سیاستہندوستان

جمہوریت کی تکمیل کے لیے مسلم ریزرویشن لازم ہے!  

 جمعرات کو ہم نے قانون کے نفاذ کے67 سال پورے کر لئے۔  ہم دنیا کے ان ممالک میں  شامل ہیں  جہاں  جمہوریت نہ صرف قائم رہی بلکہ مضبوط بھی ہوئی۔ ہمارے یہاں  دوسرے ممالک کی طرح نہ جمہوریت کبھی کلی طور پر تانا شاہوں  اور آمروں  کی غلام ہوئی اور نہ کبھی اسے مکمل طور پر ختم کیا گیا۔ بلکہ یہ ہمیشہ مضبوطی ہی کی طرف رواں  رہی۔  جمہوریت وہ طرز حکمرانی ہے کہ جس میں  عوام اپنے منتخب کردہ نمائندوں  کے ذریعہ بذات خود حکمراں  ہو تے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان میں  ایمر جنسی بھی جن لوگوں  نے لگائی تھی, وہ بھی دراصل عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہی تھے، ایمرجنسی کیوں  لگائی گئی تھی یہ بہت اہم سوال ہے اور اس کے جواب میں  ہماری جمہوریت کی بہت سی باتیں  پوشیدہ ہیں۔ ایمرجنسی کے نفاذ کی جو کچھ بھی وجوہات رہی ہوں  گی ان میں  سب سے پہلی اور اہم وجہ یہ ہے کہ الہٰ آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم اندرا گاندھی کو جب انتخابات کے دوران سرکاری مشنری کے استعمال کا مجرم قرار دیتے ہوئے ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی لوک سبھا رکنیت ختم کردی اور انہیں  چھ سال تک الیکشن نہ لڑ نے کی سزا سنائی تو اور جب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلہ کو برقرار رکھا تو مخالفین کے احتجاج کی وجہ سے اندراگاندھی نے ’ اندرونی خلفشار کی وجہ سے ملک کی سلامتی کو خطرے ‘ کا بہانہ بنا کر ایمر جنسی نافذ کر دی۔ دراصل اس ایمر جنسی کی جڑیں  انتخابات میں  ہو نے والی دھاندلی میں  پیوست تھیں۔

انتخاب میں  دھاندلی ظاہر اور ثابت ہو جانے کے بعد ایک منتخب حکومت کے طاقت ور لیڈر نے محض اپنی وزارت بچانے کے لئے ایمر جنسی نافذ کردی تھی۔ جمہوریت میں  انتخابات بہت اہم ہیں  انتخابات کا آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہو نا جمہوریت کے لئے اشد ضروری ہے۔ اسی طرح عوام کو بغیر کسی زور زبردستی دباؤ یا ڈر و خوف کے اپنی پسند کے نمائندے منتخب کر نے اور اپنی مرضی کے مطابق رائے دہی کر نے کی آزادی ہونا بھی جمہوریت کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اسی طرح انتخابات میں  دھاندلیاں  جمہوریت کے لئے سم قاتل ہیں۔  انتخابی بوتھ پر قبضہ، ووٹنگ میں  خلل اندازی، لوگوں  کو ڈرا دھمکا کر ووٹ دینے سے باز رکھنا اور پیسہ یا عادت کی کوئی چیز ( جیسا کہ مشہور ہے ووٹ کی قیمت شراب کی ایک بوتل ہے) وغیرہ دے کر ووٹرس کو کسی مخصوص جانب ووٹ دینے پر اکسانا دھاندلی ہے۔ اس طرح کی دھاندلیاں  گو اب کم ہوگئی ہیں  لیکن پوری طرح ختم نہیں  کی جاسکیں۔

انتخابات میں  ہونے والی دھاندلیوں  کو روکنے کے لئے بہت سے اصلاحی اقدامات بھی کئے گئے اور جمہوریت مضبوط ہو ئی۔ اسی طرح منفی رائے دہی کے حق نے بھی جمہوریت کو مضبوط کیا ہے۔لیکن ہمارے جمہوری انتخابات میں  ایک اور بات ہے جسے عموماً دھاندلی نہیں  سمجھا جاتا لیکن یہ دھاندلی سے کم تو نہیں  بلکہ زیادہ خطر ناک اور اثر دار ہے اور وہ ہے عوام کو مذہب زبان اور قوم کی بنیادوں  پر تقسیم کرنا، ایک قوم کے ہمدرد بن کر دوسری قوم کو لعن طعن کرنا  وغیرہ اور ملک کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں  الیکشن کے زمانے میں  یہی کرتی ہیں۔ اور اس سے سب سے زیادہ ان لوگوں  کا نقصان ہوتا ہے جن کی تعداد ملک میں  کم ہے۔ان لوگوں  کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جمہوریت یعنی عوام کی حکومت میں  انہیں  ان کی تعداد کی مناسبت سے نمائندگی نہیں  مل پاتی۔

 یوں  تو جمہوریت اکثریت کی حکومت ہی کا نام ہے لیکن یہ ان ممالک کے لئے یا ان جمہوریتوں  کے لئے سم قاتل ہے جہاں  مختلف مذاہب زبان اور قومیتوں  کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہوں  یا جہاں  رہنے والے لوگ مذہب و زبان کے لحاظ سے اکثریت اور اقلیت کے تناسب میں  ہوں  اور یہ تناسب بھی بڑے فرق کے ساتھ ہو ایسے ممالک اور ایسی جمہوریتوں  کے لئے اکثریت کی حکمرانی والی بات دراصل جمہوریت کی اصل روح کے خلاف ہے یہ بات جمہوریت کو اکثریت کی غلام بنا دیتی ہے اور ایسی جمہوریت مکمل جمہوریت نہیں  ہو سکتی۔  ایسی جمہوریت میں  تو اقلیتوں  کو اکثریت کے رحم و کرم پر ہی رہنا پڑتا ہے اور ان کی آواز اکثریت کے شور و غل میں  دب کر رہ جاتی ہے اس نا انصافی کے تدارک کے لئے دستور میں  اقلیتوں  کے کچھ حقوق محفوظ کر کے انہیں  ان کے حقوق کی آئینی ضمانت دینا ضروری ہوتا ہے اور ایسی جمہوریت کو مکمل جمہوریت بنانے کے لئے وہاں  بسنے والی اقلیتوں  کو ان کی آبادی کے لحاظ سے ہر شعبہ میں  ریزرویشن دیا جانا چاہئے۔

وطن عزیز ہندوستان جنت نشان میں  جو جمہوریت ہے وہ دراصل یہی اکثریتی جمہوریت ہے جس میں  عوام کی حکومت میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں  کو ان کے تناسب سے نمائندگی نہیں  مل پاتی۔  آزادی کے بعد سے ملک میں  مسلمانوں  کو اکثریت کے سامنے ملک اور قوم دشمن بنا کر پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جو اب پوری طرح کامیاب ہو چکا ہے اور آج ملک ہندو و مسلم کے دو خانوں  میں  اوپر سے نیچے تک پوری طرح تقسیم ہو چکا ہے۔ اب حالات یہ ہو گئے ہیں  کہ فرقہ پرستی کی سیاست سے تو مسلمان ملک کی اکثریت کے سامنے مجرم بن کر سامنے آتے ہیں  لیکن اگر کوئی سیکولر ازم کی بات کرتا ہے تو یہ بھی زیادہ تر دراصل مسلمانوں  کو نشانہ بنانے کے لئے ہی ہوتی ہے اور اس سے بھی مسلمان ملک کی ’مشترکہ قومیت ‘میں  مزید الگ تھلگ ہوجاتے ہیں۔  اور انتخابات کے دوران یہی فرقہ واریت اور سیکولر ازم دونوں  مل کر مسلمانوں  کو حاشیہ پر پہنچا دیتے ہیں ۔

