سیاست

2019ء عام انتخابات: مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟

محمد شاہ نواز عالم ندوی

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ اسلام کی تاریخ قدیم ہے۔ روز اول سے ہی خیر وشر کا ٹکراؤ رہاہے۔ لیکن اکیسویں صدی کی ابتدا سے ہی پورے عالم انسانی میں عمومی طورپر اور مشہور زمانہ، یکتائے روزگار جمہوریت کاحامل ملک ہندوستان میں خصوصاً اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسموم باد صرصر کچھ زیادہ ہی زوروں پر ہے۔ یوں توملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول تو آزادی کے بعد سے ہی ہموار ہونے لگاتھا۔ 1857ء ہندوستان کی تاریخ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لحاظ سے حد فاصل ہے۔ اس سے قبل یہاں کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ پیدا نہیں ہواتھا اور نہ ہی کوئی فرقہ وارانہ فساد ہواتھا۔ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ صلح وآشتی کے ساتھ رہتے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔ 1857ء کے بعد برطانوی حکمرانوں نے دانستہ طورپر ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی پالیسی اپنائی۔ کیوں کہ اس وقت تحریک آزادی پورے عروج پرتھی اور ہندومسلمان کاندھے سے کاندھا ملاکر خارجی حکومت کے بائیکاٹ کی صدا لگارہے تھے اور انگریزی سامراج کیخلاف یک آواز ہوکر بغاوت کردی تھی۔ انگریزوں نے پوری ذہانت کے ساتھ بغاوت کو کچلنے کے لئے ایک ہی راستہ اپنایا کہ ’’بانٹو اورراج کرو‘‘، اس وقت ہندوستان میں انگریزوں کے ترجمان اور وزیر خارجہ برائے ہند سرچارلس ووڈ نے وائسرائے لارڈ الجن کو 1862ء میں ایک خط لکھا ’’ہم نے بھارت میں اپنا اقتدار ایک برداری کو دوسری برادری کے خلاف کھڑا کرکے قائم رکھاہے اور ہمیں اسے جاری رکھنا چاہئے۔ اس لئے ان کو ایک اور متحد ہونے کے شعور سے باز رکھنے کیلئے آپ جو کچھ کرسکتے ہیں کریں۔ ‘‘ (مختصر تاریخ ہند)

14؍جنوری 1887ء کے ایک خط میں وزیر خارجہ وسکاؤنٹ کراس نے گورنر جنرل ڈفرن کو لکھا:’’مذہبی احساس کی تقسیم ہمارے مفاد میں ہے اور ہم ہندوستانی تعلیم اور تعلیمی مواد پر آپ کی تفتیشی کمیٹی سے اچھے نتائج کی امید کرتے ہیں۔ ‘‘ اسی طرح وزیر خارجہ جارج ہیملٹن نے گورنر جنرل لارڈ کرزن کو لکھا:’’گر ہم ہندوستان کے تعلیم یافتہ طبقے کو دو حصوں ہندو اور مسلمان میں تقسیم کر سکتے ہیں تو اس سے ہماری پوزیشن مضبوط ہوگی۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں درسی کتب کو اس طرح تیار کرنا چاہئے کہ دونوں مذاہب کے اختلافات میں مزید اضافہ ہو۔ ‘‘ اس طرح1857ء کے بعد برطانوی حکمرانوں نے دانستہ طور پر ہندوو?ں اور مسلمان کے درمیان نفرت پھیلانے کی پالیسی اپنائی اور اس پر کئی طرح سے عمل کیا گیا۔ مذہبی رہنماؤں کو دوسرے مذہب کے خلاف بولنے کے لئے رشوت دی گئی۔ انگریز کلکٹر خفیہ طور پر پنڈتوں کو بلا کر مسلمانوں کے خلاف بولنے کے لئے پیسے دیتے اور اسی طرح مولویوں کو ہندوؤں کے خلاف تقاریر کرنے کے لئے پیسے دیئے جاتے۔ مسجد کے سامنے نماز کے وقت اشتعال پھیلانے والے ایجنٹوں کے ذریعہ زور و شور سے موسیقی بجوائی جاتی یا پھر مندروں کے سامنے گائے کے گوشت پھنکوائے جاتے اور دیواروں پر اللہ اکبر کے نعرے لکھوائے جاتے۔ ‘‘

