سیاستہندوستان

آئین کی پامالی کے بعد اس کی عظمت کا اعتراف

 پارلیامنٹ کے سرمائی اجلاس میں  بر سر اقتدار حکومت چاروں  طرف سے گھر ی نظر آ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے متواتر ملک میں  آئین کی پامالی اور انسانی اقدار کی بدحالی کے حادثات اور سانحات رونمأ ہو رہے ہیں۔  اب جبکہ سرمائی اجلاس  کی شروعات اس دن سے ہو رہی ہے،  جس دن یعنی 26  نومبر 1949ء کو بھارت کے آئین کو منظوری دی گئی تھی،  اس لئے اس دن کو یوم آئین کے طور پر یاد کرتے ہوئے،  ملک کے آئین اور اس کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی عظمت اور اس کی اہمیت کا اعتراف کیا جانا لازمی ہے۔ لیکن ملک جس سنگین اور مشکل بھرے حالات سے گزر رہا ہے  اور ہر جانب سے نہ صرف غم و غصّہ کا اظہار ہو رہا ہے بلکہ سخت مذّمت  بھی کی جا رہی ہے۔ معروف صحافی کلدیپ نیّر نے تو ملک میں  بڑھتی عدم رواداری اور عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کر دیا  ہے کہ وہ پارٹی کے اندر ایسے لوگوں  پر کاروائی کریں ،  جو بد امنی پھیلا کر ملک کا نقصان کر رہے ہیں۔  جسٹس سچر نے تو یہاں  تک کہہ دیا کہ فرقہ پرستی ملک کے لئے ناسور ہے،  جو ہندوستان کو تباہ و برباد کر دے گی۔ حزب  اختلاف کے لیڈرشرد یادو نے بھی بہت صاف طور پر کہا ہے کہ ملک کے حالات اچھے نہیں  ہیں  اور ہم اس پر خاموش نہیں  رہ سکتے ہیں۔  انھوں  نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عدم رواداری کے خلاف مذّمتی قرارداد پاس کرے۔

 ایسے حالات میں  ملک کے آئین ساز ڈاکٹر امبیڈکر کی 125 ویں  سالگرہ تقریب کے تعلق سے برسر اقتدار کے لوگ جس طرح آئین کے اصول و ضابطہ کی باتیں  کر رہے ہیں ،  وہ بڑا مضحکہ خیز لگ رہا ہے۔

   پارلیامنٹ کے اندر حزب مخالف کی لیڈر سونیا گاندھی نے بھی  حکومت  پر زبردست حملہ کیا اور انھیں آئینہ دکھاتے ہوئے  شرم دلایا اور کہا کہ’ آئین کو نہیں  ماننے والے ہی اس کا پرچم بلند کر رہے ہیں۔  گزشتہ چند ماہ میں  جو کچھ دیکھا گیا ہے وہ پوری طرح ان قدروں  کے خلاف ہے،  جنھیں  آئین میں  یقینی بنایا گیا ہے ‘۔

