سیاست

اسمبلی انتخابات  کے نتائج اور مسلمانوں کی مشکلات کا سیاسی حل

 آفتاب اظہر صدیقی
پانچ ریاستوں میں ہوئے 2017 ء کے حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج جس قدر حیران کن ہیں اس سے کہیں زیادہ سبق آموز بھی. یہ بات تو ننیانوے فیصد درست معلوم ہوتی ہے کہ یوپی اور اتراکھنڈ میں ووٹنگ مشینوں میں گڑبڑی کرکے بڑا گھوٹالہ کیا گیا ہے؛ لیکن الیکٹرانک میڈیا پر اس قدر پیسوں کی برسات کی گئی کہ کوئی چینل اس پر بحث کرنے کرانے کو تیار نہیں ، سوشل میڈیا پر روز بروز ووٹنگ مشینوں کی گڑبڑی کا بالدلائل انکشاف ہورہا ہے، جس کا کوئی خاص رد عمل نظر نہیں آتا.

آئیے جانتے ہیں کہ یو.پی اور اتراکھنڈ میں بی.جے.پی نے کس طرح جیت حاصل کی، میرے اندیشے اگر سوفیصد درست نہ بھی ہوں تو نوے فیصد غلط نہیں ہوسکتے.

1.  بی.جے.پی کی مرکزی حکومت بن جانے کے بعد مسلسل اس کی وعدہ خلافیاں اور غیرروادارانہ رویہ عوام کے سامنے رہا جس سے لاکھوں لوگ ایک ڈیڑھ سال میں ہی بی.جے.پیکے مخالف ہوگئے، پھر بی.جے.پی کی طرف سے ہوئے ملک میں آسائش کُش فیصلوں اور غریبوں پر ظلم و ستم نیز نئے نئے پروپیگنڈوں نے ملک کے اسّی فیصد عوام کا اس پارٹی سے بھروسہ ختم کردیا، نوٹ بندی کے بعد لوگوں پر اس کے منفی اثر نے خود بی.جے.پی لیڈران کو یقین کی حد تک یہ احساس دلا دیا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں جیت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا مشکل ہی نہیں ؛ بلکہ ناممکن ہے.

2. مودی نے اپنے جملہ بازیوں کا رخ یوپی اور اتراکھنڈ کی طرف پھیر دیا، چونکہ انہیں معلوم تھا کہ نوٹ بندی کے بعد پانچ ریاستوں میں سے کسی بھی ریاست میں حکومت بنانا پانی میں آگ لگانے سے زیادہ مشکل ہے؛ لہذا ہندوستانی عوام کے بھولے پن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعل سازی اور گھوٹالہ بازی کی ایک ایسی تاریخ رقم کی جائے کہ رہتی دنیا تک یاد رہے.

3. بیرونی ممالک کے اسفار میں تکنیکی انجینیئرز اور ماہرین سے مدد لے کر ہندوستانی ماہرین کو ان سے گھوٹالہ بازی کا ہنر سکھایا گیا.

4. ملک کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اس قدر پیسہ کھلایا گیا کہ وہ مودی مخالف بیانات، رجحانات، حالات اور حادثات سے حتی الامکان چشم پوشی کریں.

5. یو.پی اور اتراکھنڈ کی ان سیٹوں پر جہاں پہلے کبھی بی.جے.پی امیدوار کامیاب ہوچکا تھا یا جہاں مدمقابل عوامی سطح پر مضبوط ہونے کے باوجود مالی اور طاقتی اعتبار سے کمزور تھا؛ ووٹنگ مشینوں میں گڑبڑی کرکے اپنے امیدواروں کو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرائے.

6. ووٹنگ سے دو روز/ چار روز پیشتر اپوزیشن کے خلاف خوب افواہیں عام کی گئیں ؛ چنانچہ مفتی ریاست علی امیدوار بسپا خان پور سیٹ (اتراکھنڈ) کے تعلق سے یہ کہاجانا کہ انہوں نےبی.جے.پی سے پیسے لے کر مسلمانوں کے ووٹ کا سودا کیا ہے، ان ہی افواہوں کا حصہ ہے.

7. الیکشن سے قبل ایگزٹ پول میں میڈیا نے سب سے آگے بی.جے.پی کو دکھایا، گزشتہ دہلی اور بہار انتخابات کے ایگزٹ پول کو سامنے رکھ کر میڈیا کے ایگزٹ پول پر عوام کے یقین نہ کرنے کا جواز تو سمجھ میں آرہا تھا؛ لیکن نتائج آنے کے بعد سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں .

8. نتائج آنے کے بعد بھی میڈیا نے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے بی.جے.پی کی جیت کی جتنی جائز وجوہات بن سکتی تھیں بتادیں .

ان اندیشوں سے صاف ظاہر ہے کہ بی.جے.پی. آر ایس ایس نے ماہرین، میڈیا اور جملہ بازی کا استعمال کرکے ناجائز طریقے سے یو.پی اور اتراکھنڈ میں جیت حاصل کی ہے، بقیہ تین صوبوں میں جان بوجھ کر جعل سازی نہیں کی گئی کہ کہیں راز فاش نہ ہوجائے کیوں کہ بی.جے.پی کا ٹارگیٹ صرف یو.پی تھا. بہت سے لوگ سمجھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے علاوہ، دلت، سکھ اور تمام اہل اقلیت و اکثریت نے بی.جے.پی کو ووٹ دیا ہے، یہ بات چار چھ سیٹوں تک تو تسلیم کی جاسکتی ہے؛ لیکن ہر جگہ ایسا ہوا ہے یہ کہنا بالکل غلط ہے. کیا سکھ اور دلت بی.جے.پی کے مظالم کا شکار نہیں ؟ بلکہ سب سے زیادہ ستم زدہ قوم ملک میں دلت ہے بھلا وہ کیسے بی.جے.پی کے ساتھ جاسکتی ہے.

