ہندوستان

اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا

آج ملک کا سنجیدہ مسلمان مستقبل کے خوف، حال کی کشمکش، بے چار گی و مایوسی کے عالم میں متوقع خطرات کی آہٹ کو محسوس کررہا ہے۔

خالد سیف الدین

ہمارے ملک میں مسلم، سکھ،عیسائی، جین، بودھ اور پارسی وغیرہ کا شمار اقلیتوں میں ہوتا ہے یعنی وہ مذہبی و سماجی اکائیاں جو کسی خطّے، ریاست  یا کسی ملک میں اکثریتی مذہبی، انسانی یا نسلی اکائی سے تعداد میں کم ہو ں یعنی قلیل تعداد میں بستی ہوں تب انکا وجود ملک کی اقلیت کہلاتا ہے۔ ہمارے ملک میں مسلمانوں کو چھوڑ کر باقی ماندہ تمام اقلیتیں تعلیمی، معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم ہیں۔ یہاں کا مسلمان مجموعی طور پر بحیثیتِ مسلم قوم کہلانے کے تیلی، تانبولی، باغبان، قریش، مومن، انصاری اور نہ جانے کتنی برادریوں میں تقسیم  چُکا ہے۔ یہ بٹوارا  آپسی اختلافات اور رنجشوں کو فروغ دے رہا ہے جس کی وجہ سے ملک کی سب سے بڑی اقلیت سیاسی استحصال کا شکار بن رہی ہیں ایسی صورتِ حال میں ہم پر یہ لازم ہو جاتا ہے کہ ہم اپنے آپ میں سیاسی شعور، سیاسی بصیرت، اور سیاسی بیداری پیدا کریں اسی موضوع پر حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ نے فرما یا تھا کہ  ’اگر اس ملک میں مسلمانوں کو پنج وقتہ نمازی تو کیا بلکہ تہجد گذار بنادیا جائے مگر انکے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے تو پھر مسجدیں ہی نہیں بلکہ انکے نمازپڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی جائے گی۔

سیاسی شعور کا فقدان ملک کے مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ ہمارے منتخب کردہ نمائندوں میں بھی کثرت سے پا یا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر مسلم قیادت جمہوریت کی نزاکتوں، حالات کی پیچیدگیوں اور سیاسی تقاضوں پر کھری نہیں اُتر پاتی اور کچھ ہی عرصے بعد ہمارا سیاسی نمائندہ سیاسی ھتکنڈوں کا شکار ہو کر سیاست سے باہر ہو جاتا ہے اور ہمیشہ کے لئے  اس کے نام سے پہلے لفظ  ’سابق ‘  لگ جاتا ہے۔ میدانِ سیاست میں سرگرم ہماری نمائندگی کے پاس نہ تو کسی خاص قسم کی کوئی مثبت ٹریننگ ہوتی ہے، نہ علم ِ سیاسیات سے واقفیت، نہ مطالعہ کا شوق اور نہ ہماری سیاسی تاریخ ہی کا اْسے علم ہوتا ہے۔

اکثر ہمارے یہ نمائندے کسی حادثاتی عمل، کسی معروف لیڈر کے نورِ نظر ہونے پر، مالدار ہونے کی بنا ء پر یا کبھی کبھی قوم کے جذباتی فیصلوں کی وجہ سے اتفاقًا منتخب ہوجاتے ہیں  اور اُمت !  دیندار، تعلیم یافتہ، دوراندیش، محنت کش اور باعمل مسلم سیاسی نمائندگی و رہنمائی سے محروم ہو جاتی ہے۔اگر کسی مسلم نمائندے میں یہ تمام صلاحیتیں موجود بھی ہو ں تو پھر وہ اخلاص اور اکرام والی صفات کہاں سے لائے۔جبکہ ان صفات کی دستیابی دینی جماعتوں اور اصلاحی،  ملّی و سماجی تنظیموں سے منسلک ہونے پر ہی حاصل ہوتی ہے اور فطرتِ انسانی میں پروان چڑھتی ہیں۔  اکثر مسلم قائدین وقتاً  فوقتاً  جماعتوں اور تنظیموں کے رابطہ میں شوقیہ طور پر یا سیاسی مجبوری میں تو آجاتے ہیں لیکن مستقل طور پر جڑ نہیں پاتے۔

