سیاستہندوستان

سرجیکل اسٹرائیک ہر مرض کا فوری مداوا نہیں

حسب معمول اس سال بھی انگریزی روزنامہ ’دی ٹیلیگراف‘ کے زیر اہتمام کلکتہ کلب میں سالانہ مباحثہ ہوا۔ مباحثہ کا موضوع دلچسپ تھا۔ ’’سرجیکل اسٹرائیک ہر مرض کا فوری مداوا ہے‘‘۔ (Surgical Strike is the magic pill of all maladies) کے موضوع کے حق میں سومیت پاترا، شائنا این سی اور بابا رام دیو جیسے مودی بھگت تھے۔ موضوع بحث کے خلاف ترنمول کانگریس کے ایم پی اور ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سوگت بوس، سابق کلچرل سکریٹری اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی  کے طلبہ لیڈر کنہیا کمار تھے۔ مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے سب سے پہلے بی جے پی کی ترجمان فیشن ڈیزائنر شائنا این سی نے کہاکہ مسٹر نریندر مودی نے کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔ سومیت پاترا جو بی جے پی کے ترجمان اور پیشہ سے سرجن ہیں انھوں نے بھی مودی کی نوٹ بندی کی زبردست حمایت کی۔ مودی بھگت اور بی جے پی کے حامی بابا رام دیو نے بھی بی جے پی کی حمایت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی مگر پروفیسر بوس، کنہیا کمار اور جوہر سرکار کے سامنے مودی بھگتوں کی ایک نہ چلی۔ تین ہزار شرکاء نے موضوع بحث کے خلاف رائے دی اور جس سے مودی بھگت بری طرح مات کھا گئے۔

  شنکرشن ٹھاکر -بحث کے نگراں شنکرشن ٹھاکر نے بحث کی ابتدا میں موضوع کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے کہاکہ سرجیکل اسٹرائیکل ایک ایسے کنایہ یا استعارہ کو کہتے ہیں جس کا اپنا ایک معنی و مطلب ہوتا ہے۔ یہ استعارہ اس وقت مشہور ہوا جب 29 ستمبر 2016ء کو ہندستانی فوج کے نوجوانوں نے پاکستان میں دہشت گردوں کے کئی ٹریننگ کیمپوں پر حملے کرکے مسمار کردیا۔ پھر 8 نومبر کو نوٹ بندی کا اعلان ہوا۔ اسے بھی سرجیکل اسٹرائیک سے تعبیر کیا گیا۔ بہر حال لغت میں اس کا جو بھی معنی اور مطلب ہو مگر اس وقت ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کا مطلب نریندر مودی کے کام کرنے کا ایک خاص انداز کو کہا جاتا ہے جو ملک بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

  رام دیو-بابا رام دیو نے غیر جذباتی تقریر کی۔ کہاکہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں یا میرے اپوزیشن میں جو لوگ کچھ کہیں گے اس پر آپ نہ غور کریں گے بلکہ اپنے دل و دماغ سے سوچیں گے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ خدا نے آپ کو دل و دماغ بخشا ہے۔ اس سے کام لیجئے۔ اپنے سائنٹفک، سیکولر اور انصاف پسند نظریہ اور اصول کے مطابق غور و فکر کیجئے۔ جب ہی آپ صحیح اور درست نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ میں تو ہر روز سرجیکل اسٹرائیک کرتا رہتا ہوں، میں اپنے ملک کو معاشی طور پر آزاد بنانا چاہتا ہوں۔ میں ایک سنیاسی ہوں ، میرے پاس کوئی کالا دھن نہیں اور نہ ہی کوئی سفید دھن ہے۔ میں ’پتن جلی‘ برانڈ کا غیر تنخواہیہ ایمبیسڈر ہوں۔ میں دھوکہ دہی، وہم پرستی، سستی اور کاہلی کے خلاف سرجیکل اسٹرائیکل کرتا رہتا ہوں۔ میری پرارتھنا ہے کہ آپ جب بھی کوئی کام انجام دیں تو صحیح طریقہ سے انجام دیں اور صحیح کام کریں۔

