ہندوستان

آ بیل! مجھے مار 

ممتاز میر

ابھی کچھ ہی دنوں پہلے اپنے وطن کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوا کرتے تھے جناب عزت مآب ٹی ایس ٹھاکر۔ ہم یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ جتنی ہمدردی ہمیں ان سے رہی ہے (آج بھی ہے )اتنی شاید ہی وطن عزیز میں کسی کو ہو۔ سیدھے سادھے بھولے بھالے چیف جسٹس محترم تیرتھ سنگھ ٹھاکر غالباًدوبارنریندر مودی کے سامنے رو دیئے مگر ۵۶ انچ چوڑے سینے والے وزیر اعظم نے ان کی گزارشات پر کان نہ دھرا۔ حالانکہ یہ ان کا راج دھرم تھا۔ جبکہ عدلیہ کی حالت زار پر آنسو بہانا وہ بھی پبلک میں قابل صد احترام سابق چیف جسٹس پر فرض بھی نہ تھا۔ کاش کے وہ اس ’مفلس‘ ملک کے وزیر اعظم ہوتے۔

’مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے‘جنوری ۲۰۱۷ میں جناب تیرتھ سنگھ ٹھاکر کے عدلیہ کی جھنجھٹوں سے نجات پا جانے کے بعد عدلیہ کے پلوں کے نیچے سے بہت ساہی نہیں بلکہ بہت عجیب و غریب پانی بہہ چکا ہے۔ اپنی پیاری حکومت مسلم پرسنل لاکا ’سرکھشا کوچ‘ہونے کے باوجود’وستر ہرن‘ کر چکی ہے اور اب اسے گھر کی لونڈی بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یہ توکچھ بھی نہیں اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ ہوا ہے کہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں پہلی بار ۴ ؍سینئر موسٹ ججوں نے ایک پریس کانفرنس لے کر حکومت سی جے آئی اور عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ دیش جن راستوں پر چل رہا ہے وہ تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت سی جے آئی اور عوام وطن عزیز کی اس لنگڑی لولی گاڑی کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے، مگر’ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘۔ حکمران اور گؤ رکھشک جلد سے جلد اسے وہاں پہونچا دینا چاہتے ہیں جہاں سے بچانے کی خاطر مذکورہ ججوں نے اندیشہء سود و زیاں سے اوپر اٹھ کر پریس کانفرنس کی تھی۔ ٹھاکر صاحب آپ کے بعد سے دیش واقعی بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ اب گؤ ماتا ہی موب لنچنگ نہیں کرا رہی ہے اب تو بچہ چوری کا شک بھی موب لنچنگ کرا رہاہے۔ مختلف قسم کی افواہیں بھی لوگوں کو آخری حد پر لے جا رہی ہیں۔ اب لوگ اپنے سائے سے بھی ڈر کر بھڑک رہے ہیں۔ یہ ذہنیت ملک کو کس طرف لے جا رہی ہے؟ اس کا انجام کیا ہوگا ؟ صاحب ! اب بھی یہاں کچھ لوگ آپ کی طرح اپنے پیشے کے تئیں اپنے فرض کے تئیں بہت حساس ہیں جیسے کے اے بی پی نیوز کے صحافی۔ آپ تو عزت کے ساتھ اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئے۔ انھیں بظاہر بے عزت کر کے نکالا جا رہا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ اسی میں ان کی عزت ہے۔ اب یہ لوگ قابل فخر ہو گئے ہیں اور عوام ۸۰؍۸۵ کروڑ عوام جن کے چند کروڑ آبا ء واجداد کے احتجاج نے برطانیہ جیسی سپر پاور کو جس کی حکومت میں سورج غروب نہ ہوتاتھا، اپنا بوریا بستر لپیٹنے پر مجبور کردیا تھا۔ وہی عوام دیسی حکمرانوں کو ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم بنی دیکھ رہی ہے۔

