امن: انصاف و محبت کی زمین سے ہی اگتا ہے! 

 وصیل خان

سردست اس ملک میں تیزی سے پھیلتی جارہی فرقہ پرستی اور اشتعال انگیزیوں پر لگام کسنا انتہائی ضرور ی ہوگیا ہے اس تعلق سے چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی نہ تونظر انداز کیا جاسکتا ہے نہ ہی انہیں معمولی سمجھ کر پس پشت ڈالا جاسکتا ہےکیونکہ ذرا سی بھی چشم پوشی بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ بابری مسجد کے معاملے کو ہی لے لیجئے پچاس سال سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہےلیکن ابھی تک نہ صرف یہ کہ وہ قضیہ برقرار ہے بلکہ اس کے نام پر آئے دن شرپسندانہ بیانات کے لامتناہی سلسلے سے ملک کی امن و آشتی کی فضا مزید دھماکہ خیز ہوتی جارہی ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ ہندوستانی عدلیہ اس ہولناک اور تباہ کن ماحول میں بھی پوری طرح آزادومتحرک ہے، ماضی قریب اور حال کے تمام تر فیصلےاس کا بین ثبوت ہیں۔ سیاسی زوال کے بدترین داؤں پیچ اور ہوس اقتدار کے نشے میں چور سیاسی جماعتوں کی بے جا دست اندازیوں کے باوجود عدلیہ  نہ صرف اپنی شبیہ صاف ستھری رکھنے میں کامیاب ہے بلکہ بروقت مناسب اورمنصفانہ فیصلوں سے ان شرپسند لیڈران کا ناطقہ بھی بند کررکھا ہے اور انتظامیہ کی غفلت کا اضافی بار بھی سنبھالےہوئےہے۔

اگر غیر جانبداری کے ساتھ ملک کا عوامی سروے کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ عوام کو اس طرح کے فرقہ پرستانہ بیانات اور اس کے نتیجے میں پھوٹ پڑنے والے فسادات سے شدید نفرت ہے۔ مٹھی بھر تخریب پسند عناصر کے علاوہ ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا جو اس بدامنی اور مذہب و سماج کے نام پر اٹھنے والی شدید ترین منافرت کی تائید کرتا نظر آئے۔ پوراملک مہنگائی جیسے عفریت سے بری طرح جوجھ رہا ہے ایسے میں لوگوں کو گھر گرہستی چلانا اور عزت و آبرو سنبھالنے میں ہی سارا زورصرف کرنا پڑرہا ہے بدامنی کے ماحول میں رہنا اور اس فضا کو قائم رکھنے میں بھلا انہیں کیونکردلچسپی ہوسکتی ہے جو کسی بھی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس ملک پر ایسے لوگوں کا تسلط ہے جن کی غذاہی فرقہ پرستی اور بدامنی ہے۔ ان کے دماغ میں بس یہی مفسدانہ نظریہ مسلط ہوگیا ہے کہ یہی طریقہ ٔ کار ملک کے حق میں مفیدہے۔ وہ ہندومسلم انتشار کے ذریعے ایسا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ اپنے اقتدار کو مستحکم کرسکیں، لیکن یہ ان کی بہت بڑی بھول اور حماقت ہے۔ بدامنی اور منافرت کبھی بھی ملک کی جڑوں کو پائیدار نہیں کرسکتی اس خطرناک اور فاشسٹ نظریئے کے نقصانات چاروں اور دکھائی دینے لگے ہیں اس کا کچھ اندازہ ملک بھر میں ہونے والے دہشت پسندانہ واقعات سے لگایا جاسکتا ہے۔

گذشتہ دنوں اترپردیش کے باغپت کوتوالی علاقے میں دہلی سے شاملی جانے والی پسنجر ٹرین میں سفر کررہے تین علمائے کرام کے ساتھ کچھ سماج دشمن عناصرنے جم کر نہ صرف مارپیٹ کی بلکہ ان میں سے ایک عالم دین کاگلا دباکر قتل کرنے کی بھی کوشش کی، یہیں پر بات ختم نہیں ہوگئی بلکہ ان کو زدوکوب کرنےکے بعد چلتی ٹرین سے باہر پھینک دیا گیا جس سے وہ بری طرح زخمی ہوگئے۔ حملہ آور چیختے ہوئے بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ تم لوگوں نے اپنے سروں پر رومال کیوں باندھ رکھے ہیں۔ حملہ آوروں کی تعداد سات تھی جو پوری طرح ہتھیار بند تھے اور ان کا بے دھڑک استعمال بھی کررہے تھے۔ پولس نے اس ضمن میں سات حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ تو درج کرلیا ہےلیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔ آخر اس معاملے میں ان کا قصور کیا تھا ؟سر پررومال باندھنا اور داڑھی رکھنا تو کوئی قصور نہیں لیکن اسی کو قصور بناکر ان حملہ آوروں نے قانون اور آئین کی دھجیاں اڑا ڈالیں اور ہماری سرکاریں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں نہ ان لیڈران کے کسی طرح کے مذمتی بیانات سامنے آئے جس سے اندازہ لگایا جاسکے کہ انہیں اس طرح کی بدامنی او ر منافرت کی فضا قائم کرنے والوں سے کوئی مواخذہ کرنا ہے ان کی یہ خاموشی کیا ان حملہ آوروں کی تائید نہیں ہے۔ اسی دن کے اخبارات میں دو اور خبریں شائع ہوئی ہیں جوسرکار کی مجرمانہ خاموش تائید کو اجاگر کرتی ہیں کہ مجرمین کس طرح کچھ بھی کہنے اور کرنے کیلئے آزاد ہیں۔

