ہندوستان

آزادی نام ہے فکر و عمل کی آزادی کا

مقبول احمد سلفی

آزادی کیا ہے؟ سوچ کی آزادی، عمل کی آزادی۔ اگر کسی کی سوچ پہ پابندی ہوتو قید سے باہر ہوتے ہوئے بھی قید ہے اور سوچ وفکر کے اعتبار سے جو آزاد ہو اسے کبھی قیدی نہیں کہیں گے۔ اس  پیرگراف کی کیا ہی عمدہ ترجمانی درج ذیل شعر میں کی گئی ہے۔

کاٹ کر زباں میری کہہ رہاہے یہ ظالم

اب تجھے اجازت ہے درد دل سنانے کی

اسی طرح عمل کا بھی معاملہ ہے۔ عمل کے دائرے میں ذاتی، عائلی، معاشرتی، معاشی، مذہبی، حکومتی ہر قسم کے کاز داخل ہیں ۔ کسی بھی وطن میں ایک محب وطن کو ان تمام آزادیوں کی سہولیت میسر ہونی چاہئے جن کی انہیں ضرورت ہے خواہ نظام جمہوری ہو یا بادشاہی یا پھر کوئی اور۔ اور عموما پورے عالم میں جمہوری نظام ہی رائج ہے جس میں قانونی اعتبار سے ہرشخص کو اتنی ہی حیثیت ہے جتنی کہ دوسرے کو۔ یہاں امیروغریب کا فرق، استاد وشاگرد کا فرق، عوام وخواص کا فرق، کالے گورے کا فرق، چھوٹے بڑے کا فرق اور پڑھے وانپڑھ  کا فرق بالکل نہیں ہے۔ بس فرد کو گنا اور شمار کیا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے اس بات کی کیا خوب ترجمانی کی ہے۔

جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

کسی بھی جمہوری ملک میں دستور جمہوریت کے اعتبار سے ذات وپات کا فرق کرنا، رنگ ونسل کے ساتھ امتیاز برتنا، مذہب کے نام پہ بٹوارے کرنا، سماج وسائٹی کے امیر وغریب کے درمیان فرقت کی خلیج پاٹنا، عوام ولیڈر کے درمیان اونچی دیوار قائم کرنا  جرم گردانا جانا چاہئے۔ اس جرم کا جو بھی ارتکاب کرکے اس کے ساتھ بغیر امتیازبرتے دستور کے عین مطابق سزا دینی چاہئے مگر آزاد جمہوری ممالک میں ہوتا یہ ہے کہ غنڈا سے غندا شخص انتجاب جیتنے کے لئے غریب ومسکین کے گھر گھر جاتا ہے، اس کے بچوں سے پیار کرتاہے، بوسیدہ گھر میں زمین پر بیٹھ کر بھکاری کی طرح ووٹ کی اپیل کرتا ہے اور جب یہ لوگ ان کے دم پر جیت جاتے ہیں تو پھر ان کی حکومت میں سے کسی کو انکاؤنٹر کے نام پر قتل کیا جاتاہے، کسی کو بلاثبوت کے دہشت گردی کے الزام میں سالوں جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے، کسی کو مذہب کے نام پر لڑا یا جاتا ہے تو کہیں ذات وپات اور کہیں رنگ ونسل کو مدعا بناکر عوام کو بٹوایا جاتا ہے غرض ان کے درمیان قتل وخون کا گھناؤناکھیل کھیلا جاتا ہے۔

یہ کھیل کون کھیلتا ہے ؟ سیاسی لیڈر، مجرم کی پشت پناہی کون کرتا ہے ؟ عدالت اور منصف، مذہب کے نام پر لوگوں میں قتل عام کون کرواتا ہے ؟ سیاسی حکمراں، نیتا، دوٹکے کا لیڈر جسے انہی مقتول و مظلوم نے اپنے ووٹ سے لیڈر بنایا ہے۔ جمہوری ملک میں کوئی ایسا مائے کا لال نہیں جو عوام کے ووٹ کے بغیر جیتا ہو، ممکن ہی نہیں پھر جیت کے بعد یہ حکمراں بدل کیوں جاتے ہیں ؟

ووٹ مانگنے کے لئے غریب کے گھر آنے والا آج اس کے بچے کا آپریش ہے پچیس پچاس ہزار روپئے چاہئے کیوں مدد کے لئے اس کے گھر نہیں آتا؟ کیا اس کے گھر کا راستہ بھول جاتا ہے ؟

عوام کے ووٹ سے جیتنے والالیڈر کیوں لوگوں کو مذہب کے نام پر لڑاتا ہے جبکہ ووٹ حاصل کرنے میں کسی کا مذہب نہیں دیکھا، کیا انہیں اس بات کا پتہ نہیں ہے ؟

جب کسی جمہوری ملک میں حقوق کی بات کی بات جاتی ہے تو انصاف کے نام پر ووٹ مانگنے والے یہی حکمراں اہل وطن کے درمیان ناانصافی کا بیج بوتے ہیں، کیا یہی جمہوریت، انصاف اورآزادی کا مطلب ہے ؟

