سیاستہندوستان

2019 الیکشن اور ہماری حکمت عملی!

نازش ہما قاسمی

جیسے جیسے لوک سبھا الیکشن قریب آتا جارہا ہے ملک کی سیاست میں تیزی آتی جارہی ہے، مودی حکومت اپنے ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں کچھ کر تو نہیں پائی، تمام وعدے جوں کے توں برقرار ہیں، کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا ؛ لیکن عین الیکشن سے قبل ملک کے ہندوؤں مسلمانوں کو بانٹنے کی سازش شروع ہوگئی ہے، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار کا الیکشن ترقی وکاس روزگار اور تعلیم کے نام پر نہیں لڑا جائے گا؛ بلکہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈال کر مندر مسجد کے نام پر لڑا جائے گا اور اس لڑائی کی شروعات ہوچکی ہے، بابری مسجد کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر بحث ہونے کے باوجود حکمراں پارٹی کے اعلی لیڈران اس پر بیانات دے رہے ہیں، رام مندر کی تعمیر کا اعلان کررہے ہیں، اس کی حتمی تاریخ تک بتا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ملک کا مسلمان سپریم کورٹ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمہوری اقدار کی پاسداری کررہا ہے کہ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہو ہمیں قبول ہے ؛ لیکن اکثریتی طبقہ سپریم کورٹ کو جوتیوں کی نوک پر رکھ رہا ہے، سپریم کورٹ کو سپریم کوٹھا کہہ رہا ہے، یہی الفاظ اگر مسلمانوں کی زبان سے نکلے ہوتے تو انہیں غدار وطن قرار دیا جاتا، توہین عدالت کا مجرم کہا جاتا؛ لیکن اکثریتی طبقے کی زبان سے نکلا ہے اس لیے اس پر بحث نہیں۔۔۔۔۔خیر مسلمانوں کو اس موقع پر جذبات میں آنے کے بجائے انتہائی مدبرانہ طریقے سے آگے کی حکمت عملی طے کرنی ہے، فرقہ پرست پارٹیوں کا ذہن ہی یہی ہے کہ ہندو مسلم کے درمیان نفرت کی خلیج کو مزید گہرا کیا جائے، انہیں ایک دوسرے سے دور کیا جائے؛ تاکہ نفرت کی بنیاد پر ہم اس الیکشن کو جیت جائیں؛ لیکن ہمیں ایسا نہیں ہونے دینا ہے، ہمیں ہر حال میں جمہوریت کی پاسداری کرنی ہے اگر ہم ان فرقہ پرستوں کو روکنے میں کامیاب ہوگئے، ان کے مقاصد پر قدغن لگانے میں کامیاب ہوگئے تو پھر الیکشن میں ان کی ہار یقینی ہے۔

ابھی ملک انتہائی کسمپرسی کے عالم میں ہے، روزی و روزگار کے مواقع ختم ہورہے ہیں، کسان مجبور، تعلیم یافتہ نوجوان نوکری سے دور ہے، ان سب مدّعوں پر حکومت کو گھیرا جائے، ملک کو اسٹیچو اور مندر کی ضرورت نہیں، اسے تعلیم و روزگار کی ضرورت ہے جو یہ حکومت دینے سے انکاری ہے۔۔۔۔؛ اس لیے ہمیں ان فرقہ پرستوں کو روکنا ہے انہیں کسی بھی حال میں اقتدار میں نہیں آنے دینا ہے، ملک کے نوجوانوں کو شعور سے کام لینا ہوگا، ہندو مسلم آپسی بھائی چارے کو فروغ دینا ہوگا، ملک کی اکثریت سیکولر ہے یہ گنے چنے فرقہ پرست ہیں ، ہمیں پوری شدت سے لڑنا ہوگا۔۔۔کانگریس صدر راہل گاندھی مسجد مندر کی سیاست سے دور ہوکر فی الحال بی جے پی کی ناکامیوں کو گنوار ہے ہیں، ان کے ذریعے کئے گئے گھوٹالوں کو اجاگر کررہے ہیں جس سے مودی حکومت میں بے چینی ہے، رافیل گھوٹالے نے آنکھ کی نیندیں اڑادی ہیں، اگر راہل گاندھی کی یہی مدبرانہ حکمت علی رہی اور اسی طرح اس حکومت کو گھیر کر سوال کرتے رہے تو رائے عامہ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے، عوام کے ذہنوں کو اپنی طرف پھیرا جاسکتا ہے۔

