سیاست

بھاجپا نفرت، انتشار اور خوف و ہراس کی سیاست کی حامی

سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں مذہب، ذات کے نام پر سیاست کرنے کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ اس کا تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں نے خیر مقدم کیا ہے، مگر بعض پارٹیوں نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے جسے بعض حلقوں کی طرف سے نظر ثانی کی اپیل کی گئی ہے کہا ہے کہ ہندوتو کو طریقۂ زندگی بتاکر اسے دھرم اور مذہب سے الگ بتانا یا کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ ہر مذہب کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک طریقۂ زندگی ہے۔ سپریم کورٹ کے چند ججوں نے ہندوتو سے الگ چیز سمجھا جبکہ ہندوتو ہندو دھرم کی تازہ ہیئت (new version) یا نیا نام ہے جو ہندو مہا سبھا کے وی ڈی ساورکر نے فرقہ پرستی، نسل پرستی اور ہندومت کو مضبوط اور مستحکم کرنے کیلئے استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ بعد میں آر ایس ایس اور اس کی سیاسی شاخ کا نظریہ بنا۔ یہ نیا لفظ یا نئی اصطلاح اس لئے نکالی گئی ہے تاکہ ہندو مت یا ہندو کے راست استعمال سے بہت سے لوگ الگ ہوجاتے ہیں۔ سکھ، جین، قبائلی، آریہ سماجی وغیرہ اپنے آپ کو ہندو شمار نہیں کرتے۔ ان گروہوں کو یہ بتاکر کہ ہندو لفظ قومی معنی میں لیا جارہا ہے ، مذہبی معنی میں نہیںلیا جارہا ہے۔ انھیں ہندوتو کے تحت لایا گیا اور پھر انھیں ہندو قرار دیا گیا۔ رہ گئے مسلمان اور عیسائی تو انھیں گھر واپسی یعنی ہندو ہوجانے کی دعوت دی جارہی ہے۔ آر ایس ایس کی سیاسی بازو بھارتیہ جنتا پارٹی نے 1996ء میں ایک قوم، ایک عوام اور ایک کلچر(one  nation, one people and one culture) کا نعرہ پارلیمانی انتخاب کے موقع پر لگایا تھا۔ یہ ہندوتو کی تین ناگزیر خصوصیتوں کا عمومی اظہار تھا۔ اگر ہم ہندوتو کا موازنہ سنگھ کے تصور قومیت سے کریں تو دیکھیں گے کہ ان میں مشترکہ مقاصد پائے جاتے ہیں۔ اس ہندوتو در اصل قوم پرستی کا قائم مقام بن گیا ہے۔اس طرح دیکھا جائے تو آر ایس ایس یا اس کی سیاسی ونگ بھاجپا ہندو دھرم کی انتہا پسندی کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو بھی ان کے خیال سے انحراف کرتا ہے اسے غدار قوم یا غدارِ وطن (anti-national or unpatriotic) قرار دیتے ہیں۔

2014ء میں  بھاجپا جو اس وقت ملک کی حکمراں جماعت ہے وہ مذہب اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے۔ اگر چہ ہندستانیوں کو فریب اور دھوکہ دینے کیلئے ترقی اور بہتر حکمرانی کا چولا پہن کر الیکشن میں حصہ لیا اور اسے جو بیس پچیس ووٹروں کی حمایت ملتی تھی وہ 31 فیصد مل گئی اور ایک فرقہ پرست اور نسل پرست پارٹی برسر اقتدار آگئی۔ جو پارٹی مذہبی بنیاد پر وہ بھی مذہب کے اس حصہ کی بنیاد پر جس سے نسل پرستی، فرقہ پرستی، انتشار اور نفرت پیدا ہوتی ہے اسے اپنایا ہوا ہے۔ فرقہ پرست اور نسل پرست پارٹی کہنا ہی صحیح ہوگا۔ اگر انسانیت اور انصاف کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایسی پارٹی کو حصہ لینے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ مودی جی کے وزیر اعظم بننے سے پہلے مہینہ دو مہینے میں بھاجپا کے ایم پی، ایم ایل اے یا لیڈران نفرت اور انتشار کی باتیں کرتے تھے وہ بھی کبھی میڈیا میں آتی تھیں اور کبھی نہیں آتی تھیں لیکن جب سے مودی وزیر اعظم ہوئے اور میڈیا کی اکثریت کا جھکاؤ بھاجپا کی طرف ہوگیا تقریباً روزانہ ان کے لیڈروں کی خرافاتی باتیں آتی رہتی ہیں۔ جس کا ایک مطلب تو ہوتا ہے انتشار اور نفرت پھیلانا اور دوسرا اقلیتوں کو خاص طور سے مسلم اقلیت میں خوف و ہراس پیدا کرنا۔

