ہندوستان

انڈیا کاشام! تو کیا ہم تیار ہیں؟

ڈاکٹر عابد الرحمن

  ’اگر بابری مسجد تنازعہ حل نہیں کیا گیا تو انڈیاشام بن جائے گا‘۔ یہ جارحانہ بیان کسی دہشت گرد تنظیم کا نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کر نے والے کسی سیاسی یا سماجی لیڈر کا بیان بھی نہیں ہے۔ نہ یہ قانون کو لاتوں گھونسوں پر رکھ کر مختلف حوالوں سے مسلمانوں کے خلاف غنڈہ گردی کر نے والی تنظیموں کے کسی لیڈر کا بیان ہے، نہ یہ بابری مسجد پر سیاست کر نے والی کسی پارٹی کے کوئی لیڈر یاکیڈر کا بیان ہے اور نہ ہی یہ شمبھولال کی سی ذہنیت والے کسی شہری کا بیان ہے۔

صاحب یہ بیان تو شانتی دوت ( امن کے پیمبر) کے طور پر مشہور آرٹ آف لنگ کے روحانی سربراہ شری شری روی شنکر صاحب کا بیان ہے جو انہوں نے این ڈی ٹی وی کو دئے گئے انٹرویو میں دیا۔ موصوف بابری مسجد معاملہ کو کورٹ کے باہر حل کر نے کے لئے کوشاں ہیں اور اس معاملے میں فریقین کے درمیان ثالث کے طور پر سامنے آئے ہیں اور بقول خود کئی علماء سے مل چکے ہیں ، لیکن ان کے پاس اس معاملہ کے حل کے لئے کوئی ایسا فارمولہ نہیں جو مبنی بر انصاف ہو بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ مسلمان بابری مسجد سے دست بردار ہوجائیں اور وہ ’متنازعہ‘ جگہ ہندوؤں کو دے دیں تاکہ وہاں رام مندر بنا یا جاسکے، یہ بات بجائے خود ثالثی کے منافی بلکہ ایک فریق کی وکالت ہے۔

کسی مسئلہ کا حل توایسے ہوتا ہے کہ دونوں فریق کچھ لے دے کر یا متنازعہ اشو پر اپنے اپنے دعوے سے دست بردار ہوکر کسی ایسی چیز پر راضی ہوجائیں جو سب کے کے لئے قابل قبول بھی ہو اور جس سے وہ تنازعہ ہمیشہ کے لئے ختم بھی ہو جائے لیکن شری شری کے پاس ایسا کوئی فارمولہ نہیں ہے بلکہ وہ ایسے کسی بھی فارمولے کو سرے سے مسترد کر تے ہوئے متنازعہ جگہ پر صرف اور صرف رام مندر کی تعمیر ہی کی وکالت کر رہے ہیں اس مقام پر مسجد تو دور کسی ہاسپیٹل یا اسکول کی تعمیر کی بھی مخالفت کر رہے ہیں اور اس انٹر ویو کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات پر اس شدت سے قائم ہیں کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ کو بھی خاطر میں نہیں لاتے بلکہ انہوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ کا کوئی بھی فیصلہ تباہ کن ہوگا، جس میں ایک فریق جشن منائے گا اور دوسرے فریق کی دل آزاری ہوگی جس کیوجہ سے خانہ جنگی کی سی صورت حال پیدا ہوجائے گی۔انہوں نے اپنے انٹر ویو میں وہی باتیں کی ہیں جو شدت پسند عناصر ایک عرصہ سے کرتے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کورٹ وہ ساری جگہ بابری مسجد کو واپس دے دے تو کیا یہ منتقلی پر امن طریقے سے ہو جائے گی؟کیا ملک کے گاؤں گاؤں میں امن رہے گا ؟سو کروڑ لوگ شری رام میں گہری آستھا رکھتے ہیں (اور اگر فیصلہ ان کے خلاف آیا تو ) ہارنے والے سمجھیں گے کہ انہیں دھوکا دیا گیا اور وہ انتہا پسندی کی طرف جائیں گے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آپ ایسی حالت کیوں پیدا کر رہے ہیں کورٹ کے فیصلہ کا احترام ہونا چاہئے طلاق ثلاثہ اور بہت سے متنازعہ معاملات میں یہی ہوا ( تو اس معاملہ میں کیوں نہیں ؟) تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ لوگوں کے دل و دماغ میں کئی سالوں سے ابل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا وہاں بیٹھے ہوئے رام للا کو کوئی حکومت نکال سکتی ہے؟یہ پوچھے جانے پر کہ اگر سپریم کورٹ کہے تو ؟تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کوئی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرسکتی۔ یعنی شری شری نے بالفاظ دیگر مسلمانوں کو اور معزز سپرم کورٹ کو بھی دھمکی دی ہے کہ اگر فیصلہ ہندوؤں کے خلاف آیا تو ملک کے گاؤں گاؤں میں شری رام جی کے سو کروڑ بھکت مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا دیں گے۔