حالیہ دنوں میں کیا ہوا؟ یہی فرقہ واریت 1947ء کے بعد بھی جاری رہی۔ 1948ء میں حیدرآباد دکن40ہزار سے زائد مسلمان قتل کئے گئے۔ 31؍جنوری1979ء میں مغربی بنگال جل اٹھاجس میں ایک ہزار سے زائد افراد کو قتل کیاگیا۔ پھر 1980ء میں مرادآباد فساد کے شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔ جس میں ڈھائی ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ 18؍فروری 1983ء کی ایک شام بھی یادگار ہے کہ آسام جل رہاتھا اور آتش جب تک خاک میں تبدیل ہوتی اس وقت تک 2191؍مسلمان موت کی گہری نیند سوچکے تھے۔ 1989ء میں تقریباً دو ماہ تک جاری بھاگل پور فساد میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کا قتل کیا گیا تھا اور بعد میں فساد کے متاثرین کے مکانات، دکانیں، کھیت اور دوسری جائیدادوں پر دیگر لوگوں نے جبری قبضہ کر لیا تھا یا انہیں خوفزدہ کرکے اونے پونے دام دے کر خرید لیا تھا۔ کہاں تک شمار کروائیں۔ میرٹھ، ملیانہ، مہاراشٹرا، کے فسادات تو خود ہی منہ بولتی تصویر ہے۔ حالیہ دنوں میں اس نے خطرناک صورت حال اختیار کر لی ہے۔ اس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سرجیکل اسٹرائیک ڈرامے کے بعد کئی مواقع پر زور وشور سے یہ بات کہی ہے کہ ہم نے وہ کردکھایا جو کسی نے حکومت میں رہ کر نہیں کیا۔ پتہ نہیں اس سے وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو ان کی باتوں میں بہت حد تک صداقت نظر آتی ہے۔ ان کے جیسا تو کوئی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ ہندوستان میں نہیں بنا جوسیلفی اور بیرون ملک سب سے زیادہ گھومنے کے لئے مشہور ہوا ہو، جو کام کم اور پروپیگنڈے میں زیادہ یقین رکھتا ہو۔ وہ بھی ہندوستان کے ایک صوبے کے پہلے وزیر اعلیٰ تھے جن کے دامن گجرات فسادات کی وجہ سے اتنے داغدار ہوگئے کہ بیرون ممالک نے ان کی آمدپر پابندی لگادی اور جن کی وزیر اعظم کی حیثیت سے برطانیہ جانے پر ان کے خلاف احتجاج ہوا ہو، ان کے دور حکومت میں ہی ہندوستان میں سب سے طویل ڈھائی ماہ تک گجرات کا فسادہوا تھا جس میں ڈھائی ہزار سے زیادہ مسلمان شہید ہوئے اورکئی آج بھی لاپتہ ہیں اور طویل کرفیو کا ریکارڈ بھی ان ہی کی حکومت کے سر ہے۔ 2014ء میں قائم اس حکومت کے دوران وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کو گرم کرکے سڑکوں پر لانے کی کوششیں جاری رہیں اور جاری ہیں۔ ہجومی تشدد میں اب تک 50 سے زائد مسلم نوجوان موت کی بے پناہ گہرائیوں میں جا چھپے ہیں، جن کی فائلیں یا بند ہوچکی ہیں یا ان کو واقعی مجرم قراردے کر اصل مجرم کی پذایرائی کی گئی ہے۔

