ہندوستان

آزادی، قربانی اور فراموشی

عزیر احمد

پندرہ اگست، آزادی کا دن…ہمارے پیارے ملک کی آزادی کادن، جب یہ دن قریب آتا ہے، ہمارے دل و دماغ میں خوشی اور مسرت کا شادیانے بجنے لگتے ہیں، ذہنوں پہ نغمگی اور موسیقیت چھاجاتی ہے، ہر طرف خوشیوں کی لہر دوڑ جاتی ہے. مگر اس کے باوجود ایک چیز رہ رہ کے دل میں کچوکے لگاتی ہے، دکھ اور تکلیف کا احساس جگاتی ہے وہ ہے "مسلم مجاہدین کو بھلا دیا جانا، اس موقع پہ ان کو ذکر نہ کرنا، ان کو یاد نہ کرنا”…جب جب پندرہ اگست قریب آتا ہے، اخبارات و رسائل مجاہدین کے کارناموں سے بھرے پڑے نظر آنے لگتے ہیں، ان کی جذبہ حب الوطنی، ان کا مجاہدانہ کردار، ان کی بے خوفی کی جگہ جگہ باتیں ہونے لگتیں ہیں، سب کی باتیں ہوتیں ہیں مگر مسلمانوں کے ذکر کو گل کردیا جاتا ہے، ان کے کارناموں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے، بھگت سنگھ کے پھانسی کی بات ہوتی ہے، مگر اشفاق اللہ خاں کو بھلا دیا جاتا ہے، جنگ آزادی میں مراٹھوں کے کردار کے بارے میں باتیں کیں جاتیں ہیں، مگر سلطان ٹیپو کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے، جن کے ذکر کے بغیر آزادی کی تاریخ ادھوری ہے، گاندھی، نہرو، پٹیل، رانی لکشمی بائی وغیرہ کے بارے میں باتیں کی جاتیں ہیں، مگر علمائے صادق پور، علمائے دیوبند، علمائے اہلیحدیث، خاندان ولی اللہی، علی برادران کا ذکر تک نہیں کیا جاتا، سب سے بڑھ کر یہ کہ آزادی کے روح رواں، مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار ہند بہادر شاہ ظفر کے بارے میں باتیں نہیں کی جاتیں جن کے قلعے پہ کھڑے ہوکے ہندوستان کا وزیر اعظم آزادی کا جشن مناتا ہے، اور اپنی باتیں عوام تک پہونچاتا ہے..

جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ایک عظیم الشان تاریخ رہی ہے، ان کے کارناموں سے کتب خانے بھرے پڑے ہیں، اس ملک کا ذرہ ذرہ ان کے ناقابل فراموش جدو جہد کا عینی شاہد ہے، اس کا انکار کرنا جنگ آزادی کے انکار کے مترادف ہے، صرف صادق پور کے ہی کارنامے ایسے ہیں کہ ان کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسری پلڑے میں پورے ملک کے لوگوں کی کی قربانیوں کو، تو بھی ان کی قربانی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ جواہر لال نہرو نے خود اعتراف کیا تھا….لیکن آج مسلمانوں کے قربانیوں، ان کے جدو جہد کو لوگوں کے ذہنوں سے مٹایا جارہا ہے، تاریخ کے صفحات میں ان کے روشن نقوش پہ سیاہی کے چادر چڑھائے جارہے ہیں، نصاب تعلیم سے ان کا ذکر حذف کیا جارہا ہے، اخبارات کی سرخیوں میں ان کی قربانیوں کو جگہ نہیں دی جارہی ہے، اس ملک کے تئیں ان کی محبت، ان کا جذبہ، ان کی جانثاری و جانفروشی کو فراموش کیا جارہا ہے، اور اس کام میں کسی نہ کسی طریقے سے مسلمان بھی شامل ہیں، انہیں خود اپنی تاریخ نہیں پتہ، انہیں اپنے شاندار ماضی کی کچھ سوجھ بوجھ نہیں، انہیں اپنی قربانیاں یاد نہیں، انہیں کالا پانی کی سزائیں یاد نہیں، تو پھر دوسرے کیوں یاد رکھیں گے، انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ غیر قوم کی تاریخ کو سنبھال کے رکھیں، یاد رہے کہ جو قوم اپنا رشتہ اپنے ماضی سے توڑ لیتی ہے، اس کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، کسی بھی قوم کے زوال کے لئے کافی ہے کہ اس کے افراد اپنے ہی تاریخ سے منہ موڑ لیں، تاریخ قوت عمل کے لئے مہمیز کا کام دیتی ہے، اور اپنے اجداد کے ناتمام کاموں کو مکمل کرنے پر ابھارتی ہے، تاریخ مستقبل کا آئینہ دار ہوتی ہے، اس کے ذریعہ قوموں کے عروج و زوال طے کئے جاتے ہیں .

آج آر.ایس.ایس اور سنگھ پریوار کے لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ذکر کو تاریخ سے نکال دیا جائے، اس کے لئے وہ پالیسیاں بنا رہے ہیں، نصاب تعلیم میں تبدیلی کررہے ہیں، وہ ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی تاریخ کا وہی حشر کرنا چاہتے ہیں جو اسپین میں ہوا، مسلمانوں نے اسپین میں آٹھ سو سال حکومت کی، یوروپ کو علم و ترقی کی راہ دکھائی، روشنی کی لہریں پھیلائیں، مگر آج اسی ملک کی تاریخ میں ان کا ذکر بہت کم ہوتا ہے، مکمل طریقے سے بھلادیا گیا کہ کبھی اس ملک پہ مسلمانوں نے بھی حکومت کی تھی، اور تمدنی ترقی کے منازل طے کئے تھے…وہی پالیسی آج ہندوستان میں بھی اپنائی جارہی ہے، مسلمانوں کو ذہنی طور پہ مفلوج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ماضی سے ان کے تعلق کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اور ہم مسلمان ہیں کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں، اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے نہ ہمارے پاس کوئی لائحہ عمل ہے نہ کوئی ٹھوس سوچ.

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود اپنے تاریخ سے واقفیت حاصل کریں، اپنے بچوں کو بھی اس سے روشناس کرائیں …انہیں آباء واجداد کے قصے سنائیں، ان کی قربانیوں کو گنائیں، تاکہ انہیں احساس کمتری کا شکار نہ ہونا پڑے، انہیں یہ سوچنے پہ مجبور نہ ہونا پڑے کہ مسلمانوں نے اس ملک کو کچھ نہیں دیا، ان کے ذہنوں میں یہ زہر نہ ڈالا جاسکے کہ مسلمان لٹیرے اور ڈاکو تھے، اس ملک کے زرو جواہرات کو لوٹنے آئے تھے، بلکہ وہ بھی فخر سے اپنے آباء اجداد کے کارنامے گنا سکیں، ان کی کامیابیوں کو بیان کرسکیں اور یہ کہہ سکیں …اولئك آبائی فجئنی بمثلهم.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عزیر احمد

Student of Arabic language and litreture at Jawaharlal Nehru University, New Delhi.

متعلقہ

Back to top button
Close