افراضل کے قتل جیسی نفرت کی کھیتی کون کررہاہے؟ 

ڈاکٹر اسلم جاوید

صوبہ راجستھان میں ہندوانتہاپسندوں نے بے رحمی کے ساتھ ایک مسلمان مزدور کو کلہاڑیوں کے مسلسل وار کرکے قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگادی، اپنی سفاکیت اورحیوان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے قاتلوں نے اس سارے واقعے کی ویڈیو ریکارڈ کرکے واٹس ایپ کے ذریعے وائرل بھی کردی۔ واقعے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی، یہ ایک سیاسی چالاکی ہے جس کے ذریعے وسندھراراجے حکو مت اپنی حیوانیت پردے ڈالنے کی ناپاک کوشش کر رہی ہے جب کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کلیدی مجرم کو گرفتار کرلیاہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم کی شناخت شنبھولال کے طور پر ہوئی ہے، جسے پولیس نے حراست میں لے لیا، جب کہ اس دہشت گردانہ واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والے 14 سالہ بھتیجے کو بھی گرفتار کرلیا گیاہے۔ شنبھولال نے مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ مسلمان مزدور محمد افراضل کو پہلے کلہاڑیوں کے وار کرکے قتل کیا، پھر اس کی لاش کو آگ لگادی، جب کہ اس سے سارے واقعے کا ویڈیو ریکارڈ کرکے واٹس ایپ کے ذریعے وائرل کیا گیا۔ واٹس ایپ پر 2 مختصر ویڈیو شیئر کی گئیں ہیں، جن میں ملزم شنبھو لال کو مسلمان مزدور کو قتل کرتے اور بعد ازاں اس کی لاش کو آگ لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خوفناک ویڈیو میں شنبھو لال ایک شخص کو کلہاڑی کے وار کر کے ہلاک کرتا ہے اور پھر اس کی لاش کو پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کے بعد کیمرے کے سامنے آکر مبینہ لو جہاد کے خلاف اشتعال انگیزنعرے بھی لگاتا ہے اور دھمکی آمیز انداز میں کہتا ہے کہ’’ جہادیو ! ہمارے ملک سے نکل جاؤ ورنہ تمہارا یہی انجام ہوگا‘‘۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ25 سال قبل بابری مسجد گرا دی گئی اور کچھ نہیں ہوا۔ آج اگر اس واردات کو ہم نے انجام دیا ہے تو اس سے بھی ہمیں کچھ فرق نہیں پڑے گا۔

قاتل کی دہشت گردانہ زبان صاف بتا رہی ہے کہ اسے یہ ہمت ایسے ہی نہیں ملی ہے، بلکہ اس انسانیت سوز ظلم کے پردے میں کوئی ایسی طاقت ضرورہے جو ملک میں نفرت کے زہر گھول کر ہندوستان کو عالمی برادری کی نظروں میں رسوا اور ذلیل کرنا چاہتی ہے۔ اس شرانگیز ی کے پس پردہ جھانکئے تو جو سچائی انسانیت پسندوں اور حقوق انسانی کے محا فظوں کا منہ چڑھاتی ہوئی نظر آئے گی وہ یہی ہوگی کہ یہ پولرا ئزیشن کا کھیل ہے اور اس قسم کی دہشت گردی، شیطانی اور درندگی کے ذمہ دار وہ عناصر ہیں جو اقتدار حاصل کرنے کیلئے کسی بھی حدتک جانے کو کوئی جرم نہیں سمجھتے۔  مجھے یا د آتا ہے کہ اسی طرح کے انتخابی قتل کا شکار سیف اللہ نامی ایک نوجوان لکھنؤ میں ہوا تھا۔ چناں چہ8مارچ217یعنی اترپردیش اسمبلی انتخابات کے آخری مرحلے کی پولنگ سے محض ایک دن پہلے ہی انتہائی منظم انداز میں اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس کے بعد مرحوم سیف اللہ کے قتل کا بی جے پی اور دایاں بازو کی ہمنوا پا رٹیوں کو کتنا فائدہ ملا یہ بتانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ آج ایک بار پھر اسی پیرایے میں گجرات اسمبلی انتخابات سے عین پہلے بنگالی مزدور افراضل کا قتل بھی کچھ اسی قسم کی سازش کا پتہ دیتا ہے۔