وزیراعظم خود اپنی بیوی کے دکھ اور درد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ لیکن طلاق کی آڑ میں شریعت میں مداخلت، مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنے اور ملک پر یونیفارم سیول کوڈ تھوپنے کاکریڈٹ بھی وہی لینا چاہتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے خلاف زہر افشانی ہوتی ہے اور سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ کرتے ہیں پوری دنیا میں خودکو ذلیل کرجاتے ہیں۔ تو دوسری طرف پاکستان سے ایسی دوستی دکھاتے ہیں کہ بن بلائے پاکستان آکر پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیتے ہیں۔ یہ اعزاز بھی ان ہی کی حکومت کو حاصل ہے کہ عدالت مانے یا نہ مانے جس کو بی جے پی نے دہشت گرد کہہ دیا وہ موت کا مستحق ہے اور اسے فرضی انکاؤنٹر میں ماردیا جائے تو اس کی انکوائری نہیں کرائی جائے گی۔ یعنی ان ہی کی حکومت ہندوستان میں عدلیہ ہے اور ان ہی کا فیصلہ حتمی ہے۔ وغیرہ وغیرہ کارنامے ریکارڈ پرہیں۔ ایسے میں 2019ء عام انتخابات بس آیا ہی چاہتے ہیں تو مسلمانوں کو اس سلسلہ میں کیا کرنا چاہئے۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ ہم اس تعلق سے کچھ نہیں کہیں گے بلکہ ایک تجربہ کار، غیرجانبدار، اس پرآشوب دور میں قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے کوشاں اور ہندوستانیوں سے ہمدردی رکھنے والے مشہور ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے معروف صحافی رویش کمار نے کچھ مشورے دیئے ہیں جو من وعن آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ امید ہے کہ اس پر عمل کیا جائے تو مسلمانان ہند کے تعلق سے جو تشویش وبے چینی ہے اس میں یقیناً کچھ کمی آئے گی۔

رویش کمار کی مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل:

گزشتہ دنوں مشہور ٹی وی اینکر رویش کمارنے ایک پروگرام کے دوران ہندوستان کے مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کی، ان کی قیمتی باتیں۔ 1- آپ لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کی تنقید کرنا بند کردیں۔ 2-آپ کا مخالفت کرنا ہی ان کی طاقت ہے۔ ویسے بھی جموں کشمیر کو چھوڑ کر نہ تو آپ کو کہیں کا وزیر اعلیٰ بننا ہے اور ناہی وزیر اعظم۔ 3- جن کو کرسی پر بیٹھنا ہے وہ اپنے آپ بی جے پی اور آر ایس ایس کا مقابلہ کرلیں گے۔ آپ کے مخالفت کرنے کے کارن ہی بی جے پی اٹھارہ فیصدی مسلمانوں کا ڈر دکھا کر80؍فیصدی ہندوؤں کا ووٹ اپنے پالے میں لانے میں کامیاب رہتی ہے اور پورے کھیل کے ڈائرکٹر تو اصل میں تین فیصد ہی ہیں۔ 4- آپ کو جس کسی بھی پارٹی کو ووٹ دینا ہے دو، جس کی حمایت کرنی ہے کرو، پر بھول کر بھی بی جے پی، آر ایس ایس، مودی کی مخالفت مت کرو۔ 5- بھول جاؤکہ آر ایس ایس نام کی کوئی تنظیم بھی ہے۔ 6- بھول جاؤکہ بی جے پی کوئی پارٹی بھی ہے۔ 7- بھول جاؤ کہ مودی کوئی لیڈر بھی ہے۔ 8۔ آپ کی یہی حالت رہی تو کچھ سالوں میں آپ سیاسی طور پر اچھوت بنا دیئے جائیں گے۔ پھر نا تو کانگریس آپ کو پوچھے گی، نہ بی جے پی، نہ سماجوادی اور نہ بہوجن سماجوادی۔ 9- جس ایم آئی ایم اور اویسی کی آپ آنکھ بند کرکے حمایت کررہے ہو اس کو انتخاب میں حصہ تبھی تک لینے دیا جائے گا جب تک بی جے پی کو ان کے الیکشن لڑنے سے فائدہ ہو رہا ہے۔ جس دن بی جے پی کو لگے گا کہ اب ان کے چناؤلڑنے سے اسے نقصان ہورہا ہے اسی دن ایم آئی ایم پر پابندی لگادی جائے گی، جیسا کہ پہلے تیس چالیس سال تک پابندی لگی تھی۔ آپ صرف جدید ٹکنالوجی اورتعلیم پر دھیان دیں، اتنے نمبرات لائیں کہ بغیر ریزرویشن کے ہی آپ سرکاری نوکریاں حاصل کرلیں۔ 10-آزادی سے پہلے بھارت کے مسلمانوں کی آبادی 35فیصد تھی اور 35فیصد سرکاری نوکریوں پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ اس وقت یہ ریزرویشن جیسا کوئی قانون نہیں تھا۔ جو اس مقام تک پہنچتے تھے وہ اپنی قابلیت کے دم پر ہی پہنچتے تھے اور جو اپنے مذہبی اداروں میں زکواۃ وخیرات کا پیسہ دیتے ہیں، بہتر ہوگا کہ آپ ان اداروں کو بھی زکوٰۃ وخیرات کا پیسہ دیں جو آپ کی تعلیم اور روزگار کیلئے کام کریں۔ اگر ایسے ادارے نہیں ہیں تو بنائیے۔ 11- یاد رکھیئے یہ مسابقتی دور ہے اور آپ ہر شعبہ میں پیچھے ہورہے ہیں۔ کسی بھی قسم کے سرکاری مدد کا بھروسہ چھوڑ دیجیے۔ جو کرنا ہے آپ اپنے دم پر کیجئے باقی خدا مالک ہے۔ انڈیا ہیڈ لائنز ( 19 مارچ 2018 )

