ہندوستان

اعلی ذات كو ریزرویشن اور مسلمان

گجرات حكومت كی جانب سے اقتصادی طور پر كمزور اعلی ذات كو دس فیصد ریزرویشن  دینے كے فیصلے نے تمام سیاسی پارٹیوں كو پس وپیش كی كیفیت میں مبتلا كر دیا ہے ۔ امت شاہ اور آنندی بین پٹیل كی موجودگی میں ریاستی بی جے پی صدر اور وزیر وجے روپانی نے اعلان كرتے ہوئے كہاكہ  سالانہ چھ لاكھ سے كم آمدنی والے لوگ اس سے مستفید ہونگے اوریہ ریزرویشن ریاستی حكومت كی جانب سے ایس سی /ایس ٹی   اور اوبی سی كو پہلے سے دیے جانے والے 49فیصد سے الگ ہوگا۔  چونكہ حكومت كا یہ فیصلہ سپریم كورٹ كے اس حكم كی خلاف ورزی ہے جس میں عدالت عظمی نے ریزرویشن كی حد كو پچاس فیصد مقرر كر ركھا ہے، اس لئے  وزیر موصوفہ نے ساتھ ساتھ اس عزم كا بھی اظہار كیا كہ حكومت اس كونافذ كرنے میں  ہر طرح كی قانونی چارہ جوئی كے لئے بھی تیار ہے ۔

گجرات حكومت كا مذكورہ فیصلہ یقینا پٹیلوں كے اس احتجاج  اور ناراضگی كی وجہ سے ہے جس كی بنا پر  بی جے پی پنچایت اور تعلقہ كے انتخاب میں كراری ہار سے دوچار ہو گئی تھی ، توقع كے عین مطابق  اس شكست كے بعد سے ہی  پارٹی میں اعلی سطح پر جنرل طبقہ   كی ای بی سی (یعنی معاشی طورپر پچھڑے لوگوں كو )ریزرویشن دینے كے قواعد شروع ہو گئے تھے ۔ یہ الگ بات ہے كہ اس فیصلہ كی وجہ  سے بی جے پی كو اندرونی طور پر دلتوں اور اوبی سی لیڈروں كی طرف سے زبردست مزاحمت كا سامنا كرنا پڑ رہا ہے۔ چونكہ گجرات حكومت كے اس فیصلہ كو عدالت میں چیلنج كئے جانے كی پوری توقع ہے اس لئے یہ تو  آنے والا وقت  ہی بتائے گا كہ مذكورہ فیصلہ پٹیلوں كے  غم و غصہ كو كم كرنے اور ان كی حمایت دوبارہ حاصل كرنے كی بی جے پی كی ایك سیاسی چال ہے یا پارٹی واقعتا ان لوگوں كے لئے سنجیدہ ہے ؟

ان تمام میں سب سے دلچسپ پہلوكانگریس كا موقف ہے ، سب سے پہلے تو اس نے گجرات اسمبلی كے بجٹ سیشن كے دوران  جنرل طبقہ   كی ای بی سی كو بیس فیصد ریزرویشن دینے كی مانگ اٹھائی اور پھر بی جے پی نے جب  مذكورہ  اعلان كیا تو لگے ہاتھوں اس كو پورے ملك میں نافذ كرنے كی تجویز بھی ركھ دی ۔ چونكہ كانگریس كو لگتا ہے كہ اگر اس نے اس معاملہ كی حمایت نہیں كی یا اس كے لئے جوش وخروش نہیں دكھایا تو گجرات كے پنچایت انتخابات میں ملنے والی كامیابی كو اگلے سال كے اسمبلی انتخابات میں نہیں دہرا پائے گی ۔یہی وجہ ہے كہ پارٹی كے ترجمان میڈیا كے سامنے جلدی جلدی میں كبھی كچھ تو كبھی كچھ بیان دےرہے ہیں ۔اعلی ذات كے ریزرویشن كےلئے اتاولی بن رہی كانگریس كو ذرا اپنے ماضی میں بھی ایك بار جھانك كر دیكھنا چاہیے كہ اس نے مسلمانوں كے حقوق كی كتنی پاسداری كی ہے اور سچر كمیٹی كی سفارشات كو نافذ كرنے كے لئے كتنا جتن كیا ہے ؟

