اس خرابے کوالٰہی کوئی معمار ملے

  ایک طویل خاموشی کے بعدسیاسی خیموں  میں اب پھر سے میں  گہمہ گہمی شروع ہوگئی ہے۔ شہردر شہر، گاؤں ،  قصبہ، چوک چوراہا اورگلی و نکڑ تمام شاہ راہِ عام پرسفید پوش عزتِ نفس کے عظیم دعویدارمعیاری فقیروں  کی تعدادبڑھنے لگی ہے۔ سلام،  نمستے او ردان پردان کی بھی کثرت ہوگئی ہے۔ جن لوگوں  کو دور سے دیکھ کر ہی ہمارے سیاسی قائدین اپنا راستہ بدل لیتے تھے،  آج وہ بھی اس ملک کے باوقار شہری بن گئے ہیں ۔  دراصل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ملک کے پانچ صوبے: گوا، منی پور، پنجاب، اتراکھنڈ اور یوپی میں  اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے اور الیکشن سے قبل سیاسی خیموں  میں  ہنگامہ خیزی کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ خاموش انتخاب، تو ہماری جمہوری سیاست کی توہین ہے۔ میڈیاچینلوں پر زبانی جنگوں  کا سلسلہ خوب تیز ہوگیا ہے، تاہم زیادہ تر موضوع بحث یوپی الیکشن ہے۔  پورے ہندوستان کی نظریں  اسی پر ٹکی ہوئی ہیں ۔  سیاسی صیاد اپنے اپنے خیمے سے نکل کر لوگوں  کے بیچ دانہ ڈالنے کے کام میں  مصروف ہوگئے ہیں۔  مسلمانوں  کے ووٹ کو تقسیم کرنے یا پھر انہیں  لبھانے کے لیے کثیرتعداد میں  مسلم امیدواروں  کوکھڑاکیا جارہا ہے۔ بی جے پی نے اپنے پالتوکتوں  کو آزاد کردیا ہے، معاف کیجیے گا! وہ تو آزاد تھے ہی، اب ان کا چارہ تھوڑا بڑھادیا ہے،  مطلب بھونکنے کے ساتھ کاٹنے کی بھی اجازت دے دی ہے،  جیساکہ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر یوگی ادتیہ ناتھ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہاکہ اس بار کے یوپی انتخاب میں  بولی نہیں  گولی اور لاٹھی چلے گی !

  اِدھرسماج وادی کے اندر خا نہ جنگی کاماحول ہے اوراس کاپس منظرتوبہرکیف یہی بتلاتا ہے کہ یہ جنگ تو ہونی ہی تھی، وہ تو امرسنگھ کی کرم فرمائی اور چچا شیوپال کی بھتیجا نوازی ہی کہیے کہ اکھلیش یادوکسی طرح اپنی میعاد پوری کرنے میں  کامیاب رہے۔  درحقیقت 2012 میں  جب ملائم سنگھ نے اپنی وراثت اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو سوپنا چاہی، تو اس کے خلاف میں  کئی آواز بلند ہوئیں۔  آعظم خاں  سمیت پارٹی کے کئی قدآور نیتاؤں  نے بہ زبانِ حال اس کی مخالفت کی، بلکہ اکھلیش کے سگے چچا شیوپال کو تو منانا پڑا، ورنہ اکھلیش تو ان کو ہضم ہی نہیں  ہورہے تھے، اِدھر ملائم سنگھ نے اپنے ایک بچھڑے ہوئے دوست امرسنگھ کے ساتھ اپنی پرانی دوستی کو استوار کرلیا، مگر وہ اپنی فطرت سے کب تائب ہوئے تھے، آعظم خان حاشیہ پر چلے گئے،  چچا نے بھی اپنے بھائی کے دوست کا پارٹی میں خیرمقدم کیااور پھر جب 2017 کے الیکشن کے دن قریب آئے، تو انہیں  یہ احساس ہو ا کہ 2012 میں  بیٹا کو وراثت سونپ کر نیتا جی سے جو غلطی سرزد ہوگئی تھی، کہیں  پھر سے وہ نہ دہرائی جائے، نتیجۃ سماج وادی پارٹی کو دوحصوں میں  تقسیم ہوناپڑا؛البتہ یہ بات بھی اپنی جگہ بالکل سچ ہے کہ یوپی کے آئندہ اسمبلی الیکشن میں  مضبوط ترین دعویدار اکھلیش ہی تھے، مگر موجودہ جوصورتِ حال ہے،  اس کا پورا فائدہ بی جے پی کو ہورہا ہے،  اسی لیے تو یہ کہا جارہا ہے کہ سماج وادی میں  خانہ جنگی خودساختہ ہے اوراس کی کہانی خود ملائم سنگھ نے لکھی ہے،  بلکہ بی جے پی کو یوپی میں  لانے کی یہ دیرینہ سازش ہے اور2014 کے لوک سبھا الیکشن کے بعد ملائم سنگھ کے کئی بیانوں  سے اس کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ ان پر بھی اب مودی بھگتی کا رنگ چڑھنے لگا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان اختلافات کے پس پردہ کوئی اورحقیقت چھپی ہوئی ہو، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ یوپی میں  بی جے پی کولانے کے تعلق سے وہاں  کی سبھی سیاسی پارٹیاں  غیرسنجیدہ ہیں،  اگرواقعی وہ اس امر میں  سنجیدہ ہوتیں،  تو بہار کی طرح یہاں  بھی ایک سیاسی اتحاد دیکھنے کو ملتا۔ ہم مانتے ہیں  کہ سپا اور بسپا کے درمیانی خلیج کو پاٹا انتہائی مشکل ہے،  لیکن کیا کبھی کسی کے وہم وگمان میں  اس کا خیال بھی گذرا ہوگا کہ نتیش اور لالوبھی سیاسی میدان میں کبھی ایک منچ پرمتحدہوسکتے ہیں ؟مگر تاریخ نے یہ ثابت کردیاکہ سیاست میں  کچھ بھی ناممکن نہیں۔  اگر بی جے پی کے تعلق سے یہ دونوں بھی سنجیدہ ہوتے،  توشاید آج اس الیکشن کا رنگ ہی دوسراہوتا۔