۲۰۱۹ کے لیے ہمیں انتہائی دانشمندی کا ثبوت دینا ہوگا یہ لوگ ہر حال میں ہمیں لڑانا چاہتے ہیں، نفرت کی ایک دیوار کھڑی کی جاچکی ہے، جہاں اکثریتی فرقے سے تعلق رکھنے والا  بچہ بھی نفرت کی آگ میں جھلس رہا ہے؛ حالانکہ ان کی تعداد کم ہے؛ لیکن کم ہونے کے باجود حکومت ان کے ہاتھوں میں ہے، اس لیے وہ ظلم کرنے سے خوف نہیں کھارہے ہیں، ہمیں نفرت کی دیواروں کو گرانا ہے، فرقہ پرست ملک میں ۱۹۹۲ جیسے حالات پیدا کرنا چاہ رہے ہیں ۱۹۹۳ جیسے حالات سے سبھی واقف ہیں اس میں سینکڑوں جانیں تلف ہوئیں، کروڑوں کی املاک تباہ کردی گئیں، نقصان  صرف اور صرف ملک کا ہوا، اب پھر یہ فرقہ پرست چاہتے ہیں کہ وہی حالات دوبارہ لائے جائیں اور ہندو مسلم کو آپس میں بھڑا دیا جائے؛ تاکہ ملک میں فسادات ہوں اور ہم لاشوں پر جھوٹی ہمدردی کرکے مندر مسجد کے نام پر اقتدار پر دوبارہ قابض ہوجائیں۔۔۔ایک طرف دیکھنے میں آرہا ہے کہ فرقہ پرست متحد ہیں، اپنے عزائم کی تکمیل میں ذات پات سے دور ہوچکے ہیں، صرف اور صرف ہندوتوا کے بینر تلے اپنی سیاست کررہے ہیں، وہیں مسلمان منتشر ہیں، کانگریس، ایس پی، بی ایس پی، ترنمول آپ اور مجلس وغیرہ جیسی علاقائی پارٹیوں میں بٹے ہوئے ہیں،  ابھی کچھ وقت ہے، کانگریس کے بینر تلے متحدہ محاذ بنایا جائے تب ہی بی جے پی کو روکا جاسکتا ہے، کانگریس کو اعلی ظرفی کا ثبوت دینا چاہئیے اور علاقائی پارٹیوں سے گفت و شنید کرکے ان کو متحدہ محاذ میں شامل کرنا چاہیئے، اگر اس طرح ہوجاتا ہے تو فرقہ پرستوں کی ہار یقینی ہے۔۔۔بہار الیکشن میں جس طرح محاذ بنا تھا بی جے پی تمام تر کوششوں کے باوجود ہار گئی تھی وہ تو نتیش مکھوٹے کی وجہ سے پھر اقتدار میں آگئی ویسے ہی اتحاد کی ضرورت ہے، یوپی الیکشن میں جو ایس پی اور کانگریس کا اتحاد ہوا تھا اگر پہلے ہوتا اور اس اتحاد میں بی ایس پی کو بھی شامل کیا گیا ہوتا تو اتحاد کی جیت یقینی تھی۔

خیر اب بھی بہت وقت ہے، ملکی سیاست کو ہندو بنام مسلم، مندر بنام مسجد سے دور کرکے صرف اور صرف ملک کی ترقی کے نام پر لڑا جائے، جو بھی ہندو مسلم کارڈ کھیلے اس کا بائیکاٹ کیا جائے اور ایسی پارٹی کو ووٹ دیا جائے جو سیکولر ازم کی حامی ہو، اس سیکولرازم کے تحفظ کے لیے کانگریس کو آگے آنا ہوگا اور متحدہ محاذ کے قیام کے ساتھ لڑنا ہوگا تمام علاقائی پارٹیاں ان کا ساتھ دیں ، راہل کے ہاتھ کو مضبوط کریں اور ملک میں جاری فرقہ پرستی کی جنگ کو روکیں؛ ورنہ اگر بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آئی تو جس طرح ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں غربت بے روزگاری خواتین کی بے حرمتی اور اقلیتوں پر ظلم و ستم  کا گفٹ دیا ہے آئندہ کے پانچ سال بھی اس کی نذر ہوجائیں گے اور آپ مزید ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے ، فرقہ پرست صرف سیاست کے بھوکے ہیں انہیں  ہندوؤں سے بھی ہمدردی نہیں ہے، بس اپنی سیاست کے لیے ان کا استعمال کررہے ہیں اور انہیں نفرت کی آگ میں جھونک رہے ہیں پھر مطلب نکلنے کے بعد وہی بے روزگاری وہی بھکمری ان کا مقدر ہے؛ اس لیے ملک کی سالمیت اور جمہوری اقدار کی پاسداری کے لیے ہمیں متحد ہوکر فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔۔۔!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close