اہم سوال یہی ہے کہ ہم عوام کو ووٹ کے وقت  بھروسہ دینے والے، دلاسہ دینے والے، حقوق دینے والے، مطالبہ پورے کرنے والے، نوکریاں، وظائف اور آزادی دینے والے ہمیں بھول کیسے جاتے ہیں ؟ وہ ہمارے لئے یکسر بدل کیوں جاتے ہیں ؟ وہ ہمارے ساتھ انصاف کرنے کی بجائے زیادتی کیوں کرتے ہیں ؟ ناحق ہمارا خون کیوں کرتے ہیں ؟ بغیر جرم کے ہمیں جیل کی سزا کیوں دیتے ہیں ؟ ہماری عورتوں کی عزتوں کو پامال کیوں کرتے ہیں ؟  ہماری غربت وافلاس مٹانے کی بجائے اس پہ طنز بلکہ اس سے فائدہ کیوں اٹھایا جاتا ہے؟ ہمارے زخموں پر مرہم لگانے کی بجائے اس پر نمک کیوں چھڑکتے ہیں ؟

ان سوالوں کا جواب یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ یہ بات صرف ہندوستان ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ ہرجمہوری ملک میں مسلمانوں کے ساتھ کافروں، یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکوں کا یہی شیوہ ہے۔

ان سوالوں کے ساتھ کیا کوئی ہندوستانی مسلمان کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں آزاد ہیں جبکہ ہماری سوچ وفکر کے ساتھ عمل پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ نہیں، ہرگز نہیں، کوئی مسلمان اپنے آپ کو آزاد نہیں کہہ سکتا ہے۔ اس لئے بلاجھجھک یہ کہیں گے ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد تو ہوگیا مگر ملحدوں اور کافرومشرک کی غلامی سے آزاد نہیں ہے۔

آج ملک ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کی مکمل شازش چل رہی ہے، قتل عام اور نسل کشی کے ذریعہ ہماری آبادی ختم کی جارہی ہے، ہندوانہ رسومات وعقائد کی انجام دہی پر مجبور کیا جارہاہے، ہمیں اپنے مسلم پرسنل لا پر عمل کرنے سے روکا جارہا ہے۔ مساجد ومدارس اور اذان ونماز کو دہشت گردی باور کرایا جاراہے، پرامن اہل وطن مسلمانوں کی شہریت ملغی کی جارہی ہے، امن کے داعی اور مبلغ پر دہشت گردی کے مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔

دوسری طرف دہشت گردی کرنے والے اور پھیلانے  محب وطن، امن پسند، ملک کے نگراں، عدالت وانصاف کے محافظ اور قوم ووطن کے اصل ٹھکیدار کہے جارہے ہیں۔ ہاتھ میں بندوق وتلوار ہے پھر بھی دہشت گرد نہیں، بدن پہ معصوموں کے خون کے دھبے ہیں پھر باعزت بری ہیں، کھلے عام بیچ سڑکوں پر مل کر مسلمان کو بے رحمی سے قتل کیا جاتا ہے پھر بھی کوئی بات نہیں، مسلمان لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کرکے اور درندگی کے ساتھ قتل کرکے پھیک دیا جاتا ہے پھر بھی یہ ملک کے محافظ ہیں ان کا کوئی جرم جرم نہیں عین امن وشانتی ہے۔

ان سب باتوں کے پس منظر میں یہ جان سکتے ہیں کہ  ہمارا ملک آزاد نہیں ہے، ہم آزاد نہیں ہیں۔ ہماری سوچ پابند سلاسل ہے، ہمارا اسلامی طرزعمل کافروں کے یہاں پابندحکومت وعدالت ہے۔ جب ہم آزاد نہیں تو پھرسے ہمیں ایک بار آزاد ہونے کی ضرورت ہے، پھر سے ملک کی سالمیت  اور اہل ملک کے تحفظ کے لئے اصل لٹیروں سے لڑکر آزادی حاصل کرنےکی ضرورت ہے۔ کب تک ہاتھ پہ ہاتھ دھرے مار کھاتے رہیں گے، اپنی عزتیں نیلام کرتے رہیں گے، اپنے حقوق ومراعات سے محروم ہوتے رہیں گے، اپنے مذہب کا خون بہتے دیکھتے رہیں گے ؟

آج تمام مسلمانوں کو  ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ کفر کی ساری طاقتیں ہمارے خلاف یکجا ہوچکی ہیں۔ جب تک ہم متحد نہیں ہوں گے انتشار کے نقصان سے ابھر نہیں سکتے۔ جس طرح مل کر وطن کو انگریزوں سے آزاد کیا تھا اسی طرح ملکر باطل طاقتوں سے مقابلہ کرکے اپنی آزادی حاصل کرسکتے ہیں اور یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہےکہ جب تک ہم مسلمان آزاد نہیں ہوں گے کبھی ملک میں امن نہیں رہے گا۔ امن کے اصل پیغامبر صرف اور صرف مسلمان ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close