ہندوستان

آنے والے الیکشن کی تصویر

حفیظ نعمانی
کانگریس کے بڑے ناموں میں سلمان خورشید بھی ایک نمایاں نام ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ دو سال پہلے جب کانگریس بری طرح ہاری ۔اسکے بعدسے انکی آواز نہیں سنی گئی ۔وہ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں اور سب سے بڑی عدالت میں مقدمہ کی تیاری بھی بہت وقت مانگتی ہے ۔2012میں اتر پردیش کے الیکشن میں انہوں نے اپنی بیگم کو کھڑا کیا تھا۔ اس وقت وہ وزیر خارجہ تھے ۔انھوں نے انکا الیکشن ایسے ہی لڑایا جیسے کو ئی بھی بیوی سے محبت کرنے وا لا لڑائے ۔اس وقت مسلمانوں کو ساڑھے 4فیصدی رزرویشن کا سونیا گاندھی نے اعلان کیا تھا ۔لیکن الیکشن کمیشن نے اس اعلان پر اعتراض کردیا کہ جب الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے ۔تو ایسا اعلان کیوں کیا گیا ؟اور سونیا نے کہہ دیا کہ الیکشن ختم ہو جائے تو مسلمانوں کو رزرویشن دیدیا جائیگا ۔سیاسی لیڈروں کی زبان سے جب الیکشن ختم ہونے کاجملہ نکلتا ہے تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ ہمیں جتادیں ۔؟اس وقت سلمان خورشید صاحب وزیر خارجہ تھے انہوں نے فرخ آباد میں اپنی بیوی کو جتانے کے لئے اعلان کردیا کہ میں مسلمانوں کو 9فیصدی رزرویشن دلاؤں گا۔انکا مقصد بھی صرف یہ تھا کہ یوپی گئی چولھے بھاڑ میں ۔میری بیگم کو جتادو ۔لیکن مسلمان اتنے بے وقوف نہیں رہے تھے کہ الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کے بعد ہونے والے رزرویشن اور وزیر خارجہ کے 9فیصدی رزویشن کو نہ سمجھتے ۔انھوں نے وہی کیا جو کانگریس انکے ساتھ 65برس سے کر رہی تھی ۔
دو سال کے بعد اچانک سلمان خورشید صاحب کی آواز سنی انھوں نے کہا کہ 2017کے اسمبلی انتخابات کے لئے 20-15دونوں میں پارٹی اہم اعلانات کریگی جس سے لوگ حیرت زدہ رہ جائیں گے ۔انھوں نے اہم بات یہ کہی کہ کانگریس کا مقابلہ بی جے پی سے ہے ۔ایس پی اور بی ایس پی مقابلہ میں نہیں ہیں ۔یہ بات انہوں نے اپنے نزدیک جس معنی میں کہی ہو۔ہمارے نزدیک بالکل صحیح کہا ہے کہ کانگریس کا مقابلہ بی جے پی سے ہے ۔یہ تو 20برس سے ہو رہا ہے ۔یہ ایسا ہی مقابلہ ہوتا ہے جیسے ورلڈ کپ میں کرکٹ کی دو ٹیموں کے درمیان ٹرافی جیتنے کا مقابلہ ہوتا ہے ۔اور جب یہ ختم ہوجاتا ہے اور جیت کا جشن منا کر اور لاکھوں روپے کا کپ اٹھاکر ایک ٹیم چلی جاتی ہے ۔تو نمبر 3اور 4کے لئے مقابلہ ہوتا ہے ۔ایسا ہی مقابلہ 20برس سے اتر پردیش میں ہورہا ہے کہ کبھی ملائم سنگھ کی تا ج پوشی ہو جاتی ہے اور کبھی مایاوتی کی ۔بعد میں اعلان ہوتا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی میں 3اور 4کا مقابلہ ہوا ۔اور وہ تین نمبرپر آیا اور وہ چار نمبر پر ۔
الیکشن لڑنے کا کام پارٹیوں کا ہے ۔لیکن لڑاتے وہ ہیں جو ووٹ دیتے ہیں ۔اور جو ووٹ دیتے ہیں وہ یہ دیکھتے ہیں کہ کس پارٹی نے کیا کیا؟اور یہ دیکھتے ہیں کہ اگر اس پارٹی کو ہم جتا دیں تو وہ کیا کیاکریگی ؟کانگریس کے پاس وہ کونسی فہرست ہے جسے وہ پڑھ کر سنائے کہ ہم نے کیا کیا ہے ؟اور وہ کس بل بوتہ پر کہے گی کہ ہم کیا کیا کریں گے ؟اور وہ کونسے اعلانات ہونگے جنہیں سن کر لوگ حیرت میں رہ جائیں گے ؟
