ہندوستان

اس سوکھے کے ذمہ دار صرف شردپوار

حفیظ نعمانی

ممبئی سے پانچ سو کلومیٹر دور لاتور نام کا ضلع اس وقت پوری طرح سوکھا ہوگیا ہے۔ جہاں ایک رپورٹر کے مطابق دو سو سے زیادہ مکان ایسے ہیں جہاں تالا لگا ہوا ہے اور مکان والے پانی کی تلاش میں نہیں معلوم کہاں جاچکے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ برسوں سے وہاں پانی کے لئے بے ایمان حکومتیں کام کررہی ہیں اور ایک منصوبہ وہ ہے جس کو پورا کرنے کے لئے آٹھ سو گنا رقم ادا کی جاچکی ہے مگر وہ پورا نہیں ہوا۔ اور دوسرا منصوبہ وہ ہے جس کے لئے آٹھ ہزار گنا رقم دی جاچکی ہے۔ لیکن کروڑوں روپئے کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے پانی سے بھری ٹرین لاتور بھیجنی پڑی ہے جس میں پانچ لاکھ لیٹر پانی ہے۔ لاتور کے سیاسی جوکروں کا حال یہ ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ مرکزی حکومت ٹرین بھیج رہی ہے لیکن انہوں نے پلیٹ فارم سے باہر تک کسی پائپ لائن کا انتظام نہیں کیا۔ لیکن اپنی گھٹیا سیاسی حرکتوں سے باز نہیں آئے اور جب دس ڈبوں کی پانی ایکسپریس پلیٹ فارم پر پہونچی تو کود کر اس پر بی جے پی کا پوسٹر لگا دیا اور پانی کے ڈبوں کے سامنے کھڑے ہوکر فوٹو کھنچوانا نہیں بھولے۔ تاکہ دو چار سال کے بعد الیکشن کے موقع پر ثبوت پیش کرسکیں کہ انسانوں کے جسموں کے اندر لگی آگ پانی سے انہوں نے ہی بجھائی تھی۔

ہر حکومت کا یہی حال ہے کہ وہ اے سی ہال میں بیٹھ کر حکم دیتی ہے۔ دوسرے اے سی کمرہ سے رقم کے چیک کاٹ کر بھیج دیئے جاتے ہیں گاوں کی تپتی ہوئی دوپہر میں کوئی دیکھنے بھی نہیں جاتا کہ اس رقم کا کیا ہوا۔ کل ایسے ایسے کنوئیں لاتور میں ایک ورکر نے رپورٹر کو دکھائے جن کی تیاری میں 15-15 لاکھ روپئے خرچ ہوئے اور ان میں سے ایک میں ہرے رنگ کا گندہ پانی نظر آرہا تھا۔ یہ ایک فیشن ہوگیا ہے کہ راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ ہم دہلی سے اپنے کسان اور مزدور بھائیوں کے لئے ایک روپیہ بھیجتے ہیں لیکن ان کو 15 پیسے مل پاتے ہیں تو یہ 85 پیسے کہاں چلے جاتے ہیں؟ ان کے فرزند راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ہم ایک روپیہ بھجواتے ہیں اس میں سے صرف پانچ پیسے ملتے ہیں باقی راستے میں غائب کردیئے جاتے ہیں۔ حیرت ہے کہ جو بات باپ نہ سمجھ سکے وہی بات ان کے بیٹے بھی نہ سمجھ سکے کہ وہ بھیجتے کیوں ہیں دیتے کیوں نہیں؟ ان سے اوبڑ کھابڑ راستوں کا سفر نہیں کیا جاتا اور گاﺅں کی گرمی بھی برداشت نہیں ہوپاتی اور جن لوگوں کے ذریعہ رقم بھیجی جاتی ہے انہیں بھی گرمی اور راستے کی تکلیف اتنا ہی پریشان کرتی ہے۔ اس لئے وہ اپنا حق لے لیتے ہیں۔ پھر جو گرمی اور دھوپ میں تقسیم کرتا ہے وہ اپنا حق لے لیتا ہے۔ اگر رقم بھیجنے والوں نے ایسی تکلیف اٹھالی ہوتی جیسی وہ ووٹ مانگنے کے لئے اٹھاتے ہیں تو یقین ہے کہ کسان اور غریب مزدور کو 80 پیسے مل جاتے۔ یہی لاتور میں ہوا کہ 15 لاکھ میں کھودا ہوا کنواں ایک برساتی پانی کا گڈھا نظر آتا ہے۔

