سیاستہندوستان

کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز

ملک میں جب اور جہاں الیکشن کی بات ہورہی ہے تو ذکر اترپردیش اور پنجاب کا ہورہا ہے۔ اترپردیش میں بی جے پی اور بی ایس پی دو پارٹیوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی الگ الگ لڑیںگی تو مسلمان ووٹ تین جگہ تقسیم ہوجائیںگے اور نمبر ہمارا آجائے گا۔ ایک امید یہ بھی تھی کہ ملائم سنگھ کو سائیکل کا نشان مل جائے گا یا سائیکل کسی کو نہیںملے گی تو سماج وادی ووٹ دو جگہ تقسیم ہوجائے گا۔ غرض کہ دونوں پارٹیوں کی ساری عمارت اس پر موقوف تھی کہ پرائی اینٹیں ملیںگی تو ہمارا گھر بھی بن جائے گا۔ اب کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے عقل مندی کا فیصلہ کیا ہے۔ خدا کرے نتیجہ بھی ایسا ہو جو صوبہ اور ملک کے ہر طبقہ کے لیے اچھا ہو۔

وزیر اعظم نریندر مودی الیکشن کے وقت وزیر اعظم سے زیادہ بی جے پی کے لیڈر بن جاتے ہیں۔ اس زمانہ میں انہیں ملک کی نہیں پارٹی کی فکر رہتی ہے اور وہ جیتنے کے لیے نہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کا مقام کیا ہے؟ نہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف اور صرف وزیر اعظم ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان وہ ہوتا ہے جو دہلی میں ہورہا ہے کہ دہلی کے وزیر داعلیٰ کیجریوال نے سیکڑوں بار کہا ہے کہ وزیر اعظم مجھے کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ وہ اگر میرے راستہ میں دیوار نہ کھڑی کریںتو میں دہلی کو دنیا کا سب سے خوبصورت اور نیک نام شہر بنادوں۔ یہ تو ہم نہیں جانتے کہ کیا کیا رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں لیکن ہم جو ۵ سو کلومیٹر دور بیٹھے ہیں وہ بھی اخبارات اور ٹی وی کے ذریعہ برابر پڑھ اور سن رہے ہیں کہ دہلی کے اسمبلی کے ممبروں کو ہر دن کسی نہ کسی معاملہ میں پھنسایا جاتا ہے اور شاید دہلی کی پولیس سے کہہ دیا ہے کہ دہلی کو نہ دیکھو جو کچھ ہورہا ہے ہونے دو بس تم سب کجریوال، سسودیا اور دوسرے ممبروںکو دیکھو کہ وہ کیا کررہے ہیں؟ اب تک ان ممبروں کو الیکشن کمیشن کے دربار میں بھی پیش ہونا پڑا ہے اور تھانوں اور عدالتوں میں بھی۔ یقین ہے کہ ملک کی باقی اسمبلیوں کے تمام ہزاروںممبران میں سے اتنے ممبروں کو اتنا پریشان نہیںکیا گیا ہوگا جتنا دہلی کے ممبروں کو کیا گیا۔

یقین ہے کہ نریندر بھائی مودی نے بھی 1952ء سے نہیں تو 1967سے ضرور ملک کے الیکشن دیکھے ہوںگے اور انھوں نے بھی ہماری طرح نہ دیکھا ہوگا کہ کسی بڑے سے بڑے الیکشن میں صرف ووٹ ڈلوانے  اور ووٹ ڈالنے دوسرے شہروں سے لوگ آئے ہوں۔ ملک میں 1967ء اہم الیکشن تھا اس لیے کہ اندراگاندھی نے کانگریس سے بغاوت کرکے نیلم سنجیواریڈی کو صدر جمہوریہ بن جانے کے بجائے وی وی گری کو بنانے کا اعلان کردیا تھا اور کانگریس دو حصوں میںبٹ گئی تھی۔ اس سے پہلے ایک ضمنی الیکشن پارلیمنٹ کی تین سیٹوں کا 1963میں ہوا تھا۔ وہ پنڈت نہرو کی زندگی کا آخری الیکشن تھا جس میں آچاریہ کرپلانی ڈاکٹر رام منور لوہیا اور ہنومانی کے مقابلہ میں حافظ محمد ابراہیم، ڈاکٹر کیسکر اور ایک وزیر کو پنڈت جی نے اتارا تھا۔

