سیاستہندوستان

سو بار سنوارا ہے ہم نے اس ملک کے گیسوئے برہم کو

26 جنوری کی تاریخ جب آتی ہے تو ہمارے ملک میں خوشیوں کی لہریں دوڑ جاتی ہیں اور پورا ملک سراپا مسرت وشادمانی میں ڈوب جاتا ہے، ہر طرف رنگ ونور کا سماں ہوتا ہے، اور لبوں پر خوشی کے ترانے، ملک کی عظمت کے گیت اور دلوں میںمحبت و احترام کے جذبات گردش کرنے لگتے ہیں۔ یقینا اس ملک کے ہر شہری کو اس دن بہت فرحت محسوس ہوتی ہے۔ کیوں کہ اسی تاریخ کو ہماراملک ایک خود مختار مملکت کی حیثیت حاصل کیا،اور غلامی کے الم انگیز سلسلہ کا خاتمہ بھی ہوا اور خود یہاں کے باشندے اور شہری اپنی مملکت اور سرزمین پر آزادانہ زندگی گزارنے کے حق دار بنیں۔

  26 جنوری کو بڑے اہتما م کے ساتھ منایا جاتا ہے، ملک کی شان وشوکت کا نظارہ کرانے اورقوت و طاقت کا بھر پور مشاہدہ کرانے غیر ملکی وزراء اور مہمانوںکو بطو خاص کر مدعو کیا جاتا ہے، اور ہندوستان کی شان وشوکت اور خود مختاری کا زبردست مظاہر ہ ہوتا ہے۔نوے سال کی طویل مسافت طے کرتے ہوئے کاروان ِ آزادی15 اگست 1947ءکو 14۔15 اگست کی درمیانی رات کے بارہ بجے اپنی منزل پر پہنچ گیا، جب پورا ہندوستان محو ِخواب تھا تو ہندوستان کا مقد رجاگ گیا اور ہندوستانی وقت کے مطابق ٹھیک بارہ بجے آل انڈیا ریڈیو سے ہندوستان کی آزادی کا اعلان ہوگیا۔خوشی ومسرت کے شادیانے بجائے گئے اور ظلم وستم کے ایک نہایت تاریک اور سیاہ دور کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد مسئلہ درپیش تھا کہ ہندوستان کے دستور کو مرتب کیا جائے، ایک ایسا قانون تیار کیا جائے جس میں تمام شہریوں کو یکساں حق و انصاف ملے، اور ان کو پوری آزادی اور اعتماد کے ساتھ جینے کاحق فراہم ہو،وہ اپنے دستور و منشور کے مطابق قید وبند کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے نہ رہیں بلکہ انھیںہرطرح کی راحت اور اطمینان بخش اصول اور ضابطوں کے تحت رہنے کا موقع ملے۔ چناں چہ اس کے لئے ہندوستان کے ماہر قانون ڈاکٹر امبیڈ کر کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، اس کمیٹی نے پوری جستجو اور تحقیق، نیز عالم کے دیگر ممالک کے قوانین کو پیش ِ نظر رکھ کر ہندوستانی دستور اور قانون کومرتب کیا۔ جس میں ہندستان میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کے جذبات اور ان کے مذہبی احساسات کوبھی ملحوظ رکھا گیا اور تدوین قانون کا مرحلہ مکمل ہوا، چناں چہ 26 نومبر 1949ء کو دستور منظور کیا گیا اور 26 جنوری 1950 ء  سے اس دستور کا نفاذ عمل میں آیا، چناں چہ اسی دن کو ہم ہندوستانی ’’یوم جمہوریہ ‘‘ کے نام سے مناتے ہیں۔اب ہندوستان مکمل آزاد اور جمہوری ملک قرار پایا۔ ایسا گلشن تشکیل پایا جس کی زینت ہی رنگا رنگی پھولوں سے ہیں کہ جن کی خوشبوؤں سے یہ سرزمین ہند معطر اور فضا مشکبار ہے، یہاں سب کو جینے اور اپنے حقو ق و آئین کے ساتھ پروان چڑھنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔

