سیاستہندوستان

کیا حکومت کرنے کا طریقہ ایک ہی ہے؟

حفیظ نعمانی

چھتیس گڑھ میں  جہاں سی آر پی ایف کے 25  جوان قربان ہوئے یہ وہی جگہ ہے جہاں 2010 ء میں سی آر پی ایف کے 76  جوان قربان ہوچکے ہیں جن میں دو بڑے افسر بھی تھے۔ اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ نکسلیوں کا یہ ملک کے خلاف سب سے بڑا حملہ ہے اور اب بھی یہی کہا جارہا ہے کہ یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ ہی نہیں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی سکما کے حملہ کا ماتم کرنے کے لئے واردات کے مقام پر موجود ہیں ۔ 2010 ء میں کانگریس کے وزیر داخلہ سوشیل کمار شندے بھی اسی طرح پہونچے تھے۔ اور وہی سب کہا تھا کہ یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور ہم گن گن کر بدلہ لیں گے یا پورا ملک شہیدوں کے ساتھ ہے۔

ہم یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ ہم جاہل ہیں یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ جو 75  کلومیٹر سڑک بنائی جارہی ہے اور جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ نکسلیوں کے گڑھ میں پہونچ جائے گی اور اس کے بننے کے بعد وکاس کا کام تیز ہوجائے گا وہ اپنی یعنی ہندوستان کی زمین ہے یا نہیں ؟ اور جو نکسلی یا مائووادی اس سڑک کو جانے والوں کو چن چن کر مار رہے ہیں وہ دشمن ملک کے باشندے ہیں یا اپنے ملک کے ہی باشندے ہیں ؟ اگر اپنے ہی ملک کے باشندے ہیں تو وہ طریقہ کیوں نہیں اپنایا جاتا جو گوا کو اپنے قبضہ میں کرنے کے لئے اختیار کیا گیا تھا اور فوج کی پوری طاقت کے ساتھ حملہ کیا گیا تھا۔ جس میں ایک ہمارے دوست جو میجر تھے وہ وہاں سے بہت قیمتی سامان لے کر آئے تھے کہ یہ انعام ملا ہے اور اس کے بعد سے گوا اپنے قبضہ میں ہے۔

یہی بات ہم نے 2010 ء میں کہی تھی کہ چھتیس گڑھ کی سرحد نہ چین سے ملتی ہے نہ پاکستان سے پھر کیوں اس پورے اور اپنے جنگل کو آگ کا دریا بناکر ہر نکسلی کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاتا؟ جو تفصیل اب سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ کالی وردیوں میں 300  نکسلی تھے۔ دوپہر کو جب سنتری، مزدور اور جوان کھانے کے لئے کام روک رہے تھے اس وقت حملہ کردیا جس کے جواب میں ہمارے 150  جوانوں نے بھی فائرنگ کی اور ان کا دعویٰ ہے کہ پانچ یا چھ نکسلی مارے بھی گئے۔ جن کی لاشیں وہ لے گئے۔ لیکن حیرت کی بات کیا یہ نہیں ہے کہ وہ ہمارا انتہائی قیمتی فوجی اسلحہ رائفلیں مشین گنیں اور ہزاروں کارتوس لوٹ کر لے گئے۔ لوٹ کی کارروائی جنگ اور مقابلہ کے دوران ہوسکتا ہے ہمارے وزیر داخلہ نے سنی یا پڑھی ہو ہم نے تو جو تھوڑا پڑھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب ایک فریق ہار مان لیتا ہے تو دشمن لوٹ پاٹ کرتے ہیں ۔ آخر یہ کیسا مقابلہ تھا کہ ہمارے 150  جوان گولیاں بھی برسا رہے تھے اور نکسلی لوٹ کر ایک سے ایک قیمتی ہتھیار لے گئے اور ہمارے 25  جوانوں کو موت کی نیند سلاکر اپنے ساتھیوں کو وہ مردہ ہوں یا زخمی لے گئے؟

آج کانگریس کے لیڈر کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کے پاس نکسلیوں سے مقابلہ کی کوئی اسکیم نہیں ہے۔ یہ وہی کانگریسی ہیں جن کی حکومت میں ایک بار 76  اور تھوڑی تھوڑی تعداد میں ہر مہینہ تابوت سجائے جاتے تھے۔ اور ہر مرتبہ اعلان کیا جاتا تھا کہ اب بہت ہوگیا اب برداشت نہیں کیا جائے گا اور پھر وہی کہانی دہرائی جاتی تھی انتہا یہ ہے کہ ان کی پوری قیادت کو آبادی میں گھس کر ختم کردیا اور اس کے انتقام میں بھی انہوں نے ہوائی فوج سے حملہ نہیں کیا۔

ہندوستان نے پاکستان جیسے ایٹمی ملک کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کے ذریعہ ان کے گھر میں گھس کر اپنے دعوے کے مطابق ان کے دہشت گردی کے کئی ٹھکانے نیست و نابود کردیئے لیکن نکسلیوں اور مائو وادیوں کی گولیوں سے اپنے جوان بھی مروادیئے اور لاکھوں روپئے کا اسلحہ بھی لٹوا دیا اور 75  کلومیٹر اپنے ہی علاقوں میں سڑک نہ بنا سکے اور اب نہ جانے کتنے دنوں  تک اس سڑک کو بنانے کے لئے نہ مستری اور مزدور ملیں گے اور نہ سی آر پی ایف کے جوان اپنی نگرانی میں اسے بنوانے کی ہمت کریں گے۔ جو لوگ حکومت چلا رہے ہیں ان کا حال تو وہ جانیں لیکن 50  گھر ایسے ہیں جہاں اب ہفتوں کسی کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں آئے گی اور 25  بیوائیں ، ان کے ماں باپ اور وہ معصوم جنہوں نے ابھی کچھ نہیں دیکھا ان کی پوری زندگی محرومی میں کٹے گی۔

