ہندوستان

احتجاج مظلوم قوم کا بنیادی حق

ایس احمد پیر زادہ
جمہوری دنیا میں احتجاج قوموں کا حق ہوتا ہے۔ احتجاج ہی موجودہ زمانے کا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے سے اپنی آواز کو بلند کیا جاسکتا ہے۔ یہ حق انسانیت کو اقوام متحدہ کے چارٹر نے بھی فراہم کیا ہے اور مختلف ممالک کے آئین میں بھی عوام کا یہ حق محفوظ ہے کہ وہ اپنی ناراضگی کا اظہار احتجاج کے ذریعے سے کرسکتے ہیں۔ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں آج بھی اگر چند لوگ ہی سڑکوں پر خاموش احتجاج ہی کرنے نکلیں تو وہاں کی سرکار ہل جاتی ہے۔میڈیا کی پوری کوریج اُن کو دی جاتی ہے۔ اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں اِن چند نفوس کا احتجاج موضوع بحث بن جاتا ہے۔ موجودہ زمانے کی تاریخ میں ایسی بھی مثالیں ہیں کہ عوام کی معمولی ناراضگی کے نتیجے میں حکومتیں گر گئیں۔ غرض آج کے زمانے میںقوموں کے لیے اپنی بات منوانے کے لیے احتجاج کا ہی واحد راستہ رکھا گیا ہے۔ جو ممالک اور اقوام عوام کو اپنے حقوق کی بازیابی اور زیادتیوں کے خلاف احتجاج کرنے سے روکتے ہیں ۔طاقت کی زبان سے عوام کی آواز کو دباتے ہیں۔ ایسے ممالک بھلے ہی جمہوریت کا چوغا زیب تن کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہوںحقیقت میں وہا ں آمریت کا راج ہوتاہے، وہ ممالک چنگیزیت اور بربریت کے علمبردار ہوتے ہیں۔ ایسی ہی طاقتوں میں ایک کے ساتھ ریاست جموں وکشمیر کے عوام کوپالا پڑا ہواہے۔اس طاقت نے متازعہ ریاست جموں وکشمیر میں کروڑوں لوگوں کی سانسوں پر پہرے بیٹھا رکھے ہیں ۔ کرہ ارض کے اس چھوٹے مگر خوبصورت خطہ کو دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جماؤ والا حصہ بنادیا گیاہے۔ اپنی افواج کا بیشتر حصہ یہاں تعینات کررکھا ہے ۔ فوج کی بھاری تعداد میں موجودگی کی وجہ سے ہی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ریاست جموں و کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل قرار دیا ہے۔ یہاں ہندوستان کی ہی مختلف فورسز ایجنسیوں کے مطابق صرف ڈیڑھ سو کے قریب عسکریت پسند سرگرم عمل ہیں ، اُن ڈیڑھ سو ہتھیار بند لوگوں کے مقابلے میں ایک ملین سے زیادہ فوج اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عسکریت پسندوں کی آڑ میں بھارت یہاں مقامی آبادی سے برسر جنگ ہے۔ اس بات کی تصدیق عوامی احتجاجی لہر کے دوران بخوبی ہوجاتا ہے جب وردی پوش عام لوگوں کے ساتھ اِس انداز سے نبرد آزما ہوجاتے ہیں جیسے کسی منظم فوج کے ساتھ دوبدو لڑائی لڑی جانی ہو۔اِن فوجیوں کو ’’قومی مفاد‘‘ کے نام پر یہاں کچھ بھی کرنے کے لیے پٹھان کوٹ سے کنیا کماری تک عوامی حمایت حاصل ہے، انہیں قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے افسپا جیسی ’’مقدس کتاب‘‘ سونپ دی گئی ہے، انہیں یہاں نسل کشی کرنے کی آزادی ہے اور دیش واسیوں میں اگر کسی نے اُن کے اس اقدام پر ناراضگی جتائی تو اُسے کشمیری’’دہشت گرد‘‘ قوم کا حمایتی قرار دے کر غداری کے زمرے میںڈال دیا جاتا ہے۔ہندوستانیوں کی کھوپڑیاں منفی پروپیگنڈے سے اس طرح گھمادی گئیں ہیں کہ انہیں ہر کشمیری پاکستانی دکھائی دیتا ہے، وہ کشمیریوں کی خون ریزی کو جائز مان لیتے ہیں، اُنہیں اپنے فوجیوں کی بزدلانہ حرکت میں’’جانبازی‘‘ کے گر نظر آتے ہیں۔ جو ملک عوام کے مقابلے میں فوج اُتار دے، جس ملک کا وزیر دفاع یہ کہے کہ فوج لاٹھی چارج کے لیے تیار نہیں کی جاتی ہے بلکہ (عوام پر) بندوق کے دھانے کھولنے کے لیے اُن کی تربیت کی جاتی ہے اُس ملک کی حکومت، فوج اور عام لوگوں کی ذہنی ساخت کیا ہوگئی اس کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ جمہوریت کے سبھی دعوے محض فریب ہیں۔ جمہوریت کا مکھوٹا چہرے پر ڈال دینے سے کالے کارناموں پر زیادہ دیر تک پردہ نہیں ڈالا جاسکتا ہے۔ دیر سویر حقیقت سامنے آہی جاتی ہے۔ مکروفریب نہ ہی انفرادی سطح پر کسی کوترقی کی راہ میں ڈال دیتا ہے اور نہ ہی اجتماعی سطح پر قوموں کو عروج حاصل ہوجاتا ہے۔ کشمیر کے حدود میں انسانیت اور جمہوریت کا سر جھکانے والی طاقت کا نشہ بھی چور ہوجائے گا۔بشرطیکہ کشمیری لوگ اپنے احتجاج کو دنیا کے ہر خطے میں اور ہر سطح پر درج کرنے کے ساتھ ساتھ جدوجہد کے تئیں جان سے بھی زیادہ وفاداری کا مظاہرہ کریں۔
کشمیر میں عالمی قوانین کے ہی معانیٰ بدل جاتے ہیں۔ جہاں دنیا بھر میںاحتجاج کو ناراضگی کا اظہار کرنے کا واحد طریقہ اور ذریعہ تصور کیا جاتا ہے وہیں کشمیر کے حدود و قیود میں احتجاج کو مخالف سمت پر کھڑے لوگ اُپنے خلاف اعلان جنگ تصورکرتے ہیں۔ پھراحتجاج کرنے کے جرم میںسڑکوں اور گلیوںکو احتجاجیوں کے لہو سے لال کیا جاتا ہے۔ جیل کی کال کوٹھریوں میں نوجوانوں کو اس انداز سے ٹھونس دیا جاتا ہے کہ جیسے وہ انسان نہیں بلکہ جانور ہیں۔ ۸؍جولائی 2016ء؁ کو ریاست گیر احتجاجی لہر نے حکومت ہند کو بے چینی اور اضطراب کے ساتھ ساتھ حواس باختہ بھی کردیا ہے۔ اُنہیں شائد توقعات ہی نہیں تھے کہ کشمیر میں اس نوعیت کی عوامی تحریک برپا ہوجائے گی۔ حالات کا جائزہ لے کر حقیقت پسندبن کر سچائی کا اعتراف کرنے کے بجائے فوج اور نیم فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ مقامی پولیس کو عوامی احتجاجی لہر کچلنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کے احکامات صادر کیے گئے۔ دلی سے کبھی ہندوستان کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی دھمکیاں موصول ہوتی تھیں تو کبھی وزیر دفاع منوہر پاریکرپاکستان ڈرنے کی آڑ میں بظاہر کشمیریوں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ جو ملک نیوکلیر ملک پاکستان کو دھمکا سکتا ہے اُس کے سامنے نہتے کشمیریوں کی کیا وقعت ہے۔ یہاں احتجاج کرنا ہی جرم جاتا ہے۔ پولیس تھانوں میںاحتجاجی نوجوانوں کے خلاف کیس درج ہوتے ہیں، پھر اُنہیں چھڑانے کے لیے بولی لگ جاتی ہے۔ مول تول کیا جاتا ہے۔ جلسوں او رجلوسوں پر گولیاں چلتی ہیں۔ نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں تک کے سینے چھلنی کردئے جاتے ہیں۔ پیلٹ گن جس کی ایجاد جنگلی جانوروں کو قابو میں لانے کے لیے کیا گیا ہے کو یہاں عام لوگوں کے خلاف استعمال میں لایا جاتا ہے۔ جس انداز سے رواں ایجی ٹیشن کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کو پیلٹ کا شکار بناکر اُن کے آنکھوں کی بینائی چھین لی گئی اُس سے یہ خدشات صحیح ثابت ہوئے ہیں کہ ہندوستان ریاست جموں وکشمیر میں اسرائیلی طرز عمل اپنارہا ہے۔ جس طرح اسرائیل فلسطین کے نوجوانوں کو جسمانی طور ناخیر بناکر اپاہچ بنارہا ہے اُسی طرح یہاں بلاجواز اور بغیر کسی اشتعال کے ہندوستانی وردی پوش نونہالوں کو زندگی بھر کے لیے اپاہچ بنا رہے ہیں۔ پُر امن ، نہتے اور عام لوگوں پر دنیا کے کسی خطے میں گولیاں نہیں چلتی ہیں، پیلٹ سے اُن کی صورت بگاڑی نہیں جاتی ہے۔ یہ کشمیر ہی ہے جہاں وردی پوشوں نے جنگل راج قائم کررکھا ہے۔ جو جی میں آئے کرتے ہیں، جسے چاہیں مار سکتے ہیں، جس کے گھر میں چاہیں گھس کر توڑ پھوڑ کرسکتے ہیں۔جسے چاہیں بیچ راہ پکڑ کر اُس کے سینے میں گولی پیوست کرسکتے ہیں، راہ چلتی عزت مآب خواتین کے ساتھ دست درازی کرسکتے ہیں،چھوٹے چھوٹے بچوں کی آنکھوں کو نشانہ بناکر اُنہیں زندگی بھر کے لیے بصارت سے محروم کرسکتے ہیں۔رام کے پرستاروں نے یہاں راون راج قائم کررکھا ہے۔
ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ڈراما بازی کررہی ہیں۔ جاں بحق ہوئے لوگوں کے لواحقین میں چند ایک کی خواتین کو زبردستی لاکر ڈاک بنگلوں میں اُن کے ساتھ فوٹو سیشن کرکے مگرمچھ کے آنسوں بہاکر کم از کم وہ کشمیری قوم کو دھوکہ نہیں دے سکتی ہیں۔ایک جانب اُن کے کہنے پر پولیس ، سی آر پی ایف اور فوج کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے تو دوسری جانب وہ لواحقین کو دلاسہ دینے کے لیے میڈیا کے ذریعے سے عوام کو اپنی ڈرامہ بازی سے مرعوب کرنا چاہتی ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے منصوبوں میں کشمیریوں کی نسل بھی شامل ہے اور اِن دونوں جماعتوں کے مکروہ عزائم کی آبیاری اس وقت پی ڈی پی اور محبوبہ مفتی کررہی ہیں۔روز روز امن کا درس دینے والی محبوبہ مفتی سے پوچھا جاسکتا ہے کہ کشمیری قوم کو اُس امن کا کیا کرنا ہے جس میں اُن کی آزادی ، تہذیب، تمدن اور شناخت گم ہوجائے گی۔ وہ امن کس کام کا جس میں ہماری ماؤں اور بہنوں کی عصمت محفوظ نہ ہو، جس میں ہماری نوجوان نسل کو تہ تیغ کیا جارہا ہو۔جس قیام امن کا مقصد قبرستان کی خاموشی قائم کرنا ہو، اُس سے صد ہزار مرتبہ توبہ کرنے میں ہی ہماری بقا کا راز پوشیدہ ہے۔ وردی پوشوں کی جانب سے شہر و دیہات میں دل دہلادینے والی کارروائیوں پرہند نوازوں کی اشک شوئی کرنا فریب ہے۔ یہ یہاں لوگوں سے اُن کے جینے کا حق چھینا چاہتے ہیں۔ ہماری پاس کوئی طاقت نہیں ہے، کوئی حرب و ضرب کا سامان نہیں ہے۔ ہم اپنے اوپر ہونے والے ان مظالم پر صرف احتجاج کرسکتے ہیں، لیکن ہمارا احتجاج بھی برداشت نہیں ہوتا ہے۔ ہماری پُرامن احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کو کچلنے کے لیے آگ و آہن کی بارش کی جاتی ہے، پیلٹ کا بے تحاشا استعمال کیا جاتا ہے، گرفتاریوں کے ذریعے سے ہماری عزائم اور آواز کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ لاکھ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ فورسز اہلکار اپنے وفاع میں گولیاں چلاتے ہیں۔ خود محبوبہ مفتی نے بھی کہیں مرتبہ گما پھرا کریہی الزام دہرایا ہے ۔ ہماری پُرامن عوامی تحریک کو تخریب کاری کا نام دیا جارہا ہے اور پھر اِسی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی کی جاتی ہے۔