1947کے بعد سے 1967تک اتر پردیش کے لوگوں نے صرف کانگریس کو ووٹ دئے تھے ۔اسکے بعد بھی1974میں اسکی حکومت بنوائی پھر 1990میں بھی حکومت بنوادی ۔لیکن کتے کی دم کی طرح وہ سیدھی نہیں ہوئی ۔پھر مجبور ہوکر بی جے پی کی حکومت بھی بنی اور اب کئی برس سے فائنل میں صرف ملائم سنگھ اور مایاوتی کی پارٹی آتی ہے ۔کبھی تاج ملائم سنگھ لے جاتے ہیں اور کبھی مایاوتی ۔
اس مرتبہ بی جے پی کو سب سے بڑا سہارا مرکزی حکومت کا ہے اور وزیر اعظم مودی کا ۔جوصوبوں کے الیکشن میں یہ بھو ل جاتے ہیں کہ انکی پارٹی ہارے یا جیتے وزیر اعظم وہی رہیں گے ۔اور اس صوبہ کا وزیر اعلی بھی اپنے منصوبوں کو لیکر انکی خدمت میں ہی آئیگا ۔اور انہیں وہ سب کڑوی یا کسیلی باتیں بھی یاد آئیں گی جو انتخابی جنگ کے دوران ہوئی تھیں ۔وزیر اعظم دہلی بہار بنگال کیرالہ اور تمل ناڈو کے زخم کھائے ہوئے ہیں ۔وہ اتر پردیش میں ہر قیمت پر اپنی حکومت بنانا چاہ رہے ہیں ۔ہو سکتا ہے انھوں نے صوبائی صدر موریہ کو اسی لئے بنایا ہو کہ وہ مایاوتی کی پارٹی کے با اثر لیڈروں کو توڑ کرلائیں اور وہ کم زور طبقے جو بی جے پی کو یا تو 1998میں ملے تھے یا بڑی تعداد میں 2014میں ملے جب انہوں نے سنا کہ اگر مودی جی کو وزیر اعظم بنا دیا جائے گا تو وہ صرف سودن کے بعد دنیا کے دوسرے ملکوں سے کالادھن دو لاکھ کروڑ روپے لے آئیں گے ۔اور انہیں عوام میں اس طرح تقسیم کریں گے کہ ہر کسی کے حصہ میں 15لاکھ روپے آئیں گے ۔
ملک میں وہ طبقے جنکی جھونپڑی میں دروازے بھی نہیں ہوتے ہیں اور انکے گھر میں نہ کبھی تالا آیا نہ چابی ۔انھوں نے کیسے کیسے خواب نہ دیکھے ہونگے ؟اور پکے مکان اور موٹر سائیکل اور بچوں کے اسکول کی خاطر انہوں نے انکھوں پر پٹی باندھی ۔اسکی سب سے بڑی سچائی ایک ایسے بابا برسوں سے دے رہے تھے جو صرف بابا رہنا چاہتے تھے ۔انکے کروڑوں ماننے والے تھے۔ لیکن وہ ہر دم کہتے تھے کہ میں نہ وزیر بنوں گا نہ پارٹی بناؤں گا ۔پورے ملک نے ملکر مودی سرکار تو بنوادی۔ لیکن انہیں کیا ملا اسے وہ دیکھیں گے اسکے بعد ووٹ دیں گے ۔اور ایک بڑا دھماکہ مودی سرکار نے یہ کردیا کہ ایک کروڑ مرکزی سرکار کے نوکروں کی تنخواہیں 20فیصدی اور بڑھادیں ۔یہ وہ نوکر ہیں جو ملک میں سب سے زیادہ عیش وآرام سے رہتے ہیں ۔جنہوں نے ٹی وی میں ان دو بڑے افسروں کو دیکھا ہوگا جن میں ایک کی تنخواہ ایک لاکھ سولہ ہزار دوسرے کی 89ہزار ہے ۔وہ دونوں حکومت سے ناراض ہیں کہ اس میں ہمارا کیا ہوگا ؟اب یہ کیوں نہیں ہوگا کہ 124کروڑ بھارتی امت شاہ اور مودی جی سے کہیں گے جن موٹے پیٹ والے ایک کروڑ کو اور موٹا کرنے کے لئے تنخواہیں 19فیصدی بڑھائی ہیں ۔ان سے ہی ووٹ بھی لے لو ۔