 بہرکیف یوپی کے مجموعی ووٹروں  کی تعدادتقریباً14.05 کروڑ ہے، جن میں  تقریباً بیس فیصد مسلمان ہیں اور یہ ہمیشہ ہوتا آرہا ہے کہ مسلمان جس کی حمایت کرتے ہیں،  جیت اس کی ہوتی ہے، مگراس الیکشن میں  ایسا کہناتقریباً بے وقوفی ہوگی، اس لیے کہ مسلمانوں  کاتقریباً ستر فیصد ووٹ توسپا اور اور بسپاکے درمیان تقسیم ہوجائے گااور مایا نے 97 مسلم امیدواروں  کو ٹکٹ دے کر اس کو حتمی بنادیا ہے،  جہاں  تک بقیہ تیس فیصدی ووٹ کی بات ہے تو اس کونگریس، ویسی صاحب،  ڈاکٹرایوب اور علماکونسل آپس میں  بانٹ لیں  گے اور شاید مسلمانوں  کے مجموعی ووٹ کا چارفیصد ووٹ بی جے پی بھی لے اڑے، کیونکہ مسلمانوں  میں  کیرایوں  کے امیدواروں  کی کمی نہیں  ہے اوراپنے سیاسی مخالف کو مات دینے کے لیے بی جے پی کی ہمیشہ سے یہ فطرت رہی ہے۔

 القصہ مسلمانوں  کا ووٹ تو مسجد کی شیرینی کی طرح بٹ کررہ جائے گا، جہاں  تک غیر مسلموں  کی بات ہے، توان میں ایک اچھی تعداد بوتل والوں  کی ہے اورموجودہ وقت میں بوتل کی جو قیمت مودی جی دے سکتے ہیں،  وہ اور کوئی نہیں  دے سکتااورپھریہ یوگی، ساکشی،  توگڑیا، امیت شاہ وغیرہ کس دن کام آئیں  گے؟اورآج کی ہماری یہ میڈیابھی تو مودیائی لبادہ میں  ہردم ملبوس نظر آتی ہے، آخر یہ کس مرض کی دوا ہے،  بلکہ اس نے توابھی سے ہی اپنی نمک حلالی کا ثبوت دینا شروع کردیاہے؛چنانچہ انڈیاٹوڈے کے ایکزٹ پول کے مطابق یوپی میں  بسپا کو 82، بی جے پی کو211، سپا کو 95، کانگریس کو 6 اور دیگر علاقائی پارٹیوں کو 9 سیٹیں مل سکتی ہیں۔