سوچیے کہ ملک کی جمہوریت کو کس طرح پارہ پارہ کرکے جعل سازی کے ساتھ انتخابات کرائے گئے اور جھوٹی جیت حاصل کرکے کرسیِ اقتدار پر قبضہ جما لیا گیا، کیا ملک میں اس سے بھی برے دن آنے باقی ہیں ؟

دیگر تمام پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ عدالت عظمی میں ای.وی.ایم میں گڑبڑی کا ثبوت پیش کرکے دوبارہ الیکشن کی پُرزور مانگ کریں اور اپنے حامیوں سے احتجاج کروائیں . آخر کیا وجہ  ہے کہ امریکہ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بغیر مشین کے ووٹنگ ہوتی ہے اور ان کا رد کردہ بٹن سسٹم ہندوستان میں جاری ہے اور وزیر اعظم بٹن سے ووٹ ڈالنے کو اپنے بیانات میں فخر کا سامان بتاتے ہیں ، کیوں نہ بتائیں بٹن سسٹم کا ہی تو کمال ہے کہ یو.پی میں امید کے برخلاف بی.جے.پی اقتدار کی کرسی پر بیٹھ رہی ہے.جو ہوا سو ہوا، ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ، ہاں فکرِ فردا ضروری ہے.

مسلم پارٹیوں کو مضبوط بنانے کے لیے مسلم لیڈران اور مذہبی رہنماؤں کو آگے آنا ہی ہوگا، اگر ہم چند دہائیاں پہلے کم از کم وہی حکمت عملی اپنالیتے جس پر بی.جے.پی شروع سے چل  کر یہاں تک پہنچی ہے، تو آج ہمارا بھی کوئی مضبوط سیاسی پلیٹ فارم ہوتا؛ لیکن سچا مسلمان منافقت سے کوسوں دور رہتا ہے، سامنے کچھ اور پیچھے کچھ کی پالیسی ہمارے دین و ایمان کے خلاف ہے، "منھ پر یار اور پیٹھ پیچھے وار” والی ذہنیت ہمارے دماغوں سے میل نہیں کھاتی.

"ہرکمالے را زوالے” بی.جے.پی بہت جلد اپنے دائرے میں سمٹ جانے والی ہے کیوں کہ وہ اپنی بدنیتی اور تعصب کی بنا پر بدنامی کا ریکارڈ قائم کرچکی ہے.

اپنی سیاست کو مضبوط بنانے کے لیے ہماری حکمت عملی کیا ہو:

1.  یا تو تمام مسلم پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر اپنی اپنی قابلیت کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور اقتدار میں آنے کا مقصد ملک و عوام کی ترقی کو بنائیں ، عز و جاہ اور مال و دولت مقصود نہ ہو.

2. یا اگر اتحاد نہیں کرنا تو کم از کم جہاں سے دوسری مسلم پارٹی کا کوئی امیدوار کھڑا ہو وہاں اپنے امیدوار نہ کھڑے کیے جائیں .

3. جس سیٹ پر ہندو اکثریت ہو وہاں ہندو امیدوار کو ٹکٹ دیں اور جہاں مسلم اکثریت ہو وہاں مسلمان کو.

4. سیاسی جلسوں ، کانفرنسوں اور میڈیا میں غیرمتعصبانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے صرف ترقی، انصاف اور اتحاد و یکجہتی کی بات کی جائے.

5. ظلم کے خلاف ہمیشہ سرگرم رہا جائے، ظلم چاہے کسی کے ساتھ بھی ہو آپ برابر کی ہمدری دکھائیے، ایسا نہیں کہ مسلمان پر ظلم ہو تو چیخ و پکار اور غیر مسلم پر ہو تو خاموش.

6. کانگریس، سپا، بسپا اور دیگر پارٹیوں کے مسلم امیدواروں سے از خود ملاقات کرکے انہیں اپنی پارٹی میں شامل کیا جائے.

7. ٹکٹ دینے کے لیے کسی امیدوار سے پیسے نہ لیے جائیں ؛ بلکہ عوامی چندے سے اس کا تعاون کیا جائے.

8. صرف ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دیا جائے جو ذہنی اعتبار سے مکمل غیر متعصب، جمہوریت پسند اور خوب پڑھے لکھے ہوں نیز ملک و قوم کے لیے ان کے جذبات قابل تسلیم ہوں .

9. الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اپنا باضابطہ نیٹورک ہو اور ایک عملہ مستقل ترسیل و ابلاغ کا کام کرے.

10. میڈیا کی کذب بیانی کا بروقت پردہ فاش کیا جائے اور غیر مسلم عوام کو اسلاموفوبیا سے نکالنے کے لیے حکمت عملی اختیار کریں .

11. دین و ایمان کی حفاظت کو اول درجہ دیا جائے، اپنے کارندوں سے لے کر لیڈران تک سبھی کو نماز، روزہ اور نیکوکاری کی تاکید کی جائے.. فکرِ عقبٰی کو فکر دنیا پر مقدم رکھا جائے.
ان شاء اللہ اگر چند دہائیوں تک کوئی ایک پارٹی اس طرح کی حکمت عملی اختیار کرکے چلے تو ملک میں مسلم سیاست کا پرچم بھی لہرانے لگے گا.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close