مرحوم افراضل کی بہیمانہ شہادت کے بعد انسانیت پسند وں میں زبردست بی چینی ہے اور کئی قسم پیچیدہ سوال ہندوستان کے مستقبل کے تعلق سے ہمارے ذہنوں کو بے تاب کرنے لگے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آکرہم کیسے معاشرے میں پہنچ گئے ہیں جہاں کوئی بھی انسان صرف دھرم کی بنیاد پر کسی کی بھی زندگی چھین لینے، اس کے ننھے منے بچوں اور ابلا سہاگن کو بیوگی کے دردمیں ہمیشہ کیلئے تڑپتا چھوڑ دینے کو کوئی جرم نہیں سمجھتا۔ حد تو یہ ہے کہ اس قسم کی شرمناک واردات کو انجام دینے کے بعد سینہ پھلا کر برملا اپنی شیطانی اور حیوانیت کا اظہار بھی کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنے جرم کی کہا نی کو سوشل میڈیا پر ڈال کر خودکو شیر کہلانے کی جرأت بھی کرتا ہے۔ مگر حکومت اور پولیس انتظامیہ خاموش کھڑی اس کی درندگی پر تالیاں بجاتی ہوئی نظر آ تی ہے۔ دھرم کے نام پر تانڈومچانے والا یہ طبقہ گھناؤنے قسم کے جرم پر کھلے عام فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ مہاراانا پرتاپ جیسے بہادر کا وارث ہے اوراسے مہارا نا کے خون نے ہی اتنا بہادر بنا دیا ہے کہ وہ کسی بھی نہتے اور بے گناہ شخص کا قتل کرنے کو جرم ہی نہیں سمجھتا، بلکہ وہ اپنی حیوانیت کو دھرم کی سب سے بڑی سیوا تصور کرتا ہے۔

جیسے ہی اس حیوانیت کا ویڈیودنیا کے سامنے آیا، انسانیت کے پرستاروں کی جانب سے مذمت کا سلسلہ شروع ہوگیا، لوگوں نے مقتول کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور قاتل کی اس حرکت کو ساری انسانیت اور دھرم کیلئے شرمناک واردات قرار دیا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تو افراضل کے قتل کی مذمت کے علاوہ اس کے پسماندگان کو 3لاکھ روپے کی مدد دینے اورسوگواروں کی تعزیت کیلئے اپنے وزراکو اس کے گھر مالدہ بھی بھیجا ہے اور وسندھراراجے کی بے حسی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اس سے استعفیٰ تک مانگا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض ایک مجرم کی مذمت کردینے اور اس جرم پر نفرت کے چند الفاظ بول دینے سے سارا مسئلہ حل ہوجائے گا؟

گاندھی جی نے کہا تھا کہ’’گناہوں سے نفرت کی جائے، گنہگاروں سے نہیں‘‘ مگر آج ہم ایک بار پھربابائے قوم کے نظریات کوحقارت کے ساتھ ٹھکرارہے ہیں۔ کیا ہمیں گناہوں اور جرائم سے نفرت ہوگئی ہے، کیا ہم کسی بے گناہ انسان کے قتل کو گناہ اور پاپ سمجھتے ہیں۔ موجودہ صورت حال بتارہی ہے کہ ہمیں گناہوں سے نفرت نہیں ہوئی ہے، بلکہ آج معاشرہ میں سراندھ پھیلانے والے مذہب اور سیاست کے ٹھیکیداروں کو انسانیت سے ہی نفرت ہوگئی ہے۔ ہم صرف اسی ایک گناہ کی کی طرف نظریں گاڑ کر صرف ایک مجرم کو برا بھلا کہنے میں ہی ساری توانائی لگا رہے ہیں۔ مگرکیا صرف ایک مجرم اور قاتل کے جرم کی مذمت کردینے سے ہی ہمارا معاشرہ اس نوعیت کے جرائم سے پاک ہوجائے گا؟ میرا خیال ہے کہ اس سے کچھ بھی فرق پڑنے والا نہیں ہے، بلکہ جرم اور گناہ کے خلاف نفرت کا احساس جب تک ایک ایک فردکے دل و دماغ میں نہیں بٹھایا گیا اس وقت تک معاشرے کو اس قسم کی حیوانیت سے بچا نا اورملک کو امن و امان کا گہوارہ بنا نا ممکن نہیں ہوگا۔ افراضل کا قتل صرف ایک فرد کا جرم نہیں ہے، بلکہ اس شرمناک واقعہ کے گنہ گار وہ لوگ زیادہ ہیں جو سادہ لوح انسانوں کے دلوں میں دھرم کے نام پر نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ اور ان ساری شرارتوں کا مقصد صرف اقتدار کا حصول اور خود کو دنیا کی نظروں میں بہادر ثابت کرنا ہے۔ مگریہ عناصر طاقت و اکثریت کے غرور میں اس بات کا خیال ہی نہیں رکھ پاتے کہ اس قسم کی شرمناک حرکت انجام دے کر وہ بہادر نہیں کہلائیں گے، بلکہ ساری دنیا ان کے سارے ہی سماج کوغنڈہ کہے گی اور تھوکے گی۔

