ہندوستان

ابھی تک پائوں سے چمٹی ہے زنجیریں غلامی کی 

نازش ہماقاسمی 

آزاد دیش کے ذہنی غلاموں کو ملک کی سترویں یوم آزادی مبارک ہو۔ ۔ ۔ !

ہم آزاد ہیں بایں معنی کہ ہم نے انگریزوں کو اس ملک سے بھگا دیا… ہم آزاد ہیں کہ اپنا ایک ملک رکھتے ہیں جسے ہندوستان کہتے ہیں۔ ۔ ۔ ! ہم آزاد ہیں کیوں کہ ہم نے جب آنکھیں کھولیں تو لال قلعہ پر برطانیہ کانہیں ؛ بلکہ شہیدوں کے خون سے لبریز ترنگا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ ہمآزاد ہیں کیوں کہ ہمارے اسلاف نے آزادی وطن کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کی تھیں جن کے صلہ میں ہمیں 15اگست 1947کا عظیم اور آزاد دن نصیب ہوا۔ ہندوستان کو آزاد ہوئے ستر سال ہوگئے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم نے بھی یوم آزادی کے تحت شہیدانِ وطن کو خراج عقیدت پیش کرنا شروع کردیا ہے…چندر شیکھر کی دھرتی اندور سے اس کاآغاز کیا جاچکا ہے… یہ ایک اچھا قدم ہے اور اس سے نئی نسل کو یہ معلوم ہوگا کہ ہمارے ملک کے اصل ہیرو کون تھے۔ وہ کون لوگ تھے جو اپنا عیش و آرام چھوڑ کر، اپنے گھر والوں سے منھ موڑ کر اس دھرتی کو انگریزوں سے آزاد کرانے کیلئے ہر قسم کی قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا تھا؛ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ آزادی ہند کے شہدا میں کتنے مسلمانوں کا نام آتا ہے اور ہمارے وزیراعظم کی جانب سے کس انداز سے انہیں خراج عقیدت پیش کی جاتی ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ ا نہیں خراج عقیدت پیش کی جاتی ہے یا پھر سرے سے مسلمانوں کا نام بھلا دیا جاتا ہے۔ ملک کوآزاد ہوئے ستر سال ہوچکے ہیں ؛ لیکن انگریز نے ہمیں جہاں چھوڑا تھا آج بھی ہم وہیں ہیں ؛ بلکہ مسلمانوں کی حالت تو آزادی کے گزشتہ ستر سالوں میں بد سے بدتر ہوگئی ہے… مسلمانوں کا جس طرح آزاد ہندوستان میں استحصال ہوا ہے ایسا معاملہ تو ملک کے دلت کے ساتھ بھی پیش نہیں آیا ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اس ملک کا مسلمان دلت سے کہیں زیادہ بدتر حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔ مسلمانوں کا قتل عام، معاشی ترقی سے دوری، بھاگلپور فساد کے بعد تو ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا… اور ملک کا شاید ہی کوئی ایسا صوبہ ہو جہاں معصوم مسلمانوں کے خون سے ہولی نہیں کھیلی گئی ہو۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے ساتھ دوہرا رویہ اختیار کیا گیا… انہیں ہر اعتبار سے مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے اسلاف کی قربانیوں کو رائیگاں کرتے ہوئے ان مقدس اسلاف کی اولادوں کے لئے ملک میں جینا دوبھر کردیاگیا۔ گجرات سے لے کر مظفر نگر تک اور کشمیر سے لے کر آسام تک مسلمانوں کو فسادات کا ایسا ناسور دیاگیا کہ آج تک وہ اپنے رستے زخم سے پریشان ہے۔ اور اس پریشانی کے عالم میں بھی وہ ملک عزیز کے تئیں وفادار ہیں ؛ لیکن افسوس اسے اپنی وفاداری کا سرٹیفکیٹ آر ایس ایس اور دیگر ملک دشمن تنظیموں سے لینی پڑ رہی ہے وہ ان کا امتحان لے رہے ہیں کہ واقعی مسلمان وفادار ہیں یا نہیں۔ ہمارے مدرسوں پر ترنگا لہرایا جارہا ہے تو ہم وفادار ہیں … ہمارے ہاتھوں میں ترنگا ہوگا جبھی ہم وفادار ہیں لیکن ناگپور میں آر ایس ایس کا جھنڈا ہی لہرایا جائے گا … ان کے ہاتھوں میں ترنگا کے بجائے ترشول ہی ہوں گے کیوں کہ وہ زمام اقتدار کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے  ہیں اور ہمیں وفاداری کا سرٹیفکیٹ الاٹ کرنے والے وہی لوگ ہیں وہ جو بھی کریں ملک موافق ہوگا … ہم لاکھ جھنڈے لہرائیں … لاکھ ترنگے کو سلامی دیں … ہماری وفاداریاں مشکوک رہیں گی۔ کیا یہی آزادی ہے… کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ کیا اسی آزادی کیلئے نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان نے جام شہادت نوش کیا تھا… کیا اسی آزادی کے لئے شیخ الہند نے مالٹا کو اپنے شرر ہائے نفس سے آباد کیا تھا … کسی اسی آزادی کے لئے پانی پت کی لڑائی لڑی گئی تھیں … کیا اسی آزادی کے لئے اسماعیل شہید بالا کوٹ کی پہاڑی پر اپنی جان جان ِ آفریں کے سپرد کی تھیں … کیا اسی آزادی کے لئے ایک ایک دن میں اسی اسی علما پھانسی کے تختے پر جھول گئے تھے… کیا اسی آزادی کیلئے شاملی کے میدان میں علماء انگریزوں کے سامنے سینہ سپر ہوگئے تھے…کیا اسی آزادی کے لئے بھاگلپور کو اجاڑا گیا تھا… کیا اسی آزادی کے لئے ہاشم پورہ کا معاملہ پیش آیا تھا… کیا یہی آزادی ہے کہ محض مسلمان ہونے کے جرم میں گجرات کو جلایا گیا…  کیا یہی آزادی ہے کہ مظفر نگر کو بدتر نگر بنا دیا گیا… ہمارے اسلاف نے جس آزادی کا خواب دیکھا تھا یہ وہ آزادی تو نہیں ہے… کل مسلمان گورے انگریزوں سے پریشان تھے اور آج انہیں کالے انگریزوں سے خوف ہے… جس طرح گوروں نے بانٹو اور حکومت کرو کا نعرہ لگایا تھا  آج انہیں کے نقش قدم پر ان کے گرگے یہ کام انجام دے رہے ہیں …! ہم ہر سال آزادی کا جشن مناتے ہیں لیکن ہمیں آزادی کی سچی خوشی نہیں ملتی ہے… 15 اگست کو بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں، اخوت و بھائی چارے کا درس دیا جاتا ہے، جیو اور جینے دو کا فلسفہ پڑھایا جاتا ہے، ملک کی خاطر جان دینے کی بات کی جاتی ہے، سماج دشمن عناصر سے وطن کو پاک صاف کرنے کا عندیہ دیا جاتا ہے، لیکن ہوتا کچھ نہیں ہے، کل بھی جب سارا ملک آزادی کے نغمے گارہا ہوگا تو اس وقت کشمیر کی کوئی ماں اپنے بیٹے کو سینے سے چمٹا کر بلک بلک رورہی ہوگی کہ اس کے لخت جگر کے آنکھ کی روشنی ہمیشہ کیلئے کھو گئی ہے، کہیں ان کا گھر جل رہا ہوگا تو کہیں دل رو رہا ہوگا۔ اور وہ اپنے آزاد ملک میں غلامی کو کوس رہے ہوں گے اور اپنے اسلاف کی روحوں سے یہ سوال کررہے ہوں گے کیا ہم واقعی آزاد ہیں …؟ ہمارے وزیراعظم نے بہت اچھی بات کہی کہ ’’کشمیر کے ان بچوں کے ہاتھ میں پتھر دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، جن ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہونا چاہیے تھا ‘‘ ان ہاتھوں میں پتھر ہے، واقعتاً یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ آج ہمارے ملک کا مستقبل اس طرح کی حرکتوں پر اتر آیا ہے، لیکن وزیراعظم صاحب  مرکز میں آپ کی حکومت ہے کشمیر میں آپ کی حکومت ہے، آپ کی اجازت کے بغیر تو کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا، پھر یہ کون لوگ ہیں جو پتھر مار رہے ہیں، اور کیوں وہ پتھر مارنے پر آمادہ ہیں کیا آپ نے کبھی سوچا کہ وہ کیوں ایسا کرتے ہیں کیوں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں … کیا مطلب ہے آزاد ہند میں پاکستان زندہ باد نعرے لگانے کا۔ سوچئے غور کیجئے آپ اور آپ کے وزراء جب بھی بات کرتے ہیں تو صرف یہ کہتے ہیں کشمیر ہمارا ہے اگر ایک بار بھی کہدیں کشمیری بھی ہمارے ہیں تو شاید یہ نعرے لگنے بند ہوجائیں … آپ ا نہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھنا چھوڑ دیں جس طرح آپ نے اپنی کمیونٹی کو آزادی دی ہوئی ہے اسی طرح انہیں بھی کہدیں کہ تم آزاد ہو، تم مشکوک نہیں ہو … پھر دیکھیں کوئی برہان وانی پیدا نہیں ہوگا… کہیں سے بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے نہیں لگائے جائیں گے۔ خیر کشمیر تو کئی دہائیوں سے جل رہا ہے، اور شاید اس کی قسمت میں جلنا ہی لکھا ہوا ہے۔ لیکن آپ کی حکومت نے ان کے لئے کیا خاطر خواہ انتظامات کیے  ہیں ؟ اور آپ نے کیا پیش رفت کی ہے؟ گزشتہ ایک مہینہ سے کرفیو لگا ہوا ہے اب تک حالات کنٹرول سے باہر ہیں آئے دن جھڑپیں ہورہی ہیں۔ آخرکیوں معاملہ کو صاف نہیں کیا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آزادی تو ہمیں ملی؛لیکن ہم پھر سے غلام بن گئے، ہماری ذہنیت غلام بن کر "چانکیہ کی برہمنی ملحدانہ سوچ کی نذر ہوکر رہ گئی ہے۔ ہمیں ہمارے وہ حقوق نہیں ملے جن کے ہم حقدار تھے، ہم اس سرزمین کے حقدار ہیں لیکن ہمیں کرایہ دار بنا دیا گیا۔ ہمیں ذات واد سے آزادی چاہئے … ہمیں وہ آزادی چاہئے جن کے خواب ہمارے اسلاف نے دیکھے تھے کہ ہماری آل آزاد ملک میں تمام تر سہولیات کے انگریزوں کے مظالم سے محفوظ رہیں اور ان کی ناجائز ذریت سے جو ہند میں اُس وقت بھی تھی اور اب تو اقتدار ان کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں وہ آزادی چاہئے جس کے لئے مالٹا آباد کیاگیا تھا۔ ہمیں وہ گنگ و جمن والا ماحول چاہئے جس کے لئے ہندو مسلم متحدہ قوم بن کر انگریزوں سے سینہ سپر ہوئے تھے۔ ہمیں وہ آزادی چاہئے جس کے کیلئے مولانا آزاد نے جامع مسجد دہلی کے منبر سے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا "تمہیں یاد ہے جب میں نے تمھیں پکارا تو تم نے میری زبان کاٹ دی، میں نے قلم اٹھایا تو تم نے  ہاتھ کاٹ ڈالے، میں نے چلنا چاہا تو تم نے میرے پاؤں کاٹ دیئے اور میں نے کروٹ لینی چاہی اور تم نے میری کمر توڑ دی ” اتنا سننا تھا کہ میرے پاؤں جم گئے اور پھر ہم پر مصائب و شدائد کی مشق ستم ایجاد کی سنتیں تازہ کی جانے لگیں ؛ لیکن پھر بھی اسی ہندوستان کو” نگار جہاں خویش ” قرار دیا، ہمیں وہی ہندوستان اور وہی آزادی چاہیے جس کے لئے مولانا آزاد نے ہمیں ہجرت سے روکاتھا؛ کیوں کہ ہم اس عظیم دھرتی کے برابر کے حصہ دار ہیں، ہمارا بھی خون چمن زار گلستاں کو شاد رکھے ہوا ہے، ہمیں وہ آزادی چاہئے جس کا نعرہ کنہیا کمار نے جے این یو میں لگایا تھا۔ کہ ہم لے کر رہیں گے آزادی۔ ہمیں منوواد سے چاہیے آزادی، ہمیں افلاس سے چاہیے آزادی، ہمیں بھوک سے چاہیے آزادی، ہمیں منافرت سے چاہیے آزادی، اور ہمیں تشدد سے چاہیے آزادی، ہمیں وہ بھارت چاہیے جس کا خواب گاندھی سے لیکر سرحدی گاندھی نے دیکھا تھا، ہمیں جنت نشان بھارت چاہیے کہ جس کی فضاؤں میں نفرت، تشدد اور اشتعال نہ ہوں ؛ بلکہ بوئے ختن فضا کو بدمست کر رہی ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close