ہندوستان

امن کی صورت میں بدامنی کا راج

ابراہیم جمال بٹ

            جموں وکشمیر میں 10سے 16سال کے نو عمر بچوں جن کے ایک ہاتھ میں قلم اور دوسرے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے تھی شاید حکومتِ ہند ان میں ہاتھ میں مسلسل پتھراور   بندوق دیکھنا چاہتی ہے۔ حالانہ لفاظی طور پر بھارت کی مرکزی سرکار بار بار کہتی رہتی ہے کہ ’’حکومت اور بھارت کے عوام کشمیریوں کے ہاتھوں میں قلم اور لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتی ہے۔ ‘‘ لیکن عملی طور پر وادی میں جو کچھ بھارت کی مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاست کی مخلوط حکومت کر رہی ہے وہ سب اس کے بالمقابل ہے۔ چنانچہ وادیٔ کشمیر میں مسلسل نوعمر (Teenage) بچوں کا خونِ ناحق بہایاجارہا ہے۔ جس قوم کے نو عمر بچوں کا خون بہایا جارہا ہو، اس قوم کے لوگ آیندہ کیاکچھ کرسکتے ہیں اس کی تاریخ گواہ ہے۔ فرعون نے تو نوزائد بچوں کا قتل عام کرایا تھا، لیکن اُنہی نوزائد بچوں میں سے ایک بچہ ایسا ضو فشاں ہو گیا کہ فرعون اور اس کا لائو لشکر غرق آب ہو کر پوری کائنات کے لیے تاقیامِ قیامت عبرت بن کر رہ گیا۔ آج تک ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ جب بھی کبھی کسی مجلس میں فرعون کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو اس عبرت ناک واقعہ کو سن کر لوگ تھرتھراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

            آج وادیٔ کشمیر میں اسی صورت حال کا ’’جدید ایڈیشن‘‘ کے طور پر نوزائد بچوں کے بدلے نوعمر (Teenage)نوجوانوں کا خونِ ناحق بہایا جارہا ہے۔ اس خون کے بہانے سے مستقبل میں کیا نتائج نکلنے والے ہیں اس بارے میں زیادہ کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ جس سرزمین پر بھی آج تک خونِ ناحق بہا، وہ سرزمین خونِ ناحق سے تر تو ہو گئی لیکن عارضی مدت تک، اور جب وقت آیا تو اسی خونِ تر زمین سے ایسی لہرا اُٹھی کہ وقت کے فرعون غرق آب ہو گئے۔ شاید اسی تاریخ کو حکومتِ ہند پھر سے وادی کشمیر میں دُہرانا چاہتی ہے۔

