سیاستہندوستان

نہ مے، نہ میکدہ صرف ایک سیاست!

یوپی الیکشن کے ایام قریب تر ہوتے جارہے ہیں ، سیاسی پارٹیاں  توڑ جوڑ، منافرت کے فروغ اور ووٹ بینک حاصل کرنے کے تگ و دو میں  مصروف ہیں  اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یوپی الیکشن ’’مہا بھارت‘‘  کا نقشہ سامنے لائے گا ـ مجلس جو صرف آندھراپردیش کی علاقائی پارٹی تھی مہاراشٹر عبور کرتے ہوئے بہار ہوکر یوپی میں  مسیحائی اختیار کرنے کی طرف گامزن ہے۔ ـ گو تجزیہ کاروں  کے لیے یوپی الیکشن تجزیوں  اور قیاس آرائیوں  سے کہیں  مختلف ہونے کا امکان رکھتا ہے ـ تاہم عوام کذب بیانی، جملے بازی اور عوامی اختیارات کے بیجا استحصال سے بخوبی واقف ہیں، مذہبی نعروں  اور اس ضمن کے تمام جملہ بازیوں  کے اثرات بھی بے معنی ہوچکے ہیں  ـ، عوام ازل سے امن کے خواہاں  رہے ہیں  اور یوپی الیکشن کے نتائج کا منظر نامہ ان ہی امور پر مشتمل ہوگا۔ ـ اتحاد کی باتیں  میڈیا اور عوام کے درمیان آچکی ہیں، اتحاد ووٹرس کے ساتھ ساتھ پارٹی کارکنان میں  ایک نئی طاقت پھونک دے گا جو بی جے پی کے عفریت کا مکمل صبر و ثبات کیساتھ مقابلہ کرسکتی ہے۔ ـکانگریس اور سماج وادی میں  اتحاد کی خبریں  موصول ہورہی ہیں  یہ خوش آئند امر ہے۔ مذہبی مکروہ امور کے ذریعہ سیاسی طلسم کے تعاون سے رائے دہندگان پر فسوں  سازی کی جارہی ہے، اس پر قدغن لگانا آسان ہوگا، ـ مجلس ملکی سطح کی سیاسی جماعت بننا چاہ رہی ہے اور نوجوان طبقہ انہیں  بڑی حد تک فالو بھی کرتے ہیں، عوامی خدمات کے جذبوں  سے لبریز مثبت خدمات انجام دینے کیلیے کوشاں  ہے ؛مجلس   جن امور کے باعث یوپی کے ‘مہابھارت ‘ میں  کود پڑی ہے اس سے معرکہ کے مزید دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔ ـ یوپی کے عوام کا رجحان سماج وادی کے تئیں  مثبت ہی ہے، بی جے پی کسی طور قبول نہیں، لوک دل جاٹوں  تک ہی محدود ہے اور بہوجن سماج دلتوں  کے ووٹ پر مضبوط ہوچکی ہے، جو کہ بھر پور ٹکر دینے کے ارادہ سے تیار ہے۔ بی جے پی اپنے ازلی فطرت کے بموجب ان ہی امور پر کاربند ہے جو اس کے ہندوتو ایجنڈے کو فروغ دیتے ہوں،  سنگیت سوم جیسے سفاک مظفر نگر سانحہ کے اصل مجرم کو امیدوار بنایا جانا اس کی ذہنیت پر بین دلالت کرتا ہے، ـ زمینی حقائق مختلف ہیں  باوجودیکہ بی جے پی اپنی سی کوشش کرلے، تاہم بی جے پی کی زعفرانی فسوں  کاری مستقل خطرات پیدا کرے گی، اگر رائے دہندگان صرف ایک جمہوریت کے بقا اور تحفظ کے لئے پابند عہد ہوجائے تو یقینا یہ فسوں  بے معنی ثابت ہوگی جیسا بہار الیکشن کے موقعہ پر دیکھنے کو ملا ـ صاف شفاف، غیر جانبدار، جمہوری اقتدار سازی کے لیے یوپی میں  دو طرفہ مخاصمت پیدا کردی گئی ہے جس کے لیے عوام بھی اپنی شرکت کو یقینی بنا سکتے ہیں، مجلس اتحاد المسلمین چونکہ ایک خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار سیاسی پارٹی ہے؛ لیکن کسی نہ کسی طور مخالف کو تقویت بہم پہنچاتی ہے اور منتشر سیاسی قوتوں  کو مجتمع بھی کرتی ہے اس کا اندازہ عوام کو ضرور ہےـ اس کے ماسوا مجلس کی کارکردگی اور مقبولیت کا بھی امتحان ہوگا۔ ـ

