Parliamentry Affairs Minister of Uttar Pradesh Azam Khan going to attend the winter session at then state assembly in Lucknow on Thursday.November 29 2012. Express photo by Vishal Srivastav

اترپردیش کا اسمبلی الیکشن اور مسلمان

اتر پردیش کا اسمبلی الیکشن ہندوستان کی سیاست میں کافی اہمیت کا حامل ہے اسکے ساتھ ہی ملک بھرکے مسلمانوں اور سیکولرکیلئے بڑی آزمائش کا مقام بھی رکھتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ انکا ایک بھی ووٹ ضائع نہ ہواور ذات ،مسلک اور کچھ ذاتی فائدے کے بنیاد پر انکے ووٹ نہ بٹنے پائے غور طلب ہے کہ اترپردیش میں مسلمانوں کی تعدادسرکاری سروے کے مطابق تقریبا 19%اور غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق 22%ہے یہاں 80پارلیامانی حلقہ میں سے53 اور403اسمبلی میں سے 312 حلقہ ایسے ہیں جہاں انکا اثر و رسو خ ہے اور ان میں کم سے کم 209 اسمبلی ایسے ہیں جہاں مسلمان اپنے من کے مطابق زیادہ سے زیادہ مسلم ممبران اسمبلی میں بھیج سکتے ہیں جس سے انکے من پسند حکومت تشکیل دی جا سکتی ہے مسلمانوں میں نیتا تو ضرور ہیں لیکن ان میں کوئی انکا لیڈر نہیں بن پاتا ہے اس بنا پر پنچایت سے لیکر اسمبلی و پارلیا منٹ تک مسلم نمائندگی میں کافی کمی آئی ہے ا س مضمون میں ہم نے 2014 کے لوک سبھا اور 2012 کے اسمبلی انتخاب کا جاٹزہ لینے کی کوشش کی ہے جس سے مسلم رہنماؤں کو اتر پردیش کے اسمبلی الیکشن میں ایک خاکہ تیار کرنے میں آسانی ہوسکتی ہے.
اتر پردیش کی اسمبلی انتخاب میں سماجوادی پارٹی ،بی ایس پی ،کانگریس اور بھاجپاکے ساتھ مسلم پارٹیاں بھی زور آزمائی کریگی بالعموم یہا ں کے مسلمانوں میں بھا جپا کے مقابلے سیکولر امیدوار کوحمایت کرنے کی حکمت رہی ہے وہ یہاں کے53 سیٹوں کے نتائج کو متاثر کرتے ہیں جبکہ تھوڑی حکمت سے کام لیا جائے تو یہاں سے تقریبا 15-18مسلم پارلیامنٹ کی راہ دیکھ سکتے ہیں تاہم مسلمانوں کا ووٹ زیادہ ترسماجوا دی اور بی ایس پی کو جاتا رہا ہے گزشتہ اسمبلی الیکشن میں مسلما نوں نے کھل کر سماجوادی پارٹی کا ساتھ دیا تھا لیکن آج تک انکے مسائل جوں کے توں ہیں اکھلیش یادو فرقہ وارانہ فساد پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اس کے علاوہ ان کے بنیادی مسائل پر موجودہ حکومت نے بالکل ہی توجہ نہیں دی ہے جسکے وجہ کر مسلمان بے زار ہیں دو سری طرف بی ایس پی کے ماضی کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے یہ اندیشہ بھی رہتا ہے کہ کہیں وہ بھاجپا کے ساتھ ساز باز نہ کرلے حالانکہ گزشتہ کچھ سالوں سے کئی مسلم پارٹیاں بھی میدان میں خم ٹھوک کر کھڑی ہوگئی ہیں ان میں نیشنل لوک تانترک پارٹی، پیس پارٹی(لیکن ڈاکٹرایوب اس پارٹی کو مسلم پارٹی نہیں مانتے ہیں اور نہ ہی وہ مسلمانوں کے کوئی مسئلہ سے دلچسپی رکھتے ہیں) ،علماء کونسل، مسلم مجلس، پرچم پارٹی ،اتحاد ملت پارٹی اور ویلفیر پارٹی کا نام اہم ہے ظاہر ہے عین الیکشن کے وقت منظر عام پر آنے والی ان پارٹیوں سے مسلمانوں کا کچھ بھلاہو یا نہ ہو لیکن بھاجپا کا بھلا ضرور ہوجائگا اسی وجہ کر اکثر مسلم رہنما ؤں کا نام بھاجپا کے ایجنٹ کے طور پر لیا جاتا ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم قیادت اور خصوصی طور پر مجلس مشاورت اور مسلم پرسنل لاء کے قائدین ان پارٹیوں کے درمیان اس بات پر مفاہمت کرادیں کہ وہ ان ہی سیٹوں پر اپنی قسمت آزمائی کریں جہاں سے ان کا جیتنا یقینی ہو۔
2014 انتخاب کے نتائج پر غور کریں: 

