ہندوستان

انسانیت بڑی کہ گائے‘ لمحۂ فکر!

ندیم احمد انصاری

 گائے کے تحفظ کے نام پر اس وقت ہندستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر مادرِ وطن شرم سار ہے۔ کبھی دادری میں تو کبھی گجرات میں، کبھی مند سور میں تو کبھی کرناٹک میں ! بدامنی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی۔ ایک سیلاب سا ہے جس میں انسانی آبادی عدمِ تحفظ کا مستقل شکار ہوتی جا رہی ہے۔ وزیرِ اعظم مودی نے بہ تاخیر کچھ دنوں قبل ہی گئورکشا کے نام پر ملک بھر میں ہو رہے حادثات پر بیان دیتے ہوئے اس معاملے میں زیادہ تر کارروائیوں کو فرضی بتایا کہ یہ صرف فساد بھڑکانے کا کام کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں ریاستی حکومتوں سے کہوں گا کہ ایسے لوگوں کی دستاویز تیار کی جائیں، ان میں سے 80 فی صد لوگ ایسے نکلیں گے جنھیں کوئی بھی سماج قبول نہیں کرتا۔ یہ اور بات ہے کہ اس بیان کے بعد بھی مبینہ گئورکشکوں کے ذریعے حملوں کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں اور اس پر کوئی قدغن لگتا نظر نہیں آتا اور اگر آپ اجازت دیں تو ہم کہنا چاہیں گے کہ اس سلسلے میں جس طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے، اب تک شاید وہ نہیں کیے گئے، یہی وجہ ہے کہ گؤ رکشکوں کا شکار اب صرف دلت یا مسلمان مرد و عورت نہیں بلکہ خود بی جے پی کے کارکن بھی بننے لگے ہیں، جیسا کہ گذشتہ دنوں خبر موصول ہوئی کہ کرناٹک میں گئو اسمگلنگ کے شبہے میں بی جے پی کارکن پروین پجاری کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا، جب کہ ایک کی حالت سنگین ہے۔ اس معاملے میں قتل کا الزام ہندو جاگرن ویدک کارکنوں پر لگایا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنوبی کرناٹک کے اڈپي ضلع میں بدھ کی رات(17اگست 2016) کو تین بچھڑوں کو لے کر ایک ٹیمپو کے وہاں پہنچتے ہی 17 نوجوانوں نے اسے گھیر لیا اور ڈرائیور اور اس کے ساتھ بیٹھے نوجوانوں کی ڈنڈوں سے جم کر پٹائی کر فرار ہو گئے۔ جو غلط ہو، قانون کے خلاف ہو اس کو سزا دی جانی چاہیے لیکن اس یہ کام بھی عدلیہ کا ہے۔

 سوچنے کا مقام ہے کہ آخر یہ گؤ رکشک کون ہوتے ہیں ؟ انھیں خبر کون فراہم کرتا ہے؟ ان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟اگر ہم غلط نہیں تو عرض ہے کہ یہ سب کچھ گہری سازش کے تحت کیا جانے والا ایک خونی کھیل ہے، جس کے لیے سیکولر ہند کے عوام کو جذباتی بنا کر مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہندو بھائیوں کو گائے کے تعلق سے جس طرح سفاکی و ظلم پر آمادہ کیا جا رہا ہے، وہ واقعی محلِ نظرہے، ہم نے انٹرنٹ پر گؤ رکشا ٹائپ کیا تو ہندی زبان میں ایسے ایسے جملے و اقوال نظروں میں پھر گئے جن کے بعد ہمیں اپنے متذکرہ خیال کے درست ہونے کا خیال قوی ہونے لگا، من جملہ ان کے چند ہدیۂ قارئین کرتے ہیں۔

 گائےسیوا ہی پرم سیوا ہے!

 جو گؤ ماتا کو جانور مانتا ہے، وہ دنیا کا سب سے بڑا جانور ہے!

 دھرم رکشا، گؤ رکشا، راشٹر رکشا!

 ہمیں چاہیے گؤ ہتھیا مکت بھارت!

 کٹتی ماتا کرے پکار، کہاں گئی ہندو تلوار!

 جب تک قانون نہ بن جائے گؤ ماتا کی رکشا کے لیے آگے قدم بڑھائیں !

 سو کروڑ ہندو اگر ٹھان لیں تو گؤ ہتھیا پر پوری روک لگانے پر کتنا وقت لگے گا؟ وغیرہ وغیرہ۔

 مذکورہ بالا اقوال کو مکرر پڑھیے اور دیکھیے کس طرح ڈنکے کی چوٹ پر عوام کو قانون ہاتھ میں لینے اور انھیں گم راہ کرنے اور بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بھی اس ملک میں جس کے پردھان سیوک؍وزیر اعظم کے مطابق سب سے بڑا دھرم راشٹر دھرم اور سب سے بڑا گرنتھ بھارت کا قانون ہے۔ دیکھیے تو سہی کس طرح ہندو بھائیوں کو تلواریں اور ہتھیار نکالنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے، آخر کوئی تو میں بتائے کیا یہ باتیں ملک کے امن کے لیے خطرہ ہیں یا سالمیت کی ذمّے دار؟

 یہ تو مشتِ از خروارے چند مثالیں ہم نے پیش کیں، جب کہ اسی طرح کے درجنوں جملے ہماری نظر سے گزرے، جنھیں طوالت کے خوف سے چھوڑ دیا گیا۔ واضح کر دیں کہ یہ تمام جملے امیج فارم میں انٹرنٹ پر موجود ہیں، جن میں سے اکثر پر انھیں اپ لوڈ کرنے والوں کی ویب سائٹ وغیرہ کا نام بھی لکھا ہوا ہے، جس کے ذریعے اگر چاہیں تو بہ آسانی اس بدامنی کی ہوا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بہ طور تجاہلِ عارفانہ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہمیں یہ سوچ کر حیرانی ہوئی کہ جس ملک میں مسلمانوں کو محض غلط فہمی یا شبہے میں سلاخوں کے پیچھے کر دینے کا چلن عام ہے، اس ملک میں ایسے سخت اور فساد بھڑکانے والے جملوں کو عام کرنے کی اجازت کیسے دے دی گئی اور سوشل میڈیا پر نظر رکھنے والی ایجنسیاں یہ دوغلاپن آخر کب تک اپناتی رہیں گی!ہمارا مقصد اس تحریر سے فقط اتنا ہے کہ جذبات کو بر انگیختہ کر عوام کو ہِنسا پر آمادہ کرنے والوں کے خلاف حکومت اور قانون سخت کاروائی کرے تاکہ ملک کے سوا سو کروڑ لوگ امن و امان کے ساتھ اپنے وطن میں ہنسی خوشی زندگی بسر کر سکیں اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو صاف الفاظ میں اپنا موقف واضح کرے کہ انسانیت بڑی کہ گائے!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم احمد انصاری

ڈائریکٹر الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا اسلامی اسکالر و صحافی

متعلقہ

Close