            حالیہ ڈیڑھ ماہ سے وادی کشمیر میں مسلسل نوعمر بچوں کا خونِ ناحق بیدردی سے بہایا جارہارہا۔ مخلوط سرکار کے ساتھ ساتھ بھارت کی مرکزی سرکار دور تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ پولیس اور سی آر پی ایف کو خصوصی اختیارات دے کر اُنہیں پوری طرح سے چھوٹ دے دی گئی ہے۔ پرامن مظاہروں اور مزاحمت کا جواب ٹیر گیس، پیلٹ اور گولی سے دیا جارہا ہے۔ ایسے پرامن مظاہروں اور جلسے جلوسوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پیلٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ اُنہیں منتشر کرنا نہیں بلکہ کھلم کھلا مارنے کا حکم ملا ہو۔ پیلٹ اور آنسو گیس کا اندھا دھند استعمال اس قدر استعمال ہورہا ہے کہ اسپتال انتظامیہ، ڈاکٹر اور خاص کر نرسوں کو بھی تنائو کا شکار ہونا پڑ رہا ہے۔ اسپتالوں میں موجود نرسوں جو آنکھوں میں پیلٹ متاثرہ زخمیوں کو دیکھ کر رو پڑتی ہیں اور آہ آہ کر کے کہتی ہیں کہ ’’آخر ہم بھی انسان ہیں، ہمارے سینے میں بھی دل ہے، ہمارے بھی جذبات ہیں، ہم جب بھی کسی زخمی نوجوان کو یہاں دیکھتی ہیں تو ہمیں اپنے بھائی، بہن اور گھر والے یاد آتے ہیں، کیوں کہ ہم بھی اسی مٹی سے ہیں۔ ہم جب بھی صبح ہسپتال کے لیے گھر سے نکلتی ہیں تو اللہ سے دعا کرتی ہیں کہ اے اللہ اب کوئی ایسا زخمی اسپتال میں نہ آئے جسے ہم دیکھ کر آہیں بھریں، ایسا کوئی دن نہیں گزرتا ہے جب اسپتال میں زخمی نہیں آتے۔ ‘‘ غرض جموں وکشمیر کی ’’گڑجوڑ سرکار‘‘ پوری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے دعوے جو وہ اپنے دفتروں میں کرتے پھررہے تھے، سب کھوکھلے ثابت ہوئے۔ یہ حالات بھارت نواز موجودہ حکومت سے پہلے بھی خراب تھے اور آج بھی خراب ہیں۔ کشیدگی میں فرق آنے کے بجائے دن بہ دن تیزی ہی آتی جارہی ہے اور اس طرح جموں وکشمیر کی بھارت نواز حکومت کے ساتھ ساتھ بھارت کی مرکزی حکومت کے بے بنیاد دعوے سراب ثابت ہو رہے ہیں۔ اس سال کی شروعات ہی لگ بھگ گولیوں کی گنگناہٹ سے ہوئی اور مظاہرین کے نعروں سے۔ اور اب نوجوان حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد حالات کو قابو میں لانے کے لیے اعلانیہ و غیر اعلانیہ کرفیو لگایا جارہا ہے۔ چالیس دنوں کی مسلسل مزاحمت کے دوران ۶۰؍ سے زائد نوجوانوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا، پانچ ہزار سے زائد زخمی کر دئے گئے، جن میں سینکڑوں کی تعداد ایسے بچوں اور نوجوانوں کی ہے جن کی آنکھوں کی بصارت ہمیشہ کے لیے کھو چکی ہے۔ بلکہ چند روز قبل کملا ترال کے ۸۰؍ برس کے ایک بزرگ باشندے جناب عبد القیوم بٹ اور اس کی ۷۵؍زوجہ کو گولی کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا گیا۔ ان زخمیوں میں سے کئی ایسے بھی ہیں جنہیں ذہنی تنائو کا شکار کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ ہسپتالوں میں ہزاروں نوجوان بستروں پر آہ وبکا کے عالم میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہے کہ کشمیر کے لوگ اپنا حق ’’بھارت سے مکمل آزادی‘‘ چاہتے ہیں۔ اگرچہ فی الوقت جموں وکشمیر کی نام نہاد حکومت امن وامان کی باتیں کرتی رہتی ہیں لیکن حقیقت سب پر عیاں ہے کہ امن نام کی چیز کا یہاں کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا۔ یہ سب کچھ اقوام عالم کو دھوکہ دینا ہے، اس کے سوا کچھ اور نہیں۔ ورنہ کوئی اس (جموں وکشمیر کی)نام نہاد ’’گڑجوڑ حکومت‘‘ سے پوچھئے کہ آپ جس امن و خوش حالی اور ترقی کی باتیں کر رہے تھے وہ کہاں ہے…؟ اقوام عالم کو بے وقوف بنانے والی بھارت کی مرکزی سرکار سے کوئی پوچھے کہ کہاں ہے وہ امن وترقی جس کی باتیں کر کر کے آپ اقوام عالم کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ جموں وکشمیر میں لوگوں کو جمع کر کر کے ان کے سامنے تقریر کرنے والے حکمرانوں سے کوئی پوچھے کہ آپ جو یہ دعوے کر رہے تھے ان کی کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں اور اگر کوئی حقیقت ہے تو اس حقیقت کے آثار کیوں دکھائی نہیں دیتے…؟

