ہندوستان

امیدوں کا چراغ ابھی روشن ہے!

وصیل خان

ملک کی موجودہ صورتحال نازک تر ہوتی جارہی ہے اور اسے اس حالت پر پہنچانے والے کوئی اور نہیں وہی لوگ ہیں جو خود کو اعلیٰ ترین انسان کہتے ہوئے نہیں تھکتے اور وہی مذہب اور دھر م کےخود ساختہ ٹھیکیدار بھی بنے ہوئے ہیں ۔ آخر یہ انسانیت کی کون سی قسم ہے کہ اپنی بربریت اور درندگی سے پورے ملک کو شورش زدہ بنادیا جائے اور قتل و غارت گری کا بازار گر م کرکے تمام شہریوں کو خوف وہراس میں مبتلا کردیا جائے۔

 فی الوقت پورا بہار فساد کی لپیٹ میں ہے اس کے اثرات مغربی بنگال تک پہنچ چکے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ملک کے تقریبا ً ہر خطے میں یہ لہر پھیلتی جارہی ہے۔ انتظامیہ کی خاموشی کیا یہ ثابت نہیں کررہی ہے کہ اس بدترین صورتحال میں وہ خود بھی مجرمین کے شانہ بشانہ ہے، ورنہ کیا وجہ ہے کہ وہ ان شرپسندوں کی بدزبانی، دہشت انگیزی اور تشدد پر لگام نہیں کس رہی ہے۔ سرکار میں شامل بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئےلوگ بھی انتہائی ہولناک بیانات دینے سے گریز نہیں کرتے جس سے ملک بھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور یہ سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ سادھوی رتھمبرا، سادھوی پراچی، ساکشی مہاراج، ونئے کٹیار اور دیگر متعدد لوگ اپنی اپنی زہریلی بیان بازیوں سے ملک کی فضا کو تباہ کرتے جارہے ہیں ۔ابھی حال ہی میں مرکزی وزیربابل سپریونے آسنسول میں ہوئے تشددکے تناظر میں کہا کہ وہاں کے لوگوں کی کھال اتار لینی چاہیئے، آخر یہ کس مذہب کی پاسداری ہے اور کون سی زبان ہے۔ مرکزی وزارت پر براجمان ایک شخص ایسا اشتعال انگیز بیان دے رہا ہے مگر اس سے کوئی باز پرس نہیں ہورہی ہے۔

نریندر مودی جو اس ملک کے وزیراعظم ہیں ،جو ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کی بات کرتے ہیں انہیں بابل سپریو کی باتو ں میں کوئی عیب نہیں نظر آتا ورنہ وہ خاموش کیوں رہتے وہ تو بہت بولنے والے ہیں ۔ وہی کیا پارٹی کے کسی بھی ذمے دار اور بڑے لیڈرکا منھ  نہیں کھل رہا ہے کہ وہ بابل سپریو کی اس گندی زبان پر گرفت کرے اور یہ کہے کہ انہیں ایسی باتیں نہیں کہنی چاہیئں جو ملک کی گنگا جمنی تہذیب کیلئے تباہ کن ہے ان سب کی یہ خاموشی بتارہی ہے کہ وہ خود بھی اندر سے وہی ہیں اور ان بدزبانوں اور فرقہ پرستوں کے ساتھ ہیں جو ملک کی پرامن فضا میں مسلسل زہر گھول رہے ہیں۔ فلم اسٹار پرکاش راج ایک بلند فکر اور سیکولر سوچ کے مالک ہیں ، ملک کی تیزی سے بگڑتی صورتحال سے وہ بے حد فکر مندرہتے ہیں اور اپنے جذبا ت کا برملا اور بے باکانہ اظہار وہ موقع بموقع کرتے رہتے ہیں۔

 انہوں نے گذشتہ دنوں آج تک چینل کے زیراہتمام انڈیا ٹوڈے کانکلیو میں صاف لفظوں میں کہا کہ بابل سپریو کا یہ بیان تہذیب سے گری ہوئی ایسی حرکت ہے جو کسی بھی طرح سے برداشت نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ کے لیڈران فن خطابت میں طاق ہیں اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن آپ کے ہی ساتھی جب کھلے عام ہندوستانی تہذیب پر حملہ کرتے ہیں اور فضا کو مسموم کرتے ہیں تو آپ کی خاموشی ہمیں انتہائی حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ تہذیب کیا ہوتی ہے اور اس کا تحفظ کس قدر ضروری ہے اور اگر اس تہذیب کو تباہ ہونے سے نہیں بچایا گیا تو ہم سب تباہ ہو جائیں گے، ہمیں اس بات کا شدید احساس ہے اور وہی بے چینی ہمیں خاموش نہیں بیٹھنے دیتی۔ تمہارے لیڈر نے تو آسانی سے کہہ دیا کہ ان کی کھال اتار لینی چاہیئے لیکن اسے اس شخص کے رنج و غم کا قطعی احساس نہیں جس کے بیٹے کی جان چلی گئی لیکن وہ اسی تہذیب وتمدن کے تحفظ کی بات کررہا ہے۔

