ہندوستان

اب دیکھو کیا دکھائے نشیب وفراز دہر؟

حفیظ نعمانی
کل کا دن سال کے خوبصورت دنوں میں سے ایک حسین دن تھا میری بیٹی جو جدہ میں رہتی ہے وہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ آئی ہوئی ہے۔  گھر کے دوسرے بڑوں اور بچوں کی بھی چھٹی تھی۔  غرض کہ سب نے دن کے چند گھنٹے گھر سے باہر گذارنے کی خواہش ظاہر کی اور میں نے دل کی گہرائی سے خدا حافظ کہہ دیا۔  مغرب کی اذان کے دوران سب واپس آگئے۔  معلوم کرنے پر بتا یا کہ جنیشور مشرا پارک گئے تھے۔  اور پھر اس پارک کی ایسی تعریف کی کہ جیسے وہ بھی لکھنؤ کا ایک عجوبہ ہو۔  اس سے زیادہ حیرت یہ سن کر ہوئی کہ اگر کوئی سیاسی لیڈر دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ یہ کوئی مسلمانوں کا مذہبی پارک ہے۔  نہ جانے کتنے خاندان وہاں پکنک منارہے تھے ان میں 90 فیصدی مسلمان تھے۔
پارک کا نام تو ہم بھی برسوں سے سن رہے اور پڑھ رہے ہیں لیکن کل جو اس کی منظر کشی بچوں نے کی۔  اور بچوں کا سب سے محبوب کھلونا جھولا ہے اس کے بارے میں بتایا کہ درجنوں قیمتی وہ بھی طرح طرح کے جھولے اور ٹکٹ کوئی نہیں۔  یہ سن کر خوشی ہوئی لیکن یہ ضرور ذہن میں آیا کہ سوشلسٹ پارٹی کے بڑے ناموں میں جنیشور مشرا کا نام راج نرائن جی سے کبھی بڑا نہیں رہا۔  اور راج نرائن ہی وہ شخصیت تھی جس نے خاتون فولاد اندرا گاندھی کو دو بار ہرایا۔  ڈاکٹر لوہیا بے شک نہرو کے قد کے لیڈر تھے۔  لیکن وہ انکا اس سے زیادہ کچھ نہ بگاڑ سکے کہ انکی خواہش کے خلاف وہ پارلیمنٹ کے ممبر ہوگئے۔  لیکن راج نرائن نیتا جی نے تو اندر ا گاندھی کورگڑ کر بونا بنادیا۔  اور وہ واحد لیڈر تھے جنہوں نے چودھری چرن سنگھ کو حمایت دینے کی یہ شرط رکھی کہ پہلے جس کسان کے پاس چھ بیگھازمین ہو یا اس سے کم ہو اسکا لگان معاف کرو۔  اور انھوں نے لگان معاف کرانے کے بعد ہی چودھری صاحب کو وزیر اعلی اور پھر وزیر اعظم بھی بنوا نے کے بعد کہا کہ میں چودھری چرن سنگھ کا ہنو مان ہوں۔  اسکے بعد بھی جنیشور مشرا سب کچھ بنائے جارہے ہیں اور راج نرائن کچھ نہیں ؟
ملائم سنگھ اب تک یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ہمیشہ کی طرح انکا مقابلہ مایا وتی سے ہوگا اور جیسے پہلے مرکزی حکومت والی کانگریس سے بھی مقابلہ ہوا کرتا تھا ایسے ہی اس بار تیسری فریق بی جے پی بن جائے گی۔ لیکن اچانک کانگریس نے ایسی کروٹ لی کہ پورا میڈیا یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا کہ گانگریس نے اپنے حق میں ماحول تو بنالیا۔  اب یہ بات کہ وہ سرکار بنانے کی پوزیشن میں آجائے گی یا سرکار بنوانے میں بہار کی طرح مدد گار ہوگی یا ہمیشہ کی طرح دس بیس کروڑ روپے خرچ کرکے شوق پورا کرکے بیٹھ رہے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔  میں نے جو تمہید میں بچوں کی پکنک کا ذکر کیا تو اس میں ایک بات رہ گئی کہ انھوں نے یہ بھی تبایاکہ پورا مشرقی شہر کانگریس کے پوسٹروں سے ترنگا بنا دیا گیا ہے۔  اور انہوں نے یہ معلوم کیا کہ کیا اس بار واقعی کانگریس آرہی ہے؟