            حقیقت پر پردہ نہیں ہے، حقیقت کیا ہے و ہ سب پر عیاں ہے۔ امن وترقی اور خوش حالی کا دور دور تک کوئی نشان نہیں۔ پرامن احتجاج کرنے والوں اور انہیں مشتعل کرنے کے بعد ان کی طرف سے سنگ بازی کرنے کے بعد انہیں پاکستان کی شہ حاصل کہنا اور ان کو ہی امن میں رخنہ ڈالنے والا قرار دینا اگر بہادری ہے تو اس بہادری کو کیا کہیں گے؟ اگر امن نو عمر بچوں کے خون بہانے کا نام ہے تو بھارت کی مرکزی حکومت کا دعویٰ صحیح ہے… اگر امن پُر امن مظاہروں پر پیلٹ، آنسو گیس کے گولے اور گولیاں برسانے کا نام ہے تو یقینا ان کا یہ دعویٰ صحیح ہے… اگر امن جموں وکشمیر میں عسکری کاروائیوں میں اضافہ ہونا ہے تو بے شک بھارت کا دعویٰ صحیح ہے۔ اگر امن کشمیر کو مسلسل کرفیو کی نظر کرنے کا نام ہے تو اس دعوے میں کوئی قباحت نہیں … !

            حکومت ہند پوری دنیا کو دھوکے میں رکھنے کے لیے اپنے زیر اثرچلنے والے میڈیا کے ذریعہ امن و ترقی اور خوش حالی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ دورِ حاضر میں کسی بھی چیز پر پردہ کرنا بے وقوفی ہے، آج انٹرنیٹ کا زمانہ ہے۔ ایک منٹ میں پوری دنیا کے حالات وواقعات لوگوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ اس دور میں ایسے ایسے بے بنیادبیانات دینا بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے…؟ یہی وجہ ہے کہ جموں وکشمیر میں آئے روز موبائل فون، انٹر نیٹ وغیرہ پر پابندی عائد کی جاتی ہے تاکہ اقوام عالم کشمیر میں موجودہ حالت سے بے خبر رہے اور اس طرح آزادانہ طور یہاں قتل وغارت گری کا بازار گرم کر کے اقوام عالم کو بے وقوف بنایا جا سکے۔

            بہرحال وادی کشمیر میں فی الوقت ہڑتال اور کرفیو کا مطلب یہی ہے کہ ’’اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے‘‘ کے مصداق بار بار دبانے سے یہاں کے حالات دب نہیں سکتے۔ اب جب کہ یہ بات پوری دنیا کے ساتھ ساتھ حکومتِ ہند پر واضح ہو چکی ہے کہ وادی میں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے اور اس بدلتی ہوئی صورت حال کو امن وخوش حالی اور ترقی کا من پسند جامہ پہنا کر دنیا کو دھوکے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ یہاں پر بار باربے سود اور دھوکے پر مبنی انتخابات کرائے گئے تو پوری دنیا کو تاثر دیا جاتا ہے کہ’’ یہاں کے لوگ آزادی نہیں بلکہ جمہوریت چاہتے ہیں اور اس جمہوریت کو قائم کرنے کے لیے یہاں کے لوگوں نے ووٹ ڈال کر حریت پسندلیڈروں کوقرارا جواب دیا، اب یہاں امن ہے، حریت سے وابستہ لیڈران کے لیے یہاں کے لوگوں کے دلوں میں کوئی جگہ نہیں، وہ صرف اور صرف اپنی اپنی دُکان چلانا چاہتے ہیں۔ ‘‘ یہ بات تب جھوٹ ثابت ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہر طرف آزادی کے حق میں نعرے ہو رہے ہیں۔ اپنے حق کو حاصل کرنے کے لیے یہاں کے نوجوان اپنی جانوں تک کی قربانی دے رہے ہیں۔ یہ بھارت کی مرکزی سرکار کا کھلا جھوٹ ہے جس سے اقوام عالم کو بے وقوف بنانامقصد ہے۔

