سیاستہندوستان

ایک اورایک گیارہ

لکھنؤ نے کل جودیکھا اس کے بارے میں  اندازہ تھا کہ کچھ ایساہی ہوگا لیکن خطرہ کے بادل بھی اس لیے  ڈرا رہے تھے کہ جو اتحاد نعروں  اور بینڈ باجوں  کے شور میں  ہونا چاہیے تھا وہ ایسے ہوا تھا جیسے کسی کی 13ویں  یامسلمان کا تیجہ ہورہا ہے اور ہر کوئی اندازہ کررہا تھا کہ مارے باندھے کا سودا ہے۔ لیکن کل جو ہوا اور جس انداز میں  ہوا اس کے بعد اس کا خطرہ نہیں  رہا کہ انجام کیا ہوگا؟

جس کھلے دل سے راہل اور اکھلیش ایک دوسرے کے ساتھ تھے اور جس اپنائیت کا مظاہرہ کررہے تھے وہ مصنوعی نہیں  ہوسکتا۔ اکھلیش یادو ابتداسے کہہ رہے تھے کہ ہم نے کام کیا ہے اور ہم نے اپنے بل بوتے پر اپنی حکومت بنائیں گے۔ لیکن وہ کانگریس کو اس لیے ساتھ لینا چاہتے تھے کہ مسلمان ووٹوں  کا شیرازہ نہ بکھرے۔ اس بات کی فکر اس لیے تھی کہ مس مایاوتی نے پہلی بار مسلمانوں  پر نام لے کر بھروسہ کیا ہے اور وہ برہمن سماج کی کمی مسلمانوں  سے پوری کرنا چاہ رہی ہیں ۔ اس کے پیش نظر اکھلیش نے یہ سوچا تھا کہ مسلمانوں  کے سامنے تین نہیں  دو نشانے ہونا چاہئیں ۔ ایک بات اکھلیش کے سامنے یہ بھی تھی کہ راہل نے کسانوں  میں  بہت محنت کی ہے اور ان میں  یہ جذبہ پیدا کیا ہے کہ وہ اٹھ کر سا منے آئیں ۔ ا ترپردیش ۷۰ فیصدی دیہات میں  ہے۔ اکھلیش اس کا فائدہ بھی اٹھانا چاہتے تھے۔

راہل گاندھی نے ہزاروں  کلو میٹر کی خاک چھان کر یہ دیکھ لیا تھا کہ وہ 2012ء کی پوزیشن میں  بھی نہیں  ہیں  اور شاید ان کے مشیر پرشانت کشور نے بھی ان کے ساتھ گھوم کر اندازہ کرلیا تھا کہ ان تلوں  میں  تیل نہیں  ہے۔ اور زیادہ اچھا یہ ہے کہ اکھلیش کو گلے لگا لیا جائے۔ ملائم سنگھ نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اس اتحاد کے خلاف تھے اور سماج وادی پارٹی اپنے بل پر جیت سکتی تھی یا یہ کہ وہ الیکشن میں  پارٹی کے لیے ووٹ مانگنے کے لیے نہیں  نکلیں گے۔ ہم نہیں  جانتے کہ اکھلیش کا کیا رد عمل ہوگا۔ لیکن اب ملائم سنگھ پارٹی میں  وزیر اعلیٰ کے باپ کے علاوہ اور کیا ہیں ؟ پانچ مہینہ میں  ہر دن جو ہوا ہے اس نے ملائم سنگھ کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ ان کی ہی پارٹی کے ان کے ہی بنائے ہوئے 205 ایم ایل اے نے انھیں  پارٹی سے بے دخل کرنے پر اپنی مہر لگا دی۔ اب ان کے پاس امرسنگھ یا ان کے چھوٹے بھائی شیو پال یا ہزار دو ہزار وہ رہ گئے ہیں  جو کسی وجہ سے اکھلیش سے ناراض ہیں  یا ملائم سنگھ کے احسان مند۔

کل جس مسلمان سے رپورٹر معلوم کررہے تھے کہ کون؟ اس کے منہ سے اکھلیش نکل رہا تھا۔ دادری سے ایک رپورٹر نے کہا کہ ایک طبقہ جو بی جے پی کا ہے لیکن وہ وزیر اعلیٰ اکھلیش کو دیکھنا چاہتا ہے اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بی جے پی کا وزیر اعلیٰ کیا خبر کون ہو؟ وہ گجرات سے بھی منگوایا جاسکتا ہے اور جو بینکوں  کی لائن کے زخم خوردہ ہیں  وہ کیسے بی جے پی کو معاف کردیں گے؟