جب سے یہ حکومت آئی ہے حماقتوں کے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ نوٹ بندی کا قدم ایسا تھا جو اگرصحیح طرح نافذ کیا جاتا تو عوام کو کوئی فرق نہ پڑتا۔ مگر اس حکومت نے اپنی حماقت سے سو سوا سو عام لوگوں کو ماردیا۔ جی ایس ٹی اس طرح نافذکیا جارہا ہے کہ چھوٹے تاجروں کے پورے طبقے کا صفایا ہو جائے۔ اسی طرح مسلم پرسنل لاخالص مسلمانوں کا داخلی معاملہ ہے مگر اپنی مسلم دشمنی کی بنا پر عدالتوں کو یہ اشارہ دے دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل میں جتنی مداخلت ہو سکے کی جائے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ خود ہندوؤں کا پرسنل لا مسلمانوں کے پرسنل لاء کی خوشہ چینی کرکے وجود میں آرہا ہے۔ کل تک ہندو شادی جنم جنم کا بندھن ہوا کرتی تھی آج انھیں بھی طلاق کی سہولت حاصل ہے۔ یہ الگ بات کہ انھیں اس سے متمتع ہونے کا بھی ڈھنگ نہیں۔ کل تک کنیا دان میں جو کچھ دینا ہوتا تھا دے دیا جاتا تھا لڑکی کو وراثت میں حق نہ تھا۔ اب کچھ ہی عرصے پہلے لڑکی کووراثت میں حق دیا گیا ہے۔

ان حالات میں مسلم پرسنل پر دست درازی کیا عدالتوں کا بوجھ نہ بڑھا دے گا ؟ اور وہ بھی اس وقت جب جناب ٹی ایس ٹھاکر اسلئے روتے روتے رخصت ہو گئے کہ ہندوستانی عدالتوں میں ججوں کی تعداد نارمس سے کم نہیں، بہت ہی کم ہے اور اسی وجہ سے ہماری عدالتوں میں پینڈنگ کیسزکی تعداد کروڑوں میں ہے۔ سونے پہ سہاگہ ہماری عدالتوں کی سست روی ہے۔ ہم خود ۲۵ سال سے ایک مقدمہ بھگت رہے ہیں۔ بڑی منتوں مرادوں کے بعد ۲۵ دن پہلے حکومت مہاراشٹر نے ایک پبلک پراسیکیوٹر اپائنٹ کیا تھا مگر وہ محترم بھی صرف دو پیشیوں میں یعنی ۱۰ دن میں کیس سے الگ ہو گئے۔ اب خدا جانے کب سرکاری وکیل نامزد کیا جائے گا اور کیس آگے بڑھے گا۔ ہم نے بھی دو سال قانون پڑھا ہے۔ ہم نے بھی بڑے شوق سے امتحان میں جسٹس ڈیلے از جسٹس ڈینائیڈ پر مضمون لکھا تھا۔ مگر کتنا ڈیلے یہ وضاحت سننے پڑھنے کو ہم دہائیوں سے ترس رہے ہیں۔ یہ بھی پڑھا اور سنا بھی کہ ملزم اس وقت تک مجرم نہیں جب تک اس پر جرم ثابت نہ ہو جائے۔ مگر ہمارے منصفین کا رویہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ۲۵ سالوں سے ہمیں مجرم سمجھ کر ہر تاریخ پر بلا یاجا رہا ہے اور جنھوں نے ہم بے گناہوں کو پھنسا یا ہے وہ مزہ مار رہے ہیں۔

آئیے اب ایک نظر ان وجوہات پر بھی ڈال لیتے ہیں جس نے محترم تیرتھ سنگھ ٹھاکر کو بھری محفل میں رلا دیا تھا۔ انڈین ایکسپریس کی جنوری ۲۰۱۷ کی ایک رپورٹ کہتی ہیکہ ملک کی مختلف ڈسٹرکٹ کورٹس میں ۸۱ء۲ کروڑ مقدمات پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں۔ اورپورے ملک میں ۵۰۰۰ مزید ججوں کی ضرورت ہے۔ مگر اسی رپورٹ میں آگے یہ بھی لکھا ہے کہ ۱۶؍۲۰۱۵ میں خود سپریم کورٹ نے ۱۵۰۰۰ مزید ججوں کی مانگ کی تھی۔۴ جنوری ۲۰۱۸ کی نیوز۱۸کی ایک خبر کے مطابق اپیکس کورٹ میں ۵۴۷۱۰ کیس پینڈنگ پڑے ہوئے ہیں۔ اسی میں یہ بھی درج ہے کہ عزت مآب جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے جولائی ۲۰۱۶ میں ۷۰۰۰۰ مزید ججوں کی خواہش ظاہر کی تھی۔ یہ تمام اعداد و شمار اس وقت کے ہیں جب ابھی ہماری عدلیہ پر مسلم پرسنل لاسے عشق کا بھوت سوار نہیں ہوا تھا۔ اب جبکہ مسلم پرسنل لا میں نئی نئی گل افشانیاں کی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں بامبے ہائی کورٹ نے مسلم مطلقہ کے مہر کی رقم طے کرنے کا ذمہ بھی اپنے سر لے لیا ہے۔ اسے ہی آبیل مجھے مار کہتے ہیں۔ کوئی سوچ ہی نہیں رہا ہے کہ ہر جگہ ناک گھسیڑنے کا انجام کیا ہوگا ؟