 شائنا این سی- شائنا این سی نے بہت ہاتھ پاؤں مارا اور کہاکہ ایک صحیح لیڈر زمانہ ساز ہوتا ہے، وہ زمانہ کی رائے کے ساتھ نہیں چلتا ہے بلکہ زمانہ کی رائے کو تبدیل کرتا ہے۔ بی جے پی نے اپنے اندر اسٹرائیک کیا جو ہر دن ملک و قوم کی ترقی کیلئے اسٹرائیک کرتی ہے اور نہایت ہمت اور حوصلہ کے ساتھ پہلی بار ملک کی تاریخ میں ایک ایماندار، وعدہ پرست شخص نے 60/70 سال تک ملک میں بدعنوانی ہوتے دیکھا۔ جب اس نے کر دیا تو لوگوں نے اسے آمریت کا خطاب دینا شروع کیا لیکن اگر آپ بھی یمانداری برتتے ہیں تو لوٹ پر لوٹ، اسکیم پر اسکیم کی سیاست کو بالکل رد کر دیں گے اور ہماری حکومت کے ایماندارانہ طور طریقہ کو پسند کریں گے اور ہماری حکومت کی حمایت کریں گے جو ترقی کی راہ اور فلاح و بہبود کی طرف ملک کو لے جانا چاہتی ہے۔

  سومیت پاترا- سومیت پاترا نے کہا کہ ایک اچھا سرجن جب مریضوں کا آپریشن کرتا ہے تو اسے صرف ٹیومر یا اس حصہ کا آپریشن کرتا ہے جو ناقابل علاج ہوتا ہے اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ جسم کا کوئی دوسرا حصہ متاثر نہ ہو۔ اسی معنی اور مفہوم میں سرجیکل اسٹرائیک لیا جاتا ہے۔ اگر سرجیکل اسٹرائیک کا مطلب جاننا چاہتے ہیں تو اس کا اصل مطلب عمل (Action) ہے جو کچھ پہلے ہورہا تھا اسے بے عملی (Inaction) سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اگر کہیں مرض ہے تو دوا اس کا علاج ہے۔ ماں درگا نے مہیشسرا کے خلاف اسٹرائیک کیا۔ میں سبھاش چندرا بوس کو سلام کرتا ہوں انھوں نے برٹش راج کے خلاف اسٹرائیک کیا۔ راجہ رام موہن رائے کو سلام کرتا ہوں کہ انھوں نے ستی اور کم عمر بچوں کی شادی کے خلاف اسٹرائیک کیا۔ اس طرح سوامی ویویکا نند قابل تعریف ہیں جو امریکہ جاکر جلسہ عام کو محترم مرد و خواتین کے بجائے میرے بھائی بہنو! کہہ کر خطاب کیا۔ جس نے انداز بدلا کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ یہ دنیا آفاقی ہے۔ ہماری اپوزیشن جب تک اسٹرائیک نہیں ہوا تھا وہ سوال کرتی تھی کہ کالا دھن پر کچھ ہوا نہیں۔ جب اسٹرائیک ہوا تو سوال کرنا شروع کیا کہ کیوں اسٹرائیک ہوا؟

 سوگت رائے- لوک سبھا ایم پی اور ہاورڈ یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر سوگت بوس کی جب باری آئی تو کہاکہ حکومت کے ذمہ داران اور بی جے پی کے ترجمان کہہ رہے ہیں کہ رد عمل کے طور پر انھوں نے بہت بڑی سرجیکل اسٹرائیک کی۔ میں پوچھنا چاہتا ہوںکہ کیا اس سے سرحد پار کی دہشت گردی بند ہوگئی۔ ہاں سرد موسم کی وجہ سے رفتار میں کمی ضرور آئی ہے مگر سرجیکل اسٹرائیک کی وجہ سے نہیں ۔ ہمارے ملک کی سپریم کورٹ نے صحیح کہا ہے کہ نوٹ بندی ملک کے غریب عوام پر ’کارپیٹ بم‘ ہے ، جس سے وہ بیحد متاثر ہیں۔ دہشت گردی اور کالا دھن ہی ہمارے ملک کی بڑی بیماریاں نہیں ہیں بلکہ اس کے علاوہ بہت سی بیماریاں اور مشکلات ہیں جن سے ہمارا ملک جھوج رہا ہے۔ ذات پات کی بنیاد پر ظلم و جبر، عورتوں پر مظالم، غربت او ر افلاس اور گزشتہ دو ڈھائی سال سے مذہبی منافرت اور عدم تحمل کا زبردست مسئلہ پیدا ہوا ہے کیا یہ سب سرجیکل اسٹرائیک کے ذریعہ ختم کر دیئے گئے۔ سرجیکل اسٹرائیک ایک استعارہ ہے جو ظلم و جارحیت کے خلاف استعمال ہوتا ہے لیکن یہ جو کچھ ہوا اسے تمام شریف مرد و خواتین رد کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ سوگت رائے نے مزید کہا کہ سومیت پاترا جو راجہ رام موہن رائے اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کا نام لے کر سامعین کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ گمراہ نہیں کرسکتے۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جنھوں نے آفاقی قدروں کے تحفظ کیلئے کام کیا۔ خواہ ویویکا نند ہوں یا راجہ رام موہن رائے ان کے ساتھ آج گندی ذہنیت کے لوگوں کو جوڑنا صحیح نہیں ہوگا۔