مذکورہ روداد اور مشوروں کے پیش نظر اس ملک میں ہم کو رہنا ہے اور یقیناً رہنا ہے، خواہ کسی طرح بھی رہیں۔ لیکن ذلت ورسوائی کی زندگی (کیوں کہ مسلمان اگر اسلامی شریعت سے دستبردار ہوجائے اور حکم ربانی سے کنارہ کشی اختیار کرلے تو اس سے بڑی ذلت ورسوائی اور کیا ہوسکتی ہے) سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو مضبوط ومستحکم کرنا ہے۔ مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مایوس ہونا تو کافروں کا شیوہ ہوا کرتا ہے۔ ابھی سے اس سمت میں کام کرنا شروع کردینا چاہئے، مذکورہ مشوروں کے ساتھ ایک اہم ذمہ داری کی طرف خصوصی توجہ بھی دینی چاہئے، وہ ہے تبلیغ دین اور اسلام کی نشرواشاعت، اسلامی اخلاق وکردار کی ترویج۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب سے ہم نے اس میدان عمل کو ترک کردیا ہے اور ہم کوجان بوجھ کر اس کام سے دور کیا ہے، تب سے ہی ہم نے ہند میں ہی نہیں پوری کائنات انسانی میں اپنا وقار کھویاہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد شاہنواز عالم ندوی

فارغ التحصیل دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، بی اے (اردو) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد، ایم اے (اردو) مولانا مظہرالحق عربک، پرشیئن یونیورسٹی پٹنہ، سابق لکچرر اردو، عربی اور اسلامیات الامین پی یو کالج بنگلور ،سب ایڈیٹر روزنامہ سالار اردو بنگلور

2 تبصرے

  1. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    امید کہ مزاج بخیر ہوگا
    مذکورہ مضمون ’’2019ء عام انتخابات: مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟‘‘اور اس سے قبل شائع مضمون ’’یونیفام سیول کوڈ۔۔۔۔۔۔‘‘ اور ’’مسلمانوں کے لئے ہند کی سرزمین۔۔۔۔‘‘ ودیگر کئی مضامین آپ کے ویب mazameen.com پر شائع ہوئے ہیں جو میرے یعنی محمد شاہ نواز عالم ندوی کے ہیں اور میں پیام توحید نئی دہلی کا نائب مدیر نہیں ہوں، میں تو بنگلور کے مشہور اخبار روزنامہ سالار بنگلور سے وابستہ ہوں اور بحیثیت سب ایڈیٹر (نائب مدیر) کام کررہاہوں۔ براہ کرم اس کی تصحیح فرمالیں۔ عین نوازش ہوگی۔

    ضرورت پڑی تو میرے موبائل نمبر 9590555851 پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔

    1. وعلیکم السلام مکرمی۔ آپ کا پروفائل اپڈیٹ کردیا گیا ہے۔
      سلامت رہیں۔

متعلقہ

Close