 اگر یہ ساری باتیں شری شری کے علاوہ کوئی اور شدت پسند ہندو لیڈر کرتا تو کوئی بات نہیں تھی، لیکن جب شری شری جیسا امن کا پیمبر ایسی باتیں کرے توانہیں مسلمانوں کوہلکے میں نہیں لینا چاہئے بلکہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ یہ کسی مجذوب کی بڑ یا کسی بڑ بولے لیڈر کی گپ نہیں ہے بلکہ اس کی بہت منظم منصوبہ بندی اور تیاری بھی ہو چکی ہے۔ ویسے اس بات سے تو کوئی انکار ہی نہیں کر سکتا کہ سنگھ کی نو جوانوں ، جوانوں ، بوڑھوں اور ہر شعبہ ہائے زندگی اور انتظامیہ پر مشتمل مختلف تنظیمیں بہت منظم طریقے سے ملک کے طول و ارض میں ہر چھوٹے بڑے مقام پر موجود ہیں ۔ جنہیں مسلم منافرت کی بنیاد پر جسمانی تعلیم کے ساتھ ساتھ لاٹھی اورچھوٹے بڑے ہتھیار تک چلانے کی تربیت دے کر ہر ناگہانی صورت حال سے نپٹنے (بلکہ ناگہانی صورت حال پیدا کر نے کی ) ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ اور سر سنگھ چالک موہن بھاگوت تو ان کی تیاری کا صاف اعلان کر چکے ہیں کہ ’ فوج کو لڑائی کی تیاری میں مہینوں لگتے ہیں جبکہ آر ایس ایس تین دن میں ہی تیار ہوسکتا ہے۔‘ شری شری نے ایک بات یہ بھی کہی کہ کوئی حکومت اس معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد نہیں کروا سکتی۔

اور یہ حقیقت بھی ہے ہم دیکھتے آ رہے ہیں کہ آزادی کے بعد سے بالعموم اور مودی سرکار آنے کے بعد سے بالخصوص مسلم مخالف قوتوں کی مختلف حوالوں سے جاری دہشت گردی کو روکنے کے لئے حکومتوں نے کیا کیا ہے اور ان معاملات کے مقدمات بھی کس طرح چلائے گئے اور چلائے جا رہے ہیں ۔ اس سے پہلے سنگھ کے ایک سویم سیوک تریپورہ کے گورنر تتھا گت رائے نے بھی سیاما پرساد موکرجی کے حوالے سے ٹویٹ کیا تھا کہ ’ ہندو مسلم پرابلم خانہ جنگی کے بغیر حل نہیں ہوسکتا‘۔ ایسا لگتا ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی ہندوؤں کو ذہنی اور جسمانی سے طور سے مسلمانوں کے خلاف خانہ جنگی کے لئے تیار کیا جارہا ہے اور اب ہم مسلمانوں کو ستا ستا کر مشتعل کر نے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ ہم ذرا مشتعل ہوں ، قانون توڑیں یا اس دہشت گردی کے خلاف کوئی خاص یا اجتماعی دفاعی اقدام کریں اور ان کا کام آسان ہو جائے، وہ ملک گیر پیمانے پر خانہ جنگی شروع کردیں اور اس کا الزام بھی ہمارے ہی سر منڈھ دیں اورہندوتوا وادیوں کی بھیڑ کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کر نے والے اور سلامتی اداروں کو بھی ہمارے خلاف میدان میں اتاردیں ۔ شری شری کی مذکورہ بات بھی ایسا لگتا ہے کہ ہم کو خوف زدہ کر نے کے ساتھ ساتھ ہمارے خلاف  دہشت گردی کر نے والی قوتوں کو ملک کے گاؤں گاؤں میں تیار رہنے کا پیغام بھی ہے۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اسے ہلکے میں لے کر نہ چھوڑیں ، ہندوستان شام نہیں بن سکتا اور یہاں کے انصاف پسند ہندو اسے شام بنانے والی قوتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور ابھی یہاں جمہوریت آئین و قانون زندہ ہے یہ ساری باتیں طوفان دیکھ کر ریت میں سر دبادینے کے مترادف ہیں۔

ہماری ذمہ داری ہیکہ  اول تو ہم اس صورت حال کو واقع ہو نے سے روکنے کی حتی المقدور کوشش کریں، بابری مسجد تنازعہ ہمارے لئے مخمصہ ہو گیا ہے کہ کریں تو کیا کریں جو بھی کریں اس میں نقصان اٹھانے کا ڈر ہے۔ ایسی صورت میں اشد ضروری ہے کہ ہم اپنی انااورذاتی مفادات کو چھوڑ کر متحد ہوں  اور کوئی تیر بہ حدف لائحہء عمل ترتیب دیں اور سب من حیث القوم بنیان مرصوص بن کر اس پر عمل پیرا ہوں ۔ ہمارے اقدام ایسے نہ ہوں کہ وہ ہندو ؤں کو ہمارے خلاف متحد اور متحرک کردیں اسی طرح ہمارے اقدام ایسے بھی نہ ہوں کہ اس سے ہم ہی آسان نشانہ بن جائیں ۔ اسی طرح خدا نخواستہ سو بار خدا نخواستہ ہمارے دشمن عناصر ہمارے خلاف خانہ جنگی کی سی صورت پیدا کردیں تو اس حالت میں ہمارا لائحہء عمل کیا ہوگا اس کی بھی تیاری شروع کردینی چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close