ہمارے وزیراعظم نریندر مودی ایک طرف تو وہ اپنے ملک میں  مسلسل آئین اور جمہوری اقدار کی پامالی پر خاموشی اختیار کئے رہتے ہیں ،  دوسری طرف جب وہ بیرون ملک  جاتے ہیں  اور ان سے ملک میں  بڑھتی فرقہ پرستی، مذہبی جنون، بد امنی اور منافرت کے سلسلے میں  سوالات  پوچھے جاتے ہیں،  تو کہتے ہیں  کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے،  جو اپنے آئین کے تحت چلتا ہے اور عام سے عام شہریوں  کے نظریہ کی حفاضت کے لئے ہم پابند عہد ہیں۔  لیکن اپنے ملک میں  پہنچتے ہی وہ ان تمام باتوں  کو فراموش کر جاتے ہیں  کہ ان کی پارٹی کے لوگ کس طرح دوسرے مذاہب کے ماننے والوں  کے خلاف کس طرح آگ اُگل رہے ہیں۔  بات بات پر ان کی حُب الوطنی پر سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں۔  سیکولر نظریات کے حامی کلبرگی، پنسارے،  دابھولکر کو تڑپا تڑپا کر ہلاک کیا جا رہا ہے۔ ایسے سنگین اور ناگفتہ بہ حالات کی مذّمت کرنے والے گریش کرناڈ اور عامر خان  جیسے بھارت کی شان بڑھانے والوں  کو جان سے مار نے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ان کے مُنھ پر تھوکنے،  کالک پوتنے،  جوتا مارنے اور ہلاک کئے جانے کی ترغیب دی جاتی ہے اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ وہ لوگ کر رہے ہیں  جو پارلیامنٹ میں  داخل ہوتے ہی ملک کے جمہوری اور آئینی اصولوں  کے پابند رہنے کا عہد کرتے ہیں  اور قسم کھاتے ہیں۔  دستور ہند کے ایک بابiv (اے) کے شق 4 میں  بہت صاف طور پر لکھا ہے کہ ’’ ہندوستان کے سبھی لوگوں  میں  ہم آہنگی اور عام بھائی چارگی کے جزبے کو تقویت بخشے، جو مذہب،  زبان اور خطہ یا طبقہ پر تمام اختلاف سے پرے ہو ‘‘۔ لیکن ہو رہا ہے ٹھیک اس کے برعکس۔ آئین کے دستور  10میں  یہ بھی بہت واضح ہے کہ ’’ آزادی کے لئے ہمارے قومی جد و جہد کو متحرک کرنے والے اعلیٰ قدر اصولوں  کو دل میں  بسائے رکھے اور ان کی پیروی کرے‘‘۔ اور ہو یہ رہا ہے کہ ملک کے مجاہدین آزادی کے ان کے مذہب کی بنیاد پران کی جانثاری کا مزاق اڑایا جا رہا ہے۔ ان کی حب الوطنی کی تاریخ کو مسخ کرنے کی منصوبہ بند کوششیں  ہو رہی ہیں۔  تازہ مثال  نامور مجاہد آزادی اور اپنے ملک کی خاطر  انگریزوں  کے ہاتھوں  شہید ہونے والے ٹیپو سلطان کی ہے،  جن کے سلسلے میں  تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے انھیں  غدار وطن تک کہا جا رہا ہے۔ ان کی صدی تقریبات ان کے شایان شان منانے کی بجائے بزور طاقت اسے روکنے کی منظم کوششیں  ہوئیں۔  ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ایسی ہی صورت حال کے پیش نظر ایک بار کہا تھا کہ ’’ ہم کسی مذہب سے تعلق نہیں  رکھتے،  ہم سب مادر وطن کے فرزند ہیں۔  ہم عملاَ اور قولاَ تنگ دلی اور مذہبی جنون کو پھلتا پھولتا نہیں  دیکھ سکتے ہیں  ‘‘۔

  ملک کے ویسے لوگ جو ملک کی مسموم فضا سے گھبرا کر اور ناقابل برداشت حالات سے پریشان ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ملک میں  عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے،  انھیں  ہمارے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ڈاکٹر امبیڈکر کا حوالہ دیتے ہوئے بتا رہے ہیں  کہ ڈاکٹر امبیڈکر کے ساتھ بھی اسی ملک میں  بہت کچھ ہوا،  انھوں  نے عدم رواداری  کا سامنا کیا،  لیکن اپنے ملک کو نہیں   چھوڑ ا۔ وزیر اعظم کہتے ہیں  کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے بھی اپنے ملک میں  زندگی بھر جھیلا،  انھیں  نظر انداز کیا جاتا رہا،  لیکن ان کے اندر کبھی بدلے کے جذبات نہیں  ابھرے،  سارے زہر خود پی لئے اور ہمارے لئے امرت چھوڑ دیا۔ ان باتوں  کے ساتھ ساتھ ہمارے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم یہ بھی بتاتے کہ انھیں  دکھ کس نے دیا اور ان کا استحصال کن لوگوں  نے کیا تھا اور ان دئے گئے دکھ اور استحصال کے نتیجہ میں  وہ اپنا مذہب بھی بدل نے پر مجبور ہوئے تھے۔ ایسا کیوں  ہوا  تھا۔؟ ڈاکٹر امبیڈکر کی  یہ بات یہ لوگ کیوں  فراموش کر دیتے ہیں  کہ انھوں  نے کہا تھا کہ میں  ہندو مذہب میں  پیدا ہوا ضرور،  لیکن مرونگانہیں۔  امبیدکر کے ساتھ برا اور نازیبا سلوک کرنے والے کون لوگ تھے۔ ؟آج یہ سوال پورے شد ومد سے اٹھنا چاہئے۔ یہ وہی لوگ تھے،  جس نظرئے کے حامی آج مُنھ میں  آگ اور ہاتھوں  میں  خنجر لئے جگہ جگہ انسانی اقدار اور آئینی تقدس کا پامال کرتے پھر رہے ہیں۔  لکھنے،  بولنے،  کھانے،  پینے پر پابندیاں  عائد کر رہے ہیں۔  مذہبی آزادی،  رواداری یکجہتی،  مساوات،  اخوت اور سا   لمیت کو تار تار کر رہے ہیں۔  دراصل ہوا یہ کہ عہد حاضر میں  ملک کی باگ ڈور اور اقتدارایسے لوگوں  کے ہاتھوں  میں  آ گئی ہے، جنھوں  نے  ناقص اور نفرت انگیز نظریہ سے اُپر اٹھ کر ملک کی سا  لمیت اور ترقی کے لئے کبھی فکر کی ہی نہیں۔  بس اپنے نظریہ کو فرغ دینے میں  مصروف بہ عمل رہے۔ ایسے ہی نظریہ کے حامیوں  کے سلسلے میں  ہمارے پہلے صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجند پرساد نے کہا تھا کہ ’’  اگر قانون سازی کے لئے منتخب کئے جانے والے عوامی نمائندے صاحب کردار اور دیانتدار ہیں  توایک ناقص آئین کے باوجود بہتر فیصلے لے سکتے ہیں ،  اگر ایسا نہ ہو تو آئین ملک کی کوئی مدد نہیں  کر سکتا ‘‘۔ اور اس وقت ہمارے سامنے یہی منظر نامہ ہے۔

