سیاستہندوستان

الیکشن کی سیاست اور مسلمان (آخری قسط)

 مس مایاوتی مسلمان ووٹوں  کے لیے مسلمانوں  کو ٹکٹ دے رہی ہیں ۔ نسیم الدین صدیقی سے مسلمانوں  میں  بہن جی کے قصیدے پڑھوارہی ہیں  اور اسد الدین اویسی جب تھوک میں  مسلمان ووٹ لاکر مایاوتی سے مل کر الیکشن لڑنے کی بات کرتے ہیں  تو وہ یہ بھی نہیں  معلوم کرتیں  کہ آپ کی کیا شرائط ہوں گی؟ اس سے پہلے بھی مسلمانوں  نے مایاوتی کو ووٹ دئے اور مایاوتی نے مسلمانوں  کو وزیر بھی بنایا۔ ان وزیروں  کو آج بھی بلا کر یا ان سے مل کر معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے مسلمان ہوتے ہوئے مسلمانوں  کے لیے کیا کیا؟ تو وہ صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں  کوئی اختیار اس کے علاوہ نہیں  تھا کہ ہم بہن جی کی تعریف کرتے رہیں۔

اویسی صاحب نے اترپردیش میں  50 سیٹیں  لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ جب بہار گئے تھے تب بھی انھوں  نے 25 سیٹیں  منتخب کی تھیں ۔ ہم نے بہار کے مسلمانوں  سے کہا کہ وہ ان کو ووٹ دینے کی غلطی نہ کریں ۔ ہمارا مقصد صرف یہ تھا کہ 25 میں  اگر دس پندرہ سیٹ جیت بھی گئے تو وہ 250 کے ہائوس میں  کیا کریں گے اور حکومت سے کیا کرائیں گے؟ ہم احسان مند ہیں  بہار کے اخبارات کے اور وہاں  کے درد مند مسلمانوں  کے جنھوں  نے نہ صرف ہماری بات مانی بلکہ ہمیں  فون کرکرکے بتایا گیا کہ تم نے جو لکھا ہے وہ تقسیم کیا گیا۔ اس کی فوٹو کاپیاں  کرائی گئیں  اور مسجدوں  میں  سنایا گیا جس کانتیجہ یہ ہوا کہ اویسی صاحب کو صرف ۶ آدمی ملے اور ان کی بھی ضمانت ضبط ہوگئی۔

اب بہار سے ہی فون آرہے ہیں  کہ ہم نے تو وہ کردیا جو آپ نے کہا۔ دیکھیں  اب یوپی والے کیا کرتے ہیں ؟ یہاں  بھی صورت حال ایسی ہی ہے کہ اگر 50 حلقوں  میں  اویسی صاحب یا کوئی لڑے گا تو ظاہر ہے دس میں  جیت بھی سکتا ہے اور پھر وہی بات کہ وہ وہاں  کیا کرے گا؟ کانگریس کے 28 ممبر تھے۔ حالت یہ ہوگئی تھی کہ اور توکیا کراتے ایک ممبر راجیہ سبھا یا کائونسل میں  بھی اپنے بل پر نہیں  پہنچ سکتے تھے۔ کپل سبل جیسے ماہر قانون کو کامیاب کرانے کے لیے اکھلیش یادو سے ووٹ مانگے تو وہ راجیہ سبھا پہنچ سکے۔

یہ کہتے ہوئے اچھا نہیں  لگتا مگر کیا کریں ؟ کہنا بھی پڑتا ہے کہ جن لوگوں  نے ملک کی تقسیم دیکھی ہے ان میں  اب شاید 10 فیصدی بھی باقی نہیں  ہوں گے۔ وہ جانتے ہیں  کہ دستور میں  جو کچھ مسلمانوں  کے لیے مراعات رکھی گئیں  وہ ان20 فیصدی عالموں  اور نیشنلسٹوں  کی وجہ سے رکھی گئی تھیں  جنھوں  نے کھل کر ایمانداری کے ساتھ مسٹر جناح کی مخالفت کی تھی اور جو کسی طرح تقسیم کے حق میں  نہیں  تھے۔ لیکن ملک کے ہندو کیسے بھول سکتے ہیں  کہ 80 فیصدی اور 20 فیصدی میں  کتنا فرق ہوتا ہے؟ انھوں  نے دستور میں  منہ بھرائی کے لیے لکھ دیا۔ رہی عمل کی بات تو یہ عمل کرنے والوں  پر چھوڑ دیا اور عمل کرنے والے ایسے تھے کہ صرف ایک سال بھی نہیں  گذرا تھا کہ بابری مسجد میں  مورتیاں  رکھ دیں  اور مسلمان پنڈت نہرو کی طرف دیکھتے رہے مگر انھوں  نے پنت سے یہ کہنے کے بجائے کہ مورتیاں  وہیں  واپس رکھوادو جہاں  سے لائی گئیں  تھیں ، خاموشی اختیار کرلی اور ہندوستان کے مسلمانوں  نے یہ بھی دیکھا کہ نہرو کو جو بات منوانا ہوئی وہ انھوں  نے منوالی چاہے استعفیٰ کی دھمکی سے منوائی ہو۔

آج بھی ملک میں  ان مسلمانوں  کی اکثریت ہے جن کے بڑوں  نے ملک کو تقسیم کرایا تھا اور جب ملک چھوڑ کر جانے کی بات ہوئی تو بہت کم گئے۔اور ہم جیسے بہت کم ہیں  جنھوں  نے مخالفت کی تھی اور اس وقت کے تیور دیکھے تھے۔ آج بھی سیاسی پارٹی (بی جے پی کے علاوہ) اپنے منشور میں مسلمانوں  کے لیے ایسے ہی کچھ لکھ دیتی ہے جیسے دستور میں  لکھا ہے اور اس طرح اس پر عمل نہیں  کیا جاتا جس طرح دستور پر نہیں  کیا جاتاہے۔ پانچ سال کے بعد مسلمان حساب لیتے ہیں  کہ حکمراں  پارٹی نے مسلمانوں  کے لیے کیا کیا؟ اور پھر فیصلہ کرتے ہیں  کہ اس بار دوسری پارٹی کو ووٹ دیا جائے گا۔ وہی دوسری جسے اس سے 10 برس پہلے مسلمانوں  نے دل کھول کر ووٹ دیا تھا۔

مسلمانوں  کی مشکل یہ ہے کہ وہ یہ سمجھ رہے ہیں  کہ ہم اس ملک کے حصہ دار ہیں  اور حقیقت یہ ہے کہ 15؍ اگست 1947ء کو 80 فیصدی مسلمانوں  نے اپنے اس فیصلہ پرووٹ کے ذریعہ مہر لگادی تھی کہ اس ملک سے ہمیں  کچھ لینا دینا نہیں  ہے۔ ہم نے اپنے مذہب، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت، اپنی قدریں ، اپنے رسم و رواج، اپنے قانونی ضابطوں  اور اپنے پورے نقطہ نظر کے لیے مملکت خداداد پاکستان بنالی ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اگر وہ علماء اور وہ نیشنلسٹ مسلمان لیڈر جو بڑے ہندو لیڈروں کے دوش بدوش تھے وہ 20 فیصدی ووٹ نہ دلاتے تو ہم نہیں کہہ سکتے تھے کہ اس ملک میں  رہ جانے والوں  کا کیا حال ہوتا؟

ہماری بہت سنجیدہ اور بڑے سیاسی ہندوئوں  سے بات ہوئی ہے وہ پنڈت نہرو اور سیکولر ہندو لیڈروں  کی اسے غلطی بتاتے ہیں  کہ انھوں  نے مکمل تخلیہ کا فیصلہ نہیں  کیا وہ پورا پنجاب اور پورا بنگال دیدیتے مگر یہ شرط رکھتے کہ مسلمان ایسے رہے گا جیسے غیرملک میں  رہتا ہے کہ نہ وہ ووٹ دے گا نہ جائیداد بنائے گا نہ ہندوستان کا شہری ہوگا۔ اور یہ جو ساکشی جیسے 4 بیویاں  اور 40 بچوں  کے ڈرائونے خواب دیکھتے ہیں  وہ یہی خوف ہے کہ ہندوستان پر جب جب مسلمان آئے لاکھوں  نہیں  آئے تھوڑے آئے اور حکومت بنا کر بیٹھ گئے۔ ایک بہت بڑے سیاسی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو دوست نے کہا تھا کہ آج اگر میں  اور میری پارٹی کی حکومت ہوجائے تو میں  مسلمانوں  سے کہوں گا کہ جہاں  سے لینا ہے لے لو ہندوستان چھوڑ کر چلے جائو۔