چند دن پہلے میرٹھ میں بی جے پی کے لیڈر ساکشی مہاراج نے مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ آبادی ہندو نہیں مسلمان بڑھا رہے ہیں اور مسلمان چار شادیاں کرتے ہیں اور 40بچے پیدا کرتے ہیں۔ بھاجپا کے حاشیہ بردار اور مسلمانوں جیسا نام رکھنے والے مختار عباس نقوی نے بیان دیا کہ ساکشی مہاراج نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر یہ بات کہی ہوگی مگر حکومت یا پارٹی سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ خود نقوی نے بہار الیکشن کے موقع پر کہا تھا جو لوگ گائے کا گوشت کھانا پسند کرتے ہیں وہ پاکستان یا عرب چلے جائیں۔ اس لئے نقوی کی باتیں بے معنی سی ہیں۔ وہ خود فرقہ پرستوں کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے بلکہ فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی کا گن گاتے ہیں۔ بھاجپا ایسے کسی لیڈر یا کارکن کو قانون کے دائرہ میں لانے کی کوشش نہیں کرتی جو فرقہ پرستی اور نفرت کا بیج بوتے رہتے ہیں بلکہ درپردہ ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ساکشی مہاراج نے ناتھو رام گوڈسے کو جو گاندھی جی کا قاتل تھا اسے وطن پرست اور محب قوم قرار دیا اور ایک موقع پر اس نے کہاکہ ہندو مذہب کو بچانے کیلئے ہر ہندو عورت کو چار بچے پیدا کرنا چاہئے۔ ساکشی مہاراج بی جے پی کے ایم پی ہیں ان کو اسی لئے لوک سبھا کا ٹکٹ دیا گیا تھا کہ وہ اتر پردیش میں فرقہ پرستی کو پھیلاتے رہتے تھے۔ بی جے پی حکومت کے وزیر سادھوی نرنجن جیوتی نے دہلی میں کہا تھا کہ ’’ہندو رام زادہ ہیں جبکہ مسلمان حرام زادہ ہیں‘‘۔

بی جے پی ایم پی یوگی ادتیہ ناتھ نے شاہ رخ خاں کو دہشت گرد قرار دیا تھا جب فلمی ادکار نے عدم تحمل کے مسئلہ پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ بہار کے الیکشن کے موقع پر گری راج سنگھ نے کہا تھا جو نریندر مودی کی نکتہ چینی کرتے ہیں انھیں پاکستان بھیج دینا چاہئے۔

اب جبکہ سپریم کورٹ نے فرقہ پرستی یا مذہب کے نام پر سیاست کو از روئے قانون غلط قرار دیا ہے اور الیکشن کمیشن نے بھی اس پر نظر رکھنے کی بات کہی ہے تو کیا اس سے بھاجپا کے لیڈروں کے لگام لگنے کا امکان ہے؟ بھاجپا سے ایسی امید نہیں کی جاسکتی ہے جب تک بھاجپا کو ایسے خرافات بکنے سے سیاست میں زک پہنچنے کا خطرہ نہ دکھائی دے۔ اب تک بھاجپا نے دو بار اپنے لیڈروں پر تادیبی کارروائی کی ہے۔ اتر پردیش بی جے پی کے نائب صدر دیا شنکر سنگھ نے مایا وتی کو چند مہینے پہلے فاحشہ کہا تھا جس پر انھیں چھ سال کیلئے بی جے پی کی رکنیت سے خارج کر دیا گیا۔ خارج کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مایا وتی دلت لیڈر ہیں اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ ہیں۔ اتر پردیش میں پارٹی مضبوط ہے اور دلتوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے ۔ لکھنؤ اور دیگر شہروں میں دیا شنکر سنگھ اور بی جے پی کے خلاف زبردست مظاہرہ ہوا تھا جس کی وجہ سے بی جے پی کو کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اسی طرح گجرات کے چند دلت نوجوانوں کو گائے کی کھال اتارنے پر فرقہ پرستوں نے سخت اذیت دی تھی جب دلتوں کی طرف سے مظاہرہ ہونے لگا تو فرقہ پرست نوجوانوں کی گرفتاری دکھانے کیلئے کی گئی بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔

اس وقت ساکشی مہاراج کو الیکشن کمیشن نے نوٹس بھیجا ہے یقینا وہ اپنی صفائی میں کوئی بات کریں گے مگر اخبارات کے صفحات میں اور ٹی وی چینلوں میں ریکارڈنگ ان کے بیان کی ہوگئی ہے، اس کی روشنی میں کمیشن کو کارروائی کرنی چاہئے۔ اگر کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں انھیں پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم کردے یا سپریم کورٹ نے ایسے لوگوں کی جو سزا مقرر کی ہے اسے سزا دلانے کی بھرپور کوشش کرے جب ہی ایسے لوگوں کی آواز کم ہوسکتی ہے یا بند ہوسکتی ہے۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے ہر گز ماننے والے نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں پر فرقہ پرستی کا بھوت سوار ہے اور پارٹی بھی وقتاً فوقتاً اس کی حوصلہ افزائی کرتی رہتی ہے۔ مسٹر نریندر مودی جب 2014ء میں وزیر اعظم کے امیدوار تھے تو اس وقت انھوں نے مظفر نگر کے فسادات میں بی جے پی کے جو لوگ ملوث تھے ان کی حوصلہ افزائی کیلئے انھیں الیکشن کی ایک میٹنگ میں پھولوں کا ہار پہنایا تھا۔ ظاہر ہے جب سنگھ قبیلہ کا سردار یا مکھیا ایسی حرکتیں کرتا ہو تو پھر ان کے نیچے کے لوگ کیوں نہ غلط حرکتوں پر آمادہ ہوں۔

ساکشی مہاراج نے الیکشن کمیشن کی نوٹس پانے پر بوکھلاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔ کہا ہے کہ انھوں نے کسی فرقہ کا نام نہیں لیا اور وہ معتبر اور مذہبی لوگوں کے درمیان تقریر کر رہے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں بی جے پی نے جھوٹ بول کر بچنے کی صلاح دی ہے۔ یہ بی جے پی کا پرانا مشغلہ ہے۔ اگر قانون کی گرفت ایسے لوگوں پر سخت ہونے لگے تو یقینا اس کا کچھ اثر پڑے گا لیکن ایک ایسی پارٹی جس کا پرانا دھندا سیاست میں نفرت اور انتشار پھیلانا ہو مشکل ہی سے باز آئے گی۔ ایسے لوگوں کے خلاف جب تک سیاسی میدان میں مظاہرہ اور عدالتی کارروائی نہیں ہوتی ان کی نہ زبان بند ہوگی اور نہ غلط حرکتوں میں کمی واقع ہوگی۔

موبائل: 9831439068           azizabdul03@gmail.com

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close