 جوہر سرکار – جوہر سرکار نے کہاکہ ہم لوگ یہاں الیکشن کی مہم چلانے کیلئے جمع نہیں ہوئے ہیں بلکہ ہم لوگ یہاں اکٹھا ہوئے ہیں ایک سنجیدہ اور گھمبیر مسئلہ پر غور و خوض کرنے کیلئے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا۔ یہ در اصل اپنی حیات کو دوام بخشنے کیلئے کیا گیا ، اسے کیسے فوری مداوا سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اگر نوٹ بندی کے بارے میں سوچیں جو سامعین میں بیٹھے ہیں تو انھیں سوچنا پڑتا ہے کہ نوٹ کہاں سے ملے گا۔ اے ٹی ایم سے یا بینک سے ۔ جو لوگ بینک کی قطار میں کھڑے کھڑے مر رہے ہیں کیا یہی سرجیکل اسٹرائیک ہے کہ جس سے مقصد پورا ہورہا ہے۔ مسئلہ حل  ہورہا ہے بلکہ مسئلہ میں اضافہ ہورہا ہے۔ وجئے مالیہ جیسے شخص کو کالا دھن کے ساتھ ملک سے جانے دیا گیا۔ اس کا جو دھن ضبط کیا گیا وہ جو فریج میں تھا کیا سارے ATM کو ہٹ کیا گیا۔ ہم وزیر اعظم کی شخصیت پر نشانہ نہیں سادھ رہے ہیں۔ ہم اپنے فوجیوں کی حب الوطنی پر سوال نہیں کھڑا کر رہے ہیں۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا یہی فوری مداوا ہے تمام مرضوں کا۔ حقیقت میں سرجیکل اسٹرائیک انسانیت کے خلاف سب سے بڑا دھوکہ اور مذاق ہے۔

 کنہیا کمار- ایک چائے خانہ کے ایک مزدور لڑکے نے مجھ سے پوچھا کہ’ سرجیکل اسٹرائیک کیا ہے؟‘ تو مجھے حیرانی ہوئی کہ آخر میں کیسے انگریزی کے ایک بھاری بھرک لفظ کی تشریح کروں۔ تو میں نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تم لوکا چھپی کا کھیل سمجھتے ہو۔ اس نے کہا ہاں! جب تم پیچھے سے آتے ہو تو سامنے والے کو کیا کہتے ہو ’’دھپّا‘‘ ۔ یہی سرجیکل اسٹرائیک ہے۔ آج کا موضوع ہے جو ہم سے سوال پوچھتا ہے کہ کیا سرجیکل اسٹرائیک جادو کی چھڑی ہے یا علاء الدین کا چراغ ہے کہ جس سے سارے مسائل بیک وقت حل ہوسکتے ہیں۔ میرا جواب ہے کہ ’’نہیں‘‘۔ اگر ہم دہشت گردی کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کرسکتے ہیں تو آخر کیوں نہیں ہم غریبی، بے روزگاری کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کرتے ہیں۔ جب ہم یہ نہیں کرتے تو صاف ظاہر ہے کہ ہم اپنے ٹارگیٹ (مقصد) کو مس کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہم اپنا زیادہ وقت دوسروں پر الزام تراشی اور بہتان تراشی میں صرف کرتے ہیں۔ قومیت کا برانڈ کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ جیسے ہی آپ بولنا شروع کریں گے آپ کو قوم دشمن، غدار وطن کا خطاب دے دیا جائے گا۔

 یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلاف رائے اور اپنے خلاف نکتہ چینی اور تنقید کو عوام سے معلوم کرے اور اپنے کاموں کا جائزہ لے۔ کیا یہ بھی کام ہے کہ جیسے آپ نے کوئی چوہا مارا فوراً اسے ٹوئٹ کردیا اور یا کسی نے کچھ کہا اس پر الزام تراشی کی بوچھار کردی۔ جب کوئی سوال اٹھاتا ہے تو حکومت کے کارندے اور حکمراں جماعت کے افراد فوراً اسے ملک کا غدار یا پاکستانی ایجنٹ گردانتے ہیں۔ کیا یہی سرجیکل اسٹرائیک ہے۔ موضوع کے خلا ف بولنے والوں کی باتیں سامعین نے غور سے سنیں اور ان کے دلائل کو صحیح اور درست سمجھا جس کی وجہ سے جب شرکاء کی رائے معلوم کی گئی تو سب نے موضوع کی مخالفت میں رائے دی جس سے motion کی شکست ہوئی۔

(’دی ٹیلیگراف‘ کے سالانہ مباحثہ میں شرکاء کی رائے)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close