  آج جب کہ وطن عزیز میں یوم جمہوریہ منایا جاتا ہے، اور خوشی ومسرت کے ترانے گنگنائے جاتے ہیں، ایسے میں ان لوگوں کو یاد کرنا ضروری ہے جنہوں نے اپنے خون ِ جگر سے اس گلشن کی آبیاری کی، اور تن، من کی بازی لگاکر آزادی کے خواب کو شرمندہ ٔ تعبیر کیا، اور آج ہمیں یہ مبارک اور خوشی کا دن دیکھنے کا موقع میسر کیا۔ ہندوستان کو انگریزوں کے ناپاک قدموں سے آزاد کرنے اور ان کی پر فریب سیاست سے چھٹکارہ دلانے کے لئے جن سچے اور بے لوث جاں بازوں نے میدان میں مقابلہ کیا،ان کے قربانیوں کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔اگر ہندوستان کو آزاد ہی نہ کرایا گیا ہوتا اور اس کے قربانیاں نہ دی گئیں ہوتی تو آج یہ جشن ِ جمہوریت منانے کا موقع بھی نصیب نہ ہوتا،اور ایسی کھلی فضاؤں میں جینا بھی نصیب نہ ہوتا۔ان محسنوں کے ساتھ یہ واقعی یہ کیسا ظلم ہے کہ سب کچھ لٹایا اور نچھاور کردیا وطن کے لئے اور آج کا نام ونشان تک کو باقی نہیں رکھا گیا۔ تاریخ کے صفحات سے بڑی بے دردی کے ساتھ ان کی قربانیوں اور کارناموں کو حرف ِ غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔

  انگریزوں کے خلاف آواز لگانے والے، اور آزادی کے نعرے بلند کرنے والے سب سے پہلے علماء اور مسلمان تھے، جو کسی قیمت پر ملک اور ملت اور یہاں کے بسنے والوں کو غلامی کی طوق میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ چھوٹی، بڑی تحریکوں کے ذریعہ، زبان وقلم اور فکر وتڑپ کے ساتھ تحریک ِا ٓزادی کوآگے بڑھانے والے مسلم عوا م اور علماء ہی تھے۔ بقول مؤرخ مولانا اسیر ادروی صاحب کہ :ہمارا آباء واجداد نے ہندوستان کی عظمت اور آزادی کو پامال کرنے والی اس سفید فام قوم کو اپنی رگوں کے خون کے آخری قطرے تک برداشت نہیں کیا۔ ہندوستان میں بسنے والی ہندوستانی قوم جو مختلف مذاہب اور مکتبہ فکر کی تہذیب و تمدن کے مختلف ومتضاد عناصر کو لے کر وجود میں آئی تھی اس کی عزت و حرمت بچانے کے لئے پہلے پہل ہم نے خود اپنی ذات کو قربانی کے لئے پیش کیا،1857ء؁کے بعد نصف صدی تک انگریز سامراج کو شکست دینے کے لئے ہم تن ِ تنہا جنگ آزادی کے میدان میں زور آزمائی کرتے رہے اور ہم نے اس راہ میں اتنا خون بہایا کہ پوری جنگ آزادی میں دوسروں نے اتنا پسینہ بھی نہیں بہایاہوگا۔( تحریک ِ آزادی اور مسلمان :23)اور بطور خاص علمائے دیوبند نے اس جنگ میں سب سے نمایاں کردار ادا کیا۔ تاریخ دیوبند کے مؤرخ لکھتے ہیں کہ:علمائے دیوبند ہمیشہ الوالعزمی اور توکل علی اللہ کے ساتھ نہ صرف ہندوستان کی تحریک آزادی کی جد وجہد کرنے والوں کی صف اول میں رہے، بلکہ اکثر اوقات انھوں نے تحریک آزادی کی قیادت کی ہے اور زیادہ غور سے دیکھا جائے اور انصاف سے کام لیا جائے تو اول اول یہ خیال انھوں نے ہی دیا، آزادی کے جذبے میں جو حرارت، طاقت اور عمومیت پیدا ہوئی وہ انھیں کی رہیں منت تھی، ان میں متعدد حضرات نے انگریزی حکومت کے خلاف علم جہاد بلند کیا، انگریزی فوجوں سے دوبدو جنگ کی، متعدد افراد ایسے تھے جنھوں نے اپنی زندگی کا خاصہ حصہ جیلوں میں گزارا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی تحریک آزادی کی تاریخ علما اور دینی شخصیتوں کی تاریخ اس ساتھ اس طرح گھل مل گئی ہے کہ ایک کو دوسرے سے جدا کرنا بہت مشکل ہے۔ ۔۔۔دار العلوم سے آزادی کے مجاہدوں اور قوم کے خدمت گزاروں کی ایک ایسی جماعت پیدا ہوئی جس سے ملت کی پیشانی کو تابندگی ملی، انھوں نے ملک کو محکومی اور غلامی کی زندگی سے نکال کر دنیا کی آزاد قوموں میں حصہ دلانے کے لئے عظیم قربانیاں دیں۔( تاریخ دارالعلوم دیوبند:1/51۰)

