ہندوستان

آوازِ پنجاب مگر بے سُری

  حفیظ نعمانی

            سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو جنھیں ہم نے تھوڑے دن پہلے ہی چھکا سنگھ سدھو لکھا تھا وہ ایک جذباتی قدم اٹھانے پر مجبور ہوگئے، انھوں نے راجیہ سبھا میں رہتے ہوئے پنجاب کی طرف سے آنے والی ہر خبروں میں سنا تھا کہ پنجاب کے تعلیم یافتہ، سنجیدہ اور نوجوان اروند کجریوال کو پنجاب لانا چاہتے ہیں اور وہ بھی شاید اس لیے آمادہ ہوتے جارہے ہیں کہ دہلی کی ریڑھ کی ہڈی پولیس ان کی ماتحت نہیں بلکہ ان کی دشمن ہے اور وہ سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ اب پنجاب کو اپنا آئیڈیل صوبہ بنایا جائے۔

            2014ء میں جب امرتسر کی سیٹ نوجوت سنگھ سدھو سے لے کر ارون جیٹلی کو دے دی گئی اور سدھو سے کہا کہ تم ان کو جتا دو، تمہیں کہیں اور فٹ کردیا جائے گا تو یہ اس کا ثبوت تھا کہ فیصلہ کرنے والوں نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ سدھو جس کا نام ہے وہ کون ہے؟ اس وقت ہر فیصلہ آر ایس ایس کررہا تھا یہ الگ بات ہے کہ نریندر مودی انہیں بتا رہے تھے کہ کیا کرنا ہے؟ ایسے جتنے بھی تھے جن کی سیٹ بدل دی گئی یا چھین لی گئی، ان میں سے کسی میں بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ نریندر بھائی مودی اور موہن بھاگوت سے ٹکر لیتا، لیکن پنجاب کے اس شیر نے پلٹ کر سوال کا جواب بھی نہیں دیا ورلڈ کپ کے کمنٹری باکس میں آکر بیٹھ گیا اور ہر طرف کہا جانے لگا کہ کمنٹری کی رونق آگئی۔

            ارون جیٹلی نے یہ سمجھا تھا کہ جو بی جے پی کے ووٹ ہیں وہ تو ملنا ہی ہیں، سکھوں کے ووٹ نوجوت سنگھ سدھو اور اس کی بیوی دلوادیں گے، بیڑا پار ہوجائے گا۔ چند دن کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ ان کو باہر کا آدمی کہا جارہا ہے تو انھوں نے خاموشی سے ایک کروڑ روپے ایک مکان خرید کر اعلان کردیا کہ اب ان کا گھر دہلی نہیں امرتسر ہے۔ لیکن انہیں پنجابیوں کو سمجھنے میں غلطی ہوئی اور وہ الیکشن نہیں جیت سکے۔ ورلڈ کپ کے بعد ہندوستان کا اپنا آئی پی ایل شروع ہوگیا اور سدھو وہاں کمنٹری دینے لگے۔

            اس کے بعد جب سدھو واپس آئے تو بی جے پی کو خطرہ محسوس ہوا کہ سدھو عام آدمی پارٹی میں شامل نہ ہوجائیں، سدھو نے بھی پنجاب کا دورہ کیا تو اندازہ ہوا کہ ہر طرف کجریوال ہے۔ لیکن بی جے پی نے انہیں راجیہ سبھا کا ممبر بنا کر انہیں اپنے پالے میں کرلیا تھا لیکن معلوم نہیں کیا سچ ہے کیا جھوٹ، ان پر یہ پابندی لگائی کہ وہ پنجاب کی سیاست میں دخل نہیں دیں گے؟ یہ پابندی اور راجیہ سبھا کی رکنیت کچھ دن تو برداشت کی اور پھر اچانک انھوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا اور شہرت ہوگئی کہ کجریوال سے ان کی بات ہوگئی ہے اور وہ عام آدمی پارٹی کا چہرہ بننے جارہے ہیں، ہمارا خیال بھی یہی تھا کہ وہ شاید پنجاب کے لیے وزیر اعلیٰ کی کرسی مانگیں، اس لیے کہ پنجاب میں بہت لوگ ان کے آگے پیچھے گھوم رہے ہیں لیکن ان میں کوئی سدھو سے زیادہ معروف اور مقبول نہیں ہے۔ ۔