ملائم سنگھ ہوا کو نہیں  دیکھ رہے ہیں ۔ وہ ساتھ آتے نہ آتے مگر چپ رہتے تب بھی ان کے لیے اچھا تھا۔ یوں  بھی کل بس کی چھت پر جو منظر نظر آرہا تھا اس میں  نہ سونیا کی جگہ تھی نہ ملائم کی۔ اگر پرینکا اور ڈمپل بھی ہوتیں  تو وہ فٹ ہوجاتیں ۔ صاف معلوم ہورہا تھا کہ نئی نسل نے سب کچھ اپنے ہاتھ میں  لے لیا ہے۔ ملائم سنگھ خیمے کی طرف سے کہا گیا کہ وہ کانگریس سے ہمیشہ دور رہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ وہ اس وقت تک کانگریس کے ہمدرد تھے جب تک اس کی حکومت تھی۔ انھوں  نے تو 2009ء میں  اس وقت کانگریس کو نئی زندگی دے دی جب کمیونسٹ پارٹی نے ان سے رشتہ توڑ لیا تھا۔ اور راہل نے کہا تھا کہ جاتی ہے تو جائے۔وہ اس امریکہ کے ذلیل صدر جارج بش سے کوئی ڈیل کررہے تھے جو ہار جانے کے بعد اپنے آخری دن گذاررہا تھا۔ ملائم سنگھ اور امر سنگھ نے اپنی پارٹی کی حمایت دے کر حکومت کو بچا یا اور اس کی اتنی قیمت وصول کی کہ ہر ایم پی کے دن پھر گئے جس کا ایک گواہ ہمارے پاس بھی ہے۔

ملائم سنگھ اگر اترپردیش میں  لڑ رہے ہوتے تو نتیش کمار اور لا لو کی پارٹیاں  بھی ان کا کام بگاڑنے اور حساب چکانے کے لیے ان کے ووٹ کاٹتیں ۔ وہ صرف اس لیے نہیں  آئے کہ اکھلیش ہی سماج وادی کے سب کچھ ہیں  اور ہوسکتا ہے دونوں  سیکولر محاذ کو سہارا دینے کے لیے لکھنؤ کا سفر کریں ۔ دہلی کی پارلیمنٹ ہو یا لکھنؤ کی اسمبلی اس کے چاروں  طرف سیاسی  چوپال ہے۔ جہاں  دوست دشمن سب آتے ہیں  اور رونق بڑھاتے ہیں ۔ لیکن مس مایاوتی کسی چوپال نہیں جاتیں ۔

2007ء میں  مسلمانوں  نے بغیر مانگے مایاوتی کو ووٹ دئے تھے تو اس وجہ سے کہ وہ ملائم سنگھ کو ہرا دینا چاہتے تھے جنھیں  ا مرسنگھ نے راجہ اِندر بناکر اندر بٹھا دیا تھا اور ملنے کے لیے آنے والے ہزاروں  کی رشوت دے کر مل پاتے تھے۔( میں  اس کا خود گواہ ہوں ) مسلمانوں  نے کہہ دیا کہ ووٹ امرسنگھ سے ہی لے لو۔ مایاوتی کو ۵ سال کا راج ملا تو نہ جانے ان پر کون سا بھوت سوار ہوا کہ ا نھوں  نے ہاتھی سے بڑے پتھروں  کے سیکڑوں  ہاتھی بنوا کر ہزاروں  کروڑ روپیہ پھونک دیا۔ اور مورتیاں  بنوانے پرآئیں  تو ہر پوروج کی مورتی کے ساتھ اپنی بھی مورتیاں  کروڑوں  روپے خرچ کرکے بنوا ڈالیں ۔ ہم نہیں  جانتے کہ یہ سب کیا تھا؟ ہوسکتا ہے کہ وہ بھی مغل بادشاہوں  کی طرح ملک کو تاریخی عمارتیں  دے رہی ہوں ۔ یا یہ کہ دماغ کی رگ دب گئی ہو؟ انہیں  تو معلوم ہے کہ مسلمان مورتی پوجا نہ کرنے کی وجہ سے ہی مسلمان ہوتا ہے۔ 2012ء کے الیکشن میں  وہ مایاوتی سے اس لیے بہت دور چلا گیا کہ پوجا کی مورتیاں  بنوانے کی سزا اسے بھی مل سکتی ہے۔ کیوں  کہ اگر مسلمان ووٹ نہ دیتے تو مایاوتی کامیاب نہ ہوتیں اور سیکڑوں  مورتیاں  اور ہاتھی نہ بنتے۔

مس مایاوتی نے مجبور ہو کر مسلمانوں  کو ٹکٹ دئے ہیں  جن لوگوں  کو ٹکٹ دئے ہیں  انہیں  کہنا چاہیے تھا کہ پہلے مورتیاں  جو آپ نے بنوائی ہیں  وہ تڑوائیے اور ہاتھیوں  کی یہ فوج ملک بھر کے پارکوں  میں  بچوں  کے کھیلنے کے لیے لگوادیجئے۔ مسلمان بت سازی کا گناہ گار کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ تو بت شکن ہے۔ مایاوتی کی ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ یا تو وزیر اعلیٰ رہیں گی یا دشمن۔ اس وقت اگر وہ راہل کی طرح اکھلیش سے سو سیٹیں لے کر شریک ہو کر لڑتیں  تو نوٹ بندی کی مودی کو ایسی سزا ملتی کہ وہ صرف773 ووٹ پا کر فخر کے ساتھ کہتے کہ میں  نے چھوٹے عدد کی عزت بڑھا دی جیسے چھوٹے نوٹوں  کی بڑھائی تھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


ٹیگ
مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close