رات نوبجے آمنے سامنے کے پروگرام میں نئے صدر راج ببر ایک خاتو ن صحافی کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔  ان سے جب خاندان یا پریوار کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے لا جواب کرنے کے لئے کہدیا کہ بتایئے راجوجی کے بعد اس خاندان کا کون بڑا یا چھوٹا حکومت کی کرسی پر بیٹھا ؟    اور وہ لاجواب ہوگئیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ راجیوگاندھی کے بعد یہ حقیقت ہے کہ سونیا گاندھی اپنے دونوں بچوں کو بغل میں دبا کر بیٹھ گئیں۔  اور ڈرانے والوں نے انہیں ڈرایا کہ اب اگر آپ نے طاقت کا مظاہرہ کیا تو اب آپکا یا اندراجی کے پوتے یا پوتی کا نمبر ہے۔
لیکن کچھ دنوں کے بعد سونیا گاندھی نے یہ سمجھ لیا کہ اگر نہرو گاندھی پریوار سامنے سے ہٹادیا تو کانگریس کا کوئی نام لینے والا بھی نہ ہوگا۔  اس وقت کے صدر سیتا رام کیسری ایک شریف اور ایماندار آدمی تھے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں تھے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ بھی اتنے ہی فرماں بردار اور بے زبان تھے جیسے ڈاکٹر منموہن سنگھ ثابت ہوئے تو غلط نہ ہوگا۔ سونیا گاندھی نے۔  ع
یا تن رسد بجانا یا جاں رتن برآید
کہ کرمیدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور ایک دن آفس میںآکر کیسری جی سے قلم دان واپس لے لیا۔  اور خود صدر بن گئیں۔  اس کے بعد جہاں جہاں کانگریس کی حکومت تھی وہاں وہی حکومت کرنے لگیں۔  اور جو کچھ اپنی ساس کو کرتے دیکھا تھا اس پر عمل شروع کردیا۔
2004میں اٹل جی نے اعلان کردیا کہ یہ میراآخری الیکشن ہے۔  اسکے بعد نہ میں الیکشن لڑونگا اور نہ کسی عہدہ پر رہوں گا۔  لیکن گجرات کے خونی واقعہ پر صرف دو سال ہوئے تھے۔  اور انھوں نے ایڈوانی جی کی ضد کی بنا پر نیز یہ بھی سوچ کر کہ جب 1947سے آجتک پنڈت نہرو ،اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کسی نے ایسے ہی مسلمانوں کے قتل عام کے بعد کسی وزیر اعلیٰ کو نہیں ہٹا یا تو میں نریندر مودی کو کیوں ہٹاؤں؟   انہیں گجرات کا وزیر اعلیٰ بنا رہنے دیا۔  اور یہ بھول گئے کہ میرٹھ کی خوں ریزی چونکہ اس وقت کے وزیر اعلی ویر بہادر نے کرائی تھی۔  اور راجیوگاندھی کے اشارہ پر کرائی تھی اس لئے مسلمانوں نے پھر نہ ویر بہادر کو معاف کیا اور نہ راجیو گاندھی کو مسلمان جو جذباتی نعروں سے ہمیشہ متاثر ہوتے ہیں وہ چاہنے کے باوجود اٹل جی کی حمایت میں سامنے نہیں آئے۔  اور جو سامنے آئے انکے بارے میں معلوم ہوگیا کہ انھوں نے منہ مانگے پیسے لئے ہیں۔  مسلمانوں نے کانگریس کو بھی ووٹ اجتماعی طور پر نہیں دئے بلکہ اپنے ووٹ خیرا ت کی طرح بانٹ دئے اور کانگریس کی حکومت بن گئی۔  لیکن سونیا گاندھی کو خود خطرہ محسوس ہوا۔  یا شہرت کی حد تک راہل گاندھی نے انہیں مجبور کیا کہ آپ وزیر اعظم نہ بنیں۔  دوسری طرف سشما سوراج ،اوما بھارتی اور ایسے ہی دوسرے زعفرانی لیڈروں نے ایسی دھمکیاں دیں کہ سونیا ڈر گئیں اور انھوں نے سردار منموہن سنگھ کو وزیر اعظم بنا دیا۔
راج ببر صاحب کی یہ بات صحیح ہے کہ نہرو گاندھی خاندان کاکوئی لڑکا یا لڑکی کرسی پر نہیں بیٹھا۔  لیکن وہ کون تھا جس نے کمیونسٹ پارٹی کے 60ممبروں کی حمایت واپسی کی بھی پرواہ نہیں کی اور امریکہ کے جانے والے صدر بش کے حکم پر منموہن سنگھ کو امریکہ بھیجا؟   اور وہ راہل ہی تو تھے جنہوں نے کہا تھا حکومت جاتی ہے تو جائے؟   اور جب وزیر اعظم نے اپنی پوری کابینہ کی حمایت کے بعد ایک آرڈی نینس کا مسودہ بناکر صدر صاحب کو بھیجا اور خود امریکہ چلے گئے۔  اور ملک میں ہر طرف اسکی مخالفت ہوئی تو وہ کون تھا جس نے کہا تھا کہ اس آرڈیننس کے مسودے کے پرزے پرزے کرکے پھینک دو۔  اور یہ کہتے وقت راہل گاندھی نے اسکا بھی خیال نہیں کیا ملک کے وزیر اعظم کی دو گھنٹے کے بعد امریکی صدر سے ملاقات ہونے والی ہے؟     اور نہ جانے ایسے کتنے واقعات ہیں جن سے معلوم ہو جاتا ہے کہ در پردہ وزیر اعظم کون تھا۔
اور سرکار ی طور پر کیا حیثیت تھی سونیا گاندھی کی؟   بس وہی تھی نا جوآج امت شاہ کی ہے۔  تو انکی شادی شدہ بیٹی اور انکے داماد کو بھی وہ تمام سرکاری مراعات کیوں حاصل تھیں جو ملک کے سر براہ کے بیٹے اور بیٹیوں کو ہو تی ہیں۔  کہ کہیں تلاشی نہ لی جائے اور ہر کوئی یہ سمجھے کہ ملک کی ہر چیز انکی ہے کیونکہ یہی ملکہ اور راج کمار راج کماری اور شاہی داماد ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ کانگریس وہا ں واپس آنا چاہتی ہے جب برہمن مسلمان اور پسماندہ اسکی طاقت ہوا کرتے تھے۔  برہمن کو وزیر اعلی ،سنارکو صدر اور کشمیری مسلمان کو انچارج بناکر پرشانت کشورنے سمجھ لیا کہ کانگریس کی حکومت بنوادی۔  ہم دوسروں کی بات تو کر نہیں سکتے لیکن مسلمانون کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ 27برس میں مسلمانوں میں ہی ایسی پارٹیاں بن گئی ہیں جو کروڑوں روپے خرچ کرکے مسلمانوں کے ووٹ لے لیتی ہیں۔  اور روپے دینے والے سوٹ لئے لئے گھر گھر آواز لگاتے پھر رہے ہیں کہ ٹو ٹی پھوٹی پارٹی بیچ ڈالو پارٹی کا بورڈ بینر اور جھنڈہ بیچ ڈالو۔  اور یہ وہ ہیں جو کروڑوں روپے میں ووٹ نہیں خریدتے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ایس پی ،بی ایس پی اور کانگریس کو نہ دو اپنے ووٹ خود ہی لے لواورعیش کرو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close