مہاراشٹر کے ضدی اور جذباتی وزیر اعلیٰ سے جب ایک ایم ایل اے اور ایک سمجھدار کسان نے کہا کہ بڑے جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی ہٹالی جائے تاکہ ہمیں اپنے جانوروں کی مناسب قیمت مل جائے تو انہوں نے اسے بھارت ماتا کی نافرمانی سمجھا اور یہ نہیں سوچا کہ زبان سے گائے نام کے جانور کو ماں کہنے والے کے سامنے اگر ایک لٹیا پانی ہو اور اس کی ماں یا بیٹی بھی پیاسی ہو اور گائے بھی تو وہ کسے پلائے گا؟ نتیجہ یہ ہے کہ جگہ جگہ سے جانوروں کے مرنے کی خبریں آرہی ہیں اور کرناٹک میں وزیر اعلیٰ ضدی نہیں ہے۔ اس لئے خبر آرہی ہے کہ وہاں کسان پانی کی کمی کی وجہ سے جانوروں کو اونے پونے داموں میں فروخت کررہے ہیں۔

لاتور ایک ضلع ہے جس کی آبادی پانچ لاکھ ہے۔ اس کے لئے تو ٹرین پانی لے کر آگئی لیکن اس کے جو سیکڑوں گاﺅں ہیں ان کی کیوں فکر نہیں کی جارہی؟ وہاں سے سیکڑوں کی تعداد میں زندگی کی ضرورت کا سامان سروں پر لادے ممبئی کے قصبات کی طرف جارہے ہیں اور جہاں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پانی ہے وہیں ڈیرہ ڈال دیتے ہیں۔ یہ ہے پانی کی حیثیت کہ نہ سر پر چھت ہے نہ چھپر ہے نہ چارپائی ہے نہ سایہ ہے لیکن پانی ہے اورپانی ہے تو زندگی ہے۔ کسی نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ بھوک ہڑتال کرتے ہیں وہ بھی پانی تھوڑا تھوڑا لیتے رہتے ہیں۔ جو مسلمان روزہ رکھتے ہیں ان پر بھوک کا کم بس پانی کا اثر ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ روزہ افطار کرنے کےلئے حضور اکرم نے فرمایا ہے کہ اگر کھجور ہو تو اس سے ورنہ پانی سے افطار کرنا چاہئے۔

شری انا ہزارے نے تین سال پہلے جب بھوک ہڑتال کی تھی تو کہا تھا کہ مجھے پندرہ دن کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن پانی وہ بھی لیتے رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کے بغیر آدمی پندرہ بیس دن زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر پانچ دن میں حالت بگڑ جاتی ہے۔ ڈاکٹر کہا کرتے ہیں کہ جسم میں 60 فیصد پانی ہوتا ہے۔ دل و دماغ میں 75 فیصدی اور ہڈیوں میں 30 فیصدی پانی ہوتا ہے۔ پانی ہی ایسی چیز ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ جوس، کافی، چائے، دودھ یا رس بیشک پانی جیسے ہوتے ہیں لیکن پانی نہیں ہوتے۔ اس لئے ان کے بعد بھی پانی کی خواہش ہوتی ہے۔ بی جے پی کا ہر لیڈر اور ہر کشمیری پنڈت کشمیر سے جانے کے بعد اپنے ہی ملک میں شرنارتھی اور پناہ گزیں بننے کے لئے کشمیری مسلمانوں پر الزام رکھتے ہیں۔ اب یہ جو سیکڑوں شرنارتھی مہاراشٹر کے لاتور علاقے سے ان علاقوں میں جاکر پڑگئے ہیں جہاں پانی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ کوئی بھکاری نہیں ہیں زیادہ تر لوگوں کے پاس زمین ہے، کسی کے پاس پانچ ایکڑ کسی کے پاس تین ایکڑ۔ لیکن وہ اس کا کیا کریں؟ جب پانی نہیں تو وہ بنجر سے بدتر ہے اور مسلسل کہا جارہا ہے کہ مانسون آنے میں ابھی سات ہفتے ہیں۔ اب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہاں وہ پناہ لئے پڑے ہیں صرف اس لئے کہ وہاں پانی ہے۔ وہاں کے لوگ انہیں بھگا دیں اور وہ پھر دوسرا ٹھکانہ آباد کریں۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ کجریوال نے خلوص کے ساتھ وزیر اعظم کی تعریف کی ہے کہ انہوں نے ٹرین کے ذریعہ پانی لاتور بھیجا۔ یہ واقعی ایسا ہی قدم ہے کہ ہر کوئی اس کی تعریف کرے۔ بچپن میں ہم نے بریلی میں جگہ جگہ پانی کے مٹکے رکھے دیکھے تھے۔ ہر جگہ ”سبیل“ کا بورڈ لگا تھا اور اکثر جگہ ایک شعر لکھا رہتا تھا