یہ ہر کوئی مانتا ہے کہ 70%فیصد آبادی گاؤں میں رہتی ہے ۔یہ بھی پورا ملک جانتا ہے کہ دو برس میں بے موسم بارش ،سوکھا اور اولوں نے ملک کے 70فیصد انسانوں کی کمر توڑ دی ہے ۔اور 20برس میں کسانوں نے اتنی خود کشی نہیں کی جتنی ان دو برسوں میں ہوئی ہے ۔اور کسان پردھان منتری کی طرف کیا دیکھیں ۔انہیں تو بس موٹے پیٹ والے دکھائی دیتے ہیں اس لئے وہ صرف اوپر والے کی طرف دیکھ رہے ہیں جس کے حکم سے ہوا ہے اور پانی ہے ۔
اتر پردیش میں ملائم سنگھ کی حکومت ہے ۔انھوں نے اپنے بیٹے کو وزیر اعلیٰ بنا دیا ہے اور اخبار وں میں ابھی سے چار چار صفحات کے اشتہاروں کے ذریعہ بتایا جارہا ہے کہ ہم نے کیا کیا کیا ہے ؟ اسوقت یا تو اخبار کے پہلے اور پورے صفحہ کا اشتہار ڈاکٹر ایوب صاحب اور انکی پارٹی کے چھپ رہے ہیں یا اکھلیش یادو اندر کے چار تین اور دو صفحات میں اس انداز سے چھپوار ہے ہیں کہ اسے پڑھنے والے اخبار کی رائے اور تجزیہ سمجھ کر پڑھیں ۔اس لئے کہ اخبار پڑھنے والے صرف 25فیصدی ایسے ہوتے ہیں جو یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ اشتہار ہے یا اخبار کی خبر اور رائے ہے ۔
اکھلیش بابو نے اپنے کہنے کے مطابق وکاس کے نام پر جو کیا ہے ۔اس میں ایک کی گواہی تو ہم دیں گے ۔جتنی اور جیسی بجلی ان دنوں میں آتی رہی ایسی کبھی نہیں آئی اور ہم جیسے کمزور مسلمان جو ڈر رہے تھے کہ 15گھنٹے کا روزہ شدید ترین گرمی اور بوڑھے اور بچے کیا کریں گے ؟ یا میٹرو جس پر ہمیں سوار ہونا نصیب نہیں ہوا ۔لیکن اپنے بچوں سے سنا کہ وہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جس سے مہینے میں ہزاروں روپے کرایہ کے بچتے ہیں ۔اور لاکھوں روپے کا قیمتی وقت بچتا ہے ۔اس طرح سڑکوں کی تعریف ہر کسی کی زبان پر ہے ۔جو پارٹی یا کمپنی زیادہ اشتہار دیتی ہے اس کے بارے میں شبہ ہونے لگتا ہے ۔فیصلہ عوام ہی کریں گے کہ اکھلیش بابو نے وہ سب کردیا یا نہیں جو ملائم سنگھ نے کہاتھا؟
رہیں مس مایاوتی تو انھوں نے نہ پنچایت کے الیکشن میں اپنے پتے کھولے اور نہ کسی بھی ضمنی الیکشن میں ۔شاید وہ سوچے بیٹھی ہیں کہ ابکی بار ی میر ی ہے ۔ میں ڈھول بجاؤں یا نہ بجاؤں عوام خود بخود مجھے ووٹ دیں گے ۔حالانکہ انھوں نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ تمل ناڈو میں بھی باری باری حکومت بدلا کرتی تھی۔ لیکن اس بار جے للتا دوسری بار حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئیں ۔مایاوتی کی پارٹی سے موریہ اور چودھری خود باہر آئے ہیں ۔ابتک وہ نکا لا کرتی تھیں ۔اور دونوں نے الزام لگایا ہے کہ ٹکٹ فروخت کرتی ہیں ۔اور اب صرف دولت مندوں اور غنڈوں کو منہ لگاتی ہیں ۔چودھری نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ انھوں نے اپنی شخصیت ایسی بنا رکھی ہے کہ کوئی و رکر ان سے بات ہی نہیں کر سکتا ۔یہ پہلے بھی ہم نے سنا ہے اور اب بھی سن لیا ۔جو لیڈر اپنے گرد دیوار یں کھڑی کر لیتا ہے ۔وہ ایک دن اس میں ہی دفن ہو جاتا ہے ۔وہ خاتون ہیں وہ اگر ورکروں سے ماں یا بہن بن کر ملیں تو ورکر جان دیدیتے ہیں ۔بہر حال یہ وہ جانیں لیکن صرف اس بھروسہ پر بیٹھے رہنا کہ ابکی باری میری ہے ۔عقل مندی نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close