ہمارے یہاں ایک غلط روایت پیدا ہوئی ہے۔ جہاں کہیں پھر کوئی نوجوان احتجاج کے دوران فورسز اہلکاروں کی گولیوں کا شکار ہوکر ابدی نیند سو جاتا ہے اُس کے لواحقین یہ کہنے سے ہچکچاتے ہیں کہ اُن کا لخت جگر احتجاج کا حصہ تھا۔ احتجاج ہمارا بنیادی حق ہے، ہمیں کھلے طور پر اطراف کرنا چاہیے کہ ہم جمہوری طرز عمل اختیار کرتے ہوئے احتجاج کررہے تھے تو قابض فورسز اہلکاروں نے ہم پر گولیاں چلائی ہیں۔ ہمیں دنیا کو سمجھانا ہوگا کہ حکومت ہند اپنی فوجی طاقت کے ذریعے سے اس قوم کو پُرامن راستے سے ہٹا کر دوسرے ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہمیں عالم اقوام کو بتانا ہوگا کہ اگر کسی مظلوم قوم کے لیے اپنے حقوق کی بازیابی کی مانگ کرنے کے تمام راستے مسدود کردئے جائیں گے، اگر ہمیں اُف بھی نہ کرنے دیا جائے گا تو تاریخ سے ثابت ہے کہ کمزور کا ردّعمل طاقت ور سے زیادہ شدید اور خطرناک ہوتا ہے۔اس قوم کو تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق جانیں نچھاور کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
سرینگر سے دلی تک حکمران طبقے کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے اُنہیں جلتی پر پٹرول چھڑکنے کے بجائے عوامی جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔ کشمیری عوام کو دبانے سے برصغیر میں ایک زبردست ناسور پیدا ہوجائے گا جس کی لپیٹ میں پورا بھارت آسکتا ہے۔دنیا کو بھی مجرمانہ خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ بڑی بڑی طاقتیںملکی مفادات کے تحت کشمیر جیسے سنگین مسئلے سے نظریں چرا رہے ہیں۔بے شک کشمیری کمزور ہیں لیکن کشمیریوں کی مزاحمت کمزور نہیں ہے۔ کشمیری قوم نے لاکھ کمزوریوں کے باوجود ہندوستانی پالیسی سازوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں ۔ ایک ایک دن میں پانچ پانچ سو افراد کو گولیوں سے چھلنی کرکے اُنہیں جسمانی طور معذور کرکے کوئی کشمیریوں سے یہ تواقع نہ رکھے کہ انہیں نام نہاد امن کا پارٹ پڑھا جائے۔ امن کی قدر و قیمت سب سے زیادہ کشمیری سمجھتے ہیں لیکن امن عزت، آبرو اور آزادی کی قیمت پر قائم ہوجائے ، یہ کسی بھی صورت میں کشمیری قوم کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔ یہاں ہمیں بھی بحیثیت مجموعی اپنے اعصاب کو برقرار رکھناہوگا اور سوچ سمجھ کر دوستوں اور دشمنوں میں فرق کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایسے حالات میں تحریک حق خودارادیت کی دشمن طاقتوں نے بھیس بدل کر قوم کی اجتماعیت، نظم و ضبط اور اخلاقی حدود پر وار کرنے کے لیے میدان میں قدم رکھا ہے۔
احتجاج قوم کا حق ہے، اس لیے کشمیری مظلوم قوم کا پُر امن احتجاج تب تک جاری رکھے گا جب تک نہ اس قوم کو حق خود ارادیت کا تسلیم شدہ حق فراہم کیا جائے گا۔ طاقت کی زبان سے نہ ہی کشمیری گزشتہ سات دہائیوں سے مرعوب ہوئے ہیں اور نہ آج کے بعد ہوگی۔ بہتری اسی میں ہے کہ حکومت ہند لاکھوں ہندوستانیوں کو غربت، افلاس اور پریشانیوں سے آزاد کرنے کے لیے کشمیریوں کے حق کو تسلیم کرے اور اُنہیں اُن کا بنیادی حق فراہم کرے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایس احمد پیرزادہ

ٔایس احمد پیرزادہ جموں وکشمیر کے معروف اخباروں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ ایک کتاب 'وادی خونناب' کے منصف بھی ہیں۔

متعلقہ

Close