یہ سوال اہم ہے کہ مجلس کو یوپی الیکشن میں  حصہ لینا چاہیے یا نہیں ؟ اس کے جوابات تو کئی ہیں، الا یہ کہ ان کی فہم بھی ہو اور مخلصانہ کوششیں  بھی ہونی چاہیے ـ آسام اور کیرالہ میں  کثیر مسلم آبادی ہے، خود بنگال میں   45 فیصدی مسلم رائے دہندگان ہیں  جو کسی بھی سیاسی ارادے کو زیر کرسکتے ہیں  لیکن اویسی نے صرف بہار اور یوپی کو ہی کیوں  منتخب کیا؟ تجزیہ نگاروں  نے جو تصویر پیش کی ہے اور جس طرح کا تجزیہ کیا ہے اسے فتح و شکست کی ملی جلی کیفیات سے تعبیر کرنی چاہیے، یوپی میں  تقریبا  40 فیصدی مسلم رائے دہندگان ہیں  اور تقریبا  60 غیر مسلم جن میں  دلت وغیرہ بھی شامل ہیں  ایک مؤثر مجموعی عددی طاقت کی حیثیت رکھتے ہیں  جو ممکنہ مسرت آمیز نتائج کے باعث بھی ہیں ۔ ـ بہر کیف اویسی اور ان کی پارٹی مجلس 40 مسلم ووٹروں  کو کس سمت لے جائیں  گے یہ قابل غور ہوگا۔ اسے مسلمانوں  کے حق میں  درست سمجھا جاسکتا ہے یا نہیں، یہ وقت ہی بتائے گا ـ اویسی کی سیاست اور بیانات نیز سیاسی اقدامات یوں  تو بظاہر پست خوردہ قوم کی حوصلہ افزائی اور داد رسی پر مبنی ہیں، تاہم اس عمل کا ردعمل بھگوائیوں  کو ضرور مضبوط بناتاہے اور ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پست خوردہ قوم کا درد ان کے سینے میں  ضرور ہے۔ ـ راقم کی ادنی رائے کے بموجب اگر بہوجن سماج اور دوسری علاقائی پارٹیوں  کے ساتھ اتحاد و انضمام ہو تو یقیناً مجلس کے لیے نیک فال ہوگا اور اس کے ساتھ ہی یوپی میں  اپنی زمین ہموار کرنے اور اپنے نظریات کی بتدریج اشاعت میں  سہولت ہوگی۔