یہ دلت لیڈر بھی مانتے ہیں  کہ وہ اور مسلمان اگر مل جائیں  تو اکثریت ہوسکتی ہے مگر وہ بھی یہی چاہتے ہیں  کہ پارٹی اور حکومت وہ بنائیں  اور مسلمان ساتھ آجائیں ۔ اس کے لیے دلت تیار نہیں  ہوتے کہ مسلمان لیڈر ہو اور وہ اس کے ساتھی اور مددگار ہوں  جس کا نمونہ سامنے ہے کہ اویسی دلتوں  کو آواز دے رہے ہیں  اور دلت مایاوتی مسلمانوں  کو آواز دے رہی ہیں  لیکن دونوں  ایک دوسرے سے زمین اور آسمان کی برابر دور ہیں ۔ ہم بس اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں  کہ غلطی جس نے بھی کی ہو بہرحال غلطی تھی اب ذرا ذرا سی بات پر منہ پھلا کر روٹھنا چھوڑ دینا چاہیے اور نہ یہ حساب لینا چاہیے کہ کیا نہیں  کیا اور نہ یہ دیکھنا چاہیے کہ مینی فسٹو میں  کیا نہیں  دیا؟ یہ بہت ہے کہ ہاتھ پائوں  مارو، کمائو کھائو اور پاکستان سے اچھے حال میں رہو۔

اویسی صاحب ہوں یا ڈاکٹر ایوب جیسے سب کا کہنا ہے کہ مسلمانوں  نے بی جے پی کو روکنے کا ٹھیکہ نہیں  لیا ہے؟ لیکن ہم سمجھتے ہیں  کہ مسلمانوں  کو صرف بی جے پی کو روکنا ہوگا۔ اس کے آنے سے صرف ہمارا نقصان ہے۔ ملک کا ہر ہندو صرف ہندو ہے اس کی بلا سے کوئی آئے اور ہم ان پا رٹیوں  اور لیڈروں  کو اپنا محسن مانیں گے جو بی جے پی کو روکنے میں  سامنے آئیں ۔ بلا سے اس کے بدلہ میں  انہیں  حکومت مل جائے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بی جے پی مکھوٹا ہے اصل طاقت سنگھ ہے اور سنگھ کے سامنے اکھنڈ بھارت ہے جو مسلمانوں  کے لیے دارالحرب ہوگا۔ جنوں  نے روس اور چین کی اسلام دشمنی دیکھی ہے وہ بتائیں گے کہ اکھنڈ بھارت کیا ہوگا؟ امت شاہ تو دلال ہیں  جو ایسے مسلمان تلاش کرتے ہیں  جو اسلام کے نام پر ’’مسلمان کا ووٹ صرف مسلمان کو‘‘ پر عمل کرائیں  اور بی جے پی کا راستہ صاف کرادیں ۔ پروردگار نے مودی سے نوٹ بندی کی غلطی کرادی ہے جو ان کے لیے انعام ہے جو بی جے پی کو ہرانا چاہتے ہیں ۔

ہمارا کالم گواہ ہے کہ ہم کانگریس کے سب سے بڑے دشمن ہیں  ہم نے جو کچھ لکھا ہے وہ موجود ہے۔ آج ہم ہی کہہ رہے ہیں  کہ کانگریس کو زندہ رہنا چاہیے وہ ایسا دشمن ہے جس کے خلاف کچھ بھی کہا جاسکتا ہے اور یہی ایک پارٹی ہے جو نیشنل ہے۔ اگر یہ بھی نہ رہی تو بی جے پی کا بدل کہاں  سے لائیں گے؟ اکھلیش یادو نے کانگریس کے حلق میں  آب حیات ڈال کر غلط نہیں  کیا ہے۔ اور جو اس کی مخالفت کررہا ہے وہ در پردہ بی جے پی کی مدد کررہا ہے۔ رہے ملائم سنگھ تو بہار میں  بھی انھوں  نے بی جے پی کی مدد کی تھی اور اب بھی وہی یہ کام کررہے ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close