            حسب معمول وادی کشمیر میں ایک مربتہ پھر یہ تجربہ کیا جارہا ہے کہ نو عمر بچوں کا خونِ ناحق بہایا جارہا ہے۔ ’’لااینڈ آرڈر‘‘ کے نام پر لوگوں کو خوف وہراس میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ مظاہرین کو راتوں رات جیلوں میں پہنچایا جا رہا ہے۔ اگر کوئی مطلوبہ شخص نہ ملے تو اس کے بدلے اس کے بھائی، والد یا کسی اور کو حراست میں لے کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ حقیقی آزادی پسندوں کو ایک دروازے سے سے نکال کر دوسرے دروازے سے مسلسل پابند سلاسل کیا جارہا ہے اور جو حریت پسند لیڈر باہر ہیں انہیں وقت وقت پر نئے نئے جھانسے دے کر پھنسانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کبھی لا حاصل خفیہ مذاکرات کا جھانسہ دیا گیا تو کبھی آٹونومی وغیرہ کا خواب دکھا کر۔ جو سلسلہ برابر آج بھی جاری ہے۔ اس طرح ان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی آنکھوں پر پردہ ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس سب کے باوجود پردہ ہونے کے بجائے اُٹھتا ہی جارہا ہے۔ ان حالات میں گھر وں میں بیٹھے ہند نواز حکمرانوں کا یہ اعلان کرنا کہ وادی کشمیر میں حالات سدھر رہے ہیں، اپنے آپ کو دھوکہ دینا نہیں تو اور کیا ہے…؟ حکومت ہند کوچاہیے کہ وہ اس مسئلہ کو مسئلہ جان کر سامنے آئے۔ جموں وکشمیر کے حقیقی حریت قائدین کے ساتھ ساتھ پاکستان کو شاملِ مذاکرات کر کے اس مسئلہ کا پُرامن اور پائیدار حل تلاش کریں۔ اس سے پاک بھارت تعلقات میں تیخا پن دور ہو جائے گا اور پورے برصغیر میں بہت حد تک امن و خوش حالی کا ماحول دیکھنے کو ملے گا۔ اس کے بالمقابل اگر حکومتِ ہند موجودہ رَوش پر ہی برابر قائم رہی تو یہ بات طے ہے کہ آیندہ صورت حال بد سے بدتر ہو جائے گی۔ نہ چاہنے کے باوجود بھی جنگی ماحول جو اب تک ’’تو تو میں میں ‘‘ تک ہی محدود ہے، عنقریب وقت آئے گا کہ ان دو ممالک کے مابین حقیقت میں چوتھے جنگ کا بغل بج جائے گا۔ بقول ِحکومت پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدہ دار ’’اگر پاکستان پر کسی طرح کی بھی آنچ آئی تو ہمسایہ ملک بھارت بھی نہیں بچ پائے گا‘‘۔ بیانات بیانات ہی رہ جائیں، اس کے لیے دونوں ممالک کو اس حل طلب مسئلہ کولے کر آگے آنا ہی ہو گا۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے صرف بیان بازی پر ہی اکتفیٰ نہیں کرنا چاہیے بلکہ جموں وکشمیر میں ہو رہی انسانی حقویق کی بدترین پامالیوں کا سخت نوٹس لینے کے لیے عملی طور آگے آنا چاہیے۔ عالمی اداروں کا صرف تشویش کرنا کافی نہیں ہے، اس دیرنہ مسئلے کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ بھارت کی مرکزی سرکار بیان بازی تک ہی محدود رہی تو آئندہ کیا کچھ ہو سکتا ہے اس کا اندازہ کرنا فی الوقت مشکل ہے…! خدا خیر کرے۔

٭٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close