2012ء كے یوپی اسمبلی انتخابات سے عین قبل اس وقت كی یوپی اے حكومت نے مسلمانوں كو(27فیصد او بی سی كوٹہ  كے اندر)  ساڑھے چار فیصد ریزرویشن دینے كا وعدہ كیا ، ہر بار كی طرح اس بار بھی معاملہ عدالت میں گیا اور مذہب كی بنیاد پر ریزرویشن دینے كی وجہ سے عدلیہ نے اس پر پابندی لگا دی ، حالانكہ مسلمانوں كے لگ بھگ تمام  طبقات  كی طرف سے یہ مانگ اٹھی كہ اس معاملہ كو پارلیامنٹ میں پیش كیا جائے اور قانون میں ترمیم كر كے اس كا حل نكالا جائے ، لیكن اس  كا كوئی حل نہیں نكل سكا اور بات آ‍ ئی گئی ہو ‍ گئی ۔دو سال كے بعد مہاراشٹرا كے اندر كانگریس نے پھر انتخابات سے چند ماہ قبل ایك ریزولوشن لاكر مسلمانوں كو پانچ اور مراٹھوں كو سولہ  فیصد ریزرویشن كا اعلان كیا جس كا انجام بھی عدالت كی طرف سے اسٹے  كی شكل میں سامنے آیا ۔چونكہ نئی حكومت بی جے پی كی قیادت میں بنی اس لئے اس نے مراٹھوں كے لئے قانونی لڑائی كی بات تو  كی،  لیكن مسلمانوں كے معاملہ سے پلہ جھاڑ لیا،سوال یہ ہے كہ اس ریاست میں  پچھلے پندرہ سالوں سے اقتدار  پر قابض كانگریس كی قیادت والی حكومت نے عین انتخابات سے قبل ہی اس  طرح كا اعلان كیوں كیا ؟

آزادی كے بعد سے سب سے افسوسناك پہلو مسلمانوں كے ساتھ یہ رہا كہ ایك طرف سیاسی پارٹیوں نےجہاں پرفریب نعروں اور وعدوں كے ذریعہ مسلمانوں كو صرف ووٹ بینك كے طور پر استعمال كیا  وہیں دوسری طرف مسلمان اور ان كے  قائدین حكومت سے اپنی بات منوانے یا ان سے اپنامطالبہ پورا كروانے میں پوری طرح ناكام رہے ۔صرف مذہب كے نام پر ریزرویشن دینے كی بات كو ہی اگر ہم نے زور وشور سے اٹھایا ہوتااور اس كی لڑائی لڑے ہوتے  تو ہمیں اس میں پوری نہیں تو جزوی ہی صحیح ،  كامیابی ضرور  ملی ہوتی ۔كیونكہ خود ہندوستان كے قانون میں  اس معاملے میں دوہرا رویہ موجود ہے ۔ Clause (3) of the Constitution (Scheduled Castes) order 1950 كے تحت” ایس سی” یعنی شیڈولڈ كاسٹ (جو آرٹیكل 341 كے تحت آتے ہیں ) كے زمرے میں صرف ہندو، سكھ یا بدھ مذہب كے ماننے والے ہی شامل كیے جا سكتے ہیں۔ قانون كی یہ شق مسلمانوں اور عیسائیوں كو اپنے ہندو بھائیوں كے ہم پیشہ ہونے كے باوجودمركزی اور صوبائی دونوں سطح پر اس كوٹے كے تحت ریزرویشن كا فائدہ حاصل كرنے سے روكتی ہے ۔

