سیاستہندوستان

بھاجپا کی انتقامی سیاست اور آمریت

بی جے پی کی طرف سے ہمیشہ یہ شکایت رہتی تھی کہ سی بی آئی کانگریس کی بی ٹیم ہے اور کانگریس اپنے حریفوں  اور مخالفوں  کے خلاف بے تحاشا استعمال کرتی ہے۔ اس وقت بھاجپا سی بی آئی سے وہی  کام بے حیائی کے ساتھ لے رہی ہے جس کی اسے کانگریس سے شکایت تھی۔ مغربی بنگال کے ایک ہفتہ میں  روز ویلی گھوٹالے کے تعلق سے ترنمول کی پارلیمانی پارٹی کے دو ممبروں  کی گرفتاری ہوئی جس سے سی بی آئی کے اقدام پر شک و شبہ کرنا اور بی جے پی کی انتقامی کارروائی کا بین ثبوت بتانا غلط نہ ہوگا کیونکہ روز ویلی گھوٹالے کی تحقیقات اور تفتیش دو سال سے جاری تھی مگر سی بی آئی کچھوے کی چال چل رہی تھی، اچانک خرگوش بن گئی۔اس سوال کا جواب نہ بھاجپا کے پاس ہے اور نہ سی بی آئی کے پاس ہے کہ اس وقت جبکہ ترنمول کانگریس نوٹ بندی معاملہ میں  مرکزی حکومت سے نبرد آزما ہے تو کیا ہی صحیح وقت تھا کہ ترنمول کے دو بڑے لیڈروں  کو گرفتار کرکے ترنمول کے سارے لیڈروں  کو ڈرایا اور دھمکایا جائے۔

 سی بی آئی اگر چہ یہ کہہ رہی ہے کہ گرفتاری میں  سیاست کو کوئی دخل نہیں  ہے۔ وہ جو کچھ کر رہی ہے سپریم کورٹ کی ہدایت پر کر رہی ہے۔ بھاجپا بھی سی بی آئی کی بات کو دہرا رہی ہے مگر جس طرح ترنمول کانگریس کی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر سدیپ بندو پادھیائے کی گرفتاری عمل میں  آئی ہے اس کا پس منظر لوگوں  سے پوشیدہ نہیں  ہے۔ سدیپ نے ’نوٹ بندی‘ کے معاملہ میں  کانگریس کا ہر محاذ پر ساتھ دیا اور راہل گاندھی کے کندھے سے کندھا ملا کر نریندر مودی اور ان کی حکومت کی سخت مخالفت کی۔ اس چیز نے مودی جی کے غصہ کو بڑھایا اور بغیر کسی ہچکچاہت کے انتقامی کارروائی پر مودی حکومت اتارو ہوگئی اور سی بی آئی کو جلد سے جلد کارروائی کرنے پر دباؤ ڈالا۔ سی بی آئی مرکزی حکومت کے اشارے پر ہی کام کرتی ہے۔ اگر چہ مرکز میں  جب کانگریس کی حکومت تھی تو ساری اپوزیشن پارٹیاں  بشمول بھاجپا نے مطالبہ کیا تھا کہ سی بی آئی کو خود مختار ادارہ بنانا چاہئے۔ لوک پال بل میں  اس مطالبہ کو شامل کرنے کیلئے بی جے پی تلی ہوئی تھی مگر مرکز میں  آنے کے بعد بھاجپا نے اپنے مطالبہ کو بھی غلط حکمرانی کرنے کیلئے بالکل نظر انداز کر دیا۔ کانگریس اپنی غلط حکمرانی کی وجہ سے زوال پزیر ہوئی۔ اب اسی راستہ پر بی جے پی بھی رواں  دواں  ہے۔ دیر یا سویر اس کا بھی حشر وہی ہونے والا ہے جو کانگریس کا ہوا ہے۔