ابھی تک تو یہ کہا جاتا تھا کہ مسلمانوں کی شرعی عدالتیں یا دارالقضاۃ عائلی مسائل کو سلجھانے کا سستا اور عاجلانہ طریقہ ہے۔ مگر اب ’مرے پہ سو درے‘ کے مصداق ملک بھر کے تمام اس طرح کے مسائل کورٹوں میں جائیں گے تو کیا ہوگا ؟ ٹھیک ہے حکومت فرقہ پرست ہے۔ وہ عدلیہ پر دباؤ بھی ڈالتی ہوگی۔، مگر ججوں کو بھی تو اپنے فرائض اور عدلیہ کی حالت کا اندازہ ہونا چاہئے۔ جسٹس ٹھاکر اور جسٹس چلامیشور اور ان کے دیگر تین ساتھیوں نے جو کچھ کیااسی حکومت کے سامنے توکیا۔ ایسا لگتا ہے کہ جلد ہی کورٹ یہ فیصلہ بھی دے گی کہ مسلم مرد بغیر کورٹ کو کنسلٹ کئے اپنی بیوی کو طلاقْ بھی نہیں دے سکتا۔ اور کورٹ کا کیا بھروسہ، وہ یہ اجازت ۵۰ سال بعد دے سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مرد کو دفن کے لئے لے جائیں اور راستے میں اجازت آئے۔ یہ اطلاع جج کو دی جائے تو وہ کہے اتنی جلدی بھی ٹھیک نہیں۔ ہنسنے کی بات نہیں۔ ہماری عدالتیں ایسی ہی ہیں۔ بہت جلد وہ وقت بھی آئے گا کہ عدالتوں کی اجازت کے بغیر نکاح کا انعقاد بھی نہیں ہو سکے گا۔ نکاح نامے میں شاید یہ بھی بھروایا جائے کہ آپ کتنے بچے پیدا کریں گے ؟ کیونکہ سارا مسئلہ مسلمانوں کے بچوں کا ہی ہے۔ بہرحال اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہماری عدالتیں مردم بیزار ہو چکی ہیں جو اس طرح نان ایشوز کو ایشوز بنا رہی ہیں۔ یا پھر وہ خود فرقہ پرست ہو گئی ہیں۔

یہ سب اپنی جگہ پر، سوال یہ ہے کہ مسلم لیڈران کیا کر رہے ہیں ؟ مسلم پرسنل کو تو دستوری تحفظ حاصل رہا ہے۔ اس کے باوجود حکومت مسلمانوں کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر شب خون مار رہی ہے۔ جبکہ ایس سی ایس ٹی ایکٹ ابھی کل کی پیداوار ہے اسے کوئی دستوری تحفظ حاصل نہیں دلتوں کے سوا کوئی اس ایکٹ سے خوش نہیں مگر ان کے لیڈر حکومت کو دھمکیوں پر دھمکیاں دے رہے ہیں اور وہ لیڈر دے رہے ہیں جو جونیئر پارٹنر کے طور پر حکومت میں شامل ہیں۔ اور وہ بھی جو خود بی جے پی کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں۔ ووٹ بینک کی باتیں بھی بس افسانہ ہیں۔ صرف بی جے پی کے پاس ووٹ بینک کی شکل میں ۳۰؍۳۵فیصد فرقہ پرستوں کے ووٹ ہیں اس کے سوا وطن عزیز کی کوئی قوم کوئی گروہ کسی بھی پارٹی کا ووٹ بینک نہیں۔

جی چاہتا ہے کہ کچھ مولانا مودودیؒ کی بصیرت کا بھی ذکر ہوجائے۔ مولانا نے تقسیم سے چند ہفتے پہلے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو سیاسی کشمکش سے دور رہ کر صرف دعوت کا کام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس وقت کے بڑے بڑے علماء کرام نے ان کے مشورے کا مذاق اڑاتے ہوئے دستوری تحفظات اور آئینی ضمانتوں کی دہائی دی تھی تو مولانا نے کہا تھا کہ اگر آپ کی قوم طاقتور ہے تو اسے دستوری ضمانتوں اور آئینی تحفظات کی ضرورت نہیں اور اگر آپ کی قوم کمزور ہے تو اس کا فائدہ نہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close