عدلیہ اور حكومت كے سامنے مسلمانوں كو اپنا موقف مضبوطی سے ركھنے كے لئے رنگا ناتھ مشرا  كمیٹی كی وہ رپورٹ بھی  ہے جس میں مذكورہ  قانون كو "رنگ ونسل ، جنس اور مذہب كی بنیاد پر تفریق كرنے والا بتایا گیا ہے اور اسے مسلمانوں اور عیسائیوں كے ساتھ امتیاز برتے  جانے كی وجہ سے  حذف كرنے كی بات كی  گئی ہے” ۔مذكورہ قانون كی وجہ سے مسلمان صرف ایس سی /ایس ٹی كوٹے كے 23فیصد ریزرویشن سے ہی محروم نہیں ہیں بلكہ 119 پارلیامانی اور 200 سے زیادہ اسمبلی سیٹوں پر انتخاب لڑنے كےبھی  اہل نہیں ہیں ،كیونكہ یہ سیٹیں ایس سی /ایس ٹی كےلئے مختص ہیں۔مضحكہ خیز امر یہ ہےكہ  رنگا ناتھ مشرا  كمیٹی كی رپورٹ كو بنیاد بنا كر بہت ساری علاقائی پارٹیاں وقتا فوقتا مسلمانوں كو اس زمرے میں شامل كرنے  كی وكالت كرنے كے ساتھ ساتھ اس كو اپنے انتخابی منشور میں جگہ بھی دیتی رہی ہیں لیكن نتیجہ صفر كا صفر  ہی ہے۔

بات خواہ ہریانہ حكومت كی طرف سے جاٹوں كو ریزرویشن دینے كی ہو یا گجرات حكومت كی طرف سےجنرل طبقہ كو ، كہیں نہ كہیں مسلمانوں كو ان واقعات سے كچھ سیكھنے كی ضرورت ہے ۔ پر تشدد مظاہرات اور احتجاج  كو كہیں سے بھی كسی بھی قیمت پر جائز نہیں ٹھہرایا جا سكتا ہے، لیكن سیاسی  پارٹیوں  سے انتخاب كے وقت سودے بازی تو كی ہی جا سكتی ہے، عدالتوں میں اپنے معاملہ كو مضبوطی كے ساتھ پیش تو كیا ہی جا سكتا ہے ۔ ابھی حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے وزیر برائے اقلیتی امور سے سركاری ملازمتوں میں مسلمانوں كا پورا بیورا طلب كیا ہے ، آنے والے دنوں میں اس تعلق سے حكومت كوئی بڑا فیصلہ لے سكتی ہے۔یہاں پر ہماری ذمہ داری یہ ہے كہ ہم اس معاملہ كا تتبع كریں، اپنی بات اور اپنے حق كے لئے جس سے بھی ہاتھ ملانے اور معاملہ كرنے كی نوبت آئے وہ كریں، كیونكہ اب تو یہ بات بالكل صاف ہو چكی ہے كہ كوئی ہمارا مخلص نہیں ہے ، بس جو ہمارے مفاد كو فوقیت  دے گا ہم بھی اس كے ساتھ چلنے كو تیار ہیں۔

 امریكہ میں جاری انتخابی سرگرمیوں كا اگر ہم بنظر غائر جائزہ لیں گے تو ہمیں پتہ چلے گا كہ امیدوار خواہ وہ كسی پارٹی سے تعلق ركھتا ہو، یہودی كمیونیٹی كو خوش كرنے كے لئے تمام جتن كر رہا ہے ، حالانكہ یہودی امریكہ كی كل آبادی كے دو فیصد بھی نہیں ہیں، لیكن سیاسی، تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے ان كی پكڑ اتنی مضبوط ہے كہ كوئی بھی امیدوار ان كو ناراض كر كے انتخاب جیت ہی نہیں سكتا ہے ۔ہندوستان میں مسلمان بھلے ہی تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے دلتوں سے بھی پیچھے ہوں لیكن آبادی میں ان كا تناسب پندرہ فیصد ہے، حالیہ برسوں میں جس طرح سے مسلمانوں كے اندر  سیاسی شعور میں پختگی آئی ہے اگر اس كے ساتھ انھوں نے  گروہی، مسلكی اور ذات پات كی تفریق كو بالائے طاق ركھ كر اپنے اتحاد كا ثبوت پیش كر دیا تو وہ دن دور نہیں كہ اس ملك میں حكومت كی باگ ڈورخواہ كسی كے ہاتھ میں ہو، ہماری ناراضگی كوئی مول نہیں لینا چاہے گا ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفظ الرحمان لطف الرحمان تیمی

مضمون نگارامام محمد بن سعود یونیورسٹی، ریاض میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور ان دنوں حرم کعبہ کے امامین کی ترجمانی پر مامور ہیں۔

متعلقہ

Close