ان دو اہم صفات کی عدم موجودگی اکثر مسلم سیاسی شخصیات کو موقع پرستی، خود نمائی اور احسان فراموشی میں مبتلاء کردیتی ہے اور پھر یہ افراد پاس ِعہد اور ایفائے وعدہ بھول جاتے ہیں۔ شخصیت پرستی ان پر غالب آجاتی ہے  جبکہ شخصیت پرستی انسان کو ذہنی طور پر فرعون بنادیتی ہے۔ آہستہ آہستہ قریبی دوست، احباب، محسنین، اور اکثر رشتہ دار ان سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں یعنی  مخلصین کی تعداد گھٹتی چلی جاتی ہے اور ماکرین، موقع پرست اور چاپلوس قسم کے اغیار ان سے قریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یاد رہے یہ وہی گمراہ کن طبقہ ہے جنہوں نے ماضی میں اکبرِ اعظم اور دارا شکوہ کو دین سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ریاستِ حیدرآباد کے نظام کو ٹیپو سلطان شہید سے دشمنی پر اُکسایا تھا۔ میر جعفر اور میر صادق کے یہ پیروکارہر زمانے میں بہ کثرت دستیاب ہیں۔ ہمارے قائدین کو ان چپ دادن و چپ انداز افراد سے بچے رہنے کی سخت ضرورت ہے یہ وہی طبقہ ہے جنہوں نے اغیار کے اشاروں پر ہمارے ملک میں مسلم لیڈرشپ کو اُبھرنے نہیں دیامعاشرہ  میں اسطرح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

ان حالات میں تعلیم یافتہ، دیندار اورملی جماعتوں میں فعال افراد کو سامنے آنا ہوگا جو سیاست کو شجر ہ ممنوعہ گردانتے ہیں۔ ماضی میں اس طرح کے افراد سامنے آئے تھے مگر انتخابات میں ایک دو شکستوں کے بعد وہ افراد دلبرداشتہ ہوکر سیاست سے دور ہوگئے۔ دنیا کا دستورردو قبول کا ہے ہر اچھے کام کو دنیا والے پہلے ردّ کردیتے ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب یا نسل کے ہوں اور بعد ازقصّہ ِبسیار قاضی بیدار شد کے بمصداق کام کی اہمیت کو سمجھنے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ قبول بھی کرنے لگتے ہیں۔ سیاسی شعور کی بیداری سے قبل ہمیں آپسی تال میل کو بڑھانا ہوگاکسی بھی پروگرام کی کامیابی کی بنیاد اتحاد و اتفاق پر منحصر ہوتی ہے۔ مذہبی، تعلیمی، معاشراتی، سماجی اور تہذیبی میدان میں کسی بھی قوم کی کامیابی میں اتحاد ہی مرکزی رول ادا کرتا ہے۔ اتحاد واتفاق باہمی اخوت و ہمدردی کے جذبے کو پروان چڑھاتا ہے جبکہ آپسی اختلاف و انتشار  تفرقہ بازی،  باہمی نفرت اور عداوت کو جنم دیتے ہے اور آج ہم اسی عذاب سے گزررہے ہیں۔ آج ہمیں اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ہم اتحاد واتفاق کے جذبے کو عفودرگزرکے ساتھ اپنی قوم میں پروان چڑھانے کے لئے کوششیں کریں۔

آج ملک کا سنجیدہ مسلمان مستقبل کے خوف، حال کی کشمکش، بے چار گی و مایوسی کے عالم میں متوقع خطرات کی آہٹ کو محسوس کررہا ہے۔ وہ ملت کی اکثریت کی خود فریبیوں  اور حماقتوں کی وجہ سے پیدا شدہ عبرت ناک صورتِحال پر آنسو بہا رہا ہے۔ اسلام دشمنی اور طاقت کی سر مستی میں ڈوبی ہوئی ملک کی یہ موجودہ حکومت سینہ ء گیتی پر ایک بدنما داغ ہے۔ جسکو اقتدار سے بے دخل کرنے کیلئے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو اس آس اور یاس کے ہنگامہ درآغوش مرحلہ سے باہر نکلتے ہوئے اپنے ذہنی اضطراب و تذبذب پر قابو پانا ہوگا۔ حالات انتہائی پیچیدہ او رمشکل ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ہر آنے والا دن ایک نئی مصیبت کی خبر دیتا ہے۔ ملک کی آب وہوا چیخ چیخ کہ کہہ رہی ہے کہ مسلمانوں متحد ہوجاؤ ورنہ ’’ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ‘‘ لیکن ہم سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر شدید اختلافات کے شکار ہیں اور نہ ہی ایسی کوئی شکلیں نظر آرہی ہیں جو ہمیں اس مہلک مرض سے نجات دلا سکے۔

قوم جب اتفاق کھو بیٹھی     

اپنی پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھی 

 (مولانا حالیؔ)

آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ہم مذہبی، ملّی اور معاشراتی معاملات پر ایک ہوجائیں تو انشاء اﷲ آئندہ  ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع ہونا بھی آسان ہوجائے گا۔

میرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا  

 اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا

  گرادیا ہے تو ساحل پہ انتظار نہ کر 

اگر وہ ڈوب گیا ہے تو دور نکلے گا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close