اس الیکشن میں ضرور ایسا ہوا تھا کہ سنبھل میں بابو ترلوکی سنگھ، ڈاکٹر فریدی ، ڈاکٹر حلیم ،ایم شکیل جیسے درجنوں کارکنوں کے ساتھ ہم بھی گئے تھے اور وہاں دیکھا تھا کہ شدید گرمی میں پوری دنیا کے رپورٹرلڑکے اور لڑکیاں کوریج کرنے آئے تھے اور جس کا جو عزیز تھا اسے باہر سے ووٹ ڈالنے کے لیے بلایا گیا تھا۔اس کے برسوں کے بعد بہار کے الیکشن میں دیکھا کہ ممبئی سے پٹنہ، اندور سے پٹنہ اور پنجاب سے پٹنہ آنے والی ٹرینوں میں زیادہ تر آنے والے وہ تھے جو الیکشن لڑانے اور ووٹ دینے آرہے تھے اور این ڈی ٹی وی انڈیا کی پوری ٹیم ٹرینوں میں گھوم گھوم کر معلوم کررہی تھی کہ آپ کہاں جارہے ہیں اور کیوں جارہے ہیں؟ اور اکثر کا جواب یہ تھا کہ الیکشن کی وجہ سے جارہے ہیں یا ووٹ دینے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ یاد نہیں کہ کہیں ایسا جوش دیکھا ہو۔

لیکن یہ خبر تو شہر یا صوبہ کو نہیںملک کو ہلادینے والی ہے کہ پنجاب میں امریکہ، کناڈا، یورپ، افریقہ اور عرب امارات یا سعودی عرب سے پنجابی لاکھوں روپے کا نقصان کرکے اور لاکھوں روپے خرچ کرکے عام آدمی پارٹی کو جتانے کے لیے آرہے ہیں اور ان میں وہ جوش ہے جو ان میں بھی نہیں ہے جو دہلی سے آئے ہیں یا وہیں رہتے ہیں۔ پرکاش سنگھ با دل ہوں یا کیپٹن امریندر سنگھ یاوہ نوجیوت سنگھ سدھو جو پورا ایک مہینہ کجریوال سے یہ مطالبہ کرتے رہے کہ مجھے وزیر اعلیٰ بنانے کا وعدہ کرو تو میںتمہاری پارٹی میں آجائوں۔ اور اروند کجریوال کے انکار کے بعد انھوں نے اپنی پارٹی بھی بنا کر دبائو ڈالا لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ کجریوال کیا ہے؟ اور وہ جب کانگریس میں چلے گئے تو اب وہ دیکھ رہے ہوںگے کہ پوری دنیا میں بسے ہوئے پنجابی اروند کجریوال کو جتانے آرہے ہیں۔ ہار جیت تو اپنی جگہ لیکن دنیا بھر سے آنے والوں نے ثابت کردیا کہ وہ جو دنیا کے دوسرے ملکوں میں پنجاب کا جھنڈا لہرا رہے ہیںوہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کا پرچم لہرانے آئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اکالی دل، بی جے پی اور کانگریس سب ہتھیار ڈال دیتے لیکن جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا۔