  ہمارے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کوآئین میں  1976  ء میں  42 ویں  ترمیم کے ذریعہ ’’سیکولر‘‘ اور ’’سوشلسٹ‘‘ جیسے الفاظ کا شامل کیا جانا کافی بوجھ محسوس ہو رہا ہے اور کہہ رہے ہیں  کہ ان کا سیاست میں  غلط استعمال ہو رہا ہے کیونکہ اس سے سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں  مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے اس بیان سے حزب مخالف نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ دراصل راج ناتھ سنگھ لفظ ’’سیکولر‘‘  کے معنیٰ سے زیادہ اس لفظ کے جو جزبات اور روح ہیں ،  ان سے بہت پریشان ہیں۔  اگر ’’ سیکولر‘‘ اور’’ سوشلسٹ‘‘جیسے الفاظ بے معنیٰ،  بے مطلب اور بے وقعت ہوتے،  تو اوّل تو انھیں  1976 میں  آئین میں  شامل نہیں  کیا جاتا،  اور اگرشامل ہو ہی گیا تھا تو پھر 1977 میں  جنتا پارٹی کی جو مرارجی دیسائی کی سربراہی میں  حکومت برسراقتدار آئی تھی،  جس میں  اٹل بہاری باجپئی اور لال کرشن اڈوانی  جیسے دور اندیش اور ان ہی کے نظریہ کے حامی رہنمأ بھی شامل تھے۔ ان لوگوں  نے ان دونوں  الفاظ کو آئین سے کیوں  نہیں  حذف کرا دیا تھا۔ در حقیقت ہمارے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی پریشانی یہ ہے کہ ان کی نظروں  کے سامنے کھلم کھلا لفظ ’’سیکولر‘‘ کو معنوی اور جزباتی دونوں  لحاظ سے لہو لہان کیا جا رہا ہے،  لیکن یہ کچھ کر نہیں  پا رہے ہیں۔  آر ایس ایس کی سخت گیری سے خوف زدہ اور مجبور ہیں۔  کریں  تو کیا کریں۔  ملک اور بیرون ملک میں  بدنامی تو انھیں  کی ہو رہی ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ ملک کی سا  لمیت اس کی پرانی گنگا جمنی تہذیب کی محافظت کے لئے، ملک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے، ملک کے اندر بہت تیزی سے بڑھ رہی فرقہ واریت،  مذہبی جنون اور فسطائیت  پربہت سختی سے قد غن لگائے جائیں  اور جن وعدوں  اور دٰعوں  کے ساتھ یہ حکومت برسر اقتدار آئی ہے ،  ان پر مثبت سوچ اور فکر کے ساتھ عمل پیرا ہوں۔  اس لئے کہ تاریخ بڑی بے رحم ہے،  وہ کسی کو معاف نہیں  کرتی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close