پیا پانی ہوا دل سیر میرا

جزاک اللہ فی الدارین خیرا

اور واقعی ہر کوئی پانی پی کر دعا دیتا تھا۔ کجریوال نے ایک اور بہت بڑا اعلان کیا ہے کہ اگر مرکزی حکومت ٹرین کا انتظام کردے تو ہم دو مہینے تک روزانہ دس لاکھ لیٹر پانی دہلی سے بھیجیں گے۔ اس کی اہمیت اس لئے ہے کہ دہلی خود پانی پڑوسی ریاستوں سے لیتی ہے۔ ضرورت اس کی ہے کہ ہر وہ ریاست جس کے پاس پانی ہے وہ سیاسی اختلاف کو اس وقت بھول کر ہر پیاسے کی پیاس بجھائے۔ پربھنی کی خبر پڑھی کہ مہینے میں صرف تین بار نلوں میں پانی آتا ہے اور کہیں وہ بھی نہیں آتا۔ لاتور میں جو انتظام کیا ہے وہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ٹرین کا پانی کنوئیں میں ڈالا جائے گا۔ وہاں سے ٹینکر بھرے جائیں گے ان سے محلوں میں تقسیم کیا جائے گا اور ٹینکر کی تقسیم کا دردناک منظر پہلے دہلی میں دیکھنے کو ملتا تھا اور اب مہاراشٹر کے سوکھے علاقے میں دکھایا جارہا ہے کہ عورتیں بچے گررہے ہیں چوٹ کھا رہے ہیں اور پانی پر ٹوٹ رہے ہیں۔

پیاس کیا ہے اور پانی کیا ہے یہ ہر وہ مسلمان جو گرمیوں میں روزے رکھتا ہے وہی جانتا ہے؟ اور اس وقت جن لوگوں پر بیت رہی ہے اس کا اندازہ صرف روزے دار مسلمان ہی کرسکتے ہیں لیکن مسلمانوں کے ووٹ لینے کی تیاری کرنے والی ملک میں نہ جانے کتنی پارٹیاں ہیں لیکن صرف جماعت اسلامی کا نام ان میں آیا ہے جو لاتور میں پانی سپلائی کررہی ہے۔ جبکہ مہاراشٹر اویسی صاحب کے نشانہ پر ہے اور اورنگ آباد میں مسلمانوں نے بوروں میں بھرکر انہیں ووٹ دیئے ہیں۔ اس مہاراشٹر میں ان کی آواز کہیں نہیں سنائی دے رہی ہے۔ جب کہ سب سے اونچی آواز میں انہیں بولنا چاہئے تھا۔ یہ نازک وقت ہے۔ غریب ہو یا امیر اپنا گھر چھوڑکر نامعلوم مقام پر صرف پانی کے لئے ڈیرہ ڈالنا کوئی مذاق نہیں ہے۔ ایسے پیاسے جہاں کہیں بھی آئے ہوں وہاں کے مسلمانوں کو اپنا آدھا پانی خود جاکر انہیں دے دینا چاہئے اور یہ نہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ وہ اگر ان کے علاقے میں آئے ہیں تو وہ مہمان ہیں۔ حضور اکرم نے ان پر لعنت بھیجی ہے جو خود کھائیں پئیں اور ان کے پڑوسی بھوکے رہیں اور پانی تو وہ چیز ہے جو جانور کو پلاکر بھی جنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔

(بشکریہ یو این این)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close