وہ جوان جن کی جان چلی گئی وہ نوکری کرنے آئے تھے قربانی دینے کے لئے نہیں آئے تھے۔ کیونکہ وہ فوج نہیں نیم فوجی دستے کے رکن تھے وزیر داخلہ اور چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ نے قربانی اور انتقام دو لفظ رٹ لئے ہیں ۔ انتقام وہ ہوتا ہے جو ہمارے ملک کے فوجیوں نے دہشت گردی کا لیا اور پاکستان میں گھس کر مارا بھی اور تباہ بھی کردیا۔ چالیس برس کانگریس انتقام انتقام کا ڈھول بجاکر چلی گئی اور اب مودی سرکار انتقام انتقام کررہی ہے اور کوئی خبر نہیں آتی کہ فوج کی پوری طاقت ٹینکوں کے ذریعہ جنگل صاف کرنے اور ہوائی فوج آسمان سے گولے برسانے کے لئے روانہ کردی گئی۔ نکسلیوں کے ہاتھوں اب تک 10  ہزار سے زیادہ جوان اور نہ جانے کتنی گاڑیاں بارودی سرنگ کا شکار ہوچکی ہیں اور صرف چھتیس گڑھ نہیں جھارکھنڈ، بنگال اور نہ جانے کس کس صوبہ میں نکسلیوں نے خون بہایا ہے لیکن ایک بار بھی انتقام کے لئے حملہ نہیں کیا جیسے وہ سب پہلے کانگریس کے داماد تھے اور اب مودی سرکار کے داماد ہیں ۔

8 نومبر کو نوٹ بندی کے اعلان سے پورا ملک الٹ پلٹ ہوگیا تھا اور نہ جانے چھ مہینے گذرنے کے بعد بھی ابھی کتنے ایسے ہیں کہ ان کی کمر سیدھی نہیں ہوئی۔ اور وہ نکسلی جو نہ آبادی میں ہیں نہ بینکوں سے ان کا رابطہ ہے وہ فروری میں بھی حملہ کرکے 12  جوانوں کو موت کی نیند سلاچکے ہیں اور اب اپریل ختم ہوتے ہوتے انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ نہ صرف حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں بلکہ 25  کو جان سے مار دینے درجن بھر کو زخمی کردینے اور اس کے بعد سارا اسلحہ اور گولہ بارود لوٹ کر لے جانے کی بھی طاقت رکھتے ہیں ۔ ہماری سی آر پی ایف کے افسروں نے جو رائفل کے کارتوس دکھائے وہ بہت دور تک مارکرنے والی انتہائی اعلیٰ قسم کی رائفلوں کے ہیں ۔ اور جو وہ ہمارے ملک کا سامان لوٹ کر لے گئے وہ بھی اس سڑک کو روکنے کے کام آئے گا اور اس سب کے بعد اگر جوابی حملہ نہیں کیا تو اس کا خطرہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اب سی آر پی ایف کے جوان کہیں یہ نہ کہہ دیں کہ مقابلہ کے لئے فوج کو لگائے۔ یہ بات اب عام ہوگئی ہے کہ نامردوں کے ہاتھوں مرنے سے عاجز آکر استعفیٰ دینے اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کے واقعات بہت بڑھ گئے ہیں ۔ اب اگر جان کے خوف سے بھرتی سے دلچسپی ختم ہوگئی تو کتنی خطرناک بات ہوگی؟

یہ بات ہم جیسے عام آدمیوں کے جاننے کی نہیں ہے کہ وزیر داخلہ نے دس دن کے بعد ان تمام ریاستوں کے وزیر اعلیٰ کو کیوں دہلی بلایا ہے جہاں جہاں نکسلی اور مائووادی جڑیں جمائے ہوئے ہیں ؟ اس وقت اور اس سے پہلے بھی سب سے زیادہ چھتیس گڑھ ان کا نشانہ رہا ہے۔ ان ریاستوں میں جہاں سے کسی واردات کی کوئی خبر نہیں ہے ان کو اس وقت بلانے سے وہ کس فائدے کی امید کررہے ہیں ؟ کیا یہ اچھا نہ ہوتا کہ وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ ترکی بہ ترکی جواب کی تیاری کرتے اور جن گھروں میں ماتم برپا ہے بڑے چھوٹے سب گردن ڈالے پڑے ہیں یہ خبر سن کر کہ حکومت نے فوج سے حملہ کردیا ہے۔ اٹھ کر بیٹھ جاتے 2010 ء میں جب 76  جوان مارے گئے تھے تو مسٹر چدمبرم سے پریس والوں نے بار بار معلوم کیا تھا کہ اس فساد کی جڑ کو اس کی جڑ سے اکھاڑنے کے لئے کیوں نہیں سوچا جاتا؟ اس وقت انہوں نے دبے دبے کچھ ایسے الفاظ کہے تھے کہ جن ریاستوں میں یہ عذاب ہے وہاں کی حکومت اجازت نہیں دیتی۔ اب یہ کیوں کہا جارہا ہے کہ خون رائیگاں نہیں جائے گا اور انتقام لیا جائے گا۔ اگر انتقام لینا ہے تو بی جے پی کی چھتیس گڑھ حکومت ہری جھنڈی دکھادے۔ ورنہ میٹنگ بلانا اور تاریخ پر تاریخ تو کانگریس بھی ڈالا کرتی تھی تو فرق دونوں میں کیا ہوا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close