            عام آدمی پارٹی کا خیال تھا کہ نوجوت سنگھ سدھو خود ہی آجائیں گے اور اس کے بعد سب مل کر بیٹھیں گے اور فیصلہ کریں گے کہ کسے وزیر اعلیٰ کے طور پر پیش کیا جائے؟ کجریوال سے سدھو یہ بات پہلے کہہ چکے تھے کہ اگر وہ مجھے وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کریں تو میں پارٹی میں شامل ہوجائوں گا اور کجریوال نے یہ کہا کہ آپ آجائیے، پارٹی کا حصہ بن جائیے پھر فیصلہ کرلیں گے۔ سدھو سیاسی آدمی نہیں ہیں، اور ضروری نہیں ہے کہ ہر پڑھا لکھا سیاست داں بھی ہو۔ سدھو کی یہ بات بہت گھٹیا ہے کہ مجھے وزیر اعلیٰ بنائو تو میں پارٹی میں آرہا ہوں نہیں تو میرا راستہ الگ اور آپ کا الگ۔

            ہم بالکل غیرمتعلق آدمی ہیں، ہمیں کجریوال بھی اچھے لگتے ہیں اور سدھو بھی، اور ہم چاہتے بھی ہیں کہ دونوں ایک پلیٹ فارم پر آجائیں لیکن ہونا یہ چاہیے کہ اگر سدھو کجریوال کو ایک اچھا اور ایماندار لیڈر مانتے ہیں تو پارٹی میں شامل ہوجائیں، یہ فیصلہ بعد میں سب بیٹھ کر کرلیں گے کہ کس کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے؟

            جہاں تک شرط کی بات ہے پہلے وزیر اعلیٰ بنائو پھر آئوں گا یہ ایسی ہی بات ہے کہ کوئی کھلاڑی یہ شرط لگائے کہ پہلے مجھے کپتان بنائو تب میں کھیلوں گا، وزیر اعلیٰ کوئی ایسا نہیں ہوتا جو بدلا نہ جاسکے، اور سدھو تو دیکھ رہے ہیں کہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال ہیں لیکن پوسٹ فولیوسب مسٹر سسودیا کے پاس ہیں۔ صرف اس لیے کہ دونوں کو ایک دوسرے پر پورا بھروسہ ہے، پنجاب میں بھی کوئی نہ کوئی شکل بن سکتی ہے، بات تو صرف یہ ہے کہ پنجاب جو برباد ہوتا جارہا ہے، اسے بچانا ہے، اب یہ بات کہ اسے صرف میں وزیر اعلیٰ بن کر بچا سکتا ہوں خود فریبی ہے، اور سدھو نے اسی خود فریبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین غیر مطمئن ساتھیوں کو لے کر ایک پارٹی بنا لی اورآواز پنجاب اس کا نام بھی رکھ دیا۔

            عام آدمی پارٹی کے کچھ لوگ چند روز ہوئے ناراض ہو کر نکلے ہیں، ان پر ٹکٹ کے لیے پیسے لینے کا الزام تھا جسے کجریوال برداشت نہیں کرسکتے، وہ چار دن میں سدھو کے ساتھ آجائیں گے، اکالی دل، بی جے پی اور کانگریس جنھیں ٹکٹ نہیں دے گی وہ بھی سدھو کے ساتھ آجائیں گے، لیکن یہ جس دماغ کے لوگ ہوں گے اور جو فطرت لے کر آئیں گے وہ حکومت بنانے والی نہیں، بنابنایا کھیل بگاڑنے والی ہوتی ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر کجریوال کہتے بھی کہ وزیر اعلیٰ آپ بن جائو تو سدھو معذرت کرلیتے کہ میرا مزاج کلرکی کا نہیں ہے، وہ تو کجریوال کا داہنا ہاتھ بن جاتے اور ساری طاقت لگا کر الیکشن جیت لیتے، ان کی شہرت کو اس سے بھی داغ لگا کہ صرف وزیر اعلیٰ بننے کے لیے عام آدمی پارٹی میں جاسکتے ہیں یا کانگریس نے کہا ان کے لیے دروازے کھلے ہیں، کیا کوئی سیاسی آدمی ایسا ہوتا ہے کہ اس کا خود کوئی نظریہ نہ ہو اور وہ بازار میں جا کر فیصلہ کرے کہ کس اسٹال سے سامان خریدے؟