بہر حال میں عرض کررہا تھا کہ آج کے سیاسی شعبدہ بازوں نے ایک فرد کے دل میں انسانوں سے نفرت اور گناہوں سے محبت پیدا کردی ہے۔ اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ شاید قارئین کو یہ بات بخوبی یاد ہو کہ جرم سے محبت کی ایسی ہی گھنونی تاریخ30سمبر2012کو قومی دارلحکومت دہلی میں بھی انجام دی گئی تھی، جب نربھیا کی اجتماعی آ برو ریزی کی گئی، اس کے بعدبے رحمی کے ساتھ اس کا قتل کرکے لاش کو مثلہ کردیا گیا۔ سوال یہ ہے اگر نربھیا کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بعد معاشرہ کو گناہوں سے نفرت دلائی جاتی تو شاید خواتین کی عصمت دری اور ان کے قتل کے واقعات میں ضرور کمی آ تی۔ مگر افسوس ہے کہ اس قسم کے جرائم میں کمی آنے کے بجائے اس میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ آج نفرت پھیلانے والوں نے سادہ لوح نوجوانوں کو اتنا سخت دل بنا دیا ہے کہ انہیں انسانیت سے ہمدردی تو کجا انسانوں کو ہلاک کرنے سے ان کے دلوں ٹھنڈک ملتی ہے۔ یہ بات اب پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ افراضل کوئی مجرم یا ’’لوجہاد‘‘ جیسے سنگھ کے تیار کردہ فلسفے کا ملزم نہیں تھا۔ وہ تو پچاس برس کا ناتی پوتے والا ادھیڑ عمر مزدور تھا۔ مگر نفرت کی سیاست سے ملک کی اکثر یت کے دلوں میں زہر بھرنے والے شیطان کے پجاریوں نے اس خود ساختہ’’ لو جہاد‘‘ کے جملے کو اتنا عام کردیا کہ اس کاا لز ا م لگا کر معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنا بھی کوئی ایک معمولی بات بن گئی۔

سب سے پہلے اس جملے کا استعمال جنوبی ہند میں رام کے بھکتوں یعنی ’’شری رام سینا‘‘ کے غنڈوں نے کیا اور یوگی آدتیہ ناتھ نے پورے اتردیش میں گھرگھر تک اس نفرت کو پہنچاکر ریاست کی پر امن فضاء کو بدبودار کردیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہندوتوا کی تربیت گاہ کہے جانے والے گجرات اور لوجہاد کے زہر میں ڈوب چکی یوپی کے بیچ میں آباد راجستھا ن اس سے کیسے محفوظ رہ سکتا تھا۔ بہر حال دایاں بازوسے تعلق رکھنے والے نفرت پجاریوں نے سیاسی فائدے کیلئے جرم کی جو تاریخ لکھنی تھی وہ رقم کردی ہے۔ اب افراضل کو انصاف ملے گا اور قاتل کو سخت سزا دے کر دوسروں کیلئے سامان عبرت بنا یا جائے گا اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ اس لئے کہ اسی راجستھان میں پہلوخان شہید، لوک گایک عمر خان مرحوم کی روحیں آج تک انصاف کیلئے عدالتوں اور وسندھراراجے کی طرف ٹکٹکی لگائے نفرت کے پجاریوں کی غنڈہ گردی پر تھوک رہی ہیں۔



⋆ اسلم جاوید

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

اترپردیش بلدیاتی انتخابات میں کیسے چلا ای وی ایم کا جادو؟

ای وی ایم گھوٹالہ پر سوال اٹھانے والوں کی زبان کاٹ لینے کی کوشش کی گئی۔ مظا ہر ہ کرنے والوں پر پولیس نے  بھرپور طاقت کا استعمال کیا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ جمہو ریت کا گلا گھوٹنے کیلئے مقامی حکومت نے پولیس فورس سے  عوام اور جمہو ریت کے محافظ کی بجائے غنڈوں اور پیشہ ور شر پسندوں کا کام لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے