سیاستہندوستان

متناسب انتخابی نظام پھر ایشو بننا چاہیے!

  یہ بات بارہا کہی جا چکی ہے کہ ہندوستان میں بیشتر ایسے مقامات ہیں جہاں مسلمان اور سماج کے کمزور طبقات کے ووٹ حد درجہ اہمیت رکھتے ہیں۔اس کے باوجود آغاز ہی سے مسلمانوں کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی بھی الیکشن میں اپنے مطالبات، حقائق پر نہیں رکھتے۔حقائق سے مراد مخصوص علاقہ اور مقام پر جن مسائل سے وہ دوچار ہیں،سیاسی جماعتیں اور ان کے نمائندوں کے ذریعہ انجام دی جانے والی سرگرمی اور نتائج کے اعدادوشمار ،ریاستی اسکیمیوں اور ان سے مستفیذ ہونے والے افراد کا تقابل اور قانون نے جو خصوصی و عمومی اختیارات فراہم کیے  ہیں،انہیں اِن منتخبہ نمائندوں نے جو کل منتخب ہوکر آئے تھے ،کس طرح نظر انداز کیا ؟ وغیرہ کی بنیاد پر فراہم کیے جانے والے حقائق ۔وہیں گزشتہ الیکشن میں برسراقتدار سیاسی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں جو وعدے کیے تھے، مقامی سطح سے لیکر ریاستی سطح تک وہ کس حد تک پورے ہوئے؟اور جو نہیں ہوئے ،قبل از وقت اس کی وجوہات اُنہیں سے معلوم کرکے ان کے سامنے رکھنے کا عمل ۔

جسے ایک ایک مقام پر لیے گئے  جائزے کی روشنی میں نیز ریاستی سطح پر لیے گئے جائزے کی روشنی میں ،پیش نہیں کیا جاتا۔لہذا ہر مرتبہ الیکشن سے قبل مسلمانوں کو آخر کار اپنے مذہبی وسیاسی رہنمائوں کا منہ تکنا پڑتا ہے۔اور یہ رہنما خود حقائق پر مبنی تجزیہ اور کیے گئے وعدوں کی روشنی میں جائزے سے نابلد ہوتے ہیں۔یا یہ کہیں کہ ان حضرات کا خودجائزے کے عمل سے واسطہ نہیں ہوتا۔ساتھ ہی مقامی سطح پر وہ عوامی احساسات ،جذبات اور توقعات سے بھی نا واقف ہوتے ہیں ۔اور نہ ہی انہوں نے ان مراحل کو طے کرنے کا کوئی منظم نظام قائم کیا ہوتا ہے۔لہذا وہ چند ابھرے ہوئے مسائل اورواقعات کو کسی حد تک بحث کا موضوع بنانے کی کوشش توکرتے ہیںلیکن ان کے پاس کوئی ایسا نظام نہیں ہوتاجس کے ذریعہ وہ اپنی بات عوام تک پہنچا سکیں۔اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اُن مسائل کو پیش کرنے کا طریقہ جو اختیار کرتے ہیں وہ رائج الوقت برسراقتدار حکومتوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔لہذا جس ہڑ بڑاہٹ،بے توجہی اور بناتیاری کے وہ میدان سیاست میں اپنی استطاعت بھرقدم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں،کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔

اس کے باوجود کہ وہ کافی حد تک عوام پر گرفت رکھ سکتے ہیں اور عوام بھی نہ صرف ان سے توقعات رکھتے ہیں بلکہ ان ہی کے ذریعہ اپنے مسائل پیش کرنے اور حل کرنے کی امید یں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔لیکن اس دو طرفہ بے توجہی اور بنا تیاری کے ،نتیجہ میں عموماً ہر مرتبہ ،الیکشن میں یہی صورتحال سامنے آتی ہے ،کہ جیسے جیسے الیکشن قریب آتے جاتے ہیں،یہ دو طرفہ قوت، اپنی حیثیت کھوتی جاتی ہے اور سیاسی محاظ پر سرگرم عمل سیاسی جماعتیں اور ان کے نمائندے حقیقی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے عمومی مسائل کے حل کے خوب وعدے کرتے اور خواب دکھاتے ہیں۔جنہیں عموماً ہر الیکشن میں کامیابی کے بعد نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اور چونکہ عوام ان کا محاسبہ نہیں کرتے ،خصوصاً مسلمان ،لہذا وعدے کرنے اور انہیں نظر انداز کرنے کا کھیل جاری ہے۔

گفتگو کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ موجودہ انتخابی نظام میں حد درجہ نقائص موجود ہیں۔موجودہ نظام میں عموماً کسی بھی مقام پر یا کل آبادی میں موجود مختلف مذاہب کے ماننے والے، مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی اختیار کرنے والے، سماجی و معاشی سطحوں پر موجود مختلف گروہ، کی  تعداد اور حیثیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔دوسرے اس نظام کی خرابی یہ بھی ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیں وقتی مسائل کو اس زور و شور کے ساتھ اٹھاتی ہیں کہ حقیقی اور دیر پا مسائل دب جاتے ہیں ،غائب ہو جاتے ہیں۔وہیں تیسری خرابی یہ ہے کہ اس نظام کے تحت دولت کا بے تحاشہ استعمال ،طے کرتی ہے کہ کون کامیاب ہو گااور کون ناکام۔واقعہ یہ ہے کہ ان تین صورتحال کے نتیجہ میں موجودہ دور میں سیاسی نظام میں داخل ہونا،ملک اور اہل ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنا،حکومتی سطح پر موجود فلاح و بہبود کے اداروں کو بہتر بنانے اور امن و امان اورقیام وعد ل وانصاف میں جدوجہد کرنامشکل سے مشکل تر ہوتاجارہا ہے۔اس کی بڑی وجہ ہمارا مودہ انتخابی نظام ہی ہے۔جہاںدولت اور قوت بازو کا استعمال ،منفی طریقوں سے خوب خوب کیا جاتا ہے۔جسے دوسرے لفظوں میں کرپشن، بے ایمانی اور رشوت خوری اور غنڈہ گردی اور مافیا کے نام سے جانا جاتا ہے ۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ دونوں ہی قسم کے لوگ اب راست سیاست میں سرگرم ہیں۔ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جو جن کے ہاتھ میں ریاست کی باگ دوڑ ہے تو وہیں کچھ ایسے جو شراکت داری کا کام انجام دیتے ہیں۔اس پس منظر میں لازم ہے کہ موجودہ سیاسی انتخابی نظام میں تبدیلی لائی جائے،سدھار پیدا کیا جائے اورموجودہ انتخابی نظام کو متناسب انتخابی نظام سے تبدیل کیا جائے۔