  البتہ یہاں  اب کسی کے ذہن میں  یہ سوال ضرور کلبلاسکتا ہے کہ ملک میں  اتنا کچھ ہونے بعدبھی لوگ بی جے پی کو ووٹ کریں  گے؟تواس کا جواب یہ ہے کہ جناب ابھی ہم اتنے بھی حساس اور باضمیر کہاں  ہیں  کہ اپنے حق میں  کوئی بہترین فیصلہ کرسکیں !ہمیں  تو گویا ذلت سہنے کی عادت سی پڑگئی ہے ؛ گذشتہ دنوں  کی بات ہے کہ دورانِ مطالعہ ایک قصہ پر میری نظرپڑی کہ ایک کمپنی کے نوٹس بورڈ پر یہ لکھا ہواتھاکہ جو شخص آپ کی ترقی کی راہ میں  رکاوٹ بناہوا تھا، آج صبح سویرے اس کا انتقال ہوگیاہے، لہذااس کی آخری رسومات کے لیے کانفرنس روم میں  تشریف لائیں۔  سارے ملازمین دوڑتے بھاگتے وہاں  پہنچے کہ دیکھتے ہیں  کہ آخروہ کون ہوسکتاہے؟جب سب کانفرنس روم میں جمع ہوگئے،  تو سیکوریٹی گارڈ نے ایک ایک کرکے لوگوں  کو اس کمرے میں  جانے کی اجازت دی جہاں  کفن میں  ملبوس کوئی جنازہ پڑاہواتھا، مگرجب جنازہ سے کفن کو اٹھایاگیا، تواس کا منظر ہی کچھ الٹا تھا، لعش کی جگہ ایک آئینہ تھاجس کے کنارے پر لکھا ہواتھا کہ دنیا میں  صرف ایک ہی شخص ہے جو آپ کی ترقی کی راہ میں  روکاٹ بناہواہے اور وہ خود آپ کی ذات ہے۔  جب آپ خود کو کامل اور کام کو مشکل سمجھ لیں  گے اور اپنی امیدیں  دوسروں  سے وابستہ کرلیں  گے، تو سمجھ لیجیے کہ آپ کبھی ترقی نہیں  کرسکتے اوربعینہ یہی ہماری حالت ہے کہ ہم نے اپنی ترقی کی امیدیں  اپنے سیاسی قادین کے ساتھ وابستہ کرلی ہیں۔  اب آپ خود ہی غور کرلیجیے کہ 2014 کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے مودی جی نے کیسے کیسے سبز باغ دکھائے تھے، کہ ہرایک کو ڈیجیٹل انڈیاکا بھوت سوار ہوگیاتھا، نتیجۃ صرف تین سال میں  ہی ہمارا ملک سوسال  پیچھے چلاگیا اور کہاں  اس کا نام ترقی پذیر ملکوں  کی فہرست میں  تھا، اب اس کاشمار غیرترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں  ہونے لگاہے اور اس کے عوام کی یہ حیثیت ہے کہ ملک میں  بڑاسے بڑاحادثہ ہوجاتا ہے اور ہم چوں  تک نہیں  کرسکتے! مودی جی کو بے قصور کشمیریوں  پراپنی طاقت کا رعب ڈالناتھا، سوانہوں  نے وہ کردیا!بھگتوں  کو پاکستان پر اپنی برتری کااحساس دلاناتھا، سوسرجیکل اسٹرائیک کراکر انہوں  نے اپناچھتیس انچ کا سینہ بھی ثابت کردیا!مسلم نوجوانوں  کوحراساں  کرنا تھا، سوبھوپال فرضی انکاؤنٹر میں  سات مسلم نوجوانوں  کومارکر اورنجیب کو غائب کرکے اپنا وہ بھی خواب پورا کرلیا!اورجب ان تمام حادثات پر پردہ ڈالناہوا، تو ملک کی 86 فیصدی نوٹ کو مارکیٹ سے اٹھواکرلوگوں کو ایسے بھول بھلیے کی سیر کرائی کہ بے چارے عوام کودووقت کی روٹی کی تگ ودونے ان سے ان کاساراغم ہی بھلادیا!مگرپھربھی ہمیں  فخر ہے کہ ہم ہندوستانی ہیں !ہمارے یہ قائدین انتخاب کے وقت ترقی کی بات کرتے ہیں !ارے ہمیں   تو اتنا بھی احساس نہیں  کہ ہم اپنے لیے کیا منتخب کریں  اور کیا نہیں،  وقت تو یونہی بدل جاتے ہیں،  اگر بدلتے نہیں  ہیں،  تو وہ ہم ہیں،  کبھی یوپی میں  مایا نے اپنی تاریخ لکھی تھی، کبھی ملائم نے اپنے سرپر تاج سجایا تھااور شاید اب بی جے پی بھی اپنی قسمت کی روٹی کھالے!ہم کو اس سے کیا !لیکن اگر ایسا ہوا، تو شایدہندوستان کانام تاریخ ہی میں  جمہوری رہ جائے گا !!!


گجرات فائلس: پس پردہ حقائق کا انکشاف

⋆ رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی
رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

کاروانِ اردوقطرکے زیر اہتمام دوحہ میں عظیم الشان ادبی تقریب

یادگار ’جشنِ منوررانا‘ اور عالمی مشاعرہ 2016 رپورٹ: رمیض احمد تقی(نائب میڈیا سکریٹری ) دوحہ کی …

تبصرہ کیجیے