیسویں  صدی کے ہر سال نو کی شروعات کا جشن ہی فحاشی عریانیت شراب موسیقی اور لہو لعب میں  غرق ہوکر منایا جاتا ہو – دنیا کی اب تک کی تاریخ میں  آج سے پہلے انسانوں  پر اگر کبھی اتنا ظلم اور قتل عام ہوا بھی تو وہ تاتاریوں  کا دور تھا جب انہوں  نے بغداد کی گلیوں  میں  خون کی ندیاں  بہا دیں  اور جگہ جگہ میدانوں  میں  لاشوں  کے پہاڑ کھڑے نظر آئے – تاریخ میں  آج بھی چنگیز اور ہلاکو کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور لوگوں  میں  یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنے وقت کے ظالم اور جابر حکمراں  تھے – اسی طرح یزید کو آج بھی مسلمانوں  کی تاریخ میں  اچھی نظر سے نہیں  دیکھا جاتا – لیکن ماضی کی بنسبت بیسویں  صدی کا کمال یہ رہا ہے کہ پچھلے ایک ہزار سالوں  میں  انسانوں  کا جتنا قتل عام نہیں  ہوا جتنا صرف تیس سال کے اندر دو عالمی جنگوں  میں  پانچ کروڑ انسان ہلاک کر دیئے گئے  بارودوی اور آتشیں   اسلحوں  سے لاکھوں  انسانوں  کی لاشیں  بھی اس طرح جل کر راکھ ہو گئیں  کہ ان کے وارثین کو آخری دیدار کرنابھی نصیب نہیں  ہو سکا -مگر افسوس کہ سیکڑوں  ہزاروں  کلو میٹر کی اونچائی سے قتل عام کرنے والے قاتل پائلٹ کو بھی یہ احساس نہیں  رہا کہ اس کے آتشیں  اسلحوں  سے جل کر راکھ ہونے والوں  میں  وہ بچے بھی شامل ہیں  جنھوں  نے ابھی تک دنیا کی حقیقت کو بھی نہیں  سمجھا تھا یا جو بوڑھے ہیں  جو خود آسان موت کی دعا میں  مصروف ہیں  – جی ہاں  8اگست 1944 کو جب امریکی قاتل جہاز کا پائلٹ ایٹمی ہتھیار لے کر جاپان کے شہر ناگا ساکی کے پرواز پر روانہ ہوا تو اس وقت صبح کے چار بج رہے تھے اور گہری نیند کی آغوش میں  سونے والے لوگوں  کو یہ بھی نہیں  پتہ تھاکہ اگلی صبح وہ اٹھ نہیں  پائیں  گے یا ان میں  سے بیشتر بچے اور جوان جن کے دلوں  میں  نہ جانے آنے والی زندگی کے  کتنے ارمان اور کتنی امنگیں  رہی ہونگی وہ سب ایک ہی پل میں  خاک ہو چکی تھی – کتنے لوگوں  کو یہ پتہ ہے کہ اس وقت کے قاتل امریکی صدر اور پائلٹ کا نام کیا تھا – یہ کمال بھی بیسویں  صدی کے ظالم و جابر  جمہوری حکمرانوں  کو حاصل ہے کہ ان طاقتوں  نے مظلوموں  کو یہ احساس بھی نہیں  ہونے دیا کہ وہ ظالم ہیں  اور قتل ہونے والے مظلوم ! اس کے باوجود کیا یہ عوام کی بھی بے حسی نہیں  ہے کہ وہ سب کچھ بھول کر اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ دوسرے لوگ بھی وہی عمل اختیار کریں  گے ایک دوسری سیاسی پارٹی اور اس کے صدر اور وزیراعظم کو منتخب کرنے کی تیاری میں  مصروف ہوجاتے ہیں  – شاید یہی تو دجالیت ہے اور اسی کا نام جمہوریت ہے – یعنی بیسویں  صدی کی خوشنما دیوی ؟ کروڑوں  انسانوں  کا خون پی کر بھی قابل تعظیم ہے ! یہی سب کچھ پوری دنیا اور خود ملک عزیز میں  بھی ہو رہا ہے اور نبوی تحریک کے ذریعے اٹھنے والا حقیقی انقلاب ایک بار پھر تاریخ کی بھول بھلیوں  میں  کہیں  گم ہو چکا ہے -اسے کہاں  تلاش کریں  اور اسے کون تلاش کرے گا ؟ شاید کوئی نہیں  – شاید ابھی تو ہماری جمہوریت کی تلاش ختم نہیں  ہوئی ہے – ابھی ہم تھکے بھی نہی ہیں  – ابھی تو ہم  میں  جان باقی ہے -ابھی تو ہمیں   اسی جمہوریت کے راستے سے دجال کی خوشنما جنت کا دیدار بھی تو کرنا ہے – مگر پھر ! مگر پھر کیا ؟ہمیں   ماضی اور مستقبل سے کیا مطلب ؟ ہمیں   تو ہمارا حال خوبصورت چاہئے – اور پھر لوگ بھی تو اکثر حال پوچھتے ہیں  اور یہی تو سکہ رائج الوقت بھی ہےجسے لوگ دنیا کہتے ہیں  اور جسے خوبصورت اور پرکشش بنانے کیلئے سب دوڑ رہے ہیں  – لیکن ٹھہرو قرآن تو کہتا ہے دوڑو اس رب کی طرف جس کی جنت اتنی وسیع وعریض ہے کہ انسان اس کا تصور بھی نہیں  کرسکتا – ارے لیکن کیا یہ جنت ووٹ دینے سے مل سکتی ہے ؟ دجال تو اپنی جنت اسی انگوٹھے اور انگلی کے نشان سے دینے کا وعدہ کرتا ہے – اس کے برعکس حضرت مہدی کا بھی تو کردار ہے  – روایت میں  آتا ہے کہ ان کا ظہور شام کی سرزمین پر ہوگا – سوال یہ ہے کہ  کیا شام کے میدان میں  بھی اسی جمہوریت کے  راستے سے انقلاب آئے گا – حالات تو ایسے نظر نہیں  آرہے ہیں  – ہاں  لیکن دجال کے دور کی پیشن گوئیوں  میں  ایک پیشن گوئی کا ذکر آتا ہے کہ دنیا کا پورا معاشی نظام  cashless  ہوگا – ابھی یاد آیا کہ ہمارے ملک کے وزیر اعظم بھی اسی نظام کی بات کر رہے ہیں  – اس کا مطلب دجال کا معاشی اور سیاسی نظام دونوں  انگلیوں  کے اشارے پر ہوگا – اس طرح دجال اور جمہوریت میں  تو کسی حد تک مماثلت ظاہر ہورہی ہے لیکن ہمیں   مماثلت سے کیا ؟ ہمیں   تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ کا سبق پڑھایا گیا ہے – ہمیں   تو یہ سبق انگلیوں  اور انگوٹھے پر نہیں  قلب میں  اتارنا ہے – اب سمجھ میں  آیا جس تحریک کا تعلق قلب اور روح سے ہو اسے ہی انقلاب کہتے ہیں  – انگلیوں  سے آنے والی تبدیلی کو جمہوریت کہتے ہیں  اور یہ صرف تبدیلی ہے انقلاب نہیں  اور اسی کو مادیت کہتے ہیں  – مادیت کے بغیر جمہوریت نہیں  اور جمہوریت سے ہی مادیت ہے – اب آپ فیصلہ کریں  کہ آخرت کا فیصلہ قلب سے ہونا ہے انٹرنٹ سے نہیں  – آپ پوچھیں  گے کہ کیوں  کیا جدید ٹکنالوجی کے بغیر جدید ڈرون کا مقابلہ ممکن ہے ؟ بات سچ ہے مگر ڈرون بھی تو خون پیتا ہے – کیوں  کہ ڈرون کو بھی خون سے ڈر لگتا ہے – پتہ ہے کیوں  کیونکہ قلب اکیلے پورے بدن کا بیس فیصد خون پہلے آپ رکھ لیتا ہے اس کے بعد باقی پورے بدن کو سپلائی کرتا ہے – قلب اور خون کا بہت ہی گہرا رشتہ ہے یہ بات دجال بھی جانتا ہے کہ وہ سرور کو جام کرکے انٹرنٹ کا مقابلہ انٹرنٹ اور سیٹلائٹ سے تو کرسکتا ہے لیکن انٹرنٹ سے قلب اور خون کا مقابلہ ممکن نہیں  – شاید اسی لئے پوری دنیا میں  قلب والوں  کا خون ہورہا ہے تاکہ…………..دجالیت غالب آ سکے –

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close