 آپ جانتے ہیں کہ متناسب انتخابی نظام(Proportional Electoral System)کی ہندوستان میں سب سے پہلے جواہر لال نہرو نے حمایت کی تھی۔نہرو نے مئی 1930 میں اس نظام کو ملک کے لئے سب سے زیادہ مناسب انتخابی نظام قرار دیا تھا۔وہیں آئین ساز اسمبلی میں دو مسلم ارکان، محمد علی بیگ بہادر اور قاضی سید کریم الدین نے کہا تھا کہ اگر اسے اپنا لیا جائے توکچھ خاص پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کی ضرورت بھی  نہیں رہ جائے گی۔لیکن اُس وقت ڈاکٹر امبیڈکر کا خیال تھا کہ چونکہ ہندوستان کی شرح خواندگی صرف15%فیصد ہے لہذا اُن کے خیال میں  متناسب نظام کی تفصیلات کو ناخواندہ عوام پر مسلط مناسب نہیں ۔ لیکن بعد میں انہوں نے اپنی رائے تبدیل کی ۔وہیں سنہ 1974 میں جے پرکاش نارائن نے جسٹس تارکنڈے کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی، جس نے ہندوستان کے لئے ملے جلے ارکان پارلیمنٹ والی جرمن متناسب انتخابی نظام کی سفارش کی۔1999 میںہندوستان کے نیشنل لاء کمیشن نے تفصیلی غور و خوض کے بعد سنگل بیلٹ (single ballot)کے ساتھ جرمن متناسب نظام کی حمایت کی۔

2003 میں مسلم لیگ کے بنات والا نے اور2009 میں کمیونسٹ پارٹی (مارکسوادی) کے سیتارام یچوری نے پارلیمنٹ میں متناسب انتخابی طریقہ کار کو اپنانے کی تجویز پیش کی، پر یہ دونوں ہی تجاویزنقار خانے میں طوطی کی آواز بن کے رہ گئیں ۔اس مسلسل سعی و جہد اور اٹھنے والی آوازکے دستاویزات،یہ بات خوب اچھی طرح واضح کرتے ہیں کہ جو قرارداد1930میں انتخابی نظام کو اختیار کرنے کی جواہر لعل نہرو نے پیش کی تھی وہ آج بھی جاری ہے۔یہ الگ بات ہے کہ یہ آواز پارلیمنٹ میں آخری مرتبہ اٹھے ہوئے 8سال ہو گئے ہیں۔وہیں اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ اگر اس نظام کے اختیار کرنے کے لیے ارکان پارلیمنٹ باہم مشورے سے ملک اور اہل ملک کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ،اختیارکریں ،تو عین ممکن ہے کہ یہ نظام نافذ العمل ہو جائے۔وہیں یہ نظام ان لوگوں کے لیے بھی باعث سکون ہو سکتا ہے جو نہیں چاہتے کہ ملک میںایک مخصوص طبقہ کو ریزرویشن جو ایک زمانے میں جاری ہوا تھا،وہ آج بھی برقرار رہے یعنی آج اس کو ختم ہو جانا چاہیے۔ساتھ ہی ملک میں مختلف مذہبی ،سماجی ،معاشی اور تہذیبی بنیادوںموجود طبقات کی ترقی و ارتقاء میں بھی یہ نظام بمقابل رائج الوقت انتخابی نظام کے، زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے۔

وہیں اِس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ نہ صرف اس نظام کے قیام سے سیاسی میدان میں موجود کرپشن، دولت کا بے تحاشہ استعمال ، غنڈہ گردی کے خاتمہ میں آسانی ہوگی بلکہ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی کہ ملک کے معاشی نظام کو موجودہ حالات کے تغیرات میں نئے زاویوں کے ساتھ پیش کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔نیز بے شمار فوائد کے ساتھ جہاں سیاست میں سطحیت پرلگام کسے گی وہیں عام لوگوں کے لیے بھی سیا ست میں داخل ہونا آسان ہو جائے گا۔لہذا ایسی ہی صورت اور ایسے ہی نظام سے  امید کی جاسکتی ہے کہ جمہوریت کوبھی بقا حاصل ہوگی۔بصورت دیگر موجودہ انتخابی نظام کی اندورنی خامیوںکے نتیجہ میں ملک اندرون خانہ کمزور ہوتا جا رہا ہے وہیں اہل ملک کو درپیش مسائل میں بھی ہر نئے دن اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ضرورت ہے کہ ایک بار پھر فوائد و نقصانات کے تقابل کے ساتھ ،تازہ دم لیڈر شپ آواز اٹھائے اور جمہوریت کو حقیقی معنوں میں جمہور کے حوالہ کیا جائے!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Close