 جہاں  تک بدعنوانی یا کرپشن کے خلاف سخت قدم اٹھانے کی بات ہے اس کی ہر انصاف پسند شہری سراہنا کرے گا مگر جب بھی محض بدلے کی سیاست یا بدلے کے جذبے سے یہ قدم اٹھایا جائے گا اور کسی کے خلاف کارروائی ہوگی اور کسی کو نظر انداز کر دیا جائے گا تو اس سے عدل و انصاف کا تقاضا ہر گز پورا نہیں  ہوگا۔ ترنمول کانگریس کو بھاجپا نے راجیہ سبھا میں  جس قدر استعمال کرنا چاہا، کیا اس وقت ترنمول بھی استعمال ہوتی رہی ہے جس کی وجہ سی بی آئی کی کارروائی دو ڈھائی سال تک ٹھپ پڑی رہی، جیسے ہی ممتا بنرجی نے مودی حکومت کے خلاف نوٹ بندی کے تعلق سے احتجاج اور مظاہرہ کرنا شروع کیا سی بی آئی سرگرم عمل ہوگئی۔ سی بی آئی کا یہ کہنا کہ وہ دو ڈھائی سال تک ثبوتوں  کو اکٹھا کرنے میں  لگی رہی ہے۔ اسے کسی کیلئے ماننا مشکل ہے۔ سی بی آئی کے سابق افسران بھی یہی کہہ رہے ہیں  کہ سدیپ بندو پادھیائے یا تاپش پال کے خلاف گرفتار کرنے کیلئے ثبوت ضرور تھے مگر سی بی آئی سیاست کر رہی تھی کیونکہ اسے اوپر سے کارروائی کرنے کا اشارہ نہیں  تھالیکن جب مودی نے دیکھا کہ ممتا ان کے خلاف نہ صرف چیخ پکار کر رہی ہیں  بلکہ کانگریس کے ساتھ مل کر محاذ آرائی کر رہی ہیں  جس سے ان کی حکومت بدنام ہورہی ہے تو سی بی آئی کو کارروائی کرنے کا اشارہ مل گیا۔

 کانگریس اور ترنمول کانگریس کا یہ کہنا کہ سی بی آئی نے جو کچھ کیا وہ محض سیاسی انتقام کے جذ بہ سے کیا۔ اسے کسی طرح بھی غلط نہیں  کہا جاسکتا۔ کانگریس کے ترجمان تیواری نے کہا ہے کہ دو سال تک سی بی آئی خاموش رہی تو کسی قسم کی کارروائی نہیں  کی۔ آخر اب جب محترمہ ممتا بنرجی مودی جی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے لگیں  تو کارروائی کیوں  کی جارہی ہے؟ سی بی آئی ہی جیسی ایجنسی پر ہی بھاجپا کا دباؤ نہیں  ہے بلکہ تمام ایسے اداروں  پر بھاجپا یا آر ایس ایس اپنا کنٹرول چاہتی ہے جس سے وہ ملک کی واحد مختار کل پارٹی ہوجائے اور پھر کسی دوسری پارٹی کو حکومت کرنے کا موقع نہ ملے۔ بھاجپا کا نعرہ ہے ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ یعنی کانگریس سے ملک کو مکت کرنا ہے، آزاد کرانا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھاجپا ایک پارٹی کا راج چاہتی ہے جس میں  اسے روک ٹوک کرنے والا کوئی نہ ہو اس طرح اپوزیشن مکت بھارت کا خواب بھاجپا دیکھ رہی ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بھاجپا کی فسطائیت اور آمریت ملک میں  پورے طور پر آجائے اور جمہوریت کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہوجائے۔ یہ بات ساری اپوزیشن پارٹیوں  کو بیدار کرنے کیلئے کافی ہے۔ اگر تمام اپوزیشن پارٹیاں  متحد اور منظم ہوکر اس کیلئے تیار نہیں  ہوتی ہیں  تو بھاجپا کو اپنا سپنا پورے کرنے کا موقع مل جائے گا۔ اس وقت پانچ ریاستوں  میں  الیکشن ہونے جارہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں  کو حکمت عملی ایسی اپنانی چاہئے کہ بھاجپا کو ہر ریاست میں  شکست فاش ہو، جب ہی ا س کی آمریت اور فسطائیت پر ضرب لگ سکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close