سیاستہندوستان

2019ء کی تیاری

عالم نقوی

اندور یونیورسٹی کے پروفیسر  ڈاکٹر سجاد جعفری   نے ارون جیٹلی کے چار سال پرانے دو ویڈیوز پر جن میں  انہوں نے  تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ملکی معیشت کی رفتار میں بتدریج گراوٹ پر ٹسوے بہائے اور کانگریس کو گالیاں دی ہیں ،تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اصل میں بی جے پی اینڈ کمپنی کے سروے سروا اور کرتا دھرتا سب   کے سب ایسے لا علاج خفیہ اِمراض میں مبتلا  ہیں  کہ وہ کسی سے اپنا درد بھی نہیں بانٹ سکتے  لہٰذا حقیقی مسائل سے آنکھیں چرانا  اور  نفرت پھیلانے والے فرضی مسائل کی جگالی کرتے رہنا  ہی اُن کی مجبوری ہے۔  اُن کے ’یرقانی آقاؤں ‘ اور’ قارونی سر پرستوں ‘ نے اُنہیں سمجھا رکھا ہے کہ  جیسے بھی ہو 2019 کا الکشن جیتو، پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرو اور دستور کی غریب دوست، عوام دوست، اور اقلیت  دوست  دفعات کو بدل ڈالو اور بنیادی حقوق  پر دستوری قدغن لگاؤ تاکہ تم اپنے ’مَنُووَاد‘ کے مزے لوٹ سکو اور ہم اپنے  عالمی صہیونی قارونوں کی طرح لمبے عرصے تک عیش کر سکیں !

 یہ گائے، گوبر، پیشاب اور لو جہاد،سب  کثیر نسلی اور کثیر مذہبی بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے لٹکے جھٹکے ہیں  تاکہ اندھے بھکتوں کوسوچنے سمجھنے اور اپنی عقل سے کام لینے کا موقع ہی نہ مل سکے۔   مولانا سجاد نعمانی کا تو کہنا ہے کہ ہندو راشٹر کا نیا دستور لکھا جا چکا ہے،پوری طرح تیار ہے اور  صرف 2019 کا انتظار ہے جب وہ اپنے    ہٹلری، گوئبلزی، چانکیائی اور یزیدی  ہتھ کنڈوں سے لوک سبھا، راجیہ سبھا اور اُن پانچوں ریاستوں میں جہاں الکشن کے بعد نئی اسمبلیاں وجود میں آ چکی ہوں گی, اکثریت حاصل کر چکے ہوں گے تاکہ امبید کر کے دستور کی جگہ منواسمرتی کی بنیاد پر بنائے گئے اپنے برہمنی دستور کو، علی ا لا علان  با لفعل اور با لعمل  نافذ کر سکیں اور جو اس کی مخالفت کرے اس کے ساتھ ڈنکے کی چوٹ پر  وہی سلوک کیا جا سکے جو اسرائل، میانمار، سیریا، یمن اور چین وغیرہ میں مخالفین کے ساتھ ہو رہا ہے۔  اور ویسے بھی پچھلے سو برسوں میں بتدریج ملک میں ایک طرح سے برہمن راج ہی تو قائم ہے جس کے ذمہ دار ہم بھی ہیں ۔   فی ا لوقت صورت حال یہ ہے کہ ملک کے سرکاری اور نجی ہر زمرے میں برہمنوں اور نام نہاد اعلی ٰ ذات والوں یعنی ’ سورنوں ‘ ہی کا تو دبدبہ ہے ! وہ  پورے ملک میں پانچ سے پندرہ فی صد سے زیادہ نہیں لیکن ہر طرح کی ملازمتوں نیز تعلیم، صحت اور تجارت ہر شعبے میں ان کی تعداد ستر فی صد سے نوے فی صد کے درمیان ہے !ہم اس کے ذمہ دار اس طرح ہیں کہ جب ہم نے ملک میں بلا شرکت غیرے سات آٹھ سو سال تک حکومت کی تو برہمنوں ٹھاکروں اور بنیوں وغیرہ ہی کو تو اعلیٰ عہدے دیے اپنے پہلو میں بٹھایا اور ان کی لڑکیوں کو رانی اور مہارانی بنایا !ہم نے اسلام کا درسِ مساوات اور’’ اِنَّ اَکرَمَکُم عِندَ ا للہِ اَتقاکُم‘‘ کے  آفاقی انسانی پیغام  کو دلتوں آدی باسیوں اور ملک کے پسماندہ طبقوں یعنی تمام کے تمام ’’مستضعفین فی ا لہند ‘‘ تک کب پہنچایا ؟ اگر ہم نے دلتوں اور آدی باسیوں کو اپنے ساتھ اپنے  دستر خوان پر بٹھایا ہوتا اور علم و تعلیم کے دروازے جو ہزاروں سال سے برہمنوں نے اُن پر بند کر رکھے تھے، کھول دیے ہوتے تو۔  ۔ہاں بتائیے آج ملک کی آبادی کا منظر نامہ کیا ہوتا ؟ ہم نے ملک کے بندگانِ خدا کی اَکثریت تک علم اور مساوات کا اسلامی پیغام پہنچا دیا ہوتا اور عیسائی مشنریز کی طرح کام کیا ہوتا تو۔  ۔آپ خود ہی سوچیے کہ پھر برہمنوں اور اُن کے پیدائشی بلندی و پستی والے  غیر انسانی  اور غیر اسلامی منو وادی نظام کا حال کیا ہوتا ؟

برہمنوں نے ہماری اِسی کوتاہی  اور غفلت کو غنیمت جانا  اور انگریزوں کی بھارت آمد کواپنے لیے فال نیک سمجھتے ہوئے اس کا پورا پورا فائدہ اٹھایا۔  اُنہوں نے انگریزوں کا ساتھ اسی لیے دیا کہ وہ خوب  سمجھ رہے تھے کہ یہ مسلمانوں کی طرح یہاں جم کے رہنے والے نہیں ، ایک دن بوریا بستر لپیٹ کر چلتے بنیں گے تو اس وقت ملک کا اقتدار دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں جانے کے بجائے ہم’ سُوَرن ہندوؤں ‘ یعنی نام نہاد اعلیٰ ذات والے برہمنوں ٹھاکروں اور بنیوں ، کے پاس آئے۔  سو وہی ہوا۔   اگر مسلمانوں نے اپنے طویل دورِ اِقتدار میں وہ کیا ہوتا جو اُن کا دینی اور  منصبی فرض بھی  تھا تو 1940 کی دہائی میں ملک کی تقسیم کا نعرہ بلند ہی نہ ہوتا کیونکہ مسلمانوں کی مجموعی تعداد ویسے ہی  ملک میں ساٹھ فی صد سے زیادہ ہوتی۔  لہٰذا برہمن بنیا قیادت  نے خود ہی ایسے حالات پیدا کیے کہ مسلمان جاہلانہ مطالبے کریں اور وہ اسے قبول کر کے بھارت  کو جلد یا بدیر اپنی مرضی کے ہندو راشٹر میں تبدیک کر سکیں ۔   انہوں نے اس کے لیے جو بیج بوئے تھے  طویل مدتی منصوبہ بندی کی تھی، آج وہ اُسی کی فصل کاٹ  رہے ہیں ۔   ہم منصوبہ بندی کی ابجد سے بھی ناواقف ہیں ۔  آج بھی چیخنے چلانے اور مطالبے کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کر رہے ہیں ۔

اب بھی وقت ہے۔   سنگھ پریوار تو 2019 کے بجائے 2018 ہی میں لوک سبھا کا  الکشن کرا دینا چاہتا ہے بلکہ وہ اسی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔  کیونکہ پانچ ریاستوں کے انتخابات 2018 ہی میں ہونا ہیں ۔ہم اگر اپنے مسلکی تفرقوں کو تج کر آج بھی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور صرف اپنے لیے نہیں ملک کے سبھی دبے کچلے ہوئے لوگوں کے حقوق کی بازیافت کے لیےکھڑے ہوجائیں اور  دلتوں ، آدیباسیوں ، اور دیگر پسماندہ طبقوں کے ساتھ مل کر ہر طرح کی نا انصافی اور ظلم کے خلاف جہاد کو اپنا مشن بنا لیں تو  اللہ کی تو سنت ہی یہ  ہے کہ کسی کے چھوٹے سے چھوٹے نیک عمل کو بھی ضایع نہیں ہونے دیتا اور وہ ظالموں کا نہیں صابروں اور دبے کچلے ہوئے لوگوں کا ساتھ دیتا ہے ! فھل من مدکر ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close