ہمیں آسنسول (بنگال)کی نورانی مسجدکے امام عمادالدین رشیدی کے استقلال سے سبق لینا چاہیئے جن کے جواں سال بیٹے کو رام نومی جلوس کے موقع پر فرقہ پرستوں نے انتہائی بے دردری سے قتل کردیا لیکن وہ مشتعل نہیں ہوئے جبکہ ان کا اشتعال میں آنافطری بات ہوتی۔ انہوں نےامن و یکجہتی کے قیام کو ترجیح دی اور صاف کہہ دیا کہ میں نے قاتلوں کو معاف کردیا  اور میں کسی سے انتقام نہیں لینا چاہتا، یہی نہیں انہوں نے اپنے خیرخواہوں سےبھی کہہ دیا کہ اگر تم لوگوں نے انتقام کی بات کی تو میں مسجد ہی نہیں اس علاقے کو بھی چھوڑدوں گا، تہذیب کا تحفظ اس طرح کیا جاتا ہےامام صاحب کا یہ طرز عمل عین وہی اسلامی طرز عمل ہے جس کی اسلام مسلسل تعلیم دیتا چلا آرہا ہے۔

 اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے، عفو و درگزر، امن و آشتی اسلام کی خاص شناخت ہے۔ حضرت علی ؓنے اپنے حملہ آور کو اس وقت معاف کردیا جب وہ پوری طرح اس پر حاوی تھے وہ اسے قتل کرسکتے تھے لیکن انہوں نے اسے چھوڑدیا۔ اسی طرح جب ابن ملجم نے ان پر زہر میں بجھی تلوار سےشدید ضرب پہنچائی تو شہادت سے قبل انہوں نے خاص طور پر تاکید کی کہ اسے  معاف کردیا جائے اور اگر سزا بھی دی جائے تو  اتنی ہی جتنا کہ وہ حقدار ہے۔ پیغمبر اسلام ؐاور دیگر صحابہ کرام نے بھی ہمیشہ یہی رویہ اپنا یا اور قاتلوں سے عفوو درگزر کا ہی معاملہ کیا کیونکہ وہ سب تہذیب و معاشرت کے محافظ تھے، انسانیت کے رکھوالے تھے۔ انسان تو پھر بھی انسان ہے وہ تمام مخلوقات سے افضل ہے اور سبھی کیلئے باعث تکریم ہے وہ تو جانورو ں تک پر بھی رحم کرتے تھے اور دوسروں کو بھی صلہ رحمی کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص اپنے اونٹ کو ماررہا تھا پیغمبراسلام نے دیکھا تو سخت برہم ہوئے اور تنبیہ کی کہ جانوروں پر رحم کرو انہیں تکلیف نہ دو ان سے ضرورت سے زیادہ کام نہ لو ان کے کھانے پینے کا خیال رکھو۔

پرکاش راج نے اسی تہذیب و تمدن کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر مذہب امن اور عفو درگزر کی بات کرتا ہے، رحم دلی اور رواداری کی تعلیم دیتا ہے۔ آخر یہ کون لوگ آگئے ہیں جو اس نظریئے کو غلط رخ دینے پر تل گئے ہیں اور جوکوئی ان کے اس طرز عمل کے خلاف بولتا ہے تو اسے دھرم مخالف کہہ کر اس سے انتقام لینے کی بات کرتے ہیں ۔ اس امام کا دل اور جذبہ دیکھو جس کا جوان بیٹا قتل ہوگیا لیکن وہ امن کی بات کررہا ہےآخر ان کے اندر یہ جذبہ کہاں سے پیدا ہوا، یہ وہی جذبہ ہے جس کی پرورش اسلام نے ان کے دل میں کی ہے۔

ایک شخص کہہ رہا ہے کہ سب کی کھال اتار دینی چاہیئے جبکہ اس کا کوئی ذاتی نقصان نہیں ہوا دوسری طرف بیٹے سے ہاتھ دھو بیٹھنے والاعام معافی اور درگزر کی بات کررہا ہے بلکہ اپنے حامیوں اور خیرخواہوں کو بھی انتقامی کارروائی سے روک رہا ہے۔ آج اسی جذبہ ٔ انسانیت کی ضرورت ہے جو ہمارے درمیان سے رخصت ہوتا جارہا ہےہم امام صاحب کے اس جذبہ ٔ انسانیت کو سلا م کرتے ہیں جنہوں نے اپنے بیان سے ایک بار پھر اسی تہذیب کو زندہ کردیا ہے اور بہت سے دلو ں میں امید کی ایک کرن بھردی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close