شمار

پارٹیاںکل امیدوارکامیابووٹکامیاب مسلمناکام مسلم
1سماجوادی پارٹی78522.202
2بہوجن سماج پارٹی80019.603
3کانگریس پارٹی7927.504
4بھاجپا787142.305
5اپنا دل22 0 


2014کے انتخاب کا جائزہ لیں تو بہ بانگ دہل کہا جا سکتا ہے کہ اگر انتخاب کے قبل سیکولر پارٹیوں کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہو جا تا تو انہیں وہاں کی سبھی پارلیامانی سیٹ حاصل ہوسکتی تھی واضح رہے کہ پارلیامانی انتخاب میں بھاجپا اور اسکے اتحادیوں کو محض 42% ووٹ ملے تھے جبکہ سماجوادی پارٹی کو 22% ، بہوجن سماجپارٹی کو 20% اورکانگریس کو 8%ووٹ ملا تھا اگربہار کے نقشہ قدم پر کانگریس ان پار ٹیو ں کے ساتھ ملکر انتخاب کی تیاری کرے تو یوپی کا نقشہ کچھ اور ہی ہوگاایک بات تو طے ہے کہ اسکے بنا پر کم سے کم مسلمانوں کا ووٹ صرف سیکولر کی جانب جائیگا تو اوران کا حشر ایسا نہیں ہوگاظاہر سی بات ہے اس انتشار کا فائدہ بھاجپا اور اسکے اتحادیوں کو ہواتھا اور سیکولر پارٹیو ں کی ہوا نکل گئی آئندہ اسمبلی انتخاب میں بھی بھاجپا یہی چاہتی ہے کہ سیکولر اور مسلم ووٹوں کو منتشر کیا جائے دوسری صورت یہ بھی ہے کہ مسلم پار ٹیوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے اور انہیں لیکر کانگریس اور بہوجن پارٹی کے ساتھ ایک مہا گٹھبند ھن کی تیاری کی جائے اس طرح مسلما نوں کا ووٹ صد فی صد ایک طرف ہو جائے گا اسکی وجہ یہ ہے کہ اسوقت مسلمان ملائم سنگھ اور انکی حکومت سے بالکل ناراض ہیں اور انکے ہمنوا یعنی لالو پرشاد یادو اور نیتش کمار بھی بہار کے انتخاب میں انکے رویہ کو لے کر کافی ناراض ہیں بلکہ کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتر پردیش میں لالو پرشاد اپنے داماد تیج پرشاد یادو کو لیکر کہیں راشٹریہ جنتا دل کو آگے لیکر نہ چل پڑیں
2012کے اسمبلی انتخاب کے نتائج کاایک جائزہ:

پارٹیکل امیدوارجیت

 

دوسرا مقام

 

کامیاب مسلمدوسرا مسلم

 

تقسیم کا فائدہووٹ فیصد
ایس پی4032247541162529.29
بی ایس پی 802081536825.95
کانگریس 2831410113.26
بی جے پی 4754001915.21
پیس پارٹی 423006.34
قومی ایکتا دل 212005.23
اتحاد ملت پارٹی 101002.35
اپنا دل 020100.25
آر ایل ڈی 990002.33
این سی پی 101001.05