پہلا بیان توآبی وسائل کی مرکزی وزیر اوما بھارتی کا ہے جنہوں نے آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجودھیا میں رام مندر کے علاوہ کچھ اور بنانے کی ہمت کس کے اندر ہے۔ رام ہی ستیہ ہے اس کے سوا سب  غلط ہے۔ دوسرا اشتعال انگیز بیان سبرامنیم سوامی کا ہے جو کسی زمانے میں سیکولرازم کی شناخت بنے پھرتے تھے لیکن بڑھاپا کاٹنا ان کی مجبوری ہے اس لئے اقتدار سے چپکے رہنا چاہتے ہیں اور اسی ہوس نے انہیں یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ وہ ذلیل سے ذلیل بیانات دینے کیلئے بے چین رہتے ہیں اس امید میں کہ شاید اس کے صلے میں ہی کچھ حاصل ہو جائے، وزارت تو ملنے سے رہی کہیں کی گورنری نہیں تو کم از کم کسی کمیٹی کی چیئرمین شپ ہی حوالے کردی جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ملک پر آٹھ سو سال تک راج کرنے والے مسلمان اگر اپنی پسماندگی کی بات کرتے ہوئے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ بے شرم ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اقتدار سے چمٹے رہنے اور کچھ ذاتی منفعت کیلئے سوامی جیسے لوگ اس طرح کے ذلت آمیز بیانات دینے میں شرم نہیں محسوس کرتے جبکہ حقیقت سبھی کو معلوم ہے کہ سچر کمیٹی کی سفارشات میں مسلمانوں کو دلتوں سے بھی زیادہ پسماندہ بتایا گیا ہے۔ کسی حقیقت کو جھٹلانا سب سے بڑی بے شرمی ہے جس کے سوامی خود مرتکب ہورہے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو سوامی خود ہی اپنی بے شرمی کا اعلان کررہے ہیں۔

اس طرح کے بیانات پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے اعلیٰ لیڈران او ر حکمرانوں کی  خاموشی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ اپنے اقتدار کی بقا و بنیاد اسی نظریئے کی ترویج و تبلیغ میں سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وقت بڑی تیزی سے ان کے خلاف قدم بڑھا تا جا رہا ہے جسے وہ اپنے اندھے پن کے سبب نہیں دیکھ سکتے کیونکہ قدرت کا قانون ہے کہ وہ جسے سزا دینا چاہتی ہے تو اس کی عقل پر غلاف ڈال دیتی ہے اور اس کی دور اندیشی کو سلب کرلیتی ہے وہ نہ تو درست طورپر دیکھ سکتے ہیں نہ ہی صحیح سوچ سکتے ہیں۔ اس سزا کا آغاز گجرات سے ہونے والانہیں بلکہ ہوچکا ہےجس کا دائرہ پورے ملک سے ان کی سیاسی ہزیمت کی صورت میں بہت جلد سامنے آنے والاہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت ابھی بھی امن و سکون کی متلاشی ہے اور امن انصاف و محبت کی ہی زمین سے اگتا ہے۔



⋆ وصیل خان

وصیل خان

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بذات خود: جذبات و احساسات کا راست بیانیہ 

مالیگاؤں مہاراشٹر کا ایسا مردم خیز خطہ ہے جہاں صنعتی میدان کے ساتھ ہی حصول تعلیم پر بھی بھرپور توجہ مرکو ز کی گئی ہے اور اس شعبے میں بھی انمٹ نقوش موجودہیں اس کے علاوہ ادب میں بھی اپنا ایک انفرادی مقام برقرار رکھا ہے یہی سبب ہے کہ یہاں سے حضرت ادیب مالیگانوی اور مسلم مالیگانوی جیسے قدآور شعراءنے نہ صرف مالیگاؤں بلکہ قومی سطح پر بھی اپنی ایک مستحکم شناخت قائم کی ہے۔ صنعت، ادب اور فنون لطیفہ کی اس زرخیز سرزمین سے اٹھنے والے ان شعراء و ادبا میں جمیل انصاری کے نام کا خوشگوار اضافہ ان کی شعری تصنیف ’ بذات خود ‘ کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے