سیاست

غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے

سماج وادی پارٹی کی کشتی بھنور میں ہے اور بار بار ایسا لگتا ہے کہ وہ کنارے آگئی لیکن پھر پانی کا ریلا آتا ہے اور کشتی کو بھنور میں لے جاتا ہے۔۱۰ ؍جنوری کو بار بار دہلی میںملائم سنگھ نے کہا کہ جب کوئی تنازعہ ہی نہیں ہے تو مصالحت کاہے کی؟ او ر یہ کہ میرے اور بیٹے کے درمیان جو کچھ ہے وہ بہت معمولی ہے۔ اور یہ بھی بار بار کہا کہ قومی صدر میں ہوں اور وزیر اعلیٰ اکھلیش ہی رہے گا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

ان خبروں کے بعد لکھنؤ میں یہ چرچا ہونے لگا کہ دونوں باپ بیٹوں کی مشترکہ پریس کانفرنس ہوگی اور دونوں ساتھ ساتھ الیکشن کے میدان میں جائیںگے۔ کل ۱۰؍ بجے کے بعد پھر دونوں باپ بیٹے تنہا ایک کمرہ میں بیٹھے اور کہا جاتا ہے کہ دو گھنٹہ کے قریب بات ہوئی لیکن پھر اچانک خبر آئی کہ اکھلیش یا دو کسی سے ملے بغیر اپنی کالی داس مارگ والی رہائش گاہ چلے گئے۔

بعد میں قسطوں میںجو معلوم ہوا وہ ا خباروں میں آگیا کہ ملائم سنگھ اس پر بضد ہیں کہ ہر اختیار لے لو قومی صدر کا عہدہ میرے پاس رہنے دو اور اکھلیش اس پر جمے ہوئے ہیں کہ صرف تین مہینے کے لیے یہ عہدہ میرے پاس رہنے دیجئے اس کے بعد زندگی بھر کے لیے آپ لے لیجیے گا۔

ہم نہ باپ کے ساتھ ہیں نہ بیٹے کے ساتھ اس لیے کہ میدان میں نہیںہیں۔ لیکن اکھلیش کی بات کو سمجھ سکتے ہیں۔ انھیں اب اپنے باپ پر بھروسہ نہیں رہا ہے اور اس لیے نہیں رہا ہے کہ وہ اب گھر کے باہر بھی دشمنوں کے ہاتھوں میں اور گھر کے اندر بھی دشمنوں کے ہاتھوں میں۔ انھوں نے الیکشن کی رتھ یاترا کے موقع پر عوامی دبائو سے کہہ دیا تھا کہ وزیر اعلیٰ کا چہرہ اکھلیش ہی رہیںگے اس کے بعد دوبار الگ الگ تاریخوں میں انھوں نے پھر وہی کہا کہ جیت کر آنے والے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کریںگے۔

ان کی ان باتوں کی وجہ سے ہی پھر سب میدان میں آگئے۔ اور سب صف بنا کر اکھلیش کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ اب وہ مسلسل دیکھ رہے ہیںکہ وہ دہلی میں جب الیکشن کمیشن میں جاتے ہیں تو ان کے ساتھ صرف شیوپال اور امرسنگھ ہوتے ہیں اور جب وہ پریس سے بات کرتے ہیں تو امرسنگھ ان کے پیچھے رِنگ ماسٹر کی طرح کھڑے ہوتے ہیں۔ جبکہ وہ پارٹی میں صرف اس لیے ہیں کہ انھوں نے ملائم سنگھ کے گھر میں شریمتی کو پہنچادیا ہے۔

اکھلیش یادو کو اپنے باپ پر بھروسہ ہے۔ لیکن انہیں یقین ہے کہ وہ سابق پہلوان ہیں اور ان سے زبردستی کچھ بھی کرایا جاسکتا ہے جس کی مثال سامنے ہے کہ انھوں نے اپنے جنرل سکریٹری رام گوپال یادو کو تین بار چھ سال کے لیے نکالا۔ کیا آج تک کسی سیاسی پارٹی میں بھونڈی حرکت کسی نے دیکھی ہے کہ ہر ۱۵ دن کے بعد صدر اپنے سب سے پرانے جنرل سکریٹری کو چھ سال کے لیے نکال دے اور فرد جرم آج تک سامنے نہیں آئی۔ صدر کو اب اکھلیش نے نہیں بلکہ اس جنرل سکریٹری نے خصوصی اجلاس بلا کر نکال دیا تو کہہ رہے ہیں کہ اجلاس فرضی اور سکریٹری جعلی ہے۔ ایک موقع پر ملائم سنگھ نے وزیر اعلیٰ کو بھی پارٹی سے نکال دیا۔