آزاد و دیگر
 613000 

اگر 2012کے اسمبلی انتخاب کا جائزہ لیں تو اس میں کل 67مسلم ممبران اسمبلی منتخب ہوئے تھے جبکہ دوسرے نمبر پر رہنے والوں میں 63 امیدوار مسلم تھے یعنی 130لوگ اسمبلی کے ریس میں تھے جن میں کچھ ایسے امیدوار بھی تھے جو چند سو ووٹوں سے ہی ناکام رہے تھے اگر مسلم ووٹراور قائدین کوئی حکمت کی راہ اختیار کر یں توانہیں ایسی ناکامی کا سامنا نہیں ہوگا اور اس طرح کم از کم 39اور مسلموں کو ممبر اسمبلی بنا سکتے تھے یعنی اترپردیش اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد 105سے 115تک جاسکتی تھی واضح رہے کہ 2012کے الیکشن میں رامپور میں مسلما ن 52%،میرٹھ میں 53 ،مرادآبادمیں46 ،امروہہ میں 44 ، بجنورمیں 42 ، کیرانہ میں 39، مظفر نگر میں 38، سنمبھل میں 36 ، بریلی میں 25 ،سرسوتی میں 23 ، جونپور میں 21 ، بدایوں،علی گڑھ ،اعظم گڑھ ،سیتا پور،کھیری ، ڈومریا میں 20% ،جبکہ فروخ آباد ،سلطانپور، ورانسی ،غازی پور ،گھوسی ، میں 18-19% مسلمان بستے ہیں انکا ووٹ بٹ گیا اور وہ اپنی پسند کا امیدوار نہیں چن سکے۔ 
گزشتہ انتخاب میں سماجوادی پارٹی بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس تینوں پارٹیاں مسلمانوں کا ہمدرد اور بھاجپا کو انکا دشمن گردانتے ہیں اور خود کو مسلمانوں کے ووٹوں کا سب سے زیادہ حقدار مانتی ہیں اور انکا دعوی ہے کہ آج کی تاریخ میں وہ مسلمانوں کے محافظ ہیں جس کے وجہ کر مسلمان اور سیکولر ووٹوں کا اچھی طرح بٹوارہ ہوا جسکا فائدبھاجپاکو ملا تھا اگر ایک نگاہ 2012 کے اسمبلی انتخاب کے نتائج پر ڈالی جائے تو67 مسلم اسمبلی میں آسکے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والوں کی تعداد63تھی سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں 5 2مسلمان سماجوا دی سے 19بھاجپاسے، 8بہوجن سے اورایک مسلمان کانگریس سے ہار کر اسمبلی سے باہر رہنے پر مجبور ہوئے تھے اس سے ایک بات یہ اور بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جب کسی مسلمان کے مقابلہ میں کوئی آزاد امیدوار مضبوط نظر آتا ہے تو وہ انہیں اسمبلی میں بھیجنا بہترسمجھتے ہیں اوروہ کسی مسلم کے بدلے اپنی پارٹی سے بھی بغاوت کراسکتے ہیں۔
جہاں مسلمانوں کی آبادی 20% سے 35% فیصد ہے لیکن وہ اپنی پسند کے امیدوار کو منتخب کرنے میں ناکام رہے کیو نکہ انتخاب سے قبل انہوں نے متحدہ حکمت عمل تیار کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی تھی اور نہ ہی ووٹروں کی رہنمائی کرنے کی طرف کوئی توجہ کی تھی اسکے علاوہ ٹکٹ لینے والے اور انکے حا می بھی صرف یہ نہ سوچیں کہ انہیں ذاتی طور پر جیتنا یا کسی کو جیتانا کافی اور لازمی ہے بلکہ یہ سوچیں کہ ملت کی جیت کس لائحہ عمل میں ہے اسکے ساتھ ہی ملک کے باقی صوبہ کے لوگوں کو بھی اترپردیش کو اپنے حال پر چھوڑدینا ملک کیلئے بہتر نہیں ہوگا بلکہ انہیں بھی ان کے درمیان جاکر اور کوئی راہ ہموار کر کے ان کے درمیان اتحاد کا کوئی راستہ نکالنا چاہئے اسی سے مثبت فرق پڑنے کی امید ہے جس طرح دہلی اور بہارکے مسلمانوں نے متحد ہوکر بھاجپا کے خلاف زیادہ سے زیادہ ووٹ دیکر سیکولر پارٹیوں کو کامیاب بنایا تھا اسی طرح کی مثال اترپردیش کے لوگوں کو بھی قائم کرنی چاہئے



⋆ محمد شمشاد

محمد شمشاد
مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

کانگریس کیلئے گجرات الیکشن کا سبق آموز نصیحت

 الیکشن جہاں جہاں بھی ہوتے ہیں وہاں کسی ایک پارٹی کی جیت اور دوسرے کو ہار تسلیم کرنا پڑتا ہے لیکن بعض الیکشن میں یکطرفہ نتائج سامنے آتے ہیں تو کبھی مقابلہ برابر کا ہوتا ہے ان حالات میں ہارنے والی پارٹی کو بھی الیکشن جیت کا درجہ دے دیا جاتا ہے اور وہ پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب رہتی ہے اسکی مثال بہار،جمو و کشمیر،منی پور اورگوا کی حکومتیں ہیں بہار اور جمو کشمیر کی عوام بھاجپا کے مخالفت میں تھی اوروہ کسی بھی حال میں بھاجپا کو نہیں چاہتے تھے لیکن بھاجپا کے امیت شاہ اور نریندر مودی کی جوڑی نے ڈنڈے کے زور پہ ان دو ریاستوں میں  حکومت کی کرسیاں تھام لیاور وہاں کی عوام انکا منہ دیکھتے رہ گئے ۔