40 فیصد ی رائے دہندگان تو محض ایک سیاسی کھیل بن کر رہ گئے ہیں۔  کبھی سماج وادی کے حق میں  تو کبھی بہوجن سماج کے حق میں  تو کبھی علما کونسل اور کبھی پیس پارٹی کے حق میں  ووٹ ضائع کیے گئے ـ اس ابتری اور سیاسی تزلزل کے شکار مسلم رائے دہندگان تذبذب ہوگئے ہیں ، جو کسی نہ کسی صورت بی جے پی کے حق میں  آسانیاں  پیدا کرسکتا ہے، بہوجن سماج اپنے مضبوط سیاسی ارادوں  اور عزائم کے ساتھ میدان میں  اتر چکی ہے، موقعہ کی نزاکت کو قبل از وقت بھانپ لیا ہے کہ اس برتری کے جنگ میں  بجائے شور شرابے اور الزامات و تردید کے زمینی حقائق اور اس کے ممکنہ مثبت نتائج پر غور کرنا اس کے لئے موزوں  ہوگا۔ ـ شاید یہی وجہ ہے کہ ’’باپ بیٹے کے سیاسی مخاصمے‘‘ اور بھگوائیوں  کی خست سے صرف نظر کرتے ہوئے مسلم امیدواروں  کو بکثرت ٹکٹ دیا ہے، یہ درست فہم اور مثبت ادراک ہے کہ مسلم رائے دہندگان بی جے پی کو ووٹ نہیں  دے سکتے اور سماج وادی کا دامن خود داغدار ہے کہ مظفرنگر ہفتوں  فساد کی چنگاری میں  جھلستا رہا اور سپا سرکار ہاتھ ہر ہاتھ دھرے اس تماشائے حرماں  نصیب سے لطف اندوز ہوتی، رہی مگر فساد کے روک تھام پر فوری متحرک نہ ہوسکی؛ لہذا جی کھول کر مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا ہے سماج وادی بھی بہوجن سماج کی تقیلید کر رہی ہے اور مختلف سیٹوں  سے 52 مسلم  امیدواروں  کو کھڑا کیا ہے اور سائیکل کی رفتار کو مزید مہمیز کے ارادے کو مضبوط کرلیا ہے وہیں  ـ مجلس اتحادالمسلمین اور اسدالدین اویسی کی سیاست بہت حد تک دبے کچلے عوام کے حق میں  مشعل راہ ہے، پیس پارٹی اور علماء کونسل ذات اور مسلک سے بالا ہوکر سیاسی عزائم پیدا کرنے سے قاصر ہے، لازماً رائے دہندگان کیلئے ایک ہی متبادل باقی رہتا ہے اور اسی متبادل کی تلاش میں  مایاوتی نے تجرباتی پہلو اختیار کرلی ہے ـ۔ 40فیصدی مسلم رائے دہندگان اس سیاسی کشمکش اور انتخابی ’’مہابھارت ــ‘‘ کے کسمپرسی کے شکار ہوگئے۔

واضح ہوکہ اسی مبینہ کشاکش کی خاطر ہی اتنی ساری توڑ جوڑ، افراد کی خریدوفروخت، اشتعال انگیزی، باہمی منافرت اور الزامات و تردید کا ابلیسی دور شروع کیا گیا ہے ـ مسلمان جو ازل سے ایک مثبت فکر، مؤثر حیثیت، اور صالحانہ کردار کے حامل تھے 70 سالوں  سے منفی فکر، بے حیثیت اور غیر صالحانہ کردار کے حامل ہوگئے ہیں، ان کے لیے سخت آزمائش کی گھڑی ہے وہی آزمائش جو تقسیم کی ہولناکی کے ایام میں  لاحق ہوئی تھی ـ کسے ووٹ دیں  اور کسے ووٹ نہ دیں  ؟ اس تعلی اور افراط سے تذبذب پیدا ہوگیا ہے، یہ تذبذب خود اپنے ہی اعمال اور ذہنی پست خوردگی کی کاشت ہے ـ۔ الغرض مسلمان اپنی ازلی بصیرت اور مومنانہ فراست پر کاربند ہوں  ـ مختلف سیاسی جماعتوں  کی کھلی گمراہی سے خود کو بچاتے ہوئے قیمتی ووٹ کو ضائع نہ کریں  ـ مسلمان کی حیثیت ازل سے مؤثر رہی ہے خواہ ہندوستان میں  یہ حیثیت بے معنی ہوگئی ہو؛ لیکن اپنی حیثیت کی بچی کھچی توانائیوں  کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک مضبوط قیادت کا انتخاب کرنا چاہیے ـ۔ بی جے پی کی عفریتی نگاہ یقیناً بنیادی خامیوں  پر ہوں  گی اور یہی اس کی فطرت بھی ہے؛ لہذا جوش و انتقام اور غیظ و غضب کے تدبر اور صالح فکر کی روشنی میں  ٹھنڈے دل سے فیصلہ کرکے انتخابی میدان میں  قدم اٹھائیں، یہی وقت کا تقاضا ہے ـ یہ سچ ہے کہ اس عددی کھیل میں  اپنے وجود کے تحفظ کیلئے ہمیں  خود اقدامات کرنے ہوں  گے، جمہوری دستور ہمارا آئینی حق ہے اسی حق کے کئے کمربستہ ہونا ہوگا، عمل اور ردعمل کے لازمی اثرات کو سمجھنا ہوگا ورنہ نتائج مزید مایوس کن ہوسکتے ہیں  ـ  نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کرنے کا عہد ہے؛ لہذا مثبت سوچ کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کریں  تاکہ کل ہماری گنگا جمنی تہذیب اور اس عظیم جمہوریت کو خطرہ لاحق نہ ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close