اکھلیش یادو کو یقین ہے اور ان کا اندازہ صحیح ہے کہ ملائم سنگھ اکیلے ہیںاکھلیش کو سب کچھ دے سکتے ہیں لیکن جب امرسنگھ یا گھر کے اندر شریمتی سادھنا گپتا کہیںگی کہ یہ کیا کردیا اور اب شیوپال اور میرے بیٹے کا کیا ہوگا؟ تو وہ فوراً فیصلہ بدل دیںگے۔ اس لیے کہ انھیں گھر کے با ہر امرسنگھ اور جیاپردہ کے ساتھ ساتھ رہنا ہے اور گھر کے اندر سادھنا اور شیوپال کے ساتھ۔

ہمارا اندازہ یہ ہے کہ ملائم سنگھ کو جب موقع ملا تو وہ شیوپال کو وزیر اعلیٰ بنا دیںگے اور تین سال کے بعد جب ان کے چھوٹے بیٹے ۲۵ سال کے ہوجائیںگے تو وہ ہمیشہ کے لیے پارٹی کا سب کچھ انہیں بنادیںگے اور سادھنا بی بی کی من کی مراد پوری کردیںگے۔ یہ بات بار بار تذکروں میں آچکی ہے کہ سا دھنا اپنی بڑی بہو ڈمپل کو برداشت نہیں کرتیں۔اور اس لیے اکھلیش نے اپنے والد کے برابر کا گھر لے لیا ہے لیکن دونوں کے درمیان ابھی دیوار نہیں ہے۔ لیکن جس دن یہ فیصہ ہوجائے گا کہ ملائم سنگھ بھی چھوٹے بیٹے کی طرف آئے تو شاید دیوار ضروری ہوجائے گی۔دو بھائیوں کے ایک گھر کے اندر دیوار شاعروں کا موضوع رہا ہے اور بڑے اچھے اچھے شعر کہتے ہیں۔ اگر کسی نے امرسنگھ کو یہ دکھائے تو جگہ بے جگہ اور غلط ہی سہی مگر پڑھیںگے ضرور:

بھائی سے بھائی کے کچھ تقاضے بھی ہیں

صحن کے بیچ دیوار اپنی جگہ

میری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے

میرے بھائی مرے حصے کی زمیںتو رکھ لے

پیروں میں لرزش نہ ہوئی جب دشمن کی تلوار اٹھی

ہمت اس دن ٹوٹی جس دن آنگن میں دیوار اٹھی

ملائم سنگھ اور اکھلیش کے گھروںکے اندر کی دیوار بھائیوں کے نہیں باپ بیٹے کے درمیان اٹھے گی۔ اور جس دن یہ اٹھے گی وہ بہت برا دن ہوگا۔

اکھلیش یادو اور راہل نیز اجیت سنگھ اور چندر شیکھر کے لڑکے مل کر الیکشن لڑنے کے بارے میںبہت کچھ طے کرچکے ہیں۔ اب پرینکا وڈیرا اور ڈمپل یادو کے با رے میں کہا جارہا ہے وہ بھی ایک ہی تھالی میںاپنی ا پنی کھچڑی ڈال کر کھانے کے بارے میں سوچ رہی ہیں اور نہ جانے کیا بات ہے کہ ملائم سنگھ اس کی مخالفت کررہے ہیں؟ اور اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ۱۳؍ جنوری کے بعد یا تو سائیکل کسی کی نہیں رہے گی اور اگر ملائم سنگھ کو ملی تو وہ زیادہ نقصان پہنچائیںگے اور اگر اکھلیش کو ملی تو وہ آدھا الیکشن جیت لیںگے۔ ایک بات سب محسوس کررہے ہیں ہوںگے کہ سائیکل نے اتنی دھول اڑا دی ہے کہ مایاوتی اور ہاتھی کوئی نظر نہیں آرہا ہے۔ اب تو یہ دعا کرنا چاہیے کہ   ؎

ہماری نفرتوں کی آگ میں سب کچھ نہ جل جائے

کہ اس بستی میں ہم دونوں کو آئندہ بھی رہنا ہے

موبائل نمبر:9984247500

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close