 اسی طرح انتخابات میں  ایک اوردھاندلی کی جاتی ہے جو کسی کو نظر نہیں  آتی اور اگر نظر آتی بھی ہے تو ثابت نہیں  ہوتی اور وہ ہے ووٹوں  کی تقسیم، ووٹوں  کی تقسیم کی وجہ سے جیتنے والے امیدوار عوام کی پسند کے امیدوار نہیں  کہلا سکتے لیکن جمہوریت انہیں  ہی عوام کا نمائندہ بنا تی ہے۔اس میں  بھی مسلمان ہی اکثر مار کھاجاتے ہیں ۔ مسلمان ملک کے کئی انتخابی حلقوں  میں  فیصلہ کن پوزیشن میں  ہیں لیکن پھر بھی وہ وہاں  اپنی نمائندگی قائم نہیں  کر پاتے اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں  کی جھوٹی ہمدردی میں  زیادہ تر سیاسی پارٹیاں  مسلم امیدواروں  کو میدان میں  اتار دیتی ہیں  اور ان میں  زیادہ پارٹیاں  مضبوط مسلم امیدوار کو ہرانے کے لئے ہی اپنے امیدوار میدان میں  اتارتی ہیں جس کی وجہ سے مسلم ووٹ بٹ جاتے ہیں  اوراقلیت میں  ہونے کے باوجود اکثریتی فرقہ کا امیدوار فاتح ہو جاتا ہے اور زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ وہ امیدوار کامیاب ہوتا ہے جس کی دشمنی اظہر من الشمس ہوتی ہے۔ ووٹوں  کی تقسیم کی یہ سیاست بھی دراصل انتخابی دھاندلی ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔ لیکن ابھی تک اس ضمن میں  کوئی خاص کام نہیں  کیا جا سکا۔اور اس کا سب سے اچھا اور مجرب علاج مسلم ریزرویشن ہے۔ اور اس پر حالیہ دنوں  میں  اس ضمن میں  مسلمانوں  کی بیداری اور مطالباتی مظاہروں  میں  اضافہ ہوا ہے لیکن حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی خاص اقدام کا اعلان نہیں  کیا گیا۔ اس سے پہلے کانگریس حکومت نے مسلمانوں  کو ریزرویشن دینے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بھی صرف تعلیم اور ملازمت میں  تھا انتخابی عمل میں  نہیں  تھا اور جو تھا وہ بھی دراصل دیگر پچھڑے طبقات کے حسہ میں  سے ہی دیا گیا تھا، لگتا ہے اس کا مقصد بھی ان طبقات کو مالمانوں  سے متنفر کرنا اور ان کے مقابل کھڑے کرنا اورمسلمانوں  کو سماجی طور پر مزید الگ تھلگ کرنا تھا۔

ہمارے ملک کی جمہوریت اس وقت تک مکمل نہیں  ہو سکتی جب تک کہ اس میں  عوام کے ہر گروہ کو مناسب نمائندگی نہیں  مل جاتی اور ہمارے ملک کا حال یہ ہے کہ مسلمانوں  کے معاملہ ملک کے تمام فرقہ اپنے تمام تر اختلافات کے ساتھ ایک ہیں  جس کی وجہ سے موجودہ جمہوری نظام میں  مسلمانوں  کو ان کی آبادی کے لحاظ سے نمائندگی ملنا مشکل ہی نہیں  بلکہ نا ممکن بھی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون ساز اداروں  میں  مسلمانوں  کی نمائندگی آزادی کے بعد سے مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ اور اسی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے شاید انگریزوں  نے مسلمانوں  کو جدا گانہ حلقہ ہائے انتخاب تفویض کئے تھے لیکن آزاد ہندوستان نے مشترکہ قومیت کے تحت نہ جداگانہ حلقہ ہائے انتخاب کو باقی رکھا اور نہ ہی مسلمانوں  کو متناسب نمائندگی کا ریزرویشن اور ضمانت دی۔ اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ مسلمان اس مشترکہ قومیت سے نہ صرف یہ کے پوری طرح نکالے جا چکے بلکہ اس مشترکہ قومیت میں  ان کی شمولیت بھی ناممکن بنا کر رکھ دی گئی۔  ایسے حالات میں  اب یہ ضروری ہے کہ ملک میں  جمہوریت کی تکمیل کے لئے مسلمانوں  کو ریزرویشن دیا جائے تاکہ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے اور جمہوریت کو اکثریت کی غلام ہو جانے سے روکا جا سکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close