کجریوال کوئی نہرو نہیںہیں لیکن انھوں نے دنیا سے منوالیا ہے کہ نریندر مودی اپنی ساری صلاحیتوں اور ساری فوج لے کر کجریوال پر حملہ آور ہوئے اور بار بار ہوئے لیکن کچھ نہ بگاڑ پائے کیوں کہ وہ وزیر اعلیٰ ہیں، مگر محکمہ ایک نہیں۔ جبکہ رواج یہ ہے کہ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے پاس ۲۵ محکمے ہوتے ہیں۔ اتر پردیش میں سابق وزیر اعلیٰ کے ساتھ بھی دس کالے کمانڈو ہیں اور کجریوال کی گاڑی میں نہ لال بتی اور نہ مسلح گارڈ۔ انھوں نے پنجاب میں اعلان کردیا ہے کہ اگر حکومت بنائی تو سب کی سیکورٹی ہٹائی جائے گی۔ پولیس صوبہ اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ہوتی ہے۔ وزیروں اور لیڈروں کی غلام نہیںہوتی۔ ان کی یہی باتیں ہیں جنھوں نے پردیس میںرہنے والوں کو بھی اپنا عاشق بنالیا ہے اور بڑے عہدے والے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ مرد اور عورتیں سب نے دنیا کے گوشہ گوشہ سے آکر سب کے ہاتھوں کے طوطے اڑادئے ہیں۔ پنجاب بڑا صوبہ نہیں ہے لیکن وہاں اگر کجریوال جیت گئے تو کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ وزیر اعظم کا کیا حال ہوگا؟ اور اترپردیش بی جے پی کی آخری امید ہے۔ اترپردیش میںاکھلیش کو سائیکل ملنے سے ہی بہت بڑا جھٹکا لگا تھا اب پرینکا گاندھی اور ڈمپل کی سیاسی سوجھ بوجھ نے دونوں کو ایک ڈور میں باندھ دیا ہے۔ اب راہل گاندھی جان کی بازی اس لیے لگائیںگے کہ 2019ء میں اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا ہے۔ اور اکھلیش کانگریس کی اس لیے مدد کریںگے کہ اب اکیلے دم پر انہیں لڑنا ہے اور یہ الزام نہیںسننا چاہیںگے کہ تجربہ کار باپ ہوتے تو بات ہی کچھ اور ہوتی۔ نریندر مودی نے 2012ء کا الیکشن لڑا تھا تو کالے دھن،اچھے دن، مہنگائی ختم اور داغی ممبروں کو جیل پر لڑا تھا اور پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ ایک بات بھی نہیںہوئی۔ اور داغی اتنے پیارے ہوگئے کہ قومی صدر داغی امت شاہ صوبہ کے صدر داغی موریہ اور سب سے زیادہ داغی امیدوار بی جے پی کے۔ اب 2017ء کا الیکشن پھر کالے دھن، جعلی نوٹ، بھرشٹاچار اور دہشت گردوں کے پاس پیسہ۔ وزارت خزانہ کا بیان ہے کہ ایک نوٹ بھی جعلی نہیں آیا، کالا دھن کہاں گیا؟ ا مت شاہ نے کہا تھا کہ کالے دھن والوں سے جو جرمانہ ملے گا وہ غریبوں میںبٹے گا۔ اگر کسی کو دس روپے بھی ملے ہوں تو ہاتھ اٹھادے اور کالے دھن یا بھرشٹاچار میںبھی بی جے پی والے گرفتار ہوئے۔ ایسے میں مودی جی کیا کہیںگے اور کس منہ سے ووٹ مانگیںگے؟ اب صرف امت شاہ نے جو دو مسلمان گھوڑوں پر د ائو لگایا ہے اس کا سہارا ہے۔ اپنی حکومت اپنا اقتدار، اپنا ملک ان نعروں میں مٹھاس تو ہے لیکن اس کا نتیجہ موت ہے اور ساری عمر جعفر و صادق کے نام سے اپنے کو یاد کرانا ہے   ؎

راہ میںکانٹے پائوں میں چھالے آنکھ تلے اندھیارا ہے

ڈوبتے دل کی آس نہ توڑو ہار کے تم کو پکارا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close