            سدھو کے اس فیصلہ کی پنجاب کو بہت قیمت ادا کرنا پڑے گی، الیکشن تو ہوگا وہ جیسا بھی ہو لیکن اگر سب ہار گئے اور دوبارہ بادل حکومت بی جے پی کے تعاون سے بن گئی تو صرف سدھو اس کے تنہا ذمہ دار ہوں گے اور پھر وہ یہ کہنے کے قابل نہیں رہیں گے کہ پنجاب میں پانی سے زیادہ شراب پی جارہی ہے، صابن فیکٹریوں کے مالک اور جرسی گائے کی فارمنگ کرنے والے اپنا ٹاٹ پالان اترپردیش یا بنگال لے جائیں گے اور کسانوں کی خود کشی میں اور ا ضافہ ہوجائے گا۔

            2014ء میں اگر سماج وادی، بہوجن سماج اور کانگریس مراد آباد اور رام پور میں اپنے اپنے امیدوار بلا وجہ نہ اتارتے اور ہر جگہ ملائم سنگھ، مایاوتی کے امیدوار کے اور مایاوتی ملائم سنگھ کے امیدوار کے مقابلہ پر امیدوار نہ اتارتیں تو اتر پردیش میں مودی کو صرف 15 سیٹیں ملتیں، میرے پاس وہ ریکارڈ موجود ہے جس کے 55 حلقوں میں کہیں ملائم سنگھ آگے ہیں اور کہیں مایاوتی اوردونوں مل جاتے تو پارلیمنٹ میں 20 ممبر مایاوتی کے ہوتے اور30 ملائم سنگھ کے، اب اترپردیش میں ڈاکٹر ایوب صاحب اور اویسی صاحب وہی کام کررہے ہیں جو لوک سبھا میں ہوا اور اب پنجاب میں سدھو کرنے جارہے ہیں وہ مست مولا آدمی ہیں، وہ تو یہ سوچنے میں بھی وقت نہیں لگاتے کہ شعر موزوں پڑھ دیا یا ناموزوں بس وہ پڑھ دیتے ہیں اور واہ واہ ہوجاتی ہے۔

            اور امت شاہ کا یہ حال ہے کہ ہر اس پارٹی کو سکوں میں نہیں نوٹوں میں تولائیں گے جو مسلمان کے ووٹ ملائم مایاوتی اور کانگریس کو نہ دلائے، آپس میں ہی بانٹ لے۔ یہ ایسی بات نہیں ہے جو مسلمانوں کی سمجھ میں نہ آئے، اب وہ بہت سمجھدار ہوچکے ہیں اور وہ ا پنی مرضی کی حکومت بنوائیں گے اور کفرستان میں اسلامی حکومت کا مطلب لاکھ دو لاکھ مسلمانوں کا خون ہے جسے کوئی کلمہ گو برداشت نہیں کرے گا، سوسال کی انگریزوں کی حکومت ہندو کو پیاری ہے مگر آٹھ سو سال کی مسلمانوں کی حکومت جو نعمت تھی وہ ہر ہندو کے حلق میں ہڈی بن کر اٹک گئی ہے، ایسے میں کسی کو وزیر اعلیٰ بنادیا تو ایک ہفتہ میں اسے گولی مار دیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close