  ان گنت علماء اور مسلم عوام نے ہندوستان کی آزادی میں حصہ لیا۔یہ صرف ایک ہلکا تذکرہ تھاورنہ پوری تاریخ ایسے ہی جیالوں اور ملک و قوم کے بے لوث خادموں سے بھری پڑی ہے۔ کن کن کے ناموں کو شمار کیا جائے اور کن کن کو چھوڑا جائے ؟؟

ہندوستان ہمارا وطن ہے، اس وطن کے لئے ہمارے اسلاف و اجداد نے قربانیاں دیں، جان کو کھپایا،خون کو بہایا، اس کی حفاظت و عزت کے لئے اپنی زندگی کو نچھاور کیا۔ آج بھی ہندوستان کے مسلمان اتنا ہی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں اور دل وجان لٹاتے ہیں۔ وطن کی حفاظت کرنا اور وطن سے محبت کرنا تو مسلمانوں کی سرشت میں ہے۔

   دل سے نکلے گی نہ مرکر بھی وطن کی الفت    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

  26 جنوری کی تاریخ کو جب ہمارے ملک کا آئین تیار ہوا اور یہاں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی طرح مسلمانوں کے بھی حقو ق محفوظ کئے گئے، اور ہماری ہی قربانیوں پر کامیابی کے خواب پورے ہوئے، تو ایسے میں مسلمانوں کو فراموش کردینا یاا ن کے ساتھ حق تلفی والا معاملہ کرنا بلاشبہ وطن کے دستور اور آئین کے خلاف ورزی کرنا ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ آج سب سے زیادہ بے مروتی کا سلوک مسلمانوں ہی سے کیا جارہا ہے،اور جی بھر کر دشمنی نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کی ملک دوستی اور وطن سے محبت کو شکوک وشبہات کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے، مسلم نوجوانوں پر دہشت گردی کا الزام لگاکر ان کی زندگیوں کو تاراج کرنے کی سازش کی جارہی ہے، معمولی معمولی باتوں اور فرضی ومن گھڑت بہانوں کے سہارے مسلم دشمنی اور نفرت اور تعصبیت کو عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، نہایت تنگ نظری، بدسلوکی کا معاملہ کیا جارہا ہے، میڈیا اور چینلوںکے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف ذہن ودماغ کو اکسایا جارہا ہے، خالص شر عی مسائل اورا حکامات کو لے کر مسلمانوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں،شریعت میں ترمیم اور تعلیمات ِاسلامی میں تبدیلی کے شوشے پیدا کئے جارہے ہیں،مسلمانوں کے داخلی مسائل پر، مذہبی شعائر پر وقفہ وقفہ سے انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں، دریدہ دہن، اور تعصب پسند و فرقہ پرست مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں، اور من مانی باتیں بے دریغ اور بے خوف وخطر کہہ کر الفت ومحبت کے ماحول کو اور بھائی چارگی کی فضاء کو مکدر کرنے پر ہیں۔یومِ جمہوریہ کا تاریخی دن ہر ہندوستانی کو بالعموم اور ہر حکومت کو بالخصوص ایک دوسرے کے حقوق کی قدر دانی کرنے اور ملک کے دستور و قوانین کا احترام کرنے کا سبق دیتا ہے۔ اور ملک کو اس مقام تک لانے والے شہیدوں کی کی قربانیوں اور آزادی دلاکر خود مختاری دلوانے والوں کی وفاؤں کویاد رکھنے کا پیغام دیتا ہے۔ اور بے جا کسی کے بھی دستوری حق میں مداخلت سے باز رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔اگر اس حقیقت کو ہندوستانیوں نے سمجھا تو وہ واقعی ملک کے دستور کا احترام کرنے والے ہوں گے ورنہ ملک کی توہین کرنے